آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کا ’سب سے وائرل‘ شخص: ’روی کشن ہوں تو کچھ بھی ممکن ہے‘
کیا مرنے کے بعد اپنی ہی چتا جلتے دیکھنے میں کوئی لطف آ سکتا ہے؟
کیا کسی کپڑے کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اٹھایا جا سکتا ہے؟
میرے بھائیو، پیسہ خود آپ کے پیچھے آتا ہے۔ اگر نام اور شہرت کے پیچھے جاؤ تو کیا دولت خود دوڑتی ہوئی آ جائے گی؟
کیا زبان سے بولتے ہوئے بھی چُپ کا روزہ (مَون ورت) رکھا جا سکتا ہے؟
اگر ہم ان پرانے لیکن حالیہ دنوں میں وائرل ہونے والے بیانات اور گانوں کے بول کو سنیں، تو یہ کہا جا سکتا ہے: اگر روی کشن ہوں، تو کچھ بھی ممکن ہے۔
اپنی ویڈیوز کے وائرل ہونے پر روی کشن کیا سوچتے ہیں؟
شاید آپ نے بھی ماضی کے کئی سوشل میڈیا ٹرینڈز میں یہ بات دیکھی ہو کہ بعض اوقات کوئی پرانی بات، بیان یا ویڈیو اچانک دوبارہ وائرل ہو جاتی ہے۔
روی کشن کے معاملے میں بھی ان کے اچانک سوشل میڈیا پر چھا جانے کی کوئی ایک واضح یا مخصوص وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔
نیوز 18 سے اپنے میمز کے وائرل ہونے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے روی کشن کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو میرا انداز پسند آتا ہے۔ میں جان بوجھ کر کچھ نہیں کرتا۔ میرے اندر ال پچینو سے لے کر امیتابھ بچن، بلراج ساہنی، شاہ رخ خان، مائیکل جیکسن اور ایلوس پریسلے تک، سب جیسے ناچتے اور گاتے رہتے ہیں۔ اسی لیے میں اتنے مختلف انداز کے امتزاج تخلیق کر لیتا ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
26 جولائی 2026 کو دی انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے ایک اور انٹرویو میں روی کشن کا کہنا تھا کہ ’اس وقت لوگ مجھے ملک کا سب سے زیادہ وائرل انسان کہتے ہیں۔ نیشنل کرش، بہار کا بریڈ پٹ۔ میرے بارے میں بے شمار میمز بنتے ہیں۔ سب سے زیادہ ٹرول ہونے والا آدمی۔ جلدی کرو، لیٹ جاؤ... گھر جاؤ اور سو جاؤ... یہ سب محض تفریح ہے۔‘
21 جون کو سوشل میڈیا پر اپنی بیٹی کے ساتھ شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں روی کشن کہہ رہے تھے کہ ’بیٹا، دنیا میں بہت زیادہ اداسی ہے۔ آپ کے پاپا جیسے لوگ ہی سب کے چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہیں۔ جنریشن زی مجھ سے بہت خوش ہے۔‘
روی کشن کے وائرل لمحات
اپنے بیانات کے ساتھ ساتھ اپنے منفرد انداز کی وجہ سے بھی روی کشن اکثر خبروں اور سوشل میڈیا پر زیرِ بحث رہتے ہیں۔
حال ہی میں ’معاملہ لیگل ہے‘ کے نئے سیزن کے آغاز سے متعلق ایک تقریب میں سٹیج پر ان کی موجودگی کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر بطور ریلز بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں۔ بعض صارفین ان کے مخصوص رقص کے انداز کو بھی اس مقبولیت کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔
تاہم روی کشن کے حوالے سے ایسی گفتگو کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی کئی مواقع پر عوامی تقریبات کے دوران اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور روی کشن کے درمیان ہونے والی دلچسپ گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہی ہے۔
ایسا ہی ایک واقعہ فروری 2021 کا ہے۔
فروری 2021 میں گورکھپور میں ایک تقریب کے دوران ایک نئے شمشان گھاٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے روی کشن نے کہا تھا کہ: ’سوچیے، اگر یہاں کسی کی وفات ہو جائے، اس کی آخری رسومات یہاں ادا ہوں اور وہ سیدھا جنت پہنچ جائے۔ یہاں آخری رسومات ادا ہونے میں کتنی آسانی ہوگی۔ یہ جدید ترین اور برقی نظام سے آراستہ ہے، اس لیے زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ فوراً جلایا جائے گا اور سیدھا جنت چلا جائے گا۔‘
روی کشن کے اس غیر روایتی اور مزاحیہ اندازِ بیان پر اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی سٹیج پر زور سے ہنسنے لگے تھے۔
کئی سال بعد، پوڈکاسٹر شبھانکر مشرا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں روی کشن نے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا ’یوگی جی کی آنکھوں سے ہنستے ہنستے آنسو نکل آئے تھے۔ وہ اپنی ہنسی روک نہیں پا رہے تھے۔ انہیں لگا کہ کوئی الگ ہی قسم کا سادھو آ گیا ہے۔‘
کپل شرما کے شو میں بھی روی کشن نے اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم نے وہاں ایک شمشان گھاٹ بنایا تھا۔ پھر مہاراج جی (یوگی آدتیہ ناتھ) نے کہا کہ آپ کو تقریر بھی کرنی ہے۔ میں سوچنے لگا کہ شمشان گھاٹ پر آخر تقریر کس موضوع پر کروں؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ گورکھپور میں میرے حلقے کے لوگ بھی وہاں موجود تھے... بعد میں میں نے وضاحت کی کہ میرا مطلب یہ تھا کہ یہ ایک مقدس جگہ ہے۔‘
ایک پوڈکاسٹ کے دوران روی کشن سے پوچھا گیا کہ ان کے لیے شہرت زیادہ اہم ہے یا پیسہ؟
اس کے جواب میں روی کشن نے کہا ’شہرت... پیسہ تو خود پیچھے آتا ہے، بھائی۔ اگر آپ نام کے پیچھے جائیں گے تو پیسہ بھی آپ کے پیچھے آ جائے گا۔‘
4 اگست 2026 کو پارلیمنٹ کے باہر روی کشن نے کہا تھا ’آج پنڈت جی نے مجھے خاموش رہنے کا مشورہ دیا ہے۔‘
گذشتہ چند دنوں کے دوران روی کشن کے اسی طرح کے بیانات پر مبنی میمز اور مختصر ویڈیوز سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ شیئر کی گئیں، جس سے ان کی آن لائن مقبولیت اور وائرل حیثیت مزید نمایاں ہو گئی۔
روی کشن سے جُڑے تنازعات
روی کشن کے بھوج پوری گانے اکثر تقید کی زد میں رہتے ہیں۔ ان کے ایک گانے کے بول کچھ یوں تھے: ’لہنگا اُٹھا دے ریموٹ سے۔‘
مارچ 2023 میں پروگرام ’آپ کی عدالت‘ میں روی کشن نے کہا تھا کہ ’آج میں پورے انڈیا کے سامنے اس گانے کے لیے دل سے معذرت کرتا ہوں۔ میں نے اسے نہیں گایا تھا۔ اُس وقت میں کئی کئی شفٹوں میں کام کرتا تھا۔ ایک سیٹ سے دوسرے سیٹ تک جاتے ہوئے اپنی گاڑی میں ہی سو جاتا تھا۔ میں نے مناسب تیاری نہیں کی تھی۔ میں نے صرف پرفارم کر دیا تھا۔‘
سنہ 2022 میں آبادی پر کنٹرول سے متعلق قانون کے موضوع پر ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران اینکر نے روی کشن سے سوال کیا کہ ان کے اپنے چار بچے ہیں۔
اس پر روی کشن نے جواب دیا ’میرے چار بچے ہیں۔ میں نے بہت جدوجہد کی ہے۔ میں نے کام کو ترجیح دی کیونکہ میرا ماننا تھا کہ پیسہ بعد میں آ جائے گا۔ پھر بچے ہونے شروع ہوئے۔ میں اپنی اہلیہ کو دیکھتا تھا، وہ دبلی پتلی اور لمبے قد کی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ ہر ولادت کے بعد ان کی صحت متاثر ہوتی جا رہی تھی۔ آج جب میں اپنی اہلیہ کو دیکھتا ہوں تو مجھے افسوس محسوس ہوتا ہے۔ اگر کانگریس یہ قانون پہلے لے آتی تو شاید ہم یہیں رک جاتے۔‘
روی کشن ’بگ باس‘ کے پہلے سیزن میں بھی شریک تھے اور زندگی اور غرور سے متعلق ان کا ایک جملہ آج تک سوشل میڈیا پر شیئر کیا جاتا ہے۔ اس سیزن میں راکھی ساونت بھی روی کشن کے ساتھ موجود تھیں۔
بی بی سی ہندی کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں راکھی ساونت نے روی کشن کے بارے میں کہا تھا کہ ’روی کشن میرے لیے بھائی کی طرح ہیں۔ لیکن آج کل میرا دل کرتا ہے کہ انہیں بُرا بھلا کہوں۔ کیونکہ اتنے بڑے عہدے، یعنی رکنِ پارلیمان ہونے کے باوجود، وہ ہر جگہ اداکاری کرتے نظر آتے ہیں۔ آخر وہ کر کیا رہے ہیں؟ وہ دوبارہ بالی ووڈ میں کام کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو فلموں میں ہی کام کرنا تھا تو پھر اتنے نمایاں ایم پی کیوں بنے؟ یہ موقع کسی اور کو بھی دیا جا سکتا تھا۔‘
دوسری جانب، روی کشن نے ماضی میں جن فلموں اور کرداروں میں کام کیا، انہیں ناظرین کی جانب سے خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
روی کشن کے اداکاری کے سفر کا آغاز سلمان خان کی معروف فلم ’تیرے نام‘ سے ہوا تھا۔ اس فلم میں انہوں نے ’رامیشور‘ کا کردار ادا کیا تھا۔
روی کشن سوشل میڈیا پر بی جے پی کے رکنِ پارلیمان اور گلوکار منوج تیواری کے ساتھ اپنی دلچسپ گفتگو اور ہلکے پھلکے مزاح پر مبنی ریلز بھی شیئر کرتے رہتے ہیں۔ تاہم دونوں شخصیات مختلف مواقع پر ایک دوسرے کے ساتھ اپنی گہری دوستی کا اظہار بھی کر چکی ہیں۔
روی کشن کے کیریئر کا آغاز
اتر پردیش کے ضلع جون پور کی تحصیل کیراکت کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے روی کشن کا مکمل نام روی کشن شکلا ہے۔
بی بی سی کے لیے 2019 میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کمار ہرش نے لکھا تھا ’بچپن میں جب روی نے رام لیلا میں سیتا کا کردار ادا کیا تو ان کے والد شیام نارائن، جو پیشے کے اعتبار سے پجاری تھے، نے انہیں تھپڑ مارا تھا۔ بعد میں روی کشن تعلیم کے لیے بنارس ہندو یونیورسٹی گئے اور وہیں ان کے اندر اداکاری کا شوق مزید پروان چڑھا۔‘
روی کشن کا فلمی سفر 1992 میں بی گریڈ فلم ’پیتامبر‘ سے شروع ہوا تھا اور تقریباً ایک دہائی تک ان کے لیے فلمی دنیا میں کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں رہا۔
آج تک روی کشن تقریباً 150 فلموں اور ویب سیریز میں کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ متعدد ریئلٹی شوز میں بھی نظر آ چکے ہیں۔
بی بی سی کے لیے لکھے گئے اپنے مضمون میں کمار ہرش نے ان کے بھوجپوری سنیما سے وابستگی کی ایک جذباتی داستان بیان کی تھی:
’1996 میں روی کشن شاہ رخ خان کی فلم ’آرمی‘ کی شوٹنگ کر رہے تھے۔ ایک روز سیٹ پر ایک بااثر شخص نے بھوجپوری کو غریبوں کی زبان قرار دیا۔ روی کشن کہتے ہیں: ’بابو، اس بات نے میرے دل کو ٹھیس پہنچائی۔ اسی دن میں نے عہد کر لیا کہ اپنی زبان کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کروں گا۔‘
روی کشن کا سیاسی سفر 2014 میں شروع ہوا۔ انہوں نے جون پور سے کانگریس کے ٹکٹ پر لوک سبھا انتخاب لڑا، تاہم کامیاب نہ ہو سکے۔ بعد ازاں 2017 میں وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہو گئے۔
اسی سال یوگی آدتیہ ناتھ اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ بنے۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں روی کشن نے بی جے پی کے امیدوار کے طور پر گورکھپور سے کامیابی حاصل کی، جو یوگی آدتیہ ناتھ کا مضبوط سیاسی گڑھ سمجھا جاتا ہے، اور پہلی مرتبہ پارلیمنٹ پہنچے۔ وہ 2024 کے انتخابات میں بھی دوبارہ کامیاب رہے۔
آج روی کشن بیک وقت سیاست دان اور اداکار دونوں حیثیتوں میں سرگرم ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے بیانات، ویڈیوز اور ریلز اکثر وائرل ہوتے رہتے ہیں اور جیسا کہ وہ خود کہتے ہیں، وہ ایک ’وائرل آدمی‘ بن چکے ہیں۔
وہ کوئی بیان دیتے ہیں اور اس کے فوراً بعد اس پر میمز بننا شروع ہو جاتی ہیں۔