انڈیا: امتحانی اصلاحات کے لیے احتجاج کرنے والوں پر پولیس کا تشدد, دل نواز پاشا، بی بی سی ہندی، رانچی اور اناہیتا سچدیو، بی بی سی نیوز، دہلی
انڈیا کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں پولیس نے بھرتیوں کے امتحانات میں اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین پر آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھیوں کا استعمال کیا۔
ہزاروں طلبہ، ملازمت کے امیدوار اور رضاکار اپنے احتجاج کو ریکارڈ کرانے کے لیے ریاستی دار الحکومت رانچی میں اسمبلی کی عمارت تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بی بی سی نے ایسے بعض افراد کو دیکھا ہے جو زخمی ہوئے ہیں، تاہم زخمیوں کی سرکاری تعداد ابھی واضح نہیں ہے۔
مظاہرین دو ہفتوں سے زائد عرصے سے جھارکھنڈ کے سرکاری امتحانی نظام میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق پیر کے روز بہت سے مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن، لاٹھیوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
رانچی شہر کے سپرنٹنڈنٹ پولیس پارس رانا نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ زیادہ تر مظاہرین پُر امن تھے، تاہم انھوں نے ایک چھوٹے گروہ پر رکاوٹیں توڑنے اور پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کے مطابق تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا: ’تقریباً 90 فیصد طلبہ پُرامن ہیں، لیکن کچھ ایسے ہیں جو اپنے نمائندوں کی بھی بات نہیں سن رہے۔‘
رانا نے کہا کہ چونکہ مظاہرین طلبہ تھے، اس لیے پولیس نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور ’بہت کم وقت کے لیے کم سے کم طاقت‘ استعمال کی۔ انھوں نے طلبہ سے پُر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطالبات حکومت تک پہنچ رہے ہیں۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چند ہفتے قبل امتحانی پرچے لیک ہونے کے خلاف جاری بڑے پیمانے کے احتجاج کے دوران ہزاروں نوجوان انڈین طلبہ نے دہلی میں پارلیمان کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی تھی۔
انڈیا کی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)، جو ایک سیاسی جماعت نہیں ہے، نے 25 جولائی کو پانچ ہفتوں سے جاری اپنا احتجاج اس وقت ختم کیا جب وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔
سی جے پی کو ملک کی مختلف ریاستوں میں موجود طلبہ کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔
جھارکھنڈ میں مظاہرین 25 جولائی سے رانچی کے ایک سٹیڈیم میں جمع ہیں۔ ان میں سے بعض کھلے آسمان تلے رات گزار رہے ہیں جبکہ کئی افراد بھوک ہڑتال بھی کر چکے ہیں۔
حکومت کے ساتھ متعدد ادوار کی بات چیت اور کئی مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے تمام مطالبات پورے نہیں ہوتے، احتجاج جاری رہے گا۔
غصے کی فوری وجہ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) کی جانب سے اپریل میں منعقد کیا جانے والا ابتدائی سول سروسز امتحان ہے۔
جولائی میں نتائج کے اعلان کے بعد امیدواروں نے الزام لگایا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی لیک شدہ جوابی شیٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض کامیاب امیدواروں نے توقع سے کہیں کم سوالات کے جواب دیے تھے۔
اس سے یہ شبہات پیدا ہوئے کہ نتائج میں رد و بدل کیا گیا ہے۔
ریاستی حکومت نے طلبہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انھیں انصاف ملے گا۔ امتحان سے متعلق الزامات کی تحقیقات جھارکھنڈ کا کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کر رہا ہے۔ ایک درجن سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
تفتیش کار ایک نجی کمپنی کے کردار کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جس نے امتحانی عمل کے بعض حصوں میں اپنی خدمات انجام دی تھیں، کیونکہ امیدواروں نے سوال اٹھایا ہے کہ اس کمپنی کا انتخاب کس طرح کیا گیا۔
اتوار کو مظاہرین سے مذاکرات کے بعد حکومت نے متنازع امتحان کے ساتھ مزید دو امتحانات بھی منسوخ کرنے پر اتفاق کیا۔ اطلاعات کے مطابق جے پی ایس سی کے تین ارکان نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔
اس سے پہلے جے پی ایس سی کے چیئرمین ایل خیانگتے بھی 22 جولائی کو مستعفی ہو چکے ہیں۔ تحقیقات کے دوران ان سے پوچھ گچھ کی گئی اور پیر کے روز انھیں گرفتار کر لیا گیا۔
تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے کئی مطالبات اب بھی پورے نہیں ہوئے۔ ان میں سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات انڈیا کے مرکزی تحقیقاتی ادارے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) سے کرائی جائیں۔
جھارکھنڈ میں اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مظاہرین کی حمایت کی ہے، احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، معاملہ ریاستی اسمبلی میں اٹھایا ہے اور وفاقی سطح کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس، جو ریاستی حکومت کی اتحادی ہے لیکن قومی سطح پر بی جے پی کی حریف سمجھی جاتی ہے، نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔