آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا مشترکہ معاہدہ ایران کے خلاف نہیں: اسماعیل بقائی

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مشترکہ دفاعی معاہدے کو ایران کے خلاف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ میں انھوں نے کہا: ’عباس عراقچی اور باقر قالیباف کے دورۂ پاکستان کے لیے دعوت نامہ موصول ہوا ہے، اور مناسب وقت پر یہ دورہ انجام پائے گا۔‘

خلاصہ

  • تحریک انصاف کا عمران خان سے ملاقات کے لیے کل سپریم کورٹ کے باہر، جمعرات کی رات سے ملک گیر احتجاج کا اعلان
  • روس کے تاتارستان خطے پر یوکرینی ڈرون حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک: حکام
  • ہمیں نہیں لگتا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا مشترکہ دفاعی معاہدہ ایران کے خلاف ہے: اسماعیل بقائی
  • محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا نیا سیکریٹری مقرر کر دیا گیا
  • نیتن یاہو کا غزہ سے متعلق امریکی صدر کا 15 نکاتی منصوبہ مسترد، اسرائیل کا حماس کے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے تک انخلا سے انکار

لائیو کوریج

  1. انڈیا: امتحانی اصلاحات کے لیے احتجاج کرنے والوں پر پولیس کا تشدد, دل نواز پاشا، بی بی سی ہندی، رانچی اور اناہیتا سچدیو، بی بی سی نیوز، دہلی

    انڈیا کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں پولیس نے بھرتیوں کے امتحانات میں اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین پر آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھیوں کا استعمال کیا۔

    ہزاروں طلبہ، ملازمت کے امیدوار اور رضاکار اپنے احتجاج کو ریکارڈ کرانے کے لیے ریاستی دار الحکومت رانچی میں اسمبلی کی عمارت تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    بی بی سی نے ایسے بعض افراد کو دیکھا ہے جو زخمی ہوئے ہیں، تاہم زخمیوں کی سرکاری تعداد ابھی واضح نہیں ہے۔

    مظاہرین دو ہفتوں سے زائد عرصے سے جھارکھنڈ کے سرکاری امتحانی نظام میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں۔

    حکام کے مطابق پیر کے روز بہت سے مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن، لاٹھیوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

    رانچی شہر کے سپرنٹنڈنٹ پولیس پارس رانا نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ زیادہ تر مظاہرین پُر امن تھے، تاہم انھوں نے ایک چھوٹے گروہ پر رکاوٹیں توڑنے اور پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کے مطابق تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا: ’تقریباً 90 فیصد طلبہ پُرامن ہیں، لیکن کچھ ایسے ہیں جو اپنے نمائندوں کی بھی بات نہیں سن رہے۔‘

    رانا نے کہا کہ چونکہ مظاہرین طلبہ تھے، اس لیے پولیس نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور ’بہت کم وقت کے لیے کم سے کم طاقت‘ استعمال کی۔ انھوں نے طلبہ سے پُر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطالبات حکومت تک پہنچ رہے ہیں۔

    یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چند ہفتے قبل امتحانی پرچے لیک ہونے کے خلاف جاری بڑے پیمانے کے احتجاج کے دوران ہزاروں نوجوان انڈین طلبہ نے دہلی میں پارلیمان کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی تھی۔

    انڈیا کی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)، جو ایک سیاسی جماعت نہیں ہے، نے 25 جولائی کو پانچ ہفتوں سے جاری اپنا احتجاج اس وقت ختم کیا جب وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔

    سی جے پی کو ملک کی مختلف ریاستوں میں موجود طلبہ کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔

    جھارکھنڈ میں مظاہرین 25 جولائی سے رانچی کے ایک سٹیڈیم میں جمع ہیں۔ ان میں سے بعض کھلے آسمان تلے رات گزار رہے ہیں جبکہ کئی افراد بھوک ہڑتال بھی کر چکے ہیں۔

    حکومت کے ساتھ متعدد ادوار کی بات چیت اور کئی مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے تمام مطالبات پورے نہیں ہوتے، احتجاج جاری رہے گا۔

    غصے کی فوری وجہ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) کی جانب سے اپریل میں منعقد کیا جانے والا ابتدائی سول سروسز امتحان ہے۔

    جولائی میں نتائج کے اعلان کے بعد امیدواروں نے الزام لگایا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی لیک شدہ جوابی شیٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض کامیاب امیدواروں نے توقع سے کہیں کم سوالات کے جواب دیے تھے۔

    اس سے یہ شبہات پیدا ہوئے کہ نتائج میں رد و بدل کیا گیا ہے۔

    ریاستی حکومت نے طلبہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انھیں انصاف ملے گا۔ امتحان سے متعلق الزامات کی تحقیقات جھارکھنڈ کا کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کر رہا ہے۔ ایک درجن سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    تفتیش کار ایک نجی کمپنی کے کردار کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جس نے امتحانی عمل کے بعض حصوں میں اپنی خدمات انجام دی تھیں، کیونکہ امیدواروں نے سوال اٹھایا ہے کہ اس کمپنی کا انتخاب کس طرح کیا گیا۔

    اتوار کو مظاہرین سے مذاکرات کے بعد حکومت نے متنازع امتحان کے ساتھ مزید دو امتحانات بھی منسوخ کرنے پر اتفاق کیا۔ اطلاعات کے مطابق جے پی ایس سی کے تین ارکان نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔

    اس سے پہلے جے پی ایس سی کے چیئرمین ایل خیانگتے بھی 22 جولائی کو مستعفی ہو چکے ہیں۔ تحقیقات کے دوران ان سے پوچھ گچھ کی گئی اور پیر کے روز انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

    تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے کئی مطالبات اب بھی پورے نہیں ہوئے۔ ان میں سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات انڈیا کے مرکزی تحقیقاتی ادارے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) سے کرائی جائیں۔

    جھارکھنڈ میں اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مظاہرین کی حمایت کی ہے، احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، معاملہ ریاستی اسمبلی میں اٹھایا ہے اور وفاقی سطح کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس، جو ریاستی حکومت کی اتحادی ہے لیکن قومی سطح پر بی جے پی کی حریف سمجھی جاتی ہے، نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

  2. عمران خان کی صحت خراب ہے، اہل خانہ اور ڈاکٹروں کی ملاقات کے لیے کل سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیں گے: پی ٹی آئی

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید پارٹی قائد عمران خان کی صحت خراب ہے اور ان کی اہل خانہ اور ڈاکٹروں سے ملاقات کرائی جائے۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا: ’ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان کے اہل خانہ کی موجودگی میں اور ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں بہترین ہسپتال سے ان کا علاج کرایا جائے۔‘

    پیر کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر یہ مطالبہ نہ مانا گیا تو پاکستان بھر سے تحریک انصاف کے اراکینِ پارلیمنٹ کل سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیں گے۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس پاکستان عمران خان کے اہل خانہ اور ڈاکٹروں کی ان سے ملاقات کے لیے حکم جاری کریں۔‘

    سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ اگر یہ ملاقات کرا دی جاتی ہے تو ’پاکستان تحریک انصاف کی مکمل قیادت اور عمران خان کے اہل خانہ یہ ضمانت دیتے ہیں کہ وہ (ملاقات کے بعد) باہر آ کر کوئی سیاسی بات نہیں کریں گے۔‘

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر منگل کے دن ملاقات نہ کرائی گئی تو جمعرات کو تمام اراکین پارلیمنٹ اڈیالہ جیل جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اُس روز بھی ملاقات نہ کرائی گئی تو جمعرات کی رات 10 بجے پاکستان کے کئی علاقوں میں احتجاج شروع کر دیا جائے گا۔

    ان کے الفاظ تھے: ’پاکستان کے ہر چوک کو ڈی چوک بنا دیا جائے گا۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے مطالبات کے لیے 27 ستمبر کو بھی اسلام آباد جانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’27 ستمبر کا لانگ مارچ اپنی جگہ پر موجود ہے‘ اور اس دن ’پورے پاکستان کے لوگ نکلیں گے، پھر کوئی بھی صورتحال کو سنبھال نہیں پائے گا۔‘

  3. اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر گفتگو

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، جن میں کثیرالجہتی تعاون اور علاقائی پیش رفت شامل ہیں، پر تبادلہ خیال کیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ٹیلی فونک گفتگو میں ’دو طرفہ سطح پر اور کثیرالجہتی فورمز میں مسلسل قریبی رابطہ کاری اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔‘

  4. روس کے تاتارستان خطے پر یوکرینی ڈرون حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک: حکام

    روس کے حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کے ایک ڈرون حملے میں تاتارستان میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    روسی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے جبکہ مزید 75 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ ماسکو اور یوکرین کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد روس پر ہونے والے مہلک ترین انفرادی حملوں میں سے ایک ہے۔

    کیئو نے تا حال نژنیکامسک شہر پر ہونے والے اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    یوکرین کی مسلح افواج نے تصدیق کی ہے کہ نژنیکامسک کی تانیوو آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ یوکرین کی دفاعی ٹیکنالوجی تیار کرنے والی کمپنی فائرپوائنٹ نے کہا ہے کہ اس حملے میں اس کے ایف پی-1 ڈرون استعمال کیے گئے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق یہ حملہ رات بھر جاری رہا اور صبح تک اس کا سلسلہ برقرار رہا۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی، لیکن غیر مصدقہ تصاویر میں دن کی روشنی میں آسمان کی جانب اٹھتے ہوئے دھوئیں کے بڑے بادل اور شعلے دکھائی دیتے ہیں جبکہ پس منظر میں فضائی حملے کے سائرن کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

    اگرچہ حملے کے ہدف کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری معلومات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم کیئو نے حالیہ عرصے میں ان تنصیبات پر حملوں میں اضافہ کیا ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ روس کی یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے آمدنی اور لاجسٹک معاونت فراہم کرتی ہیں۔

    ماسکو نے تصدیق کی ہے کہ صنعتی تنصیبات کے ساتھ ساتھ رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے کہا: ’ایسے شہری وہاں موجود تھے جو کسی بھی فوجی کارروائی میں شامل نہیں تھے۔‘

    بی بی سی اس معلومات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    یوکرین کی فوج اس سے قبل 12 جون کو بھی نژنیکامسک کی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنا چکی ہے۔

    ماسکو کا کہنا ہے کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے رات بھر میں یوکرین کے 450 سے زیادہ ڈرون بھی مار گرائے۔

    کیئو حالیہ عرصے میں روس کے اندر دور مار حملے کرنے میں زیادہ کامیاب رہا ہے اور اکثر اپنے حملوں کا ہدف گوداموں یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بناتا ہے، جبکہ شہری جانی نقصان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

    دوسری جانب روس بھی یوکرین کے شہروں اور رہائشی علاقوں پر باقاعدگی سے بڑے پیمانے کے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ گذشتہ ہفتے کیئو پر ڈرون اور میزائلوں کے مشترکہ حملے میں 21 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    ادھر محاذِ جنگ کے قریب واقع خارکیف میں روسی توپ خانے کے ایک حملے میں راتوں رات پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

  5. ہمیں نہیں لگتا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا مشترکہ دفاعی معاہدہ ایران کے خلاف ہے: اسماعیل بقائی

    پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے، جسے معاہدۂ مکہ کہا جاتا ہے، کے بارے میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا: ’فکر مند ہونے کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے۔‘

    انھوں نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں اس معاہدے کو خطے کے ممالک کے ادراک میں تبدیلی کی علامت قرار دیا اور کہا: ’ممالک اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ امریکہ کی جانب سے سکیورٹی فراہم کرنے کے دعوے پر انحصار نہیں کر سکتے۔‘

    بقائی نے یہ بھی کہا کہ جب تک بحری ناکہ بندی اور مفاہمتی معاہدے کی دیگر شقوں کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، ’آبنائے ہرمز کے ایک محفوظ آبی راستے میں تبدیل ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔‘

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گذشتہ کہا تھا کہ ’جب تک امریکہ کی جانب سے عہد شکنی جاری ہے، مذاکرات کا دوبارہ آغاز ممکن نہیں۔‘

    تاہم، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آج کہا: ’عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف کے دورۂ پاکستان کے لیے دعوت نامہ موصول ہوا ہے اور مناسب وقت پر یہ دورہ انجام پائے گا۔‘

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران فی الحال آبنائے ہرمز میں راستے کے تعین کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے: ’ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہے۔ پیغامات کا تبادلہ ایک فطری امر ہے اور یہ روزمرہ معاملات کے بارے میں ثالثوں کے ذریعے ہوتا رہتا ہے۔‘

    وزارت خارجہ کے ترجمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان مذاکرات میں ماحولیاتی امور اور بحری خدمات کی فراہمی کے حوالے سے طریقۂ کار زیر بحث آئے ہیں اور ’یہ فطری بات ہے کہ جب آپ بحری خدمات فراہم کرتے ہیں تو اس کے عوض معاوضہ وصول کریں گے۔

  6. امریکہ خطے میں عدم تحفظ کی ایک وجہ ہے، ایران کسی پر حملہ نہیں بلکہ اپنا دفاع کر رہا ہے: اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’مشرق وسطیٰ کو بیرونی طاقتوں کی ضرورت نہیں اور امریکہ خطے میں عدم تحفظ کی ایک وجہ ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’ایران کسی ملک پر حملہ نہیں کر رہا بلکہ اپنی سرزمین اور مفادات کا دفاع کر رہا ہے۔‘

    ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران انھوں نے کہا کہ ’ایران کی جانب سے خطے میں امریکی اڈوں اور حملے کے لیے استعمال ہونے والے مقامات کو نشانہ بنانا اپنے دفاع کے دائرے میں ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ’خطے کے ممالک مستقل ہمسایوں کی حیثیت سے باہمی اعتماد اور تعمیری تعاون کے ذریعے اپنی سلامتی کے لیے مشترکہ طریقہ کار تشکیل دے سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں مل کر ایسا نظام تشکیل دینا چاہیے جو خطے کے تمام ممالک کی سلامتی کو یقینی بنائے۔‘

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’میں بار بار کہہ چُکا ہوں کہ ہمیں خطے کے کسی بھی ملک سے دشمنی یا عناد نہیں۔ ہم خطے کے ممالک کی علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’خطے کے ممالک کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔‘

    پریس کانفرنس کے دوران اُنھوں نے کویت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’کسی ملک کو اپنے علاقے کو دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘

    ایرانی ترجمان نے کہا کہ ’امریکہ کو ایران کے خلاف حملے کی تیاری کے لیے خطے کے ممالک کی سرزمین اور تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایران کو امید ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ کے تجربے نے خطے کے تمام ممالک کو یہ سکھا دیا ہوگا کہ ان ممالک میں امریکی فوجی موجودگی کا تسلسل خطے میں صرف عدم تحفظ، تقسیم اور اختلافات کو جنم دے گا اور اس سے کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔‘

  7. جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے فائرنگ اور گولہ باری کی اطلاعات

    لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے ’نیشنل نیوز ایجنسی‘ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے آج صبح جنوبی لبنان کے علاقے وادی السلوکی کی جانب مشین گنوں سے فائرنگ کی ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے رات کے وقت المنصوری کے قصبے پر گولے بھی فائر کیے۔

    تاہم ان واقعات میں اب تک کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے حال ہی میں المنصوری کے لیے جبری انخلا کا حکم جاری کیا تھا، جو کئی ہفتوں میں اس نوعیت کی پہلی ہدایت تھی۔

  8. نیتن یاہو کا غزہ سے متعلق امریکی صدر کا 15 نکاتی منصوبہ مسترد، اسرائیل کا حماس کے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے تک انخلا سے انکار, جون ڈونیسن اور جارج رائٹ، بی بی سی نیوز

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کو حقیقی طور پر غیر مسلح کیے جانے تک اسرائیلی فوج غزہ سے واپس نہیں جائے گی۔

    ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    تاہم حماس نے کہا تھا کہ اپنے بھاری ہتھیار حوالے کرنا اسرائیل کی جانب سے ’ہر قسم کی جارحیت ختم کرنے‘ اور غزہ سے اپنی فوج واپس بلانے سے مشروط ہے۔

    اتوار کو بورڈ آف پیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی اصرار کیا کہ غزہ کے لیے امریکہ کی حمایت یافتہ امن منصوبہ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

    اسرائیل نے گزشتہ اکتوبر غزہ میں ابتدائی جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود علاقے میں حملے جاری رکھے ہیں۔

    نیتن یاہو نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ ’اسرائیل 15 نکاتی دستاویز کو مسترد کرتا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیلی فوج اس وقت تک انخلا نہیں کرے گی جب تک حماس کو حقیقی طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا اور اسرائیل اپنی فوج اور شہریوں کے خلاف خطرات کو ناکام بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔‘

    حماس کے ایک عہدیدار نے اتوار کو بی بی سی کو بتایا کہ تنظیم معاہدے کے لیے اپنے عزم کی دوبارہ تصدیق کرتی ہے اور 15 نکاتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ’سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ بات چیت‘ کے لیے تیار ہے۔

    حماس نے ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ’تمام فریق طے شدہ معاہدے کی پاسداری کریں۔‘

    اسرائیل کی جانب سے منصوبہ مسترد کیے جانے کو ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے لیے ایک اور دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا اعلان گزشتہ سال ستمبر میں کیا گیا تھا۔

    منصوبے میں معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے بورڈ آف پیس کا قیام، حماس کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی فوج کا انخلا اور غزہ کی تعمیر نو شامل تھی۔

    نیتن یاہو کا یہ بیان اگرچہ حیران کن نہیں، تاہم انھوں نے اس پر اپنا مؤقف واضح کرنے میں کچھ وقت لیا، جو اسرائیلی وزیر اعظم کو درپیش مشکل سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

    نیتن یاہو ٹرمپ کے منصوبے سے واضح طور پر ناخوش ہیں، لیکن وہ اپنے سب سے قریبی اتحادی امریکہ کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتے۔

    ٹرمپ کے اس اعلان کو ایک ہفتے سے کچھ زیادہ وقت گزرا ہے جس میں انھوں نے اسے ’دیرپا امن اور سلامتی کی جانب ایک تاریخی قدم‘ قرار دیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’حماس پہلی مرتبہ غیر مسلح ہونے پر رضامند ہوئی ہے، تاہم اس کی شرط تھی کہ اسرائیل غزہ سے اپنی فوج واپس بلائے۔‘

    لیکن اتوار کو نیتن یاہو نے واضح کر دیا کہ ان کی حکومت میں ایسا نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’حماس کو پہلے غیر مسلح ہونا ہوگا اور یہ محض فرضی غیر مسلح نہیں ہونی چاہیے بلکہ حقیقی معنوں میں ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔‘

    حقیقت میں حماس کی غیر مسلح اور اسرائیلی فوج کا انخلا غالباً مرحلہ وار ہی ممکن ہوگا۔

    نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اب اس منصوبے پر امریکی حکام سے بات چیت کر رہے ہیں کہ آگے کیسے بڑھا جائے۔

    انھوں نے کہا ’ان کے پاس کچھ تجاویز ہیں، ان میں سے کچھ ہمیں قابلِ قبول ہیں اور کچھ نہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ان معاملات پر اپنے مؤقف پر کیسے قائم رہنا ہے۔‘

    اسرائیل میں انتخابات میں صرف چند ماہ باقی ہیں اور نیتن یاہو کو اپنی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کے ارکان کی جانب سے غزہ کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ ایسے میں امکان کم ہے کہ وہ کوئی بڑی رعایت دینے پر آمادہ ہوں گے۔

    اتحادی حکومت کے انتہائی دائیں بازو کے ارکان کی جانب سے نئے کابینہ اجلاس میں ووٹنگ اور غزہ منصوبہ ختم کرنے کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں۔ قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے بھی مسودے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر عمل درآمد کی ذمہ داری ادا کرنے والے سینئر سفارت کار نکولے ملادینوف نے اتوار کو منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مثبت نتیجے کی امید میں بات چیت جاری ہے۔

    بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نے اسرائیلی چینل 12 کو بتایا کہ اسرائیل سے کہا گیا ہے کہ ’اس عمل کو ایک موقع دیا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ’آگے بڑھنے کا واحد راستہ‘ ہے تاکہ حماس کی جانب سے سات اکتوبر 2023 جیسے حملے کو دوبارہ ہونے سے روکا جا سکے۔

    ملادینوف کے مطابق یہ منصوبہ ایسے عمل پر مبنی ہے جو قابلِ تصدیق اور قابلِ واپسی ہے، یعنی ہر مرحلے پر اسے روکا جا سکتا ہے اور اسے مستقبل کے چیلنجز کو واضح طور پر مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کو اس وقت تک فوج واپس بلانے کی ضرورت نہیں ہوگی جب تک اس بات کی تصدیق نہ ہو جائے کہ حماس غیر مسلح ہونے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔‘

    اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 19 لاکھ افراد، یعنی علاقے کی 90 فیصد آبادی، بے گھر ہو چکی ہے۔

    غزہ جنگ سات اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں جنوبی اسرائیل پر کیے گئے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

    اس حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائی شروع کی، جس کے دوران علاقے کی وزارت صحت کے مطابق 73 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔

  9. آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہفتہ وار تعطیل کے بعد ایشیائی منڈیوں کے دوبارہ کھلنے پر آبنائے ہرمز سے متعلق بدستور غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق تازہ ترین کاروبار میں برینٹ خام تیل کے فی بیرل نرخ میں 91 سینٹ کا اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 84.46 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 61 سینٹ بڑھ کر 78.79 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

    دونوں عالمی بینچ مارک گزشتہ ہفتے سات فیصد سے زیادہ سستے ہوئے تھے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ امید تھی کہ ایران اور عمان کے درمیان ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے گا۔

  10. چین میں سمندری طوفان ’ڈولفن‘ سے تباہی، 10 لاکھ سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل

    چینی حکام نے مشرقی چین میں، جس میں شنگھائی بھی شامل ہے، سمندری طوفان ’ڈولفن‘ کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے بعد 10 لاکھ سے زائد افراد کو ان کے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے پانچ بجے صوبہ ژے جیانگ کے شہر یوہوان سے ٹکرایا، اس وقت اس کے مرکز میں ہواؤں کی رفتار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک تھی۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد طوفان نے شہر وینژو کے قریب دوسری بار ساحل سے ٹکرایا۔

    سمندری طوفان کے باعث پورے خطے میں آمدورفت کا نظام شدید متاثر ہوا اور صرف شنگھائی میں 1400 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔

    چینی حکام نے اس سے قبل طوفان ’ڈولفن‘ کے لیے اعلیٰ ترین سطح کا ریڈ الرٹ جاری کیا تھا، تاہم پیر کی صبح اسے کم کر دیا گیا۔

    طوفان اب چین کے وسطی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم حکام نے بدھ تک موسلا دھار بارشوں، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

    پیر کے روز شان ڈونگ، ہینان، ہوبے، آنہوئی، جیانگ سو اور ژے جیانگ کے صوبوں سمیت شنگھائی میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    مقامی حکومتوں نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ متعدد اہم سیاحتی مقامات بھی بند کر دیے گئے ہیں، جن میں ڈزنی لینڈ اور لیگولینڈ کے بعض حصے اور شنگھائی کے مشہور علاقے دی بنڈ کے ساتھ واقع کئی مشاہداتی پلیٹ فارم شامل ہیں۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ژے جیانگ کے بعض علاقوں میں آئندہ چند روز کے دوران 250 سے 500 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے۔

    ژے جیانگ کے دارالحکومت ہانگژو میں حکام نے شدید ہواؤں اور سیلابی پانی سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات کا رخ کرنے والے ڈرائیوروں کے لیے تمام سرکاری پارکنگ مقامات پر فیس معاف کر دی ہے۔

    صوبے کے دیگر علاقوں میں وینژو کے حکام نے تقریباً نو لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے اور ایک ہزار سے زائد ہنگامی پناہ گاہیں قائم کی ہیں، جبکہ شہر تائی ژو میں تقریباً تین لاکھ 90 ہزار افراد کو ان کے گھروں سے منتقل کیا گیا ہے۔

  11. ایرانی ارکانِ پارلیمنٹ کی پیٹرول قیمتوں میں مزید اضافے کی مخالفت، سبسڈی کے نظام میں اصلاحات کا مطالبہ

    ایرانی پارلیمنٹ کے ارکان کی اکثریت نے حکومت کو پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے سے خبردار کرتے ہوئے سبسڈی والے پٹرول کی تقسیم کے طریقہ کار میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

    نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کے نام یہ بیان نو اگست کو پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران پارلیمانی پریزیڈیم کے رکن روح اللہ متفکر آزاد نے پڑھ کر سنایا۔

    ارکانِ پارلیمنٹ نے کہا کہ انھوں نے نومبر سنہ 2025 میں ہی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ 50 ہزار ریال فی لیٹر کی شرح سے پٹرول کا تیسرا ٹیرف متعارف نہ کرایا جائے اور پہلے قیمتوں میں اضافے کے بجائے دیگر اقدامات کے ذریعے پیٹرول کی طلب کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔

    ارکان کے مطابق اس کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے باوجود طلب میں کمی نہیں آئی اور اب روزانہ پیٹرول کی کھپت 13 کروڑ 50 لاکھ لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ تقریباً ایک تہائی پیٹرول اب بھی پیٹرول سٹیشنز کے فیول کارڈز کے ذریعے خریدا جا رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ جنگی حالات اور ناکہ بندی نے درآمدی پیٹرول تک رسائی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ارکان نے خبردار کیا کہ پیٹرول کی درآمد کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے سے ایران کے بجٹ خسارے میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔

    ایران کو طویل عرصے سے پیٹرول کی رسد اور طلب کے درمیان فرق کا سامنا ہے۔ 26 جولائی کو آئل، گیس اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کے برآمد کنندگان کی یونین کے ترجمان حمید حسینی نے تجارت نیوز کو بتایا تھا کہ ایران کی ریفائنریوں سے زیادہ سے زیادہ پیداوار تقریباً 11 کروڑ لیٹر یومیہ ہے، جبکہ کھپت تقریباً 13 کروڑ لیٹر روزانہ ہے۔ اس طرح روزانہ تقریباً 2 کروڑ لیٹر پیٹرول کی کمی کا سامنا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث پیٹرول درآمد کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے اور بعض صورتوں میں یہ تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔

  12. تہران میں مذہبی شخصیت کے اغوا اور قتل کے الزام میں ایک خاتون سمیت پانچ افراد گرفتار

    ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران میں ایک مذہبی شخصیت کے اغوا اور قتل کے سلسلے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں چار مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔

    دارالحکومت تہران میں سرگرم حمید رضا رجب زادہ کو چند روز قبل مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے قتل کی ویڈیو ان کے اہل خانہ کو بھیجی گئی۔

    فارس نیوز کے مطابق پولیس کے ترجمان سعید منتظرالمہدی نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران چار مردوں اور ایک نوجوان خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    روکنا نیوز ویب سائٹ نے بھی رپورٹ کیا کہ گرفتار افراد نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس واقعے کا مرکزی ملزم تاحال فرار ہے اور پولیس انھیں تلاش کر رہی ہے۔ تاہم بعد میں مہر نیوز ایجنسی نے سعید منتظرالمہدی کے حوالے سے بتایا کہ مرکزی ملزم کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس واقعے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘

    اس سے قبل سخت گیر ایرانی ذرائع ابلاغ نے اپوزیشن گروہوں اور مبینہ امریکی و اسرائیلی ایجنٹوں پر اس نوعیت کی ’دہشت گردانہ کارروائیوں‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

    فارس نیوز کے مطابق رجب زادہ تقریباً 15 روز قبل لاپتا ہوئے تھے۔ چار روز قبل ایک نئے قائم کیے گئے حکومت مخالف ٹیلی گرام چینل پر ان کے زخمی جسم کی ایک ویڈیو جاری کی گئی، جو بعد میں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیل گئی۔

    فارس نیوز نے بتایا کہ ’اوپن سورس انٹیلی جنس کے تجزیے کے مطابق اس چینل کی جانب سے ماضی میں کیے گئے متعدد دعوے جھوٹے ثابت ہوئے تھے اور بظاہر ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنا تھا۔‘

    فارس نیوز کے مطابق مذکورہ چینل نے جلاوطن ایرانی اپوزیشن تنظیم مجاہدین خلق آرگنائزیشن کی سرگرمیوں سے متعلق پرانی ویڈیوز بھی مبینہ طور پر اپنے مواد کے طور پر شائع کی تھیں۔

  13. آبنائے ہرمز میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے: برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ ’مشرق وسطیٰ میں خطرے کی سطح بدستور ’شدید‘ ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے جاری ہیں۔

    تنظیم کے مطابق سنیچر کے روز آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی آمدورفت کی سطح بدستور ’کم‘ ہے اور اس وقت صرف چند بحری جہاز ہی اس راستے سے گزر رہے ہیں۔

    تنظیم نے اپنی تازہ ماہانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ’ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے حملے اور ڈرانے دھمکانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کارروائیوں میں بحری جہازوں سے ریڈیو کے ذریعے رابطہ کرکے ان کی شناخت کرنا، ڈرونز کی پروازیں اور تجارتی جہازوں کی نگرانی شامل ہیں۔‘

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’یہ اقدامات اس بات کا اظہار ہیں کہ ایران اہم بحری گزرگاہوں میں اپنی موجودگی قائم رکھنا اور وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔‘

    تنظیم کے مطابق براہِ راست فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں، جن میں بحری جہازوں کے قریب میزائل یا دیگر پرجیکٹائل فائر کرنا اور دھماکے شامل ہیں۔ یہ واقعات عمان کی جانب جانے والے جنوبی بحری راستوں، بالخصوص لیما، خصب اور کمزار کے علاقوں میں پیش آ رہے ہیں۔

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کے مسلسل خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔

  14. ’جنرل جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں‘ امریکی میڈیا میں ایران کے ساتھ جنگ پر بحث

    ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، تاہم امریکی میڈیا میں اس معاہدے کے ممکنہ اثرات پر بحث جاری ہے۔

    اب یہ معاملہ ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق جنگ کے مستقبل سے متعلق اختلافات امریکی کابینہ اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف تک پہنچ گئے ہیں۔

    امریکی نیوز چینل سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ ’امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار جنگ سے نکلنے اور امریکی فوجیوں کو محفوظ رکھنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں، جبکہ کانگریس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خاتمے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید سخت اقدامات، جن میں ایرانی مظاہرین کو ہتھیار فراہم کرنا بھی شامل ہے، کے حامیوں کی آوازیں زور پکڑ رہی ہیں۔‘

    دوسری جانب ایران میں جنوری میں ہونے والے خونریز مظاہروں کو چھ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد نیویارک ٹائمز نے ایک تفصیلی رپورٹ میں ان ایرانیوں کی مایوسی کا ذکر کیا ہے جنھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد کی یقین دہانی پر بھروسا کیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق مظاہرین بدستور بحران کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اب جنگ ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    سی این این نے معاملے سے واقف تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین نے حالیہ ہفتوں کے دوران صدر کے دیگر اعلیٰ مشیروں کے ساتھ گفتگو میں ایران کے ساتھ جنگ کو مزید بڑھانے کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جانا چاہیے۔

    ان ذرائع میں سے ایک نے سی این این کو بتایا کہ ’کین جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔‘

    رپورٹ کے مطابق جنرل ڈین کین اس معاملے میں اکیلے نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے امریکہ ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے۔

    انھوں نے جنگ کو مزید بڑھانے کے لیے فوجی آپشنز سے متعلق اپنے خدشات کابینہ کے دیگر اہم ارکان، جن میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہیں، کے ساتھ بھی شیئر کیے ہیں۔

    اس کے ساتھ ہی جنرل کین نے ٹرمپ کے دیگر اہم مشیروں اور ساتھیوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت بھی کی ہے تاکہ مختلف حکومتی اداروں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے اور صدر سے ملاقات سے قبل تمام حکام ایک ہی مؤقف پر ہوں۔

    رپورٹ کے مطابق ان بات چیت کا مقصد دستیاب فوجی آپشنز کی حدود اور ان سے وابستہ خطرات کو واضح کرنا تھا، جن میں ایسے آپشنز بھی شامل ہیں جن کے لیے امریکی زمینی فوج کی تعیناتی ضروری نہیں ہوگی۔

    ایران کے ساتھ جنگ کو پانچ ماہ گزر چکے ہیں اور وسط مدتی انتخابات میں 90 دن سے بھی کم وقت باقی ہے۔ ایسے میں اس جنگ میں کسی بھی قسم کی کامیابی، چاہے وہ صرف علامتی ہی کیوں نہ ہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

    تاہم اگر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ساتھ ایران بحری جہازوں سے گزرنے کی فیس وصول کرنے اور امریکی جنگی بحری جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے سے روکنے کی شرط عائد کرتا ہے تو ٹرمپ کی اس ممکنہ فتح کا ’علامتی‘ پہلو بھی باقی نہیں رہے گا۔

    امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے جمعے کی شب رپورٹ کیا کہ ایران نے امریکہ کو خلیج فارس سے نکالنے کے لیے موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اور عمان کے ساتھ معاہدے کے لیے اپنی شرائط میں امریکی بحری جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندی کی شرط بھی شامل کر دی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق امریکہ، جو ان مذاکرات میں شریک نہیں ہے، بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر پابندیاں عائد کرنے یا اس پر محصول وصول کرنے کو قبول نہیں کرے گا۔

    وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ معاملہ، دیگر کئی اہم اختلافات کے ساتھ، عمان اور ایران کے درمیان معاہدے کو حتمی شکل دینے میں تاخیر کا سبب بن رہا ہے۔

  15. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات: پونچھ ڈویژن کے چار حلقوں میں پولنگ کا آغاز

    پاکستان کے زیرِِ انتظام کشمیر میں ریاستی اسمبلی کے تیسرے مرحلے میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں آج (10 اگست) پونچھ ڈویژن کے چار حلقوں میں شہری اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

    اِن چار حلقوں میں ضلع باغ کے تین اور ضلع حویلی کا ایک حلقہ شامل ہیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن کے مطابق ان چار حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ ہے اور ان حلقوں میں ایک موجودہ اور دو سابق وزرائے اعظم بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

    ابتدائی طور پر ریاستی اسمبلی کے تیسرے اور آخری مرحلے میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں پونچھ ڈویژن کے 11 حلقوں میں پولنگ آج ہونا تھی، تاہم گذشتہ ہفتے الیکشن کمیشن نے امن و امان کی صورتحال اور انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی طرف سے خدشات کے اظہار کے بعد سات حلقوں میں پولنگ ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    پونچھ ڈویژن کے وہ سات حلقے جہاں پولنگ ملتوی کی گئی وہ راولاکوٹ اور پلندری کے اضلاع میں واقع ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی ’جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے کارکنوں اور سکیورٹی فورسز میں ناصرف جھڑپیں ہوئی بلکہ ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

    پاکستان کے زیرِِ انتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ریٹائرڈ) غلام مصطفیٰ مغل نے گذشتہ دنوں بی بی سی کو بتایا تھا کہ جن سات حلقوں میں انتخابات کو ملتوی کیا گیا ہے وہاں پر امن وامان کی صورتحال بہتر ہوتے ہی پولنگ کی نئی تاریخ دی جائے گی۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا پونچھ ڈویژن لگ بھگ گذشتہ دو ماہ سے خبروں میں ہے اور یہیں سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں نو جون کو مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا۔ تاہم سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین کو پونچھ ڈویژن کے شہر راولا کوٹ میں ہی روک لیا تھا اور گذشتہ دو ماہ سے سینکڑوں مظاہرین راولا کوٹ کے نزدیک ’دریک‘ کے مقام پر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

    اسی مقام پر مظاہرین اور سکیورٹی اداروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں مظاہرین کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں پر انتخابات کا انعقاد کیا گیا تھا اور نتائج کے مطابق ان 13 حلقوں میں سے نو پر مسلم لیگ ن جبکہ چار حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔

    دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی نو اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر انتخابات ہوئے۔ الیکشن نتائج کے مطابق 21 نشستوں میں سے 15 پر مسلم لیگ ن جبکہ چھ پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب قرار پائے تھے۔

  16. موساد کے سربراہ نے ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش کے منصوبہ ساز دو اعلیٰ عہدیدار برطرف کر دیے: اسرائیلی میڈیا

    اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق موساد کے سربراہ رومن گوفمین نے خفیہ ایجنسی کے دو انتہائی سینئر عہدیداروں کو برطرف کر دیا ہے، جنھیں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش کے منصوبہ ساز قرار دیا جا رہا تھا۔

    اسرائیلی چینل 12 کے مطابق برطرف کیے گئے عہدیداروں میں سے ایک دسمبر سنہ 2015 سے موساد کے انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ تھے، جبکہ دوسرے عہدیدار خفیہ ایجنسی کے ایرانی امور کے شعبے کے سربراہ تھے۔ اسرائیلی ٹی وی نیٹ ورک نے دونوں عہدیداروں کے نام ظاہر نہیں کیے۔

    رپورٹ کے مطابق دونوں عہدیداروں نے ایک تحریری آپریشنل منصوبہ تیار کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، جس کا مقصد کرد گروہوں کی مدد سے ایران میں اسلامی جمہوریہ کی حکومت کا تختہ الٹنا اور ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو ہوا دینا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہی وہ منصوبہ تھا جس کی تفصیلات نیویارک ٹائمز نے اس سے قبل شائع کی تھیں۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے مارچ میں ایران پر حملے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کرنے کی کوششوں کے دوران یہی منصوبہ ان کے سامنے بھی پیش کیا تھا۔

    اس وقت موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا تھے، جنہیں رواں سال جون میں رومن گوفمین نے عہدے پر تبدیل کیا تھا۔

  17. ایران کی بحری ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک 55 بحری جہازوں کا رخ موڑا گیا: سینٹکام کا دعویٰ

    امریکی فوج کی مشرق وسطیٰ میں کارروائیوں کی ذمہ دار کمان سینٹکام نے دعویٰ کہا ہے کہ ’ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک امریکی فورسز نے 55 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑا جبکہ دو جہازوں کو فائرنگ کرکے آگے بڑھنے سے روک دیا۔‘

    سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’20 سے زائد امریکی جنگی بحری جہاز مشرق وسطیٰ میں فوجی مشنز کی حمایت کے لیے تعینات ہیں، جن میں ایران پر امریکہ کی عائد کردہ بحری ناکہ بندی پر سختی سے عمل درآمد بھی شامل ہے۔‘

    سینٹکام نے اپنی پوسٹ کے ساتھ امریکی بحری جہاز یو ایس ایس راس کے ملاحوں کی تصویر بھی شیئر کی۔

    امریکی کمان کے مطابق بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی فوجی دستوں نے دو بحری جہازوں پر سوار ہو کر ان کی تلاشی بھی لی۔

  18. محسن رضائی ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل میں رہبر اعلیٰ کے نمائندہ مقرر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے محمد باقر ذوالقدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا نیا سیکریٹری مقرر کر دیا ہے۔

    صدارتی دفتر کے نائب برائے مواصلات و اطلاعات مہدی طباطبائی نے اتوار کو ایک سرکاری بیان میں اس تقرری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ محسن رضائی کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے اس عہدے پر مقرر کیا گیا ہے۔

    یہ تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس سے کچھ ہی دیر قبل محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا تھا۔

    انھوں نے رضائی کے ’تجربے‘ اور ’آٹھ سالہ مقدس دفاع کے اہم پیش روؤں میں شامل ہونے‘ کے کردار کا حوالہ دیا۔ آٹھ سالہ مقدس دفاع سے مراد سنہ 1980 کی دہائی میں ایران اور عراق کے درمیان ہونے والی جنگ ہے۔

    محسن رضائی سنہ 1981 سے سنہ 1997 تک پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ان چیف رہے ہیں۔ وہ اس کے علاوہ متعدد اہم سیاسی، عسکری اور اقتصادی عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں، جن میں ’مجلس تشخیص مصلحت نظام‘ کے سیکریٹری اور نائب صدر برائے اقتصادی امور کے عہدے شامل ہیں۔

    ایک الگ حکم نامے کے تحت آیت اللہ خامنہ ای نے محمد باقر ذوالقدر کو اپنا سیاسی مشیر بھی مقرر کر دیا ہے۔

  19. ایران نے 51 سال سے برا رویہ اختیار کر رکھا ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’ایران نے51 سال سے برا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔‘

    ٹرمپ نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں ہونے والی نمایاں کمی کو ظاہر کرنے والا ایک چارٹ بھی جاری کیا۔

    چارٹ میں سنہ 2025 کے آغاز سے اب تک ایرانی ریال کی قدر میں ہونے والی کمی دکھائی گئی ہے۔

    ٹرمپ نے چارٹ کا عنوان ’ایران کے پاس پیسہ نہیں‘ رکھا اور اس کے ساتھ لکھا ’ان کی کرنسی بے وقعت ہے۔‘

  20. حوثیوں کا المخا بندرگاہ میں سعودی فورسز پر دوبارہ حملے کا دعویٰ

    یمنی حوثیوں کے ایک فوجی ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ’حوثی فورسز نے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع المخا بندرگاہ میں سعودی فورسز پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔‘

    حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ کی جانب سے نشر کی گئی تصاویر میں متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرونز فائر کیے جانے کا منظر دکھایا گیا ہے۔

    حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ ’ان حملوں میں سعودی فورسز کے اسلحے کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔‘

    یمنی فوج کے مطابق اتوار کو اس سے قبل ہونے والے ایک اور حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔