’میں پانی کی فطرت کو سمجھتا ہوں‘: بغیر جدید آلات کے جانیں بچانے والے کشمیری غوطہ خور شیخ حمزہ کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہIqbal Hussain
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو، سرینگر
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
شیخ حمزہ کی عمر 18 برس قبل صرف 10 برس تھی جب ان کے چچا زاد بھائی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی وادی چناب میں ڈوب کر ہلاک ہوئے۔
اس حادثے نے نہ صرف کم عمر حمزہ کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالا بلکہ ان کی زندگی کو بھی بدل کر رکھ دیا۔ انھوں نے اس وقت ہی فیصلہ کر لیا کہ وہ تیراکی اور غوطی خوری میں مہارت حاصل کریں گے۔
حمزہ کے چچا مشتاق احمد ایک ماہر تیراک ہیں اور انھوں نے حمزہ کو نہ صرف تیراکی کے گُن سکھائے بلکہ تیز بہاؤ والے پانیوں کو پڑھنے کا ہنر بھی سکھایا۔
اس ہنر کو سیکھنے کے بعد ہی حمزہ کا بطور رضاکار تیراک سفر شروع ہوا، جس میں وہ اب تک سینکڑوں زندگیاں بچا چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہIqbal Hussain
’800 سے زیادہ لاشیں نکالیں، 250 کو زندہ بچالیا‘
گذشتہ 15 برسوں سے حمزہ رضاکارانہ طور پر دریاؤں، ندی نالوں اور تیز بہاؤ والے جھرنوں میں پھسل کر ڈوبنے یا خودکشی کے ارادے سے کودنے والوں کو بچانے اور لاشیں نکالنے کا کام انجام دے رہے ہیں
جموں، کشمیر یا لداخ میں کہیں بھی ایسا واقعہ پیش آئے تو لوگ پہلا فون وادی چناب کے ڈوڈہ ضلع سے تعلق رکھنے والے حمزہ کو ہی کرتے ہیں۔ حالانکہ محکمہ انسداد بحران کے اہلکار بھی ایسے حادثوں کے دوران سرگرم ہوتے ہیں، لیکن حمزہ کی مہارت سے واقف افراد کسی بھی حادثے کے بعد انھیں ہی بُلاتے ہیں۔
سرینگر کے نواحی علاقہ پانتھہ چوک کے قریب جہلم میں کود کر جان دینے والے ایک نوجوان کی لاش تلاش کرتے ہوئے حمزہ نے بی بی سی کو بتایا: ’گذشتہ برسوں کے دوران میں نے 800 سے زیادہ لاشیں نکالی ہیں اور 250 افراد کو زندہ بچایا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
حمزہ ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور انھیں پڑھائی چھوڑ کر گھریلوں ضروریات پوری کرنے کے لیے مزدوری کرنا پڑی۔ لیکن وہ کئی کئی دن تک چناب ، جہلم اور سندھ کے پانیوں میں غوطہ زن رہتے ہیں اور اس کام کے لیے کوئی اجرت یا معاوضہ نہیں لیتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں کہ ’انسانیت تب ہی زندہ رہے گی جب ہم لوگوں کی مدد کسی شاباشی یا مرعات کے لالچ کے بغیر کریں۔‘
’میرا بھائی ڈوب گیا تو حمزہ کو دیکھتے ہی ہماری اُمید جاگی‘
حمزہ کی بطور تیراک و غوطہ خور مہارت کی گواہی مقامی لوگ بھی دیتے ہیں۔
سرینگر کے رہائشی بشیراحمد ڈار اور ان کے بھائی محمد اشرف بچوں کے ساتھ گذشتہ مئی میں پہلگام کی سیر پر گئے، تو وہاں لِدر ندی میں اشرف کا بیٹا پھسل کر ندی میں گر گیا۔
اسے بچانے کے لیے اشرف ندی میں کودے۔ انھوں نے بچے کو تو بچالیا مگر ندی کے تیز بہاؤ کے سبب خود ڈوب گئے۔
ان کے بھائی بشیر اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’جب اشرف پانی میں ڈوب رہا تھا تو لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی، سب لوگ پانی کی طرف دیکھ رہے تھے، کوئی بھی اس میں اترنے کی ہمت نہ کرسکا۔ لیکن جوں ہی شیخ حمزہ وہاں پہنچے تو ہماری جان میں جان آئی۔‘
’انھوں نے ایسی ایسی جگہوں میں گھُس کر اشرف کو تلاش کیا جہاں ماہر غوطہ خور بھی نہیں جا سکے، رات بھر تلاش کے بعد حمزہ نے اشرف کی لاش بازیاب کی۔‘
’میں پانی کی فطرت کو سمجھتا ہوں‘
حمزہ کے پاس تیراکی اور غوطہ خوری کے لیے درکار آلات یا سازوسامان نہیں ہیں۔
کسی نے انھیں ڈائیوِنگ گاگلز (چشمہ) دے دیا ہے، تو کسی نے سوئمنگ سوٹ۔ وہ زیرآب استعمال ہونے والے آکسیجن سلینڈر کا استعمال بھی نہیں کرتے۔

،تصویر کا ذریعہIqbal Hussain
حمزہ کہتے ہیں کہ ’یہ سچ ہے کہ اگر میرے پاس یہ ساری چیزیں ہوتیں تو کام زیادہ آسان ہوجاتا، لیکن میں پانی کی فطرت کو سمجھتا ہوں، میں نے کئی سال تک مشق کی ہے اور میں زیادہ دیر تک پانی کے اندر بغیر آکسیجن کے رہ پاتا ہوں۔‘
ایسے واقعات رونما ہونے پر محکمہ انسدادِ بحران کے اہلکار بھی شیخ حمزہ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ ایک اہلکار رئیس احمد نے بی بی سی اردو کو بتایا: ’حالانکہ ہم لوگوں نے باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے، لیکن جس مہارت کے ساتھ حمزہ اُس جگہ کو ڈھونڈ نکالتے ہیں جہاں لاش ہوتی ہے، یہ واقعی متاثر کن ہے۔‘
حمزہ کو نوکری دینے کا عوامی مطالبہ
اس سال جون سے کشمیر، جموں اور لداخ میں سیلابی صورتحال کے دوران حمزہ آئے روز سُرخیوں میں رہے۔
سوشل میڈیا پر انھیں لاکھوں لوگ فالو کر رہے ہیں اور حمزہ کی لوگوں کو بچاتے ہوئے ویڈیوز اکثر وائرل ہوتی ہیں۔
عوامی حلقے اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ مقامی سطح پر ’ریسکِیو رینجر‘ کہلانے والے حمزہ کی طرف ابھی تک حکومت کی توجہ نہیں گئی۔
پانتہ چوک کے رہائشی سمیر حسین کہتے ہیں: ’حمزہ انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں، بغیر معاوضے کے وہ کئی کئی روز تک پانی میں رہتے ہیں اور لاشیں بھی بازیاب کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت نے ابھی نہ ان کی پذیرائی کی ہے اور نہ ہی انھیں ملازمت دی ہے۔‘
’ہم چاہتے ہیں کہ اس غریب لڑکے کے انسانی جذبے کا احترام کیا جائے، اگر انھیں ملازمت ملتی ہے تو باقی نوجوان بھی متاثر ہو کر انسانی خدمت میں پیش پیش ہون گے۔‘



















