’آپ کے پاس 12 گھنٹے ہیں‘: جب موساد کے مبینہ ایجنٹوں نے ایران کے حکومتی اور فوجی حکام سے رابطے کیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, مسعود آذر
- عہدہ, بی بی سی فارسی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
حالیہ دنوں میں ایران کے ذرائع ابلاغ کی کوریج میں اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے اہلکاروں اور ایرانی حکام کے درمیان ’براہِ راست رابطے‘ کی اطلاعات پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں رہی ہیں۔
ایران کے انٹیلی جنس، سکیورٹی اور سیاسی شعبوں کے سینیئر حکام بار بارہا ایران میں موساد کے اثر و رسوخ کی وسعت پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
لیکن گذشتہ برس جون میں 12 روزہ جنگ (امریکہ اور اسرائیل کے ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملوں) کے بعد ایرانی حکومتی ڈھانچے میں ’سکیورٹی ہول‘ یعنی ’سلامتی میں خلا‘ کے وجود پر عوامی سطح پر بحث میں شدت آ گئی ہے۔
’سکیورٹی ہول‘ کی اصطلاح کسی ملک میں فیصلہ سازی کی اعلیٰ ترین سطح پر اہم معلومات کے افشا ہونے اور کمزوریوں کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
ایرانی حکام جن میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں، اس اصطلاح کو امریکی اور خاص طور پر اسرائیلی انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کے سینیئر حکومتی عہدیداروں پر اثر و رسوخ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
12 روزہ جنگ کے بعد ایرانی سکیورٹی حکام کے خلاف موساد کی سرگرمیوں کا ایک اور پہلو سامنے آیا۔ ملک کے متعدد سیاسی اور سکیورٹی حکام نے کہا کہ ’موساد کے اہلکاروں‘ نے انھیں فون کر کے دھمکیاں دیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے ان کالز کو حکام کی ’تذلیل‘ ’اپنی طاقت کے مظاہرے‘ اور اسلامی جمہوریہ کی اتھارٹی پر سوال اٹھانے کی کوشش قرار دیا۔
تاہم کال کرنے والوں کی شناخت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور یہ واضح نہیں کہ موساد کے اہلکاروں کے طور پر شناخت کیے جانے والے تمام افراد واقعی اس تنظیم سے وابستہ تھے یا نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق ایرانی وزیرِ تیل جواد اوجی نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ فروری 2024 میں، جب ایران کی گیس پائپ لائنوں میں یکے بعد دیگرے دھماکے ہوئے، تو اسی دوران انھیں ایک ایسے شخص کی فون کال موصول ہوئی جس نے خود کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا اہلکار بتایا۔
جواد اوجی کے مطابق کال کرنے والا پُرسکون انداز میں ان سے بات کرتا رہا اور اسی وقت چند ہی لمحوں کے فرق سے ملک کی تین بڑی گیس پائپ لائنوں میں دھماکے ہو گئے۔
جواد اوجی کا کہنا ہے کہ اس شخص نے فون کال کے دوران ان سے ایسے سوالات کیے جیسے ’3+5 کتنے ہوتے ہیں؟‘ اور ’4+5 کتنے ہوتے ہیں؟‘ جوابات سننے کے بعد انھیں گیس پائپ لائنوں میں دھماکوں کے بارے میں بتایا گیا۔ اوجی کے مطابق چند منٹ بعد متعلقہ حکام نے بھی دھماکوں کی تصدیق کر دی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اوجی کا کہنا ہے کہ جب تک وہ گیس نیٹ ورک کے کنٹرول سینٹر پہنچے، ملک کی تین مرکزی پائپ لائنیں پھٹ چکی تھیں۔ انھوں نے دھماکوں کے باوجود صارفین کو گیس کی فراہمی نہ رکنے کو ’حکومتی اتھارٹی‘ کی علامت قرار دیا۔
ایران کے وزیرِ تیل جواد اوجی نے 14 فروری 2024 کو دھماکوں کے وقت کہا تھا کہ صوبہ فارس کے تین علاقوں میں قومی گیس ترسیلی نیٹ ورک میں رات ایک بجے ہونے والے دھماکے ’دہشت گردانہ‘ تھے۔ تاہم انھوں نے اسرائیل کا نام نہیں لیا تھا۔
بعض ایرانی ذرائع ابلاغ نے اوجی کے بیان کو ’عجیب‘ قرار دیا تھا۔
خبر رساں ویب سائٹ ’تابناک‘ نے ان بیانات کو شائع کرتے ہوئے لکھا کہ ’کہانی کے متن سے زیادہ تشویش ناک اس واقعے کے بیان کرنے کا انداز ہے۔ ایک ایسا بیانیہ جو فرد کے اقتدار کو ظاہر کرنے کے بجائے غیر ارادی طور پر دشمن کی طاقت کے مظاہرے کو بیان کرتا ہے۔‘
رہبر اعلی مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی کے قریب سمجھی جانے والی ویب سائٹ ’تابناک‘ نے اوجی کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہر یادداشت کی تشہیر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘
ویب سائٹ نے مزید کہا کہ ایسے بیانیے ’دشمن کے اقدام اور نفسیاتی کارروائیوں کی تکرار کی نشاندہی کرتے ہیں، بہتر ہے کہ خاموش رہیں۔‘
گذشتہ برس 12 روزہ جنگ کے بعد سے ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے اپنے ناظرین کے سامنے اسلامی جمہوریہ کی طاقت کا ایک بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
حکومت کے قریب قدامت پسند ذرائع ابلاغ نے جواد اوجی کے بیان کو علی لاریجانی کے ساتھ موساد سے منسوب رابطے کے بیان سے مختلف قرار دیا، جو اس وقت سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری تھے۔
ان ذرائع ابلاغ کے مطابق ’لاریجانی نے دوسری جانب کو کمتر دکھایا اور ایرانی فریق کی طاقت کو نمایاں کیا، لیکن اوجی کے بیان میں موساد کو برتر دکھایا گیا ہے۔‘
سابق وزیرِ تیل کے بیانات اور ان پر ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ موساد کے اہلکاروں سے منسوب فون کالز کی اطلاعات صرف 12 روزہ جنگ تک محدود نہیں ہیں اور کم از کم ایک ایسا واقعہ اس سے پہلے بھی پیش آیا تھا جو عوامی سطح پر سامنے نہیں آیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
علی لاریجانی سے ’موساد کا رابطہ‘
امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے 23 جون 2025 کو اس معاملے سے واقف تین ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ایران پر اسرائیلی حملوں کے چند گھنٹوں کے اندر ہی اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنٹوں نے ایرانی حکام کو خوفزدہ کرنے کے لیے ایک خفیہ مہم شروع کر دی۔
رپورٹ کے مطابق اُنھوں نے متعدد ایرانی کمانڈروں اور حکام کو فون کیے اور انھیں خبردار کیا کہ اگر انھوں نے حکومت کی حمایت جاری رکھی تو انھیں ہلاک کر دیا جائے گا۔
’واشنگٹن پوسٹ‘ نے ان فون کالز کا مقصد حکومتی ڈھانچے میں پھوٹ اور عدم استحکام پیدا کرنا، دوسرے اور تیسرے درجے کے حکام کو خوفزدہ کرنا اور ہلاک ہونے والے کمانڈروں کی جگہ نئے افراد کی تعیناتی کو مشکل بنانا قرار دیا۔
ذرائع میں سے ایک کے اندازے کے مطابق، اہم عہدوں پر فائز 20 سے زائد ایرانیوں سے رابطہ کیا گیا تھا۔
اسی رپورٹ میں واشنگٹن پوسٹ نے ایک فون کال کی آڈیو ریکارڈنگ کا کچھ حصہ بھی شائع کیا جس میں اخبار کی جانب سے اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنٹ قرار دیے جانے والے ایک شخص نے ایک سینئر ایرانی کمانڈر کو خبردار کیا کہ ’آپ کے پاس اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ فرار ہونے کے لیے 12 گھنٹے ہیں، ورنہ آپ کو اور اہلخانہ کو نشانہ بنایا جائے گا۔‘
اس کے بعد لاریجانی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اُنھوں نے فون کرنے والے کو ’نیتن یاہو کے شایان شان‘ جواب دیا تھا ’تاکہ اسے کچھ تسلی ہو سکے۔‘
اُنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ جن عہدیداروں کو ایسی کالیں موصول ہوئی، ان میں سے کسی نے بھی فون کرنے والوں کے مطالبات کو نہیں مانا۔
علی لاریجانی ان کالوں کو اسلامی جمہوریہ کے عہدیداروں کو خوفزدہ کرنے کے اسرائیلی منصوبے کا حصہ سمجھتے تھے۔
تقریباً نو ماہ بعد رواں برس 16 مارچ کو علی لاریجانی ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔
ان کالوں کے بارے میں شائع شدہ تفصیلات کا موازنہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ موساد سے منسوب افراد نے کم از کم بعض معاملات میں ایرانی عہدیداروں کو ایک جیسا پیغام دیا اور انھیں حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے یا ملک سے فرار ہونے کے لیے 12 گھنٹے کی مہلت دی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’20‘ سے ’دو ہزار‘ تک: موساد سے منسوب کالوں کے بارے میں متضاد بیانات
بارہ روزہ جنگ کے بعد کے دنوں اور ہفتوں میں ایرانی براڈکاسٹنگ کارپوریشن سمیت حکومت کے حامی میڈیا اداروں نے اسلامی جمہوریہ کے عہدیداروں کے ساتھ موساد کے مبینہ رابطوں کے بارے میں بتدریج مزید تفصیلات جاری کیں۔
واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کے علاوہ جس میں اہم عہدوں پر فائز 20 سے زائد ایرانیوں کے ساتھ رابطوں کا ذکر تھا، بعد میں آنے والی ملکی میڈیا کی رپورٹس میں ان کالز وصول کرنے والوں کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کی گئیں، جن کے مطابق ان میں فوجی کمانڈرز، سیاسی عہدیدار اور سکیورٹی حکام شامل تھے۔
قدامت پسند اخبار ’آگاہ‘ نے یکم جولائی 2025 کو دعویٰ کیا کہ ’قابلِ اعتماد معلومات‘ کی بنیاد پر موساد نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں فون کالز، خفیہ پیغامات یا ای میلز کے ذریعے اسلامی جمہوریہ کے دو ہزار سے زائد عہدیداروں، فوجی کمانڈرز، سکیورٹی ڈائریکٹرز اور بااثر شخصیات سے رابطہ کیا تھا۔
اس رپورٹ کے مطابق اس آپریشن کا مقصد محض افراد کو دھمکانا نہیں تھا۔ کال کرنے والوں نے اعلیٰ عہدیداروں کو یہ تاثر دے کر خوفزدہ کرنے کی بھی کوشش کی کہ حکومت کا خاتمہ قریب ہے اور انھیں تہران چھوڑنے یا اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔
واشنگٹن پوسٹ کے ایک ذریعے کے اس اندازے کہ ’20 سے زائد حکام‘ سے رابطہ کیا گیا تھا اور ’آگاہ‘ اخبار کے اس دعوے کہ دو ہزار سے زائد افراد سے رابطہ ہوا، کے درمیان نمایاں فرق ہے۔
’آگاہ‘ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ اپنے بتائے گئے اعداد و شمار تک کیسے پہنچا۔
چند ہفتوں بعد 18 جولائی 2025 کو حکومت کے قریبی سیاسی تجزیہ کار مصطفیٰ خوش چشم نے ایرانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوران موساد نے پاسدارانِ انقلاب کے تقریباً 100 کمانڈرز سے رابطہ کیا تھا اور انھیں دھمکانے یا اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی تھی۔
خوش چشم نے کہا کہ ان کالز کا مقصد افراد کو ’خریدنا‘ یا ’مرعوب کرنا‘ تھا۔
ان کے مطابق، اسلامی جمہوریہ کے کئی ’بڑے سیاستدانوں‘ کو بھی ایسی ہی کالز کی گئی تھیں، جن میں علی لاریجانی بھی شامل تھے۔
لیکن ان میں سے کسی نے بھی کال کرنے والوں کی بات نہیں مانی۔ اسی بنیاد پر انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’موساد کا منصوبہ‘ ناکام ہو گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
موساد: ایک انٹیلی جنس ادارے سے میڈیا بیانیے تک
اگر ہم محسن فخری زادہ سمیت جوہری سائنسدانوں کے قتل اور موساد سے منسوب فوجی و صنعتی تخریبی کارروائیوں کو بھی ایک طرف رکھ دیں، تب بھی ایران میں اسرائیل کی موجودگی اور انٹیلی جنس سرگرمیوں سے متعلق اطلاعات کا دائرہ کار محض ’12 روزہ جنگ‘ یا حالیہ برسوں کی فون کالز تک محدود نہیں ہے۔
کئی دہائیوں سے ایرانی سیاسی اور سکیورٹی لٹریچر میں موساد کا ذکر مختلف صورتوں میں ملتا رہا ہے، جن میں سکیورٹی رپورٹس، یادداشتیں، کتابیں اور کبھی کبھار فلمی و ڈرامائی تخلیقات شامل ہیں۔
سنیما اور ٹیلی ویژن کی دنیا میں بھی برسوں سے ایران سے متعلق متعدد افسانوی تخلیقات میں موساد کا نام اور کردار دکھائی دیتا رہا ہے۔
ایران میں بننے والی فلموں اور سیریز کے علاوہ، اس کی ایک مشہور مثال اسرائیلی سیریز ’تہران‘ ہے جو پہلی بار 2020 میں نشر کی گئی تھی۔
اس سیریز کی کہانی اس مفروضے پر مبنی ہے کہ موساد کے ایجنٹ ایران کے اندر کارروائیاں اور نیٹ ورکنگ کر سکتے ہیں، آپریشنز کو انجام دے سکتے ہیں اور حساس سکیورٹی و فوجی تنصیبات کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔
یہ سیریز ایران میں اثر و رسوخ کے لیے موساد کی صلاحیت کی ایک افسانوی عکاسی پیش کرتی ہے۔ تاہم اس طرح کے کسی کام کی تخلیق کو لازمی طور پر اسرائیلی حکومت کی پالیسی کا عکاس یا ایرانی عوام پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اسی کے ساتھ ساتھ، حالیہ برسوں میں ایران میں مبینہ اسرائیلی کارروائیوں کے بارے میں معلومات کے لیک ہونے یا منتخب طور پر جاری کیے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
ایسی معلومات جو پہلے عوامی سطح پر کم دستیاب تھیں۔ اس صورتحال نے بعض تجزیہ کاروں میں یہ شبہ پیدا کیا ہے کہ ان معلومات کا اجرا شاید ایک ایسی نفسیاتی مہم کا حصہ ہو جس کا مقصد اسرائیل کی انٹیلی جنس صلاحیتوں کو اجاگر کرنا، ایرانی حکام کو مرعوب کرنا اور اسلامی جمہوریہ کے سکیورٹی ڈھانچے پر اعتماد کو کمزور کرنا ہے۔
انٹیلی جنس ایجنسیاں عام طور پر اپنی بیرونِ ملک کارروائیوں کی تفصیلات خفیہ رکھتی ہیں، لیکن بعض اوقات ایسی کارروائیوں کے بارے میں منتخب معلومات اور بیانیے جاری کیے جاتے ہیں۔
فوجی اور سیاسی حکام کے ساتھ موساد منسوب فون کالز اور ایرانی میڈیا میں ان کی کوریج کا جائزہ لینے سے موساد کی ایک ایسی تصویر سامنے آتی ہے جس کے تحت یہ خفیہ ادارہ ایران کے اعلیٰ حکام سے براہِ راست رابطہ کرنے اور انھیں دھمکانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی سکیورٹی ادارے بار بار یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انھیں اسرائیلی انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کے بارے میں اہم معلومات اور اثر و رسوخ حاصل ہے اور وہ اسرائیل کے مقابلے میں کمزور نہیں ہیں۔
تاہم، فون کالز اسرائیلی انٹیلی جنس کی دراندازی کی کہانی کا محض ایک حصہ ہیں۔ 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں کے دوران، اسرائیل نے ٹارگٹڈ حملوں میں اسلامی جمہوریہ کے کئی انتہائی سینئر فوجی کمانڈروں اور سیاسی و سکیورٹی حکام کو ہلاک کیا۔
ان میں سے بعض حملوں کے اوقات اور درستگی، نیز کال کرنے والوں کی جانب سے حکام کے فون نمبروں اور ذاتی معلومات تک رسائی نے اسرائیل کی انٹیلی جنس رسائی کے دائرہ کار کے بارے میں وسیع تر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔



















