استنبول کی استقلال سٹریٹ پر دھماکہ: ’یہاں زندگی ہے، مجھے اس گلی سے پیار ہے‘

    • مصنف, اینا فوسٹر
    • عہدہ, استقلال سٹریٹ، استنبول
  • وقت اشاعت

دھماکے کی ویڈیو اگرچہ مختصر تھی لیکن اس سے تباہی کا پتا چل جاتا ہے۔ اتوار کی دوپہر کو استقلال سٹریٹ پر جمع ہونے والا ہجوم اچانک دھماکے کی آواز سے ادھر ادھر ہوگیا۔ جب لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے اس وقت فضا میں نارنجی رنگ کے شعلے اور سیاہ دھواں بلند ہو رہا تھا۔

گھنٹوں بعد استقلال سٹریٹ دوبارہ مصروف ہو گئی۔ سڑک کے دونوں طرف دو میزیں رکھی گئی ہیں، ان کے اوپر کپڑا بچھایا گیا ہے اور اس پر سرخ پھولوں کا ڈھیر ہے۔

سڑک کے ساتھ فٹ پاتھ کی سرمئی ٹائلیں پہلے ہی دھو دی گئی ہیں اور وہاں سے قتل عام کے جسمانی نشانات کو تیزی سے ہٹا دیا گیا ہے۔

مخمل سے ڈھکا پوڈیم اب اس جگہ کو گھیرے ہوئے ہے جہاں تباہ شدہ بینچ پڑا تھا۔ پولیس کا خیال ہے کہ حملہ آور نے یہاں بم لگایا تھا لیکن جب آپ اوپر دیکھتے ہیں تو ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کو دیکھ کر آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کیا ہوا تھا۔

استقلال سٹریٹ کو دیکھ کر مجھے اکثر لگتا ہے کہ زندگی کے معنی دراصل یہ ہیں۔ یہاں صبح سے لے کر رات تک لوگوں کا ہجوم رہتا ہے اور آپ کو اکثر یہاں آتے جاتے خریداروں کے گروہوں کے درمیان راستہ بنا کر چلنا پڑتا ہے۔

یہ مقام سیاحوں کے لیے حقیقی توجہ کا مرکز ہے، جو روایتی دکانوں سے میٹھے بکلاوا کے ڈبے خریدنے آتے ہیں۔ کسی بھی روایتی ترک آئس کریم بیچنے والے کی کڑکتی آواز کبھی بھی آپ کے کانوں سے دور نہیں ہوتی۔

یہ ترک خاندانوں کے لیے بھی مختلف کرتب ​​دیکھنے اور خریداری کا اہم مرکز ہے۔ باہر نکلنے والی گلیاں مے خانے اور ریستورانوں سے بھری ہوئی ہیں۔ یہ سڑک اس شہر کے دھڑکتے دل کی اہم شریان ہے۔

یہ پہلی بار نہیں کہ استنبول میں دہشتگردی کا واقعہ ہوا ہے۔ سنہ 2015 اور 2017 کے درمیان ترکی میں اسلام پسند عسکریت پسندوں اور کرد علیحدگی پسندوں کے حملوں میں بھی 500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اتوار کے روز دھماکے کے چند گھنٹوں بعد ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان سویلو نے کہا کہ ابتدائی نتائج سے پتا چلتا ہے کہ اس حملے کے پیچھے کرد علیحدگی پسند گروپ ’پی کے کے‘ کا ہاتھ تھا، حالانکہ ابھی تک کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

انھوں نے کہا کہ جس نے بھی بمباری کی ہے ترکی اس کے خلاف ’جلد جوابی کارروائی‘ کرے گا۔

ان کے بیان کے بعد استنبول کی سڑکوں پر ایک نیا اضطراب نظر آ رہا ہے۔

برہان کزلکایا کہتے ہیں کہ ’میں وزیر کی باتوں پر سو فیصد یقین رکھتا ہوں۔‘

وہ استقلال سٹریٹ کے بالکل قریب ایک چھوٹا ریستوراں چلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ واضح طور پر دہشتگردی ہے۔

انھوں نے بے گناہ لوگوں اور بچوں کو ہلاک کیا ہے۔ ان سب کو پھانسی دی جانی چاہیے۔ میرے خیال میں یہاں ہماری حکومت کی بدولت سکیورٹی بہت سخت ہے، لہذا مجھے نہیں لگتا کہ تاریک ترین وقت (دوبارہ) واپس آئے گا۔‘

نیسم سیلک ایک ترک شہری ہیں لیکن ان کا تعلق کرد نسل سے ہے۔ انھیں یقین نہیں کہ پی کے کے اس حملے کی ذمہ دار تھی۔

وہ مجھے بتاتے ہیں کہ ’اب ہر کوئی فکر مند ہے کہ کہیں زیادہ تشدد کا دور واپس نہ آ جائے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اگلے جون میں انتخابات کے قریب آتے ہی بم واپس آجائیں گے۔ مجھے ایسا محسوس نہیں ہوتا تھا لیکن کل کے بعد، اب میں ایسا محسوس کرتا ہوں۔‘

یہاں یادیں اب تازہ ہیں۔ مجید بال کا بیٹا دھماکے سے صرف 20 میٹر کے فاصلے پر ان کے چھوٹے سے خاندانی کھوکے کے باہر گلی میں تھا۔ اس نے بتایا کہ بم کی طاقت نے اسے زمین پر پٹخ دیا۔

مجید بال کہتے ہیں کہ ’لوگ اس کی طرف دوڑ رہے تھے، اس سے ٹکرا رہے تھے اور بھاگتے ہوئے اسے دھکیل رہے تھے لیکن اسے شاید محسوس بھی نہیں ہوا۔ ہر طرف خون ہی خون تھا۔ جب میں واپس آیا تو میں نے دیکھا کہ یہیں فرش پر دو لاشیں پڑی ہیں۔ میں نے کھوکھے کو بند کیا اور اپنے بیٹے کو گھر لے گیا۔‘

’آج صبح میرے گھر والے نہیں چاہتے تھے کہ میں یہاں واپس آؤں، لیکن میں یہ دکان 40 سال سے چلا رہا ہوں۔ میں ہر صبح 6 بجے اسے کھولتا ہوں۔ یہ گلی ایسی نہیں ہونی چاہیے۔‘

جب دھماکہ ہوا تو آدم ترسن استقلال سٹریٹ کے نیچے والے حصے میں تھے۔

’اچانک مجھے ایمبولینسیں نظر آنے لگیں اور میں سمجھ گیا کہں کوئی ہنگامی صورتحال ہے۔ لوگ چیخ رہے تھے کہ دھماکہ ہوا ہے لیکن یہ صورتحال واقعی زیادہ غیر معمولی تھی کیونکہ بہت سی ایمبولینسیں بہت تیزی سے گزری تھیں۔‘

میں نے سوچا کہ آدم ترسن اتنی جلدی استقلال سٹریٹ کیوں واپس آ گئے۔

انھوں نے مجھے بتایا ’کیونکہ میں دیکھنا چاہتا تھا، میں متجسس تھا۔ میں ہر روز اس گلی سے گزرتا ہوں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں زندگی ہے، مجھے اس گلی سے پیار ہے۔‘