استنبول کی استقلال سٹریٹ پر دھماکے کا ایک ملزم گرفتار: ترک وزیر داخلہ

وقت اشاعت

ترک حکام کے مطابق مرکزی استنبول کے مصروف علاقے میں ایک دھماکے سے کم از کم چھ افراد ہلاک جبکہ 82 زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکہ اتوار کو تقسیم سکوئر میں مقامی وقت کے مطابق قریب شام چار بج کر 20 منٹ پر ہوا۔

ترک وزیر داخلہ کے مطابق اس دھماکے کے بعد ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سلیمان صویلو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جس شخص نے بم رکھا تھا اسے استنبول سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ ٹیمز نے گرفتار کیا ہے۔

انھوں نے اس دھماکے کا ذمہ دار کردستان ورکرز پارٹی اور شام کی کرد ڈیموکریٹک یونین پارٹی کو قرار دیا تاہم اب تک کسی گروہ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

خیال رہے کہ کردستان ورکرز پارٹی ایک مسلح گروہ ہے جو ترکی میں آزاد کرد ریاست کا مطالبہ کرتا ہے۔ یورپی یونین اور امریکہ اسے دہشتگرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔

صویلو نے دھماکے پر امریکہ کی مذمت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ’جائے وقوعہ پر سب سے پہلے قاتل پہنچا۔‘

ترک صدر رجب طیب اردوغان نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس دھماکے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا اور سزا دی جائے گی جبکہ ترکی کے نائب صدر نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ دہشت گرد حملہ ہو سکتا ہے جو کہ ایک خاتون نے کیا۔

استنبول میں دھماکے کے مقام پر موجود نمائندہ بی بی سی اورلا گورین نے بتایا کہ استقلال سٹریٹ اور اس کے ارد گرد کے علاقے میں پولیس کے اہلکار بڑی تعداد میں موجود ہے جنھوں نے علاقے کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔

نمائندہ بی بی سی کے مطابق ایمبولینس اور امدادی کارروائیاں کرنے والے ارکان علاقے میں موجود ہیں جبکہ سکیورٹی ہیلی کاپٹر علاقے کے اوپر محو پرواز ہیں۔

ایک عینی شاہد کیمل ڈینینسی نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ دھماکے کی جگہ سے محض 50 میٹر دور تھے جب انھوں نے دھماکے کی تیز آواز سنی۔

’میں نے دیکھا کہ تین سے چار لوگ زمین پر اوندھے منھ پڑے ہیں جبکہ بہت سے لوگ افراتفری کے عالم میں بھاگ رہے تھے۔ اس جگہ کالا دھواں تھا۔ دھماکے کی آواز اتنی شدید تھی کہ میں کچھ وقت کے لیے بہرہ ہو گیا تھا۔‘

جس جگہ دھماکہ وہا وہ سڑک استبنول کے مشہور سیاحتی مقام تقسیم سکوائر کے قریب واقع ہے۔ اتوار کا دن اور موسم گرم ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں کافی بھیڑ تھی۔ ترکی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دھماکے کے بعد لوگ زمین پر پڑے نظر آئے۔

پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا اور اس علاقے کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے

موصول ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی ایمبولینسیں اور پولیس کی گاڑیاں علاقے میں بھیجی گئی ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور حزب اختلاف کے رہنما عمران خان نے استبول میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی ہے اور انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔