مکہ معاہدے کے بعد کویت سے دفاعی تعاون: کیا خلیجی سکیورٹی میں پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہKuwait Army General Staff (General Staff of the Army)
- مصنف, نسرین حطوم
- عہدہ, بی بی سی میں مشرق وسطیٰ کی نامہ نگار
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
پاکستان اور کویت نے جمعرات 27 اگست کو کویتی وزیرِ دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ سالم الصباح کے اسلام آباد کے دورے کے دوران مشترکہ دفاعی اور فوجی تعاون کے حوالے سے ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے۔
پاکستانی ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان سنہ 2023 میں کویت میں طے پانے والے دفاعی تعاون کے معاہدے کا تسلسل اور اس میں توسیع ہے، جس کی کویت نے 2026 میں توثیق کی۔
نئے معاہدے کا مقصد آپریشنل رابطہ کاری کو مضبوط بنانا، تجربات کا تبادلہ کرنا اور فوجی تیاری کی سطح بہتر بنانا ہے۔ اس کے علاوہ فوجی تربیت، استعداد بڑھانے اور سرحدی انتظام کے شعبوں میں تعاون کو بھی وسعت دی جائے گی۔
دونوں ممالک کے درمیان پہلا فریم ورک معاہدہ جون سنہ 2023 میں طے پایا تھا، جو باہمی تجربات کے تبادلے، دفاعی صنعتوں اور فوجی تربیت سمیت مختلف شعبوں میں اصولوں اور تعاون کو منظم کرنے کے لیے مشترکہ قانونی و قانون سازی کا فریم ورک فراہم کرتا تھا۔
تاہم نیا معاہدہ اس فریم ورک پر فوری عمل درآمد اور علاقائی سطح پر اس کے دائرہ کار کو وسعت دینے کی نمائندگی کرتا ہے۔
اگرچہ نیا معاہدہ باضابطہ طور پر روایتی فوجی تعاون کے دائرے میں آتا ہے، تاہم اس کے وقت نے بعض سوالات بھی اٹھائے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی ’مکہ معاہدے‘ پر دستخط کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں بھی ہوئی ہے جب خلیجی خطہ اپنے سکیورٹی ڈھانچے یا نظام کی تشکیلِ نو کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور اس میں تعاون اور سکیورٹی کے حوالے سے نئی صف بندیاں سامنے آ رہی ہیں۔
تعاون کا معاہدہ یا مشترکہ دفاع؟
کویت اور پاکستان کے درمیان ہونے والا معاہدہ بظاہر فوجی اتحاد یا باہمی دفاعی معاہدے کی حیثیت نہیں رکھتا، جس کے تحت دونوں میں سے کسی ایک ملک کو خطرے یا حملے کی صورت میں ایک دوسرے کو سکیورٹی کی ضمانت دینا لازم ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس معاہدے کی توجہ زیادہ تر فوجی تربیت، استعداد بڑھانے، تجربات کے تبادلے اور دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تیاری اور رابطہ کاری کی سطح بہتر بنانے پر ہے۔
پاکستانی سکیورٹی امور کے ماہر محمد علی کا کہنا ہے کہ ’کویت اور پاکستان کے درمیان نیا معاہدہ ’مکہ معاہدے‘ سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ مکہ معاہدہ بنیادی طور پر ایک اجتماعی سکیورٹی معاہدہ ہے۔‘
محمد علی نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’مکہ معاہدہ بہت وسیع اور جامع ہے اور اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ وسائل کو کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘
اس کے برعکس پاکستانی ماہر نے دوطرفہ معاہدے کو صرف دفاعی تعاون تک محدود قرار دیا اور اسے سکیورٹی معاہدہ نہیں سمجھا۔ ان کے مطابق پاکستان کی کویت کے حوالے سے ایسی کوئی سکیورٹی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اس کی جانب سے جنگ لڑے یا اس کا دفاع کرے۔
انھوں نے مزید کہا ’ہم صرف ان کی مسلح افواج کی صلاحیتیں بہتر بنانے، انھیں تربیت دینے اور فوجی مشقوں میں شرکت کے مواقع فراہم کرنے میں مدد کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کو مزید مضبوط کر سکیں۔‘
اس حوالے سے کویتی جغرافیائی سیاسی امور کے تجزیہ کار عبداللہ خالد الغنیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پاکستان اور کویت کے درمیان معاہدہ ’فعال طور پر توسیع پذیر‘ ہے، یعنی مستقبل میں یہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے مزید وسیع شعبوں میں توسیع کی بنیاد بن سکتا ہے۔‘
تاہم ان کے مطابق ’اس توسیع کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی دفاعی ضمانت یا مشترکہ دفاعی اتحاد کی جانب بڑھنے کے لیے کوئی طے شدہ راستہ موجود ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہKuwait Army General Staff (General Staff of the Army)
مکہ معاہدے کے بعد نئے معاہدے کے وقت کی اہمیت
مکہ معاہدے کے چند ہی ہفتوں بعد کویت اور پاکستان کے درمیان نئے معاہدے پر دستخط ہونے سے اس معاملے کو ایک اضافی سیاسی پہلو مل گیا ہے۔
حالیہ برسوں میں خلیجی ممالک نے مختلف علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔ اس کی ایک وجہ خطے کا بڑھتا ہوا پیچیدہ سکیورٹی ماحول ہے، جس میں علاقائی جنگیں، سمندری کشیدگی، توانائی کی تنصیبات پر حملے اور امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی کے اثرات شامل ہیں۔
اس لیے پاکستان اور کویت کے معاہدے کو صرف دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ معاملے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ اسے سکیورٹی شراکت داریوں کو متنوع بنانے اور ان میں اضافے کے وسیع تر رجحان کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ خلیجی ممالک کی جانب سے محدود دائرے سے آگے بڑھ کر دفاعی شراکت داریوں کو وسعت دینے کی خواہش کی بھی عکاسی کرتا ہے، خصوصاً خطے میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں۔
تاہم کویتی جغرافیائی سیاسی امور کے تجزیہ کار عبداللہ خالد الغنیم اس تجزیے سے اتفاق نہیں کرتے کہ کویت بالواسطہ طور پر مکہ معاہدے کے قائم کردہ نظام اور فریم ورک کا حصہ بن گیا ہے یا کویت کا حالیہ پروٹوکول براہِ راست اسی معاہدے کا نتیجہ ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’علاقائی سکیورٹی میں ہونے والی پیش رفت نے صرف کویت اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے جاری تعلقات کی ’اسٹریٹجک اہمیت‘ کو مزید بڑھایا ہے۔‘
کویت کو اس وقت پاکستان کی ضرورت کیوں ہے؟
کویت کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون اسلامی دنیا کے ایک بڑے فوجی ادارے اور تنظیم کے علم اور تجربے سے فائدہ اٹھانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان میں ایسی خصوصیات موجود ہیں جو اسے خلیجی ممالک کے لیے ایک پرکشش شراکت دار بناتی ہیں۔
خلیجی ممالک اور اسلام آباد کے درمیان فوجی تعلقات بھی کوئی نئی بات نہیں۔ پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مختلف طریقوں سے کردار ادا کرتا رہا ہے، خواہ یہ فوجی تربیتی پروگرام ہوں یا خطے کے متعدد ممالک میں پاکستانی مشیروں اور فوجی اہلکاروں کی موجودگی۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کویت بھی دیگر خلیجی ممالک کی طرح بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی مسلح افواج کی آپریشنل اور فوجی تیاری کی سطح بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان اور کویت کے درمیان نئے معاہدے اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ معاہدے کا قریب قریب ایک ہی وقت میں سامنے آنا اس بات کی عکاسی کر سکتا ہے کہ خلیج کی سکیورٹی صورتحال میں پاکستان کا کردار بتدریج مضبوط ہو رہا ہے اور اس کی موجودگی بڑھ رہی ہے۔
پاکستانی سکیورٹی امور کے ماہر محمد علی کے مطابق ’خطے میں حالیہ جھڑپوں اور تشدد کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک کی جانب سے پاکستان کے کردار کی قدر اور اعتراف میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘
ان کے مطابق ’پاکستان نے کئی خلیجی ممالک کا اعتماد حاصل کیا ہے جو ملک کی فوجی اور دفاعی صلاحیتوں اور تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔‘
دوسری جانب کویتی جغرافیائی سیاسی امور کے تجزیہ کار عبداللہ خالد الغنیم کا کہنا ہے کہ ’زیادہ درست سوال یہ نہیں کہ ’کیا پاکستان خلیج کے سکیورٹی نظام میں داخل ہو گیا ہے؟‘ بلکہ یہ ہے کہ ’کیا پاکستان بتدریج ایک ایسے ملک کی حیثیت کی جانب بڑھ رہا ہے جو خلیج اور اس کے گرد و نواح میں بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کے نیٹ ورک میں مرکزی رابطے یا اہم کڑی کا کردار ادا کرے؟‘
ان کے مطابق موجودہ حالات یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ تبدیلی مکمل ہو چکی ہے۔
کیا امریکی سکیورٹی پر انحصار کم ہو رہا ہے؟
ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ یہ معاہدہ امریکہ کے ساتھ سکیورٹی شراکت داری کا متبادل ہے، جو اب بھی خلیجی مُمالک کی سکیورٹی کا بنیادی اور اہم مسئلہ ہے۔
دوسری جانب پاکستان اور ترکی کے ساتھ تعاون میں توسیع اس خواہش اور آمادگی کی عکاسی کرتی ہے کہ خلیجی ممالک بڑھتے ہوئے پیچیدہ سکیورٹی ماحول اور علاقائی و عالمی طاقتوں کے بدلتے توازن اور رجحانات کے پیش نظر اپنے دفاعی آپشنز میں اضافہ کریں۔
اس تناظر میں پاکستانی سکیورٹی امور کے ماہر محمد علی کا کہنا ہے کہ ’خطے میں موجود پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر کویتی قیادت نے امریکہ کے ساتھ اپنے موجودہ سکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط اور متنوع بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
ان کے مطابق ’کویتی قیادت سمجھتی ہے کہ ہر ملک کی اپنی منفرد خارجہ پالیسی ہوتی ہے اس لیے مختلف دفاعی شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون رکھنا اس کے لیے بہت مفید ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہKuwait Army General Staff (General Staff of the Army)
اسی حوالے سے عبداللہ خالد الغنیم کا کہنا ہے کہ ’امریکہ اب بھی کویت اور خلیج کے فوجی و سکیورٹی ڈھانچے کا ایک اہم اور بنیادی حصہ ہے۔‘
ان کے مطابق اس بات کے لیے ’کافی شواہد موجود نہیں کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کا مطلب واشنگٹن سے دوری اختیار کرنا یا مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہونا ہے۔‘
الغنیم کے مطابق ’کویت اپنے بنیادی سکیورٹی شراکت دار کو برقرار رکھتے ہوئے دیگر شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کا دائرہ وسیع کر سکتا ہے، تاکہ سکیورٹی کے لیے کسی ایک بنیاد پر انحصار کم ہو اور اس کی سٹریٹجک لچک میں اضافہ ہو۔‘
ایران کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باوجود پاکستان کا بڑھتا کردار
یہاں اب یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ خلیج میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور کردار ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب اسلام آباد نے ایران کے ساتھ بھی اپنے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس وجہ سے بعض دیگر علاقائی شراکت داروں کے مقابلے میں پاکستان کو ایک منفرد اور خصوصی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
اسی طرح علاقائی حریفوں کے ساتھ رابطے اور بات چیت کے راستے برقرار رکھنے کی پاکستان کی صلاحیت بعض خلیجی ممالک کے لیے اسے سکیورٹی شراکت دار کے طور پر مزید پرکشش بنا سکتی ہے۔
ایسے وقت میں جب یہ خدشات اور سوالات بڑھ رہے ہیں کہ آیا کوئی ایک فریق خطے کو جامع سکیورٹی فراہم کر سکتا ہے، خلیجی ممالک دفاعی شراکت داریوں کا ایک متنوع نیٹ ورک قائم کرنے کی جانب واضح طور پر مائل دکھائی دیتے ہیں۔
اس لیے پاکستان اور کویت کا معاہدہ محض ایک سادہ فوجی تعاون اور تربیتی معاہدہ نہیں بلکہ خلیج کے سکیورٹی توازن کو ازسرِنو تشکیل دینے اور تعمیرِ نو کے عمل میں ایک نئے مرحلے کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔
اس عمل میں علاقائی شراکت دار بتدریج اس میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں جہاں کئی دہائیوں سے مغربی طاقتوں کا غلبہ رہا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ روایتی شراکت داریوں کو ترک کیا جا رہا ہے۔



















