’نور فاطمہ کی لاش دو روز بعد نالے سے برآمد ہوئی‘: گجرات میں کزن پر چار سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کا الزام

،تصویر کا ذریعہPolice/Rescue 1122
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انتباہ: اس رپورٹ میں ریپ اور قتل سے متعلق ایسی تفصیلات شامل ہیں جو بعض قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر گجرات میں جمعرات کے روز لاپتہ ہونے والی چار سالہ نور فاطمہ کی لاش ملزم کی نشاندہی پر دو روز کی تلاش کے بعد برساتی نالے سے برآمد کر لی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کے الزام میں اس کے تایا کے بیٹے کو گرفتار کر کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
بچی کے اغوا کی ایف آئی آر والد کی مدعیت میں جمعرات کو درج کی گئی تھی جبکہ پولیس کے مطابق دو روز بعد بچی کی لاش ملنے کے بعد اس میں ریپ اور قتل کی دفعات بھی شامل کر لی گئی ہیں اور بچی کا پوسٹ مارٹم کروایا جا رہا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق چار سالہ نور فاطمہ کو جمعرات کو اپنے گھر میں موبائل فون دیکھ رہی تھی جب اس کا کزن اسے اپنے ساتھ لے گیا۔
جلال پور جٹاں میں پیش آنے والے واقعے میں مقامی پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے بچی کو مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد بیہوشی کی حالت میں اسے بوری میں بند کر کے نالے میں بہا دیا تھا۔ ملزم کی اس نشاندہی کے بعد ریسکیو حکام نے دو روز قبل اس برساتی نالے میں تلاش کا آغاز کیا تھا۔
گجرات پولیس کے ترجمان راحیل عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ بچی کی لاش کو دو روز بعد جائے وقوعہ سے پانچ کلو میڑ دور برساتی نالے سے برآمد کیا گیا ہے جسے پوسٹ مارٹم کے بعد لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق اس مقدمے میں گرفتار ہونے والا 16 سالہ ملزم پولیس کی حراست میں ہے اور پولیس نے اس کا ڈی این اے ٹیسٹ حاصل کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم مدعی کا بھتیجا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بچی کے والد ذیشان نے بی بی سی کو بتایا کہ بچی کی لاش زیادہ دیر تک پانی میں رہنے کی وجہ سے پھول گئی ہے اور شناخت کے قابل نہیں ہے۔ لہذا اس کی فوری تدفین کی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہRescue 1122
ایف آئی آر میں کیا ہے؟
27 اگست کو درج ہونے والی ایف آئی آر میں بچی کے والد کا کہنا ہے کہ اُنھیں دوپہر ساڑھے بارہ بجے اپنی اہلیہ کی کال موصول ہوئی کہ بچی گھر میں موبائل فون دیکھ رہی تھی کہ اسی دوران ملزم اسے اپنے ساتھ باہر لے گیا اور کافی دیر گزرنے کے بعد بھی بچی واپس نہیں آئی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ بعدازاں بچی کی تلاش شروع کی گئی تو ایک شخص نے بتایا کہ ملزم (مدعی کا سگا بھتیجا) اسے اپنے ساتھ لے کر جا رہا تھا۔
ایف آئی آر میں والد نے شک ظاہر کیا تھا کہ ان کے اپنے ہی بھتیجے نے چار سالہ نور فاطمہ کو اغوا کیا، لہذا اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

،تصویر کا ذریعہRescue 1122
’بھائی یا بھتیجوں سے کوئی رنجش نہیں تھی‘
نور فاطمہ کے والد ذیشان نے بی بی سی کو بتایا کہ بیٹی کے اغوا کے مقدمے کے اندراج کے بعد مقامی تھانے سے اس مقدمے کے تفتیشی افسر کا فون آیا تھا، جنھوں نے بتایا کہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
ذیشان حیدر جو کہ پیشے کے اعتبار سے درزی ہیں، کا کہنا ہے کہ ملزم اس کے سگے بھائی کا بیٹا ہے اور ان کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ان کی اپنے بھائی یا بھتیجوں کے ساتھ کوئی رنجش نہیں تھی۔
بچی کے والد کے مطابق پولیس ابھی صرف گرفتار ملزم کے بیان کو بنیاد بنا کر ہی تفتیش کو آگے بڑھا رہی ہے۔
گجرات پولیس کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ ملزم کی نشاندہی پر پولیس کی ٹیمیں رات سے بچی کی لاش کو تلاش کر رہی تھیں۔
گجرات پولیس کے ترجمان راحیل عارف کا مزید کہنا تھا کہ بچی کے پوسٹ مارٹم کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ملزم کو جمعے کے روز حراست میں لے لیا گیا تھا اور اس سے پوچھ گچھ جاری تھا۔ تاہم اب اسے اتوار کو عدالت میں پیش کر کے ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں بچیوں کے ریپ اور قتل کے واقعات میں اضافہ
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان میں حالیہ عرصے میں بچوں کے ریپ اور قتل کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
چند روز قبل خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے رہائشی محمد شفیق کی اکلوتی پانچ سالہ بیٹی آیت نور کی لاش اس کے لاپتہ ہونے کے 15 روز بعد ایک کنویں سے برآمد ہوئی تھی۔
ہری پور پولیس نے بتایا تھا کہ اس واقعے میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن میں ایک کی عمر 18 سال سے کم ہے۔
اس سے قبل جون میں پنجاب کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ منتہا زہرہ کو مبینہ طور پر ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔
بعدازاں پنجاب پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے حکام نے بتایا تھا کہ سرگودھا شہر میں آٹھ سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کے مرکزی ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت ہو گئی۔
پولیس نے آٹھ سالہ منتہا زہرا کے مبینہ ریپ اور قتل کے الزام میں مرکزی ملزم سمیت پانچ افراد کو گرفتار کرنے کے بعد مزید تفتیش کی غرض سے سی سی ڈی کے حوالے کیا تھا۔
گذشتہ برس اپریل میں راولپنڈی کی تحصیل مندرہ میں سات سالہ بچی کے ساتھ مبینہ طور پر ریپ کر کے اسے قتل کرنے والا ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا تھا۔
مقامی پولیس کے مطابق ملزم مبینہ ریپ کے بعد قتل کی گئی بچی کا سگا ماموں تھا۔



















