لائیو, ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری کھولنے پر اتفاق ہو گیا ہے: محسن رضائی

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک عارضی راہداری کھولنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک نئی گزرگاہ ہے جو آبنائے ہرمز کے وسط میں واقع ہے۔

خلاصہ

  • نیپال میں اچانک آ جانے والے سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 489 ہو گئی ہے جبکہ 48 گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد بھی وہاں صورتِ حال سنگین ہے۔
  • ایک امدادی کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ نیپال میں ابتر صورتِ حال کے باوجود اب بھی یہ امید موجود ہے کہ لاپتہ افراد میں سے کچھ زندہ مل سکتے ہیں۔
  • نیپالی حکومت نے 500 لاپتہ غیرملکی شہریوں کے نام جاری کیے ہیں، جن میں انڈیا کے 178، امریکہ کے 65 اور برطانیہ کے 33 شہری شامل ہیں۔
  • چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 558 سے زیادہ لاپتہ ہیں۔

لائیو کوریج

  1. نیپال میں سیلاب، اب تک 538 مرنے والوں کی لاشیں نکالی گئی ہیں: ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی

    سیلاب کی تباہ کاری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کا کہنا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاری کے باعث اب تک 538 مرنے والے افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    نیپال میں حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈ کے بعد امدادی اور بحالی کی کارروائیاں جاری ہیں تاہم ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    ادارے نے لاپتہ افراد کی تعداد سے متعلق اپ ڈیٹ میں کہا ہے کہ 977 افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن میں 517 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔

    اس سے قبل نیپال پولیس نے کہا تھا کہ بدھ کے روز آنے والے سیلاب کے نتیجے میں 489 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    دونوں ادارے ریسکیو آپریشن کے بارے میں الگ الگ اپ ڈیٹس جاری کر رہے ہیں کیونکہ امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

  2. ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89 برس کی عمر میں وفات پا گئے

    ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم

    ،تصویر کا ذریعہAnwar Hussein/Getty Images

    ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ 5 (پنجم) 89 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔ انھیں گزشتہ ہفتے خون کی ایک نایاب بیماری کی تشخیص کے بعد علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

    اوسلو میں شاہی محل نے اس حوالے سے بیان میں کہا کہ وہ جمعے کو مقامی وقت کے مطابق 06:35 پر اوسلو کے نیشنل ہسپتال میں پُرسکون طور پر وفات پا گئے۔

    اس خبر کے اعلان کے ساتھ ہی محل کی چھت پر نصب شاہی پرچم سرنگوں کر دیا گیا۔

    ان کی وفات سے پہلے شاہی خاندان کے ارکان نے بادشاہ سے عیادت کی جبکہ لوگوں نے محل کے باہر پھول رکھے تھے۔

    ہیرالڈ 14ویں صدی کے بعد ناروے میں پیدا ہونے والے ناروے کے پہلے بادشاہ تھے۔ ان کے بعد ان کے 53 سالہ بیٹے ہاکون نے ان کی جگہ سنبھالی ہے جس کے بعد آج وہ حکومت کے ساتھ ریاستی کونسل کا ایک غیرمعمولی اجلاس منعقد کریں گے۔

    ان کے لواحقین میں ان کی اہلیہ ملکہ سونیا، ان کی بیٹی شہزادی مارتھا لوئیز، ان کے بیٹے اور نئے بادشاہ ہاکون، اور چھ پوتے پوتیاں شامل ہیں۔

    دنیا بھر سے تعزیتی پیغام

    برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ کی وفات پر اپنی انتہائی دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

    سویڈن کے بادشاہ کارل شانزدہم گستاف نے اپنے تعزیتی پیغام میں انھیں ’میرے، میرے خاندان اور سویڈن کے ایک اچھے دوست‘ کے طور پر یاد کیا اور ساتھ ہی ہاکون کے لیے ’کامیابی اور خوش بختی‘ کی دعا کی۔

    شاہی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ سادہ مزاج، قابل احترام اور عوام میں بے حد محبوب تھے، 35 برس تک تخت پر فائز رہنے کے بعد ہیرالڈ کو ایک مقبول اور اصلاحات لانے والی شخصیت کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنھوں نے بادشاہت کو جدید بنایا۔

    مبصرین نے ہیرالڈ کو قوم کا سرپرست اور عوامی بادشاہ قرار دیا۔ یہ لقب ان کے والد بادشاہ اولاو پنجم کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

    حالیہ برسوں میں ہیرالڈ اور ان کے خاندان کو صحت کے مسائل اور چند تنازعات کا بھی سامنا رہا۔

    ان میں خاص طور پر ان کی بہو میتے ماریت کے جیفری ایپسٹین سے تعلقات اور ان کے سوتیلے پوتے ماریئس بورگ ہوئیبی کے خلاف مبینہ ریپ کے مقدمے سے متعلق معاملات شامل ہیں۔

    مورخ اور ٹی وی 2 کے شاہی امور کے نامہ نگار اولے یورگن شولسرود ہانسن نے بی بی سی کو بادشاہ ہیرالڈ کے حوالے سے بتایا کہ ان کے دورِ حکومت میں ناروے کی بادشاہت زیادہ مساوات پسند اور شفاف بنی۔

    جب ناروے کی قومی فٹبال ٹیم پہلی بار ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے بعد امریکہ سے واپس لوٹی تو ہیرالڈ نے شاہی محل میں ان کا استقبال کیا۔

    دوسری عالمی جنگ کے آغاز میں جب ایڈولف ہٹلر نے ناروے پر حملے کا حکم دیا تو ہیرالڈ کی عمر صرف تین برس تھی۔

    ہیرالڈ کی والدہ اپنے بچوں کے ساتھ سرحد پار کر کے سویڈن چلی گئیں اور بعد میں وہ امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کی دعوت پر امریکہ گئے۔

    شہزادہ ہیرالڈ جنگ کے اختتام پر اپنے خاندان کے ساتھ ناروے واپس آئے جہاں انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کی اور لازمی فوجی خدمت بھی انجام دی۔

    اس جوڑے کی شادی 29 اگست 1968 کو اوسلو کیتھیڈرل میں ہوئی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشناس جوڑے کی شادی 29 اگست 1968 کو اوسلو کیتھیڈرل میں ہوئی

    روایت سے ہٹ کر عام شہری خاتون سے شادی

    ایک عام شہری خاتون سے شادی کر کے روایت سے ہٹ کر قدم اٹھایا اور ناروے کے مشکل ترین اوقات میں اتحاد کی علامت بنے رہے۔

    وہ 1957 میں ولی عہد بنے اور 1960 سے 1962 تک آکسفورڈ کے بیلیول کالج میں سماجی علوم، تاریخ اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی۔

    ان کی ملاقات ایک کاروباری شخصیت کی بیٹی سونیا ہیرالڈسن سے ایک تقریب میں ہوئی، لیکن ولی عہد کو ان سے شادی کی اجازت ملنے کے لیے نو سال انتظار کرنا پڑا۔

    ان کے والد، بادشاہ اولاو، ہمیشہ یہ امید رکھتے تھے کہ وہ کسی یورپی شہزادی سے شادی کریں گے۔

    بالآخر انھوں نے اپنے والد سے کہہ دیا کہ اگر انھیں سونیا سے شادی کی اجازت نہ ملی تو وہ ساری زندگی غیر شادی شدہ رہیں گے۔

    آخرکار ان کے والد نے رضامندی دے دی، اور اس جوڑے کی شادی 29 اگست 1968 کو اوسلو کیتھیڈرل میں ہوئی۔

  3. نیپال کے سیلاب زدگان: ’پانی کبھی اندر کھینچتا اور کبھی باہر پھینکتا تھا‘

    نیپال اور تبت کی سرحد پر اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں کی تباہی، سڑکوں کے زیرِ آب آنے اور پلوں کے بہہ جانے کے بعد بچ جانے والے افراد اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں۔ حکام کے مطابق نیپال میں سینکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور کم از کم 489 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں مزید سیلاب کے خدشے کے پیشِ نظر تیاری کر رہی ہیں۔

    ،ویڈیو کیپشننیپال کے سیلاب زدگان: ’پانی کبھی اندر کھینچتا تھا کبھی باہر پھینکتا تھا‘

    یاد رہے کہ اس بات کا خدشہ برقرار ہے کہ بدھ کے روز لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی جھیل پھٹنے کے نتیجے میں مزید سیلاب بھی آ سکتے ہیں۔

    پولیس کے مطابق لاپتہ افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں سڑکوں پر پڑی رکاوٹیں ہٹانے کا کام بھی جاری ہے۔

  4. نیپال اور تبت میں امدادی کاروائیاں جاری، سیلاب کے نتیجے میں بننے والی جھیل کے پھٹنے کا خطرہ

    Nepal floods

    ،تصویر کا ذریعہVCG via Getty Images

    ہم نیپال اور تبت کی سرحدی علاقوں کی صورتحال پر آج بھی گہری نظر رکھی ہوئے ہیں کیونکہ اس بات کا خدشہ برقرار ہے کہ بدھ کے روز لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی جھیل پھٹنے کے نتیجے میں مزید سیلاب آ سکتے ہیں۔

    خطے سے موصول ہونے والی تازہ ترین معلومات کا خلاصہ:

    • چینی سرکاری میڈیا کی جانب سے اس اطلاع کے بعد کہ دی تھی کہ لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی جھیل سے پانی کا اخراج شروع ہو گیا ہے تبت میں امدادی کارروائیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھیں۔ تاہم بعد میں حکام نے بتایا کہ پانی کا اخراج رک گیا ہے اور امدادی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔
    • چینی سرکاری میڈیا کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں میں جھیل کی صورتحال کی نگرانی کے لیے وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔
    • نیپال پولیس کا کہنا ہے کہ ملک میں ہلاکتوں کی تعداد اب 475 ہو گئی ہے، جبکہ 900 سے زیادہ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
    • حکام کی جانب سے537 غیر ملکی شہریوں کی فہرست جاری کی گئی ہے جن کے بارے میں سیلاب کے بعد اب تک کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔ ان میں 178 انڈین، 65 امریکی، 53 یوکرینی، 51 ملائیشین، 33 آسٹریلوی اور 33 برطانوی شہری شامل ہیں۔
    • نیپالی فوج کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں سے900 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے، جن میں 119 سیاح بھی شامل ہیں۔
    • فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ بارش اور غیر متوقع موسمی حالات کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان کے بقول ’میں نے اپنی زندگی میں اس نوعیت کی تباہی نہیں دیکھی۔‘
    • تبت میں اب تک تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 558 افراد لاپتہ ہیں۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 55 سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ اعداد و شمار نیپال کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں شامل ہیں یا ان سے الگ ہیں۔
    Nepal floods

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  5. نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب کیوں آیا؟

    ،ویڈیو کیپشنزلزلہ یا گلیشیئر: نیپال اور تبت کی سرحد پر سیلاب کیسے آیا؟
  6. ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری کھولنے پر اتفاق ہو گیا ہے: محسن رضائی

    Strait of Hormuz

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک عارضی راہداری کھولنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    جمعرات کی شام المنار ٹی وی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے محسن رضائی کا کہنا تھا کہ اس راہداری کا ایک حصہ ایرانی پانیوں میں اور دوسرا عمانی پانیوں میں واقع ہے، جبکہ دونوں ممالک مشترکہ طور پر جہازوں کی آمد و رفت کا انتظام کریں گے۔

    ان کے بقول اس منصوبے کی تفصیلات طے کر لی گئی ہیں اور راہداری کا مقام واضح طور پر متعین کر دیا گیا ہے۔

    محسن رضائی کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایران کی شرائط پر عمل کرتا ہے اور تو آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی اور جہاز اسی نئے راستے سے گزر سکیں گے۔ ’یہ ایک نئی گزرگاہ ہے جو آبنائے ہرمز کے وسط میں واقع ہے۔‘

    انھوں نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کو واشنگٹن کی جانب سے ایرانی شرائط پر عمل درآمد سے مشروط قرار دیا۔ ان شرائط میں سرفہرست مغربی ایشیا میں جاری جنگوں، خصوصاً لبنان اور غزہ کے تنازعات، کے خاتمے کے لیے کوششیں شامل ہیں۔

    محسن رضائی کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی شرائط کی ایک فہرست تیار کی ہے جو امریکہ کے سامنے پیش کی جائے گی۔ ان کے مطابق فی الحال ایران نے آبنائے ہرمز کے وسط سے جہازوں کی محدود اور عارضی آمد و رفت کی اجازت دی ہے، جبکہ مستقبل میں بحری نقل و حمل کی صورتحال کا انحصار واشنگٹن کے ساتھ ہونے والی مفاہمت میں پیش رفت پر ہوگا۔

  7. نیپال میں سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 475 ہو گئی، آرمی کا 900 افراد کو بچانے کا دعویٰ

    Nepal floods

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    نیپالی حکام نے سیلاب کے نتیجے میں 475 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ نیپالی آرمی کا کہنا ہے کہ اب تک متاثرہ علاقوں سے 900 افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔

    نیپال پولیس کا کہنا ہے کہ جمعے کو مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے (پاکستانی وقت کے مطابق 8 بج کر 15 منٹ) تک ضلع رسووا میں بدھ کے روز آنے والے سیلاب کے نتیجے میں 475 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکہ ہے۔

    پولیس کے مطابق لاپتہ افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں سڑکوں پر پڑی رکاوٹیں ہٹانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔

    دوسری جانب نیپال کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں، جن میں رسووا اور نوواکوٹ اضلاع شامل ہیں، سے 900 افراد کو نکال لیا ہے۔

    فوج کے مطابق بچائے جانے والوں میں 119 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جن میں 92 انڈین شہری ہیں۔

    جیسا کہ ہم پہلے بھی خبر دے چکے ہیں کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے غیر ملکی سیاحوں میں انڈین شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

    فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل راجارام بسنیٹ نے ایک فوجی بیرک کے باہر قائم ہیلی کاپٹر لینڈنگ فیلڈ پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بچائے گئے تمام 900 افراد زخمی ہیں اور ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، تاہم انھوں نے ان کی حالت کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

    انھوں نے تسلیم کیا کہ بارش اور غیر متوقع موسمی حالات نے امدادی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

    بریگیڈیئر جنرل بسنیٹ کا کہنا تھا کہ انھوں نے ’اپنی زندگی میں اس نوعیت کی تباہی نہیں دیکھی۔‘

    Brigadier General Rajaram Basnet
  8. تبت سے 555 سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے: چینی سرکاری میڈیا

    چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا نے خبر دی ہے کہ حکام نے تبت میں پھنسے 555 سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔

    بدھ کے روز آنے والے سیلاب کے بعد تبت سے معلومات بہت محدود مقدار میں سامنے آئی ہیں، جس کی بڑی وجہ چین کے سخت میڈیا ضوابط ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ آیا یہ اعداد و شمار نیپال کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات سے مطابقت رکھتے ہیں یا ان سے الگ ہیں۔

    زنہوا کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نکالے گئے سیاحوں کی شہریت کیا تھی۔ تاہم انڈیا، آسٹریلیا اور امریکہ نے کہا ہے کہ ان کے شہری بھی اس آفت میں لاپتا افراد میں شامل ہیں۔

  9. نیپال میں سیلاب سے 469 افراد ہلاک، 500 سیاحوں سمیت 900 تاحال لا پتہ

    Neepal floods

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بدھ کے روز نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے سیالاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک نیپال میں 469 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    نیپالی پولیس کا کہنا ہے کہ سیلاب اور تودے گرنے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 469 ہو گئی ہے۔

    جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب نیپالی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دریائے تریشولی کے نزدیک ایک سرنگ سے 350 افراد کو نکالا جا چکا ہے جبکہ فوج اندر پھنسے مزید 100 افراد کو کوششوں میں مصروف ہے۔

    اس سے قبل جمعرات کی شب نیپالی حکام نے بتایا تھا کہ 900 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن میں 500 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

  10. ایران کی ترکی میں امریکی صدر کو قتل کرنے کے منصوبے کی تردید: نیتن یاہو نے یہ جھوٹی افواہ ٹرمپ کو ڈرانے کے لیے پھیلائی، محسن رضائی کا دعویٰ

    Mohsin Razae

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ترکی میں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق حزب اللہ کے نزدیک سمجھے جانے والے ال منار نیٹورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی کا کہنا تھا کہ دورہ ترکی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے منصوبے اور ٹرمپ کے چھوٹے بیٹے کو قتل کرنے کی افواہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے پھیلائی تھی۔

    انٹرویو کے دوران محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے ایرانیوں کی جانب سے ٹرمپ کے قتل کی سازش کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلا کر ٹرمپ کو خوفزدہ کر دیا ہے، جس سے ان کے فیصلہ سازی کے عمل میں خلل پڑا ہے۔

    ’ٹرمپ اس خبر کے خوف سے (ترکی کے دورے کے دوران) ایک فوڈ ٹرک کے کارکن کی طرح اِدھر اُدھر گھومتے رہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کوئی فیصلہ کرلے تو اس پر عمل درآمد کو کوئی چیز نہیں روک سکتی، ’لیکن یہ خبر محض نیتن یاہو کی گھڑی ہوئی کہانی ہے۔‘

    یاد رہے کہ جولائی میں ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر ٹرمپ نے خفیہ طور پر متبادل طیارہ استعمال کیا تھا۔

    ترکی سے واپسی پر انھوں نے میڈیا کے نمائندوں اور اور وائٹ ہاؤس کے بیشتر عملے کو صدارتی طیارے ’ایئر فورس ون‘ پر سوار کروایا، جو کہ ایک فریب تھا۔

    یہ ایک پیچیدہ چال تھی جس میں صدر ٹرمپ کو ایئرفورس ون پر سوار ہونے کے بعد ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا اور بعدازاں لینڈنگ کے بعد انھیں دوبارہ اُسی طیارے پر سوار کروایا گیا۔

    اطلاعات کے مطابق یہ اقدام ایک انٹیلیجنس اطلاع کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ ایئر فورس ون کے خلاف ایرانی میزائل حملہ ہو سکتا ہے۔

    بعد ازاں صدر ٹرمپ نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 'میں سیکریٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کرتا ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں دوسری پرواز اور مختلف طیارے میں سفر کروں۔ مجھے وہی کرنا ہوتا ہے، جو وہ کہتے ہیں۔‘

  11. پاکستان اور کویت نے ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کر دیے

    Pakistan Kuwait Defence

    ،تصویر کا ذریعہMinistry of Defence

    پاکستان اور کویت نے ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت پاکستان کی وزارت فاع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان 2023 میں طے پانے والے ’دفاعی تعاون معاہدے‘ کے موجودہ فوجی تعاون کے فریم ورک کو تقویت ملے گی۔

    جمعرات کو پاکستان کی وزارت دفاع سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نئے معاہدے کے تحت پاکستان کی مسلح افواج، تربیت اور استعداد کار میں اضافے، سرحدی نظم و نسق اور دفاعی تعاون کے دیگر باہمی طور پر طے شدہ شعبوں میں کویت کی مسلح افواج کی معاونت کریں گی۔‘

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کویت کے وزیر دفاع عشیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی کویتی وفد، جس میں کویت کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل خالد درج سعد الشریعان شامل تھے، راولپنڈی میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سے ملاقات کی۔

    بیان کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، سکیورٹی تعاون اور پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

  12. ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کی قطری رہنماؤں سے ملاقات، خطے میں ’کشیدگی میں کمی‘ کا مطالبہ

    Iranian Parliament Speaker Mohammad Bagher Ghalibaf

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے قطر کے وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی سے ملاقات کے دوران خطے میں ’کشیدگی میں کمی‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

    ملاقات کی مزید تفصیلات تو جاری نہیں کی گئیں، تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق قطری وزیرِ خارجہ نے ’سفارتی راستے کو دوبارہ اختیار کرنے کی ضرورت‘ پر زور دیا اور اختلافات کے حل اور ’خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے‘ کے لیے مذاکرات کی تجویز دی۔

    اس سے قبل الثانی نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی تھی اور ’کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے لیے موزوں حالات پیدا کرنے‘ کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔

  13. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • قطر کے وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے جمعرات کے روز ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے تہران میں ملاقات کی ہے تاہم اس ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
    • ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطے کے اسلامی ممالک کے درمیان باہمی سلامتی اور عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ’مشترکہ سکیورٹی کے انتظامات‘ قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔
    • بوسنیائی سرب جنرل راتکو ملادچ، جو بوسنیا میں 1992 سے 1995 تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران نسل کشی کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے، ہیگ میں اقوامِ متحدہ کے حراستی مرکز میں وفات پا گئے ہیں۔
    • نیپال میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے وفد کے سربراہ ڈیوڈ فشر نے متنبہ کیا ہے کہ نیپال میں بدھ کے سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں میں صورتحال انتہائی سنگین ہے۔
  14. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔