آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کی مظاہرین کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت: ’جن کے پاس شواہد ہیں انھوں نے ہی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا‘
- مصنف, تابندہ کوکب
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ ’ہم کوئی ایسا راستہ تلاش کر رہے ہیں کہ افہام و تفہیم سے مسئلہ حل ہو، کیونکہ ریاست کو ہرا کر وہ (جوائنٹ ایکشن کمیٹی) بھی جیت نہیں سکتے اور اگر ریاست جیت بھی جائے تو انسانی جانوں کے ضیاع کے بدلے حاصل ہونے والی جیت کو، میں جیت تصور نہیں کروں گا۔‘
بی بی سی اُردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران جب وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ اپنی حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دیے جانے کے بعد بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے بات کرنے کو تیار ہیں؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ ’جب طالبان سے بات چیت ہو سکتی ہے، تو اُن سے کیوں نہیں؟‘
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں صورتحال کشیدہ ہے اور اس کا سبب حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان گذشتہ رات ضلع راولا کوٹ میں سی ایم ایچ کے سامنے ہونے والی پُرتشدد جھڑپیں ہیں۔
کشمیر پولیس کے مطابق ان جھڑپوں کے نتیجے میں کشمیر پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے چار اہلکار اور تین مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں۔
اگرچہ کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر ’دہشتگردی‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا ہے مگر وزیر اعظم فیصل راٹھور کے مطابق وہ اب بھی اس گروپ سے بات کرنے کو تیار ہیں۔
جب بی بی سی کی جانب سے وزیر اعظم سے دریافت کیا گیا کہ کیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے سے متعلق شواہد اُن کے پاس موجود ہیں؟ تو اس پر فیصل راٹھور کا کہنا تھا کہ ’شواہد میڈیا پر شیئر نہیں کیے جا سکتے۔ جن کے پاس شواہد ہیں، انھوں نے ہی (کالعدم قرار دینے کا) فیصلہ کیا۔‘
یاد رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون (منگل) کو کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم اس سے قبل ہی کشمیر حکومت نے اس کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے بعد اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔
’اشارے مل رہے تھے مطالبات پورے ہونے کے بعد بھی لانگ مارچ ہو گا‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے دعویٰ کیا کہ انھیں پہلے سے ہی علم تھا کہ معاملات تصادم کی طرف ہی جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’آج صورتحال جس طرف جا چکی ہے مجھے اس کا اندازہ پہلے ہی ہو چکا تھا کیونکہ میں اس مذاکراتی عمل کا شروع ہی سے حصہ تھا۔ میں وزیر اعظم نہیں تھا، تب بھی اس سارے عمل میں شامل تھا۔‘
یاد رہے کہ فیصل راٹھور وزیر اعظم منتخب ہونے سے قبل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کرنے والی کمیٹی کے سربراہ تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’مجھے اندازہ تھا کہ کہیں نہ کہیں ایسے حالات پیدا ہوں گے کہ جانوں کا ضیاع ہو گا۔ اسی لیے ہم نے ایکشن کمیٹی سے مزید وقت مانگا۔ یہ (مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ) ایک آئینی مسئلہ تھا جس میں سیاسی جماعتوں کے مفادات بھی ہیں اور یہ اتفاق رائے کے بغیر ممکن نہیں تھا۔‘
ان کے مطابق ’اسی لیے میں اے پی سے (آل پارٹیز کانفرنس) کے وقت خود ایکشن کمیٹی کے ممبران کے گھر گیا۔ میں نے کہا آپ مذاکرات کے دروازے کو کھلا رکھیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ حالات کی ممکنہ کشیدگی سے متعلق وہ فریقین کو آگاہ کرتے رہے تھے اور اُن کے مطابق انھوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی بتایا تھا کہ اگر ’یہ (مذاکرات کا) راستہ بند ہو گیا تو صورتحال خطرناک ہو جائے گی۔‘
وزیر اعظم کشمیر نے دعویٰ کیا کہ ’لیکن اُن (ایکشن کمیٹی کی) طرف سے یہ اشارے مل رہے تھے کہ مطالبات پورے ہونے کے بعد بھی لانگ مارچ ہو گا۔ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر تھیں، جن میں اسمبلی پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا جا رہا تھا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سینیئر اراکین نے انھیں کہا تھا کہ وہ ’خود براہ راست اس معاملے سے ڈیل کریں گے، لیکن اب سارا ملبہ مجھ پر ہی گرایا گیا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں ’ایکشن کمیٹی کے سینیئر ارکان نے مجھ سے کہا آپ خود کو اس معاملے سے نکالیں، ہم خود براہ راست ڈیل کریں گے۔ مگر آج سارا ملبہ مجھ پر ہی گرایا گیا ہے۔ ہم اس صورتحال سے بری الذمہ نہیں، لیکن اس کا ذمہ دار میں اکیلا نہیں بلکہ ہر وہ شخص ہے، جس نے اس صورتحال میں ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔‘
ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے وضاحت دی کہ ’کالعدم تنظیم قرار دینے کی وجہ وہ حالات تھے کہ جب ریاست کے اندر ریاست بنانے کی کوشش کی گئی۔ آپ نے تمام سیاسی راستوں کو بند کیا تو ایسے حالات بن گئے۔‘
انھوں نے کہا ’جو بھی ہوا، میں اس سے بری الذمہ نہیں ہوں، لیکن اس سے نقصان ہوا ہے۔ بات چیت کا یہ سلسلہ رُکنا نہیں چاہیے تھا۔ ریاست ایک نظام ہے جسے یہاں تک پہنچانے میں بہت وقت لگا ہے۔ پاکستان سے ہمارا رشتہ بہت مضبوط ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ کسی بھی صورت شہریوں کی جانوں کا نقصان نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ’میں ہمیشہ ایک بات کہتا رہا کہ (کشمیری مہاجرین کی) سیٹوں کا ختم ہونے یا نہ ہونے پر بات ہو سکتی ہے، لیکن لاشیں گرنے کے بعد ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں ضائع ہو جانے والی انسانی جانیں واپس نہیں آئیں گی۔‘
انھوں نے کہا ’اگر دنیا میں بڑے ملکوں کی جنگیں رُک سکتی ہیں تو چھ دن کے لیے احتجاج کی کال بھی معطل ہو سکتی تھی۔‘
وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے دعویٰ کیا کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی ’سیٹوں سے مسلم لیگ کا مفاد وابستہ تھا۔ اجلاس ہوتے تو کوئی نہ کوئی حل نکلتا، لیکن انھوں نے تاخیر کی۔ اگرچہ تاخیر کی ذمہ دار حکومت یا مسلم لیگ ہو سکتی ہے لیکن پھر بھی یہ معاملات حل ہو سکتے تھے۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ وہ اور ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ان نشستوں کے حوالے سے پیش کی گئیں متعدد تجاویز کے لیے اپنی حمایت ظاہر کر چکی ہے جن میں اِن نشستوں کی تعداد اور اختیارات میں کمی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’آج پیپلز پارٹی کے پاس اتنی اکثریت ہو وہ ان سیٹوں کو ختم کر کے متناسب نمائندگی کے ذریعے اسمبلی میں لائے تو پیپلز پارٹی سب سے پہلے ان سیٹوں کو ریزرو سیٹوں پر متناسب نمائندگی کے ساتھ بغیر انتخاب اسمبلی میں نمائندگی دے گی۔‘
’یہ نظام ریاستی نظام سے زیادہ طاقتور ہو رہا تھا‘
وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عدم تعاون اور مؤقف میں سخت گیر ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔
انھوں نے کہا ’اگر ماضی میں کسی سیاسی یا غیر سیاسی وجہ سے اس معاملے پر تاخیر ہو بھی گئی تھی تو چونکہ اب اس میں سارے سٹیک ہولڈر شامل ہو چکے تھے اور باقی سیاسی جماعتوں کو بھی اتفاق رائے کے لیے جمع کیا گیا تھا، تو شاید ان سات دنوں میں مسئلے کا حل نکل سکتا تھا۔ لیکن دوسری طرف سے یہ سوچ پیدا ہو گئی تھی کہ یہ نشستیں ٹیبل پر بیٹھ کر نہیں بلکہ سڑکوں پر چھین لینی ہیں۔‘
وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور تسلیم کرتے ہیں کہ معاملات میں تاخیر کی وجہ سے حکومت پر عدم اعتماد بڑھا۔ لیکن ان کا اصرار ہے کہ کہ ’اگر 38 نکات میں پیش رفت ہوئی تھی تو انھیں (ایکشن کمیٹی کو) تعاون کرنا چاہیے تھا۔‘
’ہر چیز درجہ بدرجہ ہوتی ہے، چیزیں تقریباً ہو چکی تھیں۔ اگر عدم اعتماد تھا بھی تو جب حکومت، سیاسی جماعتیں اور وفاقی نمائندے بیٹھے تھے، تو بات ہونی چاہیے تھے۔ اگر چیزوں کو حل کرنے کے نظریے سے دیکھا جاتا تو حالات مختلف ہوتے۔ ہر چیز اسی طرح نہیں ہو سکتی جیسے آپ کی خواہش ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ ’تین بار ریاست نے سرینڈر کیا۔ یہ نظام (احتجاج) اُس نظام سے زیادہ طاقتور ہو رہا تھا، جس کے تحت میں یہاں وزیر اعظم بن کر بیٹھا ہوں۔ اس نظام نے ریاست کے ہر قانونی معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیا تھا۔‘
وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کو حکومت کا حصہ بننے کی پیشکش بھی کی تھی۔
’ہم نے کہا ایکشن کمیٹی الیکشن لڑے اور اسمبلی میں آ کر اپنی مرضی کا قانون بنا لے۔ باہر بیٹھ کر بات کرنا آسان ہے لیکن نظام کے اندر بیٹھ کر چیزیں خواہشات کے مطابق نہیں چلتیں۔ عوامی قوت حاصل کر کے ریاست سے ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کر دی گئی۔‘
’ممبر کالعدم ہو سکتے ہیں لیکن عوام کالعدم نہیں‘
مہاجر مقیم پاکستان کی نشستوں کے حوالے سے ایک الزام یہ بھی ہے کہ ان سیٹوں کا استعمال حکومتی ایوانوں میں عدم استحکام لانے کے لیے بھی کیا جاتا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور کہتے ہیں کہ وہ ان الزامات سے کافی حد تک اتفاق کرتے ہیں، لیکن مہاجرین کی نمئندگی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ آئینی تنازع تھا جو حل ہونے کو تھا۔ سیٹوں کے طریقہ کار سے اختلاف ضرور تھا تاہم مہاجرین کی نمائندگی پر سب کا اتفاق بھی تھا، بشمول سیاسی جماعتیں اور ایکشن کمیٹی کے۔ لیکن سیٹوں کا معاملہ انسانی زندگی سے بڑا نہیں۔ سیٹوں پر بات ہو سکتی ہے۔‘
وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ ’ان حالات میں انسانی جانیں ضائع ہونے کی ذمہ دار حکومت اور ایکشن کمیٹی دونوں ہیں۔ وہ تمام لوگ بھی ذمہ دار ہیں جو بظاہر سامنے نظر نہیں آ رہے۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ حالات بند گلی کی جانب ہرگز نہیں گئے اور اب بھی بات چیت گنجائش موجود ہے۔
’ایکشن کمیٹی کے ممبر کالعدم ہو سکتے ہیں لیکن عوام جو ان کے ساتھ ہے وہ کالعدم نہیں۔ راستہ نکل سکتا ہے۔ جنگوں کے بعد ملک بیٹھتے ہیں، ہم تو ڈائیلاگ سے حل نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘
انھوں نے ایکشن کمیٹی کو پیشکش کی کہ وہ ’آئیں اور پھر سے بات چیت کا حصہ بنیں۔‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کشیدگی کے بعد ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کی چہ میگوئیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ حالات قابو میں آ جائیں اور کشیدگی ختم ہو۔
انھوں نے کہا ’میں یہاں اسلام آباد میں اسی لیے ہوں کہ ہم حالات کو نارمل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ کسی بھی طرح اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ اس کے لیے پارٹی سربراہان اور وزیر اعظم پاکستان سے مزید ملاقاتیں ہونی ہیں۔‘
برطانوی اراکین پارلیمان کا خط اور پاکستان کی مذمت
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جاری کشیدگی کے معاملے پر بین الاقوامی سطح پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
چھ جون کو 30 سے زیادہ برطانوی اراکین پارلیمان نے برطانوی سیکریٹری خارجہ کو لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ انھیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ’کمیونیکیشن بلیک آؤٹ‘، ’گرفتاریوں‘ اور ’بڑھتے ہوئے تناؤ‘ پر تحفظات ہیں۔
بریڈفورڈ سے رُکن پارلیمنٹ عمران حسین نے کہا کہ ’بہت سے برطانوی نژاد کشمیری اپنے پیاروں سے رابطے نہیں کر پا رہے، جس کے نتیجے میں ہماری کمیونٹی میں پریشانی اور اضطراب بڑھ رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ ’بات چیت‘ اور ’بامعنی رابطوں سے حل ہونا چاہیے۔‘
تاہم پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے برطانوی اراکین پارلیمان کے خط پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’پاکستان اور آزاد کشمیر کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرنے سے گریز کریں۔‘
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومتیں اپنے شہریوں کے آئینی حقوق کی تکریم کرتی ہیں لیکن ’توڑ پھوڑ، عوامی سروسز بشمول ہسپتالوں کی تباہی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کے قتل کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘