پاسدارانِ انقلاب کا ایرانی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر حملے کے جواب میں حیفہ کی پیٹروکیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایران کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر اسرائیلی حملے کے جواب میں حیفہ کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر میزائل حملہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’شہری اہداف اور تیل و توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک ’خطرناک کھیل‘ ہے جو پورے خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘
اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والی تنصیبات میں ماہشہر میں واقع کارون پیٹروکیمیکل کمپنی بھی شامل تھی، اگرچہ پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں اس کا نام براہِ راست نہیں لیا گیا۔
پیٹروکیمیکل سپیشل اکنامک زون آرگنائزیشن کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اپنے بیان میں کہا کہ کارون پیٹروکیمیکل کمپنی پر دو حملے کیے گئے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور نقصانات کی نوعیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ماہشہر کے پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
حملے کے بعد ماہشہر سپیشل اکنامک زون کی انتظامیہ نے بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ پیٹروکیمیکل سپیشل اکنامک زون کے اعلیٰ حکام برائے سول دفاع اور مینجمنٹ کے فیصلے کے تحت تمام ڈیوٹی پر موجود ملازمین کو فوری طور پر علاقے سے نکال لیا گیا ہے۔
کارون پیٹروکیمیکل کمپنی سنہ 2002 میں ایران کی پہلی پیٹروکیمیکل کمپنی کے طور پر قائم کی گئی تھی۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ سالانہ 200 ہزار ٹن سے زائد پیٹروکیمیکل مصنوعات تیار کرتی ہے۔