آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اصحاب الیمین: یورپ میں یہود مخالف حملوں میں ملوث اور صدر ٹرمپ کو دھمکیاں دینے والا پُراسرار گروہ کیا ہے؟
- مصنف, مینا ال لامی
- عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
حرکتِ اصحابُ الیمین الاسلامیہ ایک پراسرار گروہ ہے، جو مارچ 2026 میں سامنے آیا۔ اپریل کے آخر تک اس نے مغربی یورپ میں کم از کم 17 حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں سے زیادہ تر یہودی اہداف کے خلاف تھے، خاص طور پر لندن میں۔
اس گروہ نے اپنی شناخت، تعلقات، تنظیمی ڈھانچے یا قیادت کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم کی ہیں۔ اس کا کوئی باقاعدہ میڈیا پلیٹ فارم بھی موجود نہیں ہے۔
ممکن ہے کہ یہ جان بوجھ کر اپنی شناخت اور دیگر گروہوں سے ممکنہ روابط کو چھپانے کے لیے کیا گیا ہو۔
کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اصحاب الیمین کا تعلق ایران یا ایران نواز شیعہ عسکری گروہوں سے ہو سکتا ہے۔
اس تصور کو مئی میں اس وقت تقویت ملی جب امریکی حکام نے ایک عراقی شخص کو گرفتار کیا، جسے انھوں نے ایران کی حمایت یافتہ ایک بڑے عراقی ملیشیا کا اہم رکن قرار دیا۔ اس پر اصحاب الیمین کی کارروائیوں میں مبینہ شمولیت کا الزام عائد کیا گیا اور اس گروہ کو دیگر دہشت گرد تنظیموں کا ایک فرنٹ قرار دیا گیا۔
اس مضمون میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ یہ گروہ کیسے کام کرتا ہے، کس طرح اپنی کارروائیوں کی تشہیر کرتا ہے اور اس کے وسیع تر نیٹ ورکس سے ممکنہ روابط کے کیا شواہد موجود ہیں۔
اسے ایران سے کیوں جوڑا گیا ہے؟
اصحاب الیمین نے خود کسی ریاست، تنظیم یا مسلح گروہ کے ساتھ وابستگی کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی کسی کی کھل کر حمایت ظاہر کی ہے۔
اس کے باوجود، تجزیہ کاروں، مبصرین اور حکومتوں نے اس گروہ کو ایران یا ایران کے حمایت یافتہ شیعہ عسکری نیٹ ورکس سے جوڑا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپریل کے آخر اور مئی کے آغاز میں لندن میں ایرانی سفارت خانے نے اصحاب الیمین کا نام لیے بغیر سختی سے ان الزامات کی تردید کی کہ تہران برطانیہ کے دارالحکومت میں یہودی مقامات پر حملوں میں ملوث ہے۔
ذیل میں چند اہم عوامل بیان کیے گئے ہیں، جن کی وجہ سے اصحاب الیمین کے ایران یا اس کے علاقائی پراکسی نیٹ ورک سے تعلقات پر شبہات پیدا ہوئے:
وقت: اصحاب الیمین نو مارچ کو اچانک سامنے آیا، جو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے صرف نو دن بعد تھا۔
اسی وجہ سے اس کے ظہور کو اکثر ایران یا اس کے حامی گروہوں کی طرف سے مشرقِ وسطیٰ سے باہر امریکی اور اسرائیلی مفادات کے خلاف ممکنہ ردعمل سے جوڑا گیا۔
پیغامات کی ترسیل: اصحاب الیمین کے دعوے تقریباً صرف اُن ٹیلیگرام چینلز کے ذریعے شیئر اور سراہے گئے جو ایران اور اس کے اتحادی شیعہ عسکری گروہوں، خصوصاً عراق میں موجود گروہوں، کی حمایت کرتے ہیں۔
اس کے برعکس، سنی جہادی گروہوں کے حامیوں نے ان دعووں کو شیئر نہیں کیا۔
پراپیگنڈا کا انداز: اصحاب الیمین کی ویڈیوز میں بار بار پسِ منظر موسیقی کے طور پر ’ایپک آف خرمشہر‘ استعمال کی جاتی ہے، جو ایرانی موسیقار مجید انتظامی کی مشہور تخلیق ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اس موسیقی کو 2025 اور 2026 کی جنگوں کے دوران بڑے پیمانے پر استعمال کیا تھا۔
نام اور علامتیں: اصحاب الیمین کا نام اور اس کی بصری شناخت کئی حوالوں سے شیعہ ملیشیا گروہوں، خاص طور پر عراق میں سرگرم تنظیموں، سے ملتی جلتی ہے۔
حکمتِ عملی: ایرانی سکیورٹی پالیسیوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق اس گروہ کا کام کرنے کا طریقہ اُن طریقوں سے مشابہت رکھتا ہے جو ماضی میں ایران اور اس کے پراکسی گروہوں سے منسوب کیے جاتے رہے ہیں۔
اگرچہ براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا، لیکن وقت، پیغام رسانی کے ذرائع، پراپیگنڈا کا انداز، شناخت اور حکمتِ عملی جیسے عوامل نے اصحاب الیمین کو ایران یا اس کے حمایتی نیٹ ورکس سے جوڑنے کے شبہات کو تقویت دی ہے۔
امریکہ نے اصحاب الیمین کے روابط کے بارے میں کیا کہا ہے؟
15 مئی کو امریکی محکمۂ انصاف نے دوہری شہریت رکھنے والے عراقی ایرانی شہری محمد باقر سعد دادود السعدی کی گرفتاری کا اعلان کیا، جسے اس نے ایران سے منسلک عراقی ملیشیا کتائب حزب اللہ کا ایک سینئر رکن قرار دیا۔
استغاثہ کے مطابق اس شخص نے نہ صرف کتائب حزب اللہ بلکہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے لیے بھی کام کیا، اور یہ کارروائیاں یورپ اور امریکہ میں اصحاب الیمین سے منسوب تقریباً 20 حملوں اور حملوں کی کوششوں سے متعلق تھیں۔
السعدی کو ترکی میں گرفتار کیا گیا اور بعد میں امریکہ منتقل کر دیا گیا۔ 28 مئی کو اس پر فردِ جرم عائد کی گئی۔ امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق اس کے موبائل فون سے ملنے والا مواد اسے براہِ راست اصحاب الیمین کی کارروائیوں سے جوڑتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ وہ لندن سمیت مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں کی ہدایات دینے اوران کی تشہیر میں ملوث تھا۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ السعدی نے خود دعویٰ کیا کہ وہ ’[شیعہ] مزاحمتی نیٹ ورک‘ اوراصحاب الیمین دونوں کے لیے میڈیا اور ’نفسیاتی جنگ‘ کا ذمہ دار تھا اور اس نے اصحاب الیمین کی ویڈیوز کو ایک ایسی مہم کا حصہ قرار دیا، جو ’شہریوں میں خوف اور دہشت پھیلانے کے لیے تیار کی گئی تھیں۔‘
محکمۂ انصاف نے مزید الزام عائد کیا کہ اس کے فون میں موجود شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ میں حملے کتائب حزب اللہ کے ساتھ مل کر کیے گئے اور اصحاب الیمین دراصل ’انہی تنظیموں کا ایک فرنٹ‘ ہے۔
یکم جون کو السعدی نے عدالت میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار کرتے ہوئے خود کو ’جنگی قیدی‘ قرار دیا۔
ان کی گرفتاری کے بعد کئی شیعہ ٹیلیگرام چینلز، جو پہلے اصحاب الیمین کے حملوں کو شیئر اور بعض اوقات سراہتے رہے تھے، نے السعدی کی حمایت میں پوسٹرز نشر کیے۔ اگرچہ انھوں نے اصحاب الیمین یا کتائب حزب اللہ سے کسی تعلق کو تسلیم نہیں کیا، لیکن انھوں نے اس گرفتاری کو ’غیر قانونی اغوا‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔
اس کی حکمتِ عملی اور اہداف کیا ہیں؟
اصحاب الیمین کی مارچ اور اپریل کی مہم زیادہ تر کم شدت والے حملوں پر مشتمل تھی، جن میں لوگوں کے بجائے پراپرٹیز یعنی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔
زیادہ تر حملے یہودی مقامات پر کیے گئے، جن میں عبادت گاہیں، کاروبار اور کمیونٹی ادارے شامل تھے۔ تاہم، اس نے پیرس اور ایمسٹرڈیم میں امریکی بینکوں پر حملوں اور لندن میں ایک ایرانی اپوزیشن ٹیلی ویژن اسٹیشن کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔
اپریل کے وسط کے بعد لندن میں حملوں میں نمایاں اضافہ اور تسلسل دیکھا گیا۔
گروہ کی پسندیدہ حکمت عملی آگ زنی یا اس کی کوشش تھی، جس میں سادہ ہتھیار جیسے پٹرول بم استعمال کیے گئے۔ زیادہ تر حملے رات گئے یا صبح سویرے کیے گئے، جب وہاں بہت کم یا کوئی افراد موجود نہیں ہوتے۔ اس کے نتیجے میں عام طور پر نقصان محدود رہا اور کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
زیادہ تر حملوں کے محدود اثرات نے کچھ مبصرین کو یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کیا کہ اس مہم کا بنیادی مقصد زیادہ مالی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ خوف پیدا کرنا تھا۔ یہ جائزہ امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے 28 مئی کو السعدی کی گرفتاری کے بعد جاری کیے گئے شواہد میں بھی سامنے آیا۔ استغاثہ کے مطابق السعدی نے اصحاب الیمین کے حملوں کو ایک وسیع تر ’نفسیاتی جنگ‘ کا حصہ قرار دیا۔
ان حملوں سے ہونے والے محدود نقصان کے باعث کچھ سوشل میڈیا صارفین نے قیاس کیا کہ اصحاب الیمین ممکنہ طور پر ایک فالس فلیگ آپریشن ہو سکتا ہے، جس کا تعلق اسرائیل کی خفیہ سروس موساد سے ہو۔
ایرانی سفارت خانے نے بھی مئی میں ایسے دعوؤں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے برطانوی حکام اور عوام سے کہا کہ وہ ممکنہ ’فالس فلیگ آپریشنز‘ کے حوالے سے چوکنا رہیں۔
کم شدت والے آگ زنی کے حملوں کے اس انداز سے کبھی کبھار انحراف بھی دیکھنے میں آیا۔
16 اپریل کو اصحاب الیمین نے دعویٰ کیا کہ اس نے لندن میں اسرائیلی سفارت خانے پر ’تابکاری‘ ڈرون حملہ کیا، تاہم اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی اور سفارت خانے نے اس کی تردید کی، اگرچہ پولیس نے قریبی مشتبہ اشیا کی تحقیقات کیں اور انھیں غیر خطرناک قرار دیا۔
زیادہ اہم اضافہ 29 اپریل کو دیکھنے میں آیا، جب اصحاب الیمین نے لندن میں ایک چاقو کے حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس میں دو یہودی افراد شدید زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ عمارتوں پر حملوں سے ہٹ کر دن دہاڑے افراد پر ممکنہ طور پر مہلک حملے کی طرف ایک نمایاں تبدیلی تھا۔
حملوں کی ذمہ داری کیسے لی جاتی ہے؟
یہ گروہ عموماً مختصر ویڈیوز کے ذریعے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتا تھا، جن کے ساتھ عربی، انگریزی اور عبرانی زبان میں تحریری بیانات شامل ہوتے تھے اور بعض اوقات مقامی زبانیں جیسے فرانسیسی یا جرمن بھی شامل کی جاتی تھیں۔
ویڈیوز میں اکثر گوگل میپس کی تصویر کے ساتھ ہدف کی نشاندہی کی جاتی تھی، جس کے ساتھ رات کے وقت حملے یا اس کے بعد کے مناظر کی مختصر جھلک پیش کی جاتی تھی اور پسِ منظر میں ڈرامائی موسیقی ہوتی تھی، جو اکثر ایک معروف ایرانی دھن سے لی گئی ہوتی تھی۔
ان دعوؤں میں کبھی بھی فارسی زبان کا متن شامل نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی ایران کا کوئی واضح حوالہ دیا جاتا تھا۔
عام طور پر حملوں کے فوراً بعد دعوے جاری کیے جاتے تھے بعض اوقات تو وسیع میڈیا کوریج سے بھی پہلے۔ بیانات میں حملوں کو جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی تھی، اور اکثر شہری یہودی اہداف کو مبینہ ’صیہونی‘ تعلقات یا کسی وسیع تر ایجنڈے سے جوڑا جاتا تھا۔
کچھ دعوؤں میں یورپیوں، بشمول عیسائیوں، سے بھی اپیل کی جاتی تھی کہ وہ اس کارروائی کا حصہ بنیں اور یہودی افراد اور اداروں کے اخراج کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔
یہ گروہ اپنے دعوؤں کو کیسے پھیلاتا ہے؟
حرکتِ اصحابُ الیمین الاسلامیہ کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ وہ آن لائن کوئی ذاتی میڈیا اکاؤنٹ چلاتا ہے یا نہیں۔ تاہم اس کے بجائے یہ اپنے دعوے اور پیغامات پھیلانے کے لیے ٹیلیگرام کے چند چینلز پر انحصار کرتا ہے۔
یہ واضح نہیں کہ یہ چینلز صرف ویڈیوز آگے بڑھاتے تھے یا گروپ کے بارے میں اندرونی معلومات بھی رکھتے تھے۔
یہ اکاؤنٹس زیادہ تر عربی میں پوسٹ کرتے ہیں اور عموماً ایران کے نام نہاد ’محورِ مزاحمت‘ کے حامی ہیں، جس میں عراق کے ایرانی حمایت یافتہ شیعہ گروہ، لبنان کی حزب اللہ اور یمن کے حوثی شامل ہیں۔
نمایاں اکاؤنٹس میں 200,000 سے زیادہ فالوورز رکھنے والے الفقار سمیت دیگر ایسے اکاؤنٹس بھی شامل ہیں، جو نہ صرف ذمہ داری کے دعوے شیئر کرتے ہیں بلکہ کسی نہ کسی انداز میں اصحابُ الیمین الاسلامیہ کی کارروائیوں کی تعریف بھی کرتے ہیں۔
ان دونوں اکاؤنٹس کے ناموں میں 313 ہندسے کا استعمال شیعہ حلقوں میں ایک علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
ایک اور ٹیلیگرام چینل ’صابرین نیوز‘ نے بھی اس گروہ کے دعوے شیئر کیے، جس کے دس لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔
الفقار اکثر حرکتِ اصحابُ الیمین الاسلامیہ کے دعوے شیئر کرتے وقت ان پر اپنا لوگو لگا دیتا تھا۔
کئی بار ایسا لگتا تھا کہ الفقار ان کے دعوے جاری ہونے سے پہلے ہی ان کا اشارہ دے رہا ہے اور اکثر سب سے پہلے انھیں شیئر کرنے والوں میں شامل ہوتا تھا۔
کئی مواقع پر الفقار نے اصحابُ الیمین کو ’المقاومہ العراقیہ‘ (عراقی مزاحمت) کہا، جو عراق کی ایران سے منسلک شیعہ ملیشیاؤں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہ بات مئی میں سعدی کی گرفتاری کے بعد اہم سمجھی جاتی ہے، جن کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ عراقی ملیشیا گروہ کتائب حزب اللہ کے سینیئر رکن ہیں۔
اپریل کے آخر میں جب بی بی سی نے حرکتِ اصحابُ الیمین الاسلامیہ سے ممکنہ تعلق کے بارے میں الفقار سے پوچھا تو انھوں نے کسی بھی تعلق سے انکار کیا اور کہا کہ اسے صرف سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی ویڈیوز ملتی ہیں اور ان کے ماخذ کے بارے میں مزید معلومات دینے سے انکار کر دیا۔
الفقار کا کہنا تھا ’ہمارا کام صرف اس مواد پر نظر رکھنا اور اسے شیئر کرنا ہے جو خود یہ گروپ سوشل میڈیا پر شائع کرتا ہے۔‘
اہداف اور نشانہ بنائے جانے والے مقامات کی معلومات
اصحاب الیمین نے اپنے بارے میں اور اپنے روابط کے بارے میں بہت کم مفید معلومات دی ہیں۔
9 مارچ کو ایک شیعہ حامی ٹیلیگرام چینلز پر عربی اور انگریزی دونوں میں شیئر کیے گئے ایک بیان میں، جسے اس کا ابتدائی اعلامیہ سمجھا جاتا ہے، گروپ نے جہاد سے متعلق ایک قرآنی آیت کا حوالہ دیا اور ابتدائی اسلام کی تاریخی لڑائیوں کا ذکر کیا۔
اس میں ’اسلام کے مجاہدین اور سائے کے شہسواروں‘ کو پکارا گیا کہ وہ ’اٹھ کھڑے ہوں اوراپنے دین کا دفاع کریں‘ اور ’اللہ کی راہ میں جہاد کریں‘ جبکہ حامیوں سے کہا گیا کہ وہ ’دنیا بھر میں انصاف پھیلائیں۔‘
اصحاب الیمین کے بیانات میں کسی مخصوص تنازع کا ذکر نہیں کیا گیا، جس میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ بھی شامل ہے۔ تاہم اس نے فلسطینی مقاصد اور غزہ کی جنگ کا حوالہ دیا ہے اور فلسطینیوں کی جانب سے بدلہ لینے کی بات کی ہے۔
گروپ نے مسلسل یہ تاثر دیا ہے کہ یہودی افراد، عبادت گاہیں اور تنظیمیں اس کے بنیادی اہداف ہیں جبکہ امریکی مفادات اس کے بعد آتے ہیں۔
اصحاب الیمین کی جانب سے دعویٰ کیے گئے 17 حملوں میں سے دو کا نشانہ پیرس اور ایمسٹرڈم میں امریکی بینک تھے۔
امریکہ نے کہا ہے کہ گروپ نیویارک، کیلیفورنیا اور ایریزونا میں یہودی اہداف پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
20 اپریل کے ایک بیان میں اس گروہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان کے افراد کو دھمکی دی۔ اس نے امریکیوں، خاص طور پر سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں، سے صدر کو قتل کرنے کی بھی اپیل کی۔
اصحاب الیمین نے مسیحیوں کو بھی مخاطب کرنے کی کوشش کی ہے۔
29 اپریل کو لندن میں ہونے والے چاقو حملوں کے حوالے سے اس گروہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’یہودی یسوع مسیح کے قاتل ہیں‘ جس کے بعد ’دنیا کے تمام آزاد لوگوں‘ سے کہا گیا کہ وہ ’انسانیت، مقبوضہ فلسطین، مسجد اقصیٰ اور قیدیوں کے دفاع‘ میں حملے کریں۔
اس کے بعد اس نے 25 اپریل کو واشنگٹن میں ایک عشائیے کے دوران ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کول توماس ایلن کی ’بہادرانہ کارروائی‘ کی تعریف کی۔
بھرتیوں کا طریقہ کار
اصحاب الیمین کے بھرتی کے طریقوں اور اس کے کارکنوں کے بارے میں اب بھی بہت کچھ مخفی ہے تاہم، اس سے متعلق حملوں اور گرفتاریوں پر مبنی میڈیا رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گروپ نے بالواسطہ یا پراکسی بھرتی پر انحصار کیا، جس سے اس کے ڈھانچے کو چھپانے اور حملوں کی ہدایت دینے والوں کی شناخت کو خفیہ رکھنے میں مدد ملی۔
یورپ بھر میں اصحاب الیمین سے منسوب واقعات کے سلسلے میں درجنوں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں برطانیہ میں کم از کم 26 افراد شامل ہیں۔ ان میں بہت سے کم عمر نوجوان بھی شامل تھے۔
رپورٹس کے مطابق کچھ حملہ آوروں کو ٹیلیگرام اور سنیپ چیٹ جیسی ایپس کے ذریعے پیسے کے عوض آن لائن بھرتی کیا گیا۔
مبینہ طور پر بھرتی کیے گئے افراد میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جن کا کسی نظریے سے بہت کم یا کوئی تعلق نہیں تھا، خاص طور پر نوجوان اور معمولی جرائم میں ملوث افراد، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصحاب الیمین نے ممکنہ طور پر موجودہ جرائم پیشہ نیٹ ورکس سے فائدہ اٹھایا۔
اس طریقہ کار کے کئی فائدے ہیں جن میں تیزی سے دور سے بھرتی، منتظمین کے لیے کم خطرہ، اور انکار کی گنجائش شامل ہے۔
30 اپریل کو انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک ڈائیلاگ کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں ایک پیٹرن کی نشاندہی کی گئی، جس میں مالی فائدے کے خواہش مند افراد، جنھیں خفیہ پیغام رسانی کی ایپس یا مقامی جرائم پیشہ رابطوں کے ذریعے بھرتی کیا گیا،اس گروہ کے حملے انجام دینے کے لیے استعمال کیے گئے۔ اسی طرح کی رائے دیگر تجزیہ کاروں اور تھنک ٹینکس نے بھی پیش کی ہے۔