’انڈیا گہری نظر رکھے ہوئے ہے‘: پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو کالعدم قرار دینے کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، مظفر آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت نے ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اِس تنظیم کی کور کمیٹی کے 31 ارکان سمیت دیگر سرکردہ رہنماؤں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے شیڈول ون میں شامل کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ فیصلہ گزشتہ روز پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں سے پہلے لیا گیا تھا۔ ان جھڑپوں میں راولاکوٹ کے کمشنر سردار وحید کے مطابق چار پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک سب انسپکٹر رینک کا افسر بھی شامل ہے جبکہ 50 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔ سنیچر کو کریک ڈاؤن کے دوران راولا کوٹ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مبینہ جھڑپ کے دوران عوامی ایکشن کمیٹی کے رُکن کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔

کشمیر حکومت کی جانب سے پانچ جون کو اس حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’حکومت کے پاس یہ یقین کرنے کی مناسب وجوہات موجود ہیں کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی دہشت گردی میں ملوث ہے اور ریاست کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔‘

نوٹیفیکیشن میں مزید کہا گیا کہ حالیہ صورتحال کے باعث ’امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے ساتھ ساتھ نفرت انگیزی اور لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بھی بڑھ رہا ہے۔۔۔ اِن تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیتے ہوئے اسے انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے شیڈول ون میں شامل کیا جاتا ہے۔‘

دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اِس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اِسے حکومت کی ’بوکھلاہٹ کا نتیجہ‘ قرار دیا تھا۔

کمیٹی کے کور رُکن شوکت نواز میر نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ تنظیم پہلے بھی پُرامن تھی اور اب بھی پُرامن ہے۔ کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا گیا جس سے ریاست یا اُس سے جڑے اداروں کی ساکھ یا سلامتی کو نقصان پہنچے۔‘

یاد رہے جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 9 جون (منگل) کو کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔

اس احتجاج کے پیش نظر کشمیر میں صورتحال کشیدہ ہے اور ممکنہ امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں کشمیر حکومت کی درخواست پر وفاق کی جانب سے اضافی نفری کشمیر میں تعینات کی گئی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے جبکہ شہر میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ نے سات جون (اتوار) کو اس معاملے پر دائر کردہ حکومتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ’مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق درکار آئینی ترمیم کا فیصلہ آئندہ انتخابات کے نتیجے میں بننے والی کشمیر کی نئی اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔‘

یاد رہے کہ کشمیر میں آئندہ عام انتخابات 27 جولائی کو منعقد ہوں گے جس کے نتیجے میں نئی اسمبلی کا انتخاب ہو گا۔

کمیٹی اور اس کے ارکان کو کن پابندیوں کا سامنا ہو گا؟

’آزاد جموں اینڈ کشمیر انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014‘ کے شیڈول ون میں شامل تنظیموں اور افراد کو بہت سی پابندیوں کا سامنا ہوتا ہے۔

اس قانون کے تحت ہر وہ شخص جو کسی کالعدم جماعت یا گروہ کی حمایت کے لیے انفرادی یا اجتماعی طور پر مالی مدد طلب کرتا ہے، یا کالعدم جماعت یا گروہ سے منسلک شخص یا افراد کسی مقام پر میٹنگ کرتے ہیں یا براہ راست یا سوشل میڈیا کے ذریعے خطاب کرتا ہے، اور اس تقریر کا مقصد اس کالعدم تنظیم کی حمایت حاصل کرنا ہو، تو یہ ایک قابل تعزیر جرم ہے جس کی سزا چھ ماہ تک ہو سکتی ہے۔

اس قانون کے تحت کالعدم قرار دی گئی تنظیم یا جماعت کے لیے چندہ اکھٹا کرنا بھی قابل گرفت جرم ہے۔

یاد رہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کسی ادارے کے ساتھ بطور تنظیم رجسٹرڈ نہیں ہے۔ اور اس جماعت کے معاملات اس کی کور کمیٹی کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔

ناقابلِ تردید شواہد: ’کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا‘

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم کے ترجمان شوکت جاوید میر نے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’حکومت کو جو ناقابل تردید شواہد پیش کیے گئے، اُس کی روشنی میں حکومت کے پاس اس کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جب الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے اور سپریم کورٹ کی جانب سے بھی ایک واضح رائے آ چکی ہے، تو اُس کے بعد اس تنظیم کی جانب سے 9 جون کو احتجاج کی کال دینے کا کوئی جواز نہیں بچتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حکومت اب بھی مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل کا حل چاہتی ہے لیکن یہ نتظیم مظاہروں کے ذریعے اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سکیورٹی اداروں کے پاس ایسے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ تنظیم 9 جون کو پُرتشدد مظاہروں کا منصوبہ بنا رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کشمیر پولیس کے پاس ایسی معلومات ہیں کہ اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد کے پاس اسلحہ موجود ہے جس کے زور پر وہ ناصرف علاقے میں امن وامان کی صورتحال کو خراب کریں گے بلکہ اقتصادی سرگرمیوں کو روکنے کے ساتھ ساتھ سڑکیں بند کریں گے اور پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ اِن تمام معلومات کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے پاس جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی لگانے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ’حکومت مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کرے گی، لیکن لوگوں کی جان ومال کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہو گی اور اس ضمن میں کوئی اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔‘

’یہ حکومت کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے‘

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور رُکن شوکت نواز میر کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے اُن کی تنظیم کو کالعدم قرار دینا اُن کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا یہ تنظیم ہمیشہ سے پرامن رہی ہے اور اس نے اپنے اقدامات کے ذریعے کبھی ریاست یا اس کے اداروں کو نقصان نہیں پہنچایا۔

شوکت نواز میر کا کہنا تھا کہ انھوں نے چند روز قبل کمیٹی کے مظفر آباد سیکٹر کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 9 جون کو مظاہرے میں حصہ لینے والے تمام افراد اپنے شناختی کارڈ ساتھ لے کر آئیں، جس کا مقصد یہی تھا کہ کوئی شدت پسند اس مظاہرے میں شریک نہ ہو پائے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ سال اکتوبر میں پاکستان حکومت کے ایک نمائندہ وفد سے مذاکرات ہوئے تھے جس میں انھوں نے چھ ماہ کا وقت مانگا تھا جس کے بعد متعدد بار مذاکرات کے دور ہوئے لیکن مطالبات پورے نہیں ہوئے، جس کی وجہ سے اُن کی تنظیم نے متفقہ فیصلے کے بعد 9 جون کو اپنے مطالبات کے حق کے لیے احتجاج کی کال دی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں شوکت نواز میر کا کہنا تھا کہ وہ کالعدم قرار دینے کے حکومتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے لیے سوچ بچار کر رہے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ مناسب وقت پر اس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

شوکت نواز میر نے مظفر آباد سیکٹر کی تنظیم کے اجلاس کے دوران لوگوں سے کہا تھا کہ وہ ایک ماہ کا راشن اکھٹا کرلیں کیونکہ ان کے بقول نو جون سے شروع ہونے والا احتجاج طوالت اختیار کر سکتا ہے۔

’اختلاف رائے سے نمٹنے کے لیے ماضی کی غلطیوں کو دہرایا جا رہا ہے‘

بی بی سی نے تجزیہ کاروں سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں اور کیا اس سے معاملات سلجھاؤ کی جانب بڑھ پائیں گے؟

صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قراد دینے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد شدت پسند ہیں تو پھر اِن لوگوں کے ساتھ ماضی میں مذاکرات کیوں کیے گئے اور اب بھی حکومت کی جانب سے بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی بات کیوں کی جا رہی ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اس عوامی نمائندہ کمیٹی کو کالعدم قرار دینے سے کشمیر میں بسنے والوں کے دل میں نفرت بڑھ سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسی مثالیں ہیں جب عوامی تنظیموں کے خلاف اس نوعیت کے اقدامات کیے گئے جس کے نتائج بہتر نہیں نکلے۔

کشمیری رہنما مقبول بٹ کا حوالہ دیتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ جب وہ انڈیا کے زیرانتظام کشمیر سے رہا ہو کر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر آئے تو یہاں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انھیں ’انڈین ایجنٹ‘ قرار دے کر گرفتار کیا اور مقدمہ درج کیا اور پھر سپریم کورٹ نے انھیں بےگناہ قرار دے دیا۔

انھوں نے کہا کہ رہائی کے بعد مقبول بٹ دوبارہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر چلے گیے جہاں انڈین عدالت نے انھیں ایک مقدمے میں پھانسی کی سزا سُنا دی۔ میر کے مطابق اس واقعے کے بعد جو ردعمل آیا وہ سامنے ہے۔

حامد میر کا کہنا تھا جس تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا ہے اس کے زیادہ تر مطالبات سماجی اور اقتصادی نوعیت کے ہیں، جن میں ہستپالوں میں ایکسرے مشینیں لگانا، سڑکیں اور پُل بنوانا اور تعلیمی بورڈ کو الگ کرکے اُن کے الحاق جیسے مطالبات شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ اب زیر بحث ہے اور کشیدگی کا باعث بن رہا ہے۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ اُن کے آباؤ اجداد بھی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے نقل مکانی کر کے پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہوئے تھے مگر آج تک اُن کے ووٹ نہیں بنے اور نہ ہی انھیں معلوم ہے کہ اُن کا حلقہ کون سا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہییں کیونکہ انڈیا بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔‘

سابق سینیٹر و تجزیہ کار مشاہد حسین سید نے اپنے ایکس اکاونٹ پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے اقدام کو غلط قرار دیا اور کہا ہے کہ ’اختلاف رائے سے نمٹنے کے لیے ماضی کی غلطیوں کو دہرایا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ اقدام کشمیر حکومت کی جانب سے ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب انڈیا پاکستان اور انڈیا کے زیرانتظام کشمیر سے متعلق اپنی ناکام اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس تنظیم کو کالعدم قرار دینے کی وجہ سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں بحران کی سی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔

صحافی اور محقق دانش ارشاد کہتے ہیں کہ ’عوامی ایکشن کمیٹی کو پوری ریاست میں مقبولیت اور حمایت حاصل ہے تاہم مظفر آباد، پونچھ، سدھنوتی اور کوٹلی میں یہ تحریک سب سے زیادہ منظم دکھائی دیتی ہے۔‘

ان کے مطابق اس کی واضح مثال پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے جنوبی اضلاع بالخصوص بھمبر اور میرپور میں عوامی تحریک کا منظم ہونا ہے۔ ’اس کے علاوہ حویلی اور نیلم سمیت ان علاقوں میں منظم ہے جہاں ماضی قریب میں اس نوعیت کی کوئی مثال موجود نہیں تھی۔‘

عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کے حوالے سے دانش ارشاد کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی مسئلے کا حل بات چیت سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’اب جب کہ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا جا چکا ہے تو حکومت یا ریاست حالات کو سازگار کرنے کے لیے کس سے بات کریں گے؟ کیا اب حکومت ایک کالعدم تنظیم سے مذاکرات کرے گی؟‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ایک پرامن تحریک کو کالعدم قرار دینا کسی طور درست نہیں۔ ریاست کو تشدد کے بجائے بات چیت سے مسائل حل کرنے ہوں گے اور آپریشن سے حالات بے قابو ہونے اور بڑے نقصان کا اندیشہ ہے۔‘

جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی ماضی میں کب کب احتجاج کر چکی ہے؟

سنہ 2023 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آٹے اور بجلی کی قمیتوں میں اضافے اور دیگر عوامی معاملات کے حل کے لیے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نامی اس تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

اس کمیٹی میں شامل رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ اس تنظیم میں تاجر، ٹرانسپورٹرز، وکیل، طلبا اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ اس تنظیم کا نہ تو کوئی صدر ہے اور نہ جنرل سیکریٹری اور اس کے معاملات کور کمیٹی کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔

کشمیر میں اس کمیٹی کا کہیں پر بھی کوئی آفس موجود نہیں اور اگر کہیں اجلاس کرنا مقصود ہو تو کسی مخصوص جگہ کی نشاندہی کر دی جاتی ہے اور وہاں پر اس تنظیم سے وابستہ لوگ پہنچ جاتے ہیں۔

اس تحریک کا آغاز 2023 میں اُس وقت ہوا تھا جب کشمیر کے ٰضلع راولاکوٹ میں مبینہ آٹا سمگلنگ کے باعث احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا اور معاملات اُس وقت مزید خراب ہوئے جب بجلی کے بلز میں پروٹیکٹڈ/ نان پروٹیکٹڈ صارفین کی کیٹگریز متعارف ہوئیں اور کشمیر میں بجلی کے صارفین کو دُگنے بل موصول ہونا شروع ہوئے۔

اس صورتحال پر لوگوں کی جانب سے پہلی بار احتجاج کا آغاز مئی 2023 میں ہوا۔

احتجاج کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تمام علاقوں میں 31 اگست 2023 کو ریاست گیر ہڑتال ہوئی، مظاہرے ہوئے، گرفتاریاں ہوئیں اور نتیجتاً 17 ستمبر 2023 کو سینکڑوں لوگ دارالحکومت مظفرآباد میں جمع ہوئے اور یہاں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی بنیاد رکھی گئی۔

اس ایکشن کمیٹی کے تحت 30 ستمبر 2023 کو کیے گئے مظاہروں میں مزید درجنوں لوگ گرفتار ہوئے جس کے ردعمل میں پورے خطے میں پانچ اکتوبر 2023 ایک بار پھر شٹرڈاؤن، پہیہ جام ہڑتال ہوئی اور جلسے منعقد ہوئے۔

اس کے بعد تین نومبر 2023 سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات شروع کیے اور متعدد نشستوں کے باوجود یہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔

11 مئی 2024 کو مظاہرین نے اپنے 10 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کے حق میں مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا۔ 13 مئی کو حکومت پاکستان نے اس تمام معاملہ میں مداخلت کی اور 20 کلو آٹے کا تھیلا 1000 روپے کا کر دیا گیا جبکہ بجلی کی فی یونٹ قیمت 3 سے 6 روپے گھریلو اور 10 سے 15 روپے کمرشل مقرر کی گئی۔

اس لانگ مارچ کے دوران اسلام گڑھ میں ایک پولیس آفیسر جبکہ مظفرآباد میں 3 مظاہرین مارے گئے تھے۔

اس کے بعد ستمبر 2025 میں اس مرتبہ پھر یہ معاملہ گرم ہوا اور احتجاج کے بعد بلآخر اکتوبر 2025 میں کمیٹی اور حکومتی نمائندوں میں معاہدہ طے پا گیا جس کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

ماضی میں ان مظاہروں کے دوران پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کئی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تاہم اب ایکشن کمیٹی دوبارہ احتجاج کی کال دے چکی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔