دانہ سر میں بس کھائی میں گِرنے سے 32 مسافر ہلاک: زندہ بچنے والے مسافروں اور کمپنی کے مینیجر نے کیا بتایا؟

،تصویر کا ذریعہDistrict Administration Sherani
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو، کوئٹہ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
بلوچستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ضلع شیرانی میں ایک مسافر بس کھائی میں گِرنے سے کم از کم 32 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ کھائی درجنوں فٹ گہری تھی اور میڈیا کے ساتھ شیئر کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسافر بس لوہے کے ڈھانچے میں تبدیل ہو چکی ہے۔
یہ واقعہ جمعے کو بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے دانہ سر میں پیش آیا جب بس ضلع شیرانی کے علاقے دانہ سر سے پشاور جا رہی تھی۔
واقعے کے بعد زخمی افراد کے علاوہ ہلاک ہونے والے مسافروں کی لاشوں کو سول ہسپتال ژوب لایا گیا۔ جبکہ دانہ سر میں بس کو پیش آنے والے واقعے کے بعد کوئٹہ میں پولیس حکام نے اِس مسافر بس کی کمپنی کے دفتر کو سیل کر دیا ہے۔
ژوب ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر سلطان موسیٰ خیل نے بتایا کہ ہسپتال میں 31 مسافروں کی لاشوں کو لایا گیا۔ زخمیوں میں سے بعض کو ڈیرہ اسماعیل خان جبکہ چار کو ٹراما سینٹر کوئٹہ منتقل کیا گیا جن میں سے ایک نے راستے میں دم توڑ دیا جس کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 32 ہو گئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق گہری کھائی میں گِری بس تک پہنچنے اور زخمیوں و لاشوں کو اوپر روڈ تک لانے میں اہلکاروں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس بس میں اس کے اپنے مسافروں کے علاوہ ایک خراب ہونے والی دوسری بس کے مسافر بھی سوار تھے۔
ان کے مطابق بظاہر بس میں معمول سے زیادہ افراد موجود تھے تاہم متعلقہ افسران واقعے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDistrict Administration Sherani
ضلع شیرانی کے ڈپٹی کمشنر حضرت والی کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ واقعے کے بعد ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
ان کا کہنا ہے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی ضلعی انتظامیہ، ایف سی اور ریسکیو ادارے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
وزیر اعلی نے کہا کہ زخمیوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ متعلقہ انتظامی افسران واقعے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
زندہ بچنے والے مسافروں اور کمپنی کے مینیجر نے کیا بتایا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہ مسافر بس جمعرات کی شام چھ بجے کے قریب کوئٹہ سے پشاور کے لیے نکلی تھی۔
کوئٹہ کی سپنی روڈ پر واقع بس کمپنی کے مینیجر عبدالخالق نے بی بی سی کو بتایا کہ کوئٹہ سے روانگی کے وقت اس بس میں 12 مسافر سوار ہوئے تھے جبکہ 20 کے لگ بھگ کچلاک سے سوار ہوگئے۔ اسی طرح کچھ مسافر ایک اور سٹیشن سے بس میں بیٹھ گئے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ جب یہ بس رات کو ضلع شیرانی کے علاقے دانہ سر پہنچی تو 'سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر اسے روکا گیا' جس کی وجہ سے بس 'جمعے کی صبح دانہ سر سے پشاور کے لیے روانہ ہوئی۔'
خیال رہے کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جو مسافر بسیں اور دیگر گاڑیاں پنجاب اور خیبر پختونخوا جاتی ہیں، ان کو رات کو سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔
جو گاڑیاں کوئٹہ سے ڈیرہ غازی خان کے راستے پنجاب جاتی ہیں، ان کو لورالائی میں جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان کے راستے پشاور یا اسلام آباد جانے والی گاڑیوں کو ژوب یا شیرانی میں روک لیا جاتا ہے۔ ان گاڑیوں کو صبح منزل مقصود کی جانب جانے دیا جاتا ہے۔
ژوب میں مقامی صحافیوں نے بعض زخمیوں سے بات کی جنھوں نے بتایا کہ واقعے سے قبل بعض مسافروں اور بس ڈرائیور کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہDistrict Administration Sherani
محمد حسین ان مسافروں میں شامل تھے جو کہ راستے میں ایک دوسری بس خراب ہونے کے باعث اس بس میں سوار ہوئے تھے۔
انھوں نے ہسپتال میں میڈیا کو بتایا کہ بس کے اندر مسافروں اور ڈرائیور کے درمیان مبینہ سمگل شدہ تیل کے معاملے پر جھگڑا چل رہا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ڈرائیور بعض مسافروں کو بتا رہا تھا کہ ’آپ لوگوں کی وجہ سے میرا تیل پکڑا گیا۔‘
ایک اور مسافر امان خان نے بتایا کہ ’تاخیر کی وجہ سے کوئٹہ سے ہی مسافروں اور ڈرائیور کے درمیان تنازع تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں جبل نور سٹاپ سے بس کی روانگی کا وقت سہ پہر چار بجے بتایا گیا لیکن بس کوئٹہ سے چھ بجے کے قریب نکل گئی۔
انھوں نے بتایا کہ جب یہ بس دانہ سر کے علاقے میں پہنچی تو 'سکیورٹی اہلکاروں نے بس کو ایک گھنٹہ کھڑا کیا۔'
ان کا کہنا تھا جب چیک پوسٹ سے بس کی روانگی میں تاخیر ہوئی تو بعض مسافر سکیورٹی اہلکاروں کے پاس گئے، ان سے پوچھا کہ بس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے تو انھیں بتایا گیا کہ بس میں 'سمگل شدہ ڈیزل اور شیمپو ہے۔'
امان خان کے مطابق مسافروں نے سکیورٹی اہلکاروں کو بتایا کہ 'اگر اس میں سمگل شدہ سامان ہے تو اس کو اتار دو اور بس کو جانے دو تاکہ ہم وقت پر اپنی منزل پر پہنچیں جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے تیل کے چھ کین بس سے نکالے۔'
انھوں نے بتایا کہ جب بس روانہ ہوئی تو ڈرائیور نے ایک بزرگ مسافر سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ نے ایسا بیان کیوں دیا؟ میں آپ کو بس سے یہاں اتار دوں گا۔'
اس پر باقی مسافر اُٹھ کھڑے ہوئے اور ڈرائیور کو کہا کہ 'اگر آپ نے بزرگ مسافر کو اُتارا تو ہم سب اتریں گے۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'اس کے بعد ڈرائیور نے بس کو دو، تین بار روکا اور پھر مسافروں کے کہنے پر روانہ کیا۔ بعد میں ڈرائیور اور پشاور سے تعلق رکھنے والے دو، تین مسافروں کے درمیان سخت جملوں کے تبادلے میں شدت آئی اور اسی دوران حادثہ پیش آیا۔'
تاہم بس کمپنی کے مینیجر عبدالخالق نے بتایا کہ 'ہماری اطلاع کے مطابق روڈ سے سلپ ہو کر گاڑی گہری کھائی میں جا گری'۔ ان کے مطابق اس حادثے میں بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر بھی ہلاک ہوئے جبکہ منشی زخمی ہوا۔
انھوں نے بس کے مسافروں اور ڈرائیور کے درمیان کسی تنازعے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔
انھوں نے بس میں 'سمگل شدہ تیل' کے الزام کو مسترد کیا تاہم انھوں نے کہا کہ 'چونکہ راستے میں پیٹرول پمپ نہیں ہوتے، اس لیے یہاں سے جانے والی بسیں ڈیزل زیادہ مقدار میں بھرتی ہیں تاکہ راستے میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔'
دانہ سر کہاں واقع ہے ؟
دانہ سر انتظامی لحاظ سے بلوچستان کے ضلع شیرانی کا حصہ ہے جو کوئٹہ سے اندازاً چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ہے ۔
اس ضلع کی سرحد شمال مشرق میں خیبر پشتونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے لگتی ہے۔
ضلع شیرانی میں دانہ سر سے شاہراہ کوئٹہ اور خیبر پختونخوا اور کوئٹہ اور اسلام آباد کے درمیان مختصر ترین شاہراہ ہے۔
یہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے جہاں شاہراہ کے ساتھ گہری کھائیاں ہیں۔





















