آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دانہ سر: بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے میں بس کھائی میں جا گری، کم از کم 31 مسافر ہلاک
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو، کوئٹہ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 3 منٹ
بلوچستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ضلع شیرانی میں ایک مسافر بس کے حادثے میں کم از کم 31 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
کوئٹہ میں ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق یہ حادثہ جمعے کو بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے دانہ سر میں پیش آیا اور حادثے کا شکار ہونے والی بس کوئٹہ سے پشاور جا رہی تھی۔
سرکاری حکام کی جانب سے اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات دی گئی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر شیرانی ولی کاکٹر نے بی بی سی نیوز کے عثمان زاہد سے بات کرتے ہوئے 31 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ اس سے قبل وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے بیان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 40 بتائی تھی۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ریسکیو اہلکاروں نے چند بےہوش ہو جانے والے مسافروں کو بھی ہلاک تصور کر لیا تھا، تاہم تاحال 31 ہلاکتوں کی تصدیق ہو سکی ہے۔
اس سے قبل شاہد رند کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات سے پتا چلا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی بس میں اس کے اپنے مسافروں کے علاوہ ایک خراب ہونے والی دوسری بس کے مسافر بھی سوار تھے۔
ان کے مطابق بظاہر بس میں معمول سے زیادہ افراد موجود تھے تاہم متعلقہ افسران حادثے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا تاہم مقامی حکام کے مطابق بس ایک گہری کھائی میں گری جس کی وجہ سے مسافروں تک پہنچنے اور ان کو ریسکیو کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جائے حادثے سے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔
ضلع شیرانی کے ڈپٹی کمشنر حضرت والی کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حادثے کے بعد ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بس حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
ان کا کہنا ہے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی ضلعی انتظامیہ، ایف سی اور ریسکیو ادارے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
وزیر اعلی نے کہا کہ زخمیوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ متعلقہ انتظامی افسران حادثے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
دانہ سر کہاں واقع ہے ؟
دانہ سر انتظامی لحاظ سے بلوچستان کے ضلع شیرانی کا حصہ ہے جو کوئٹہ سے اندازاً چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ہے ۔
اس ضلع کی سرحد شمال مشرق میں خیبر پشتونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے لگتی ہے ۔
ضلع شیرانی میں دانہ سر سے شاہراہ کوئٹہ اور خیبر پشتونخوا اور کوئٹہ اور اسلام آباد کے درمیان مختصر ترین شاہراہ ہے۔ یہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے جہاں شاہراہ کے ساتھ گہری کھائیاں ہیں۔