ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کیسے ہوں گی، کہاں تدفین ہوگی اور نمازِ جنازہ کون پڑھائے گا؟

علی خامنہ ای جنازہ

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    • مصنف, مسعود آذر
    • عہدہ, بی‌ بی‌ سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

اسرائیل کے میزائل حملے میں مارے جانے والے ایران کے سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ان کے قتل کے چار ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد باقاعدہ آغاز تہران کے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ سے ہو گیا ہے۔

اس دوران ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں خامنہ ای کا تابوت اس مرکز میں لایا گیا۔

علی خامنہ ای کی تجہیز و تدفین کی یہ تقریبات نو جولائی تک جاری رہیں گی۔ ان کے اہل خانہ کی تدفین کی تقریبات کے منتظمین نے ایران اور عراق میں کئی تقریبات کا اعلان کیا ہے۔

ان سات روزہ تقریبات کے انعقاد کے لیے سپاہِ پاسداران، سکیورٹی اداروں اور مختلف سرکاری محکموں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔

علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے مختلف ممالک کے وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین سمیت اعلیٰ حکام نے ایرانی عوام سے ان تقریبات میں شرکت کی اپیل کی ہے۔

تہران میں تقریبات کی نگرانی کرنے والے پاسداران انقلاب کے سینیئر کمانڈر، بریگیڈیئر جنرل حسن حسن زادہ نے کہا کہ حکام کو ایک کروڑ 20 لاکھ سے ایک کروڑ 50 لاکھ افراد کی شرکت کی توقع ہے اور یہ تعداد دو کروڑ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

تقریبات سے قبل حکام نے بتایا ہے کہ زائرین کی خدمت کے لیے قائم کیے جانے والے ہزاروں خدمت مراکز، کیمپوں یا استقبالیہ مراکز کی رجسٹریشن مکمل کی جا چکی ہے، دس لاکھ سے زائد افراد کے لیے رہائش کے انتظامات کیے گئے ہیں، اور تہران کے مرکزی علاقوں میں ہجوم کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ایک خصوصی ’شہری راہداری‘ منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔

تہران میں سپاہِ محمد رسول اللہ ان تقریبات کے عملی انتظامات کی ذمہ دار ہے، جبکہ حکومت اور دیگر ریاستی ادارے بھی تیاریوں اور انعقاد کے عمل میں شریک ہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ ان تقریبات کی وسعت، انتظامی سطح اور تیاریوں کا ماضی میں ہونے والی کسی بھی تقریب سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

 علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریب کا دیوارنگار

،تصویر کا ذریعہMEHR

ابہام

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تقریبات کے حوالے سے تفصیلی اعلانات کے باوجود کئی اہم سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔

ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا ایران کے تیسرے رہنما، مجتبیٰ خامنہ ای، اپنے والد کی تدفین کی تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ علی خامنہ ای کے دیگر بچے ان تقریبات میں شریک ہوں گے یا نہیں۔

گذشتہ سال کی 12 روزہ جنگ کے بعد ان کے بیٹے کسی عوامی تقریب میں نظر نہیں آئے، جبکہ 40 روزہ جنگ کے دوران بھی ان کی صورتحال سے متعلق کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔

یہ ابہامات ایک ایسے پس منظر میں جنم لے رہے ہیں جہاں چند ماہ قبل امریکی اور اسرائیلی حملے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے علاوہ ان کے خاندان کے کئی افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔ ان میں ان کے داماد، ایک پوتا، ایک بیٹی اور مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ بھی شامل تھیں۔

حال ہی میں علی خامنہ ای کی اہلیہ کے بھائی حسن خجستہ باقر زادہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں عوام سے ’رہبر کی دوسری بیٹی‘ کے لیے دعا کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ’گویا صحرا میں تنہا پڑی ہوئی ہیں‘، تاہم انھوں نے ان کی چوٹوں یا جسمانی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں، جس سے خاندان کے بعض افراد کی صحت کے حوالے سے قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔

علی خامنہ ای کے چار بیٹوں کے علاوہ دو بیٹیاں بھی تھیں۔ ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای پہلے ہی حملے کے روز ہلاک ہو گئی تھیں۔ اس لیے مبصرین کا خیال ہے کہ حسن خجستہ باقر زادہ کا اشارہ غالباً ہدیٰ خامنہ ای کی جانب تھا، جن کے شوہر مصباح الہدیٰ باقری کنی بھی اسی روز مارے گئے تھے۔

گذشتہ چند ماہ کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور علاج سے متعلق متضاد اطلاعات اور تبصرے سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم علی اکبر پورجمشیدیان، جو علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات کی کمیٹی کے سیکریٹری ہیں، نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی شرکت کا معاملہ ’تقریباتی کمیٹی کے اختیارات اور معلومات کے دائرۂ کار میں نہیں آتا۔‘

اگر مجتبیٰ خامنہ ای تقریب میں شریک ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کی خبر عام لوگوں یا میڈیا کو کوئی اور ادارہ نہیں دے گا، بلکہ صرف رہبرِ انقلاب کے دفتر یا فوج کے اعلیٰ کمان کے دفتر کی طرف سے سرکاری اعلان کیا جائے گا۔

دوسری جانب یہ بھی تاحال واضح نہیں کہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کون پڑھائے گا۔ شیعہ مذہبی روایت، خصوصاً مراجعِ تقلید کے حلقوں میں، نمازِ میت پڑھانے والے شخص کا انتخاب محض مذہبی نہیں بلکہ علامتی اور سیاسی اہمیت بھی رکھتا ہے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر مجتبیٰ خامنہ ای کئی ماہ کی غیر حاضری کے بعد عوامی منظر پر آتے ہیں اور نمازِ جنازہ کی امامت کرتے ہیں تو اس کے مختلف سیاسی معانی اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم علی خامنہ ای کی وصیت کے مندرجات سرکاری طور پر منظرِ عام پر نہ آنے کے باعث اس حوالے سے فی الحال یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

مشہد کے امامِ جمعہ احمد علم الہدیٰ نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ ’ہمیں علی خامنہ ای کی وصیت کے مندرجات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں، اور وصیت ان کے بیٹوں کے پاس ہے۔‘

نشست خبری فرمانده سپاه  محمدرسوال تهران

،تصویر کا ذریعہHAMSHAHRI

،تصویر کا کیپشنسپاہ محمد رسول اللہ تہران کے کمانڈر کی پریس کانفرنس

غیر ملکی مہمان

سیاسی، مذہبی اور سکیورٹی شخصیات کی وہ ترکیب جو اس تقریب میں شرکت کے لیے تہران آئے گی، تقریب کے قابلِ توجہ پہلوؤں میں سے ایک ہو سکتی ہے۔

کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ بعض ممالک کی عدم موجودگی بھی غیر ملکی مہمانوں کی موجودگی جتنی معنی خیز ہوگی۔

قومی کمیٹی کے سیکریٹری کے مطابق درجنوں ممالک کے عہدیداروں اور شخصیات نے شرکت کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے کہا ہے کہ مختلف ممالک کے صدور، پارلیمان کے سربراہان، وزرائے اعظم اور وزرا اس تقریب میں شرکت کریں گے۔

سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ 800 غیر ملکی صحافی اس تقریب کی کوریج کریں گے۔

تدفین کی تقریب کیسے منعقد ہوگی؟

متعلقہ حکام کے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق آخری رسومات کی تقریبات کئی مراحل اور مسلسل کئی دنوں میں منعقد ہوں گی۔

تین جولائی کو بین الاقوامی خراجِ عقیدت کی تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں دُنیا کے مختلف ممالک کے رہنما ایک خصوصی تقریب میں خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ غیر ملکی عوامی وفود کے لیے تقریبات کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے ہو گا جبکہ دیگر ممالک کے اعلی حکام دوپہر دو بجے اُنھیں خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔

سپاہ محمد رسول اللہ تہرانِ بزرگ کے کمانڈر حسن حسن زادہ، جو تقریب کے اصل ذمہ دار ہیں، نے کہا ہے کہ علی خامنہ ای کا تابوت ایک بلند جگہ پر رکھا جائے گا تاکہ مختلف مقامات سے دیکھا جا سکے۔ ان کے مطابق آمد و رفت کا نظام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ہر شخص تقریباً 15 سے 20 منٹ میں اندر آ کر وداع کر سکے اور باہر نکل جائے۔

چار، پانچ جولائی: عوامی الوداع کی دو روزہ تقریب

تہران کے بڑے مذہبی و ثقافتی مرکز ’گرینڈ مصلیٰ‘ میں عوامی الوداع کی دو روزہ تقریب منعقد کی جائے گی۔ چار جولائی کو مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے دروازے کھولے جائیں گے اور پانچ جولائی کو رات آٹھ بجے بند کر دیے جائیں گے۔ مرکزی نمازِ جنازہ پانچ جولائی کی صبح ادا کی جائے گی۔

خامنہ ای کے علاوہ، ان کی صاحبزادی بشریٰ حسینی خامنہ ای، بہو زہرا حداد عادل (مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ)، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور نواسی زہرا محمدی کے تابوت بھی سوگواروں کے لیے رکھے جانے کی توقع ہے۔

چھ جولائی: تہران میں جنازے کا جلوس

یہ جلوس مقامی وقت کے مطابق صبح چھ شروع ہوگا۔ منتظمین نے دارالحکومت میں پھیلے ہوئے ایک راستے کا انتخاب کیا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ متوقع ہجوم کے لیے کوئی ایک سڑک کافی نہیں ہوگی۔ حکام کو امید ہے کہ یہ تقریب شام تک اختتام پذیر ہو جائے گی۔

سات جولائی: قم میں جنازے کا جلوس

یہ تقریب ایران کے مذہبی مرکز میں مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً پانچ بجے شروع ہو گی جس میں جمکران مسجد کے اندر ایک سینئر عالمِ دین نماز کی امامت کریں گے۔

آٹھ جولائی: نجف اور کربلا میں جلوس

عراق میں ایران کے ثقافتی اتاشی، غلام رضا اباذری نے بتایا کہ میت سات جولائی کی شام نجف پہنچے گی۔ میت کی ایران واپسی سے قبل، آٹھ جولائی کو نجف میں مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے اور کربلا میں سہ پہر چار بجے جنازے کے جلوس نکالے جائیں گے۔

نو جولائی: مشہد میں تدفین

خامنہ ای کی تدفین شمال مشرقی شہر مشہد میں واقع شیعوں کے آٹھویں امام، امام رضا کے مزار پر کی جائے گی۔

مراسم تشییع نمادین خامنه‌ای در نجف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننجف میں حالیہ دنوں میں منعقد ہونے والی خامنہ ای کی علامتی تشییع کی تقریب کی تصویر۔ مرکزی تقریب 17 تیر کو نجف اور کربلا میں منعقد ہوگی

نجف اور کربلا

علی خامنہ ای اپنی زندگی میں صرف دو مرتبہ، سات اور اٹھارہ برس کی عمر میں، عراق گئے تھے اور اس کے بعد دوبارہ نجف اور کربلا نہیں گئے۔

اعلان کردہ پروگرام کے مطابق، ان کی میت نجف ایئرپورٹ کے ذریعے عراق پہنچائی جائے گی۔

نجف میں پہلے شیعہ اماموں کے مقدس مزارات پر تشییع کے بعد یہ تقریبات کربلا میں جاری رہیں گی اور پھر نجف کے ذریعے دوبارہ ایران واپس لایا جائے گا۔

ایرانی حکام نے عراق میں تقریبات کے انعقاد کو مختلف عراقی گروہوں کی درخواست کا جواب قرار دیا ہے اور ان کے مذہبی اور سرحدوں سے ماورا پہلوؤں پر زور دیا ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق نجف اور کربلا میں تشییع کا انعقاد خطے کے شیعوں کے درمیان علی خامنہ ای کی ماورائے قومی حیثیت کو نمایاں کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

بعض مبصرین نے اسے ایران کی مذہبی اور سیاسی اثر و رسوخ کو شیعہ دنیا کے ایک اہم ترین مرکز میں برقرار رکھنے اور ظاہر کرنے کی کوشش کے تناظر میں تعبیر کیا ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ، جو چند روز قبل ان تقریبات کی ہم آہنگی کے لیے بغداد گئے تھے، نے ان تقریبات کو ’علامتی اہمیت‘ کا حامل قرار دیا اور کہا کہ نجف اور کربلا میں ان کا انعقاد ظاہر کرتا ہے کہ علی خامنہ ای کا مقام ایران کی سرحدوں سے باہر بھی شیعوں کے درمیان موجود ہے۔

اسی تناظر میں بعض ایرانی عہدیداروں نے اس تقریب کو ’دو قوموں کے گہرے تعلق‘ کی نمائش کا موقع قرار دیا ہے اور اسے خطے میں ایک وسیع سیاسی و مذہبی زنجیر کا حصہ کہا ہے۔ عراقی حکومت اس ملک میں ان تقریبات کے اہم منتظمین میں شامل ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ تقریبات عراقی وزیرِ اعظم کے دفتر کی براہِ راست نگرانی اور مختلف سرکاری اداروں اور وزارتوں کی شراکت سے منعقد ہوں گی۔

بعض عراقی حکام نے اس میزبانی کو ’ایک تاریخی اعزاز‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامی، خدماتی اور سکیورٹی کی تمام صلاحیتیں اس مقصد کے لیے متحرک کی جائیں گی۔

خبر رساں ادارے مہر کے مطابق نجف اور کربلا کی گورنرز عراق کی وزارتِ ٹرانسپورٹ، وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، تنظیمِ حشد الشعبی اور وزیرِ اعظم کا دفتر ان اداروں میں شامل ہیں جو اس تقریب کی تیاری اور ہم آہنگی کے ذمہ دار ہیں۔

تہران، قم، نجف اور کربلا میں تقریبات کے بعد آخری مرحلہ مشہد میں منعقد ہوگا اور علی خامنہ ای کو آٹھویں امامِ شیعہ کے روضے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ تدفین کے بعد چالیس دن تک مختلف صوبوں میں مذہبی اجتماعات، دعائیں اور عبادات منعقد ہوں گی اور تدفین کی برسی تک مزید تقریبات اور کانفرنسوں کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔

تقریبات کی سیاسی اہمیت

 علی خامنہ ای کے لیے سوگواری کی تقریب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ایران کو متعدد سیاسی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق گذشتہ مہینوں میں ملک گیر احتجاجات اور مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن نے اس چیز کو مزید شدت دی ہے جسے وہ ’بحرانِ جواز‘ قرار دیتے ہیں۔

ان تجزیہ کاروں کے خیال میں نظریاتی نظاموں میں رہنماؤں کی تشییع صرف سوگ منانے کا عمل نہیں ہوتی بلکہ یہ اتحاد کے اظہار، سرکاری بیانیے کی تجدید اور سیاسی پیغامات کی ترسیل کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

اس تناظر میں آئندہ تقریب مذہبی پہلو کے ساتھ سیاسی اہمیت کی حامل بھی ہے۔

کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ تقریب اقتدار کی منتقلی اور علی خامنہ ای کے بعد کے سیاسی نظم کے استحکام کے عمل میں علامتی کردار ادا کر سکتی ہے۔

بعض مبصرین کے مطابق یہ تقریب حکومت کے لیے حمایت اور عوامی متحرک سازی کی سطح دکھانے کے علاوہ اقتدار کی منتقلی اور ایران میں سیاسی استحکام کے عمل میں بھی کردار ادا کر سکتی ہے۔

اس تقریب کو ’مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ بیعت‘ کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے۔

تاہم، بعض تجزیہ کار زور دیتے ہیں کہ ایسی وسیع تقاریب کا انعقاد لازماً گہرے سیاسی اور سماجی مسائل کے حل کا مطلب نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ حکومت اور معاشرے کے بعض حصوں کے درمیان موجود خلیج کو اکیلے ختم کر سکتا ہے۔

اسی دوران، یہ تقریبات ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہیں جب بہت سے مبصرین کی توجہ اقتدار کی منتقلی کے طریقہ کار، سیاسی قوتوں کی صف بندی اور گذشتہ مہینوں کی تبدیلیوں پر عوامی ردِ عمل پر مرکوز ہے۔

اسی لیے بہت سے تجزیہ کار ان تقریبات کی اہمیت کو محض ایک سوگواری کی رسم سے زیادہ سمجھتے ہیں اور اسے ایسا واقعہ قرار دیتے ہیں جو علی خامنہ ای کے بعد ایران کے سیاسی راستے کے بارے میں اشارے فراہم کر سکتا ہے۔