’کبھی سوچتی تھی کہ کوئی اس جھوٹے غبارے کو پھوڑ دے‘: جعلی حمل کی حیران کن کہانی جو نومولود بچی کے اغوا پر ختم ہوئی

،تصویر کا ذریعہNetflix
- مصنف, ایما جونز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
انتباہ: اس مضمون میں حمل ضائع ہونے (اسقاطِ حمل) کے متعدد حوالے موجود ہیں۔
17 جون 2009 کو ایک 26 سالہ خاتون میکسیکو سٹی کے ایک ہسپتال سے گفٹ بیگ اٹھائے باہر نکلی۔ اس بیگ میں ایک نومولود بچی موجود تھی۔
ایلینور الیجینڈرا مارین مینڈوزا خاتون اس بچی کی ماں نہیں تھیں۔
کچھ گھنٹوں بعد مذکورہ خاتون اور ان کے شوہر کو آرٹورو کو ایک موٹل سے گرفتار کر لیا گیا اور بچی کاتیا ویلنٹینا کو بحفاظت ان کے والدین کے حوالے کر دیا گیا۔
مینڈوزا کو اغوا کے جرم میں 13 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کیس نے میکسیکو میں میڈیا کی بھرپور توجہ حاصل کی کیونکہ انھوں نے حمل کا ڈرامہ رچا کر اپنے شوہر، خاندان اور ڈاکٹروں تک کو دھوکے میں رکھا ہوا تھا۔
ماں بننے کے لیے ان پر جو سماجی اور ذہنی دباؤ تھا، اسے اب ایک نئی فلم ’اے چائلڈ آف مائی اون‘ (A Child of My Own) میں دکھایا گیا ہے جو جمعرات کو نیٹ فلکس پر ریلیز ہو رہی ہے۔
اس سنسنی خیز کہانی کو روایتی ’سچے جرائم‘ والے انداز میں نہیں بلکہ ایک ’سنیماٹک ڈرامہ‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
فلم کا پہلا حصہ مینڈوزا کے بیان کردہ واقعات کی ایک خاص انداز میں کی گئی عکاسی پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ہم جیل میں اصل مینڈوزا (جنھیں ’الے‘ کے نام سے جانا جاتا ہے) اور اس کیس میں ملوث دیگر افراد سے ملتے ہیں، نیز اس دور کی خبروں کی فوٹیج بھی دیکھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہNetflix
فلم میں ایک منظر ایسا بھی ہے جس میں 2009 میں ہونے والی ان کی گود بھرائی کی رسم کی عکاسی کی گئی ہے۔
فلم میں میکسیکن اداکارہ اینا سیلسٹ مونٹالوو نے ان کا کردار ادا کیا ہے۔ اس منظر میں حمل کے آخری مراحل میں موجود مینڈوزا کے دوست اور اہلخانہ کیک، تحائف اور غباروں کے ساتھ خوشی منا رہے ہیں۔
یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس کے بارے میں مینڈوزا تسلیم کرتی ہیں کہ وہ متضاد جذبات کا شکار تھیں۔
ایک طرف تو وہ کہتی ہیں: ’میں نے بہت خاص محسوس کیا۔ دوسری طرف وہ مزید کہتی ہیں کہ ’میں چاہتی تھی کہ کوئی اس ’جھوٹ کے غبارے‘ کو پھوڑ دے۔‘
ایک گلابی طلسماتی دنیا
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
چلی سے تعلق رکھنے والی ہدایتکار البرڈی جو بہترین دستاویزی فلم کے زمرے میں دو بار آسکر کے لیے نامزد ہو چکے ہیں، مینڈوزا کے واقعات کو ایک ڈرامائی انداز میں پیش کی گئی پریوں کی کہانی (فیری ٹیل) کے طور پر بیان کرتے ہیں۔
اس کہانی کا آغاز سنہ 2000 میں مینڈوزا اور آرٹورو کی شادی سے ہوتا ہے۔ اس میں ہلکے گلابی، پیلے اور نیلے رنگوں کا استعمال کیا گیا ہے جو بچوں کی دنیا کی عکاسی کرتے ہیں۔
کیمرے کا فوکس دھیما رکھا گیا ہے۔ زچگی کے کلینک کے ویٹنگ روم میں ماں اور بچے کی ایک خوشگوار تصویر آویزاں ہے۔
مینڈوزا ہمیشہ گلابی رنگ کے ملبوسات میں نظر آتی ہیں۔
البرڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ میں نے ان مناظر کو پریوں جیسا دکھایا ہے۔ کیونکہ یہ مینڈوزا کا وہ خواب ہے کہ وہ اس تجربے کو کیسا بنانا چاہتی تھیں، یا یہ وہ انداز ہے جس سے وہ خود کو یہ کہانی سنا رہی ہیں۔
یہ بات واضح ہے کہ کم عمری ہی سے ماں بننے کی خواہش مینڈوزا پر ایک بھاری بوجھ کی طرح سوار تھی۔
اُنھوں نے 17 سال کی عمر میں شادی کی اور تب وہ حاملہ بھی تھیں، لیکن ان کا حمل ضائع ہو گیا اور اس کے بعد ایک اور حمل ضائع ہو گیا۔
اُنھوں نے اپنے تیسرے حمل کے ضائع ہونے کی بات چھپائے رکھی، کیونکہ اُنھیں اپنے شوہر اور سسرال والوں کے ردِعمل کا ڈر تھا۔
اُنھوں نے پولیس کو بتایا کہ پھر ان کی ملاقات میٹرنٹی کلینک میں مائرا نامی ایک حاملہ خاتون سے ہوئی جو اپنا بچہ نہیں رکھنا چاہتی تھی۔
مینڈوزا کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے مائرا کو قائل کیا کہ وہ حمل کو مکمل ہونے دیں اور بچہ اسے سونپ دے۔
اس دوران پیٹ ابھرا ہوا دکھانے (یعنی حاملہ نظر آنے) کے لیے اُنھوں نے جنک فوڈ کا استعمال کیا۔
اُن کا وزن 54 کلو گرام سے بڑھ کر 89 کلوگرام سے تجاوز کر گیا اور چونکہ وہ ہسپتال کے شعبہ امراض نسواں و زچگی میں ملازمت کرتی تھیں، اس لیے انھوں نے اپنے طبی ریکارڈ میں بھی ردوبدل کر لیا۔
مینڈوزا کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد مائرا اپنے نوزائیدہ بچے کو یہ کہہ کر چھوڑ گئی کہ وہ ہسپتال سے جا رہی ہے۔
گھبراہٹ کے عالم میں مینڈوزا نے بچے کو بیگ میں ڈالا اور اسے لے کر اپنے حیرت زدہ شوہر آرٹورو کے پاس پہنچ گئی۔
آرٹورو کا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ اُن کی اہلیہ نے حمل کا اُس وقت بتایا جب بیوی نے چوری شدہ بچہ لا کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
البرڈی بتاتی ہیں کہ ان کی ملاقات مینڈوزا سے میکسیکو کی ایک جیل میں ہوئی اور ناظرین بھی ان سے وہیں ملتے ہیں۔ ایک ایسی کوٹھری میں جہاں گلابی رنگ کی سجاوٹ ہے اور وہ اپنی 13 سالہ قید کی سزا کے آخری ہفتے گزار رہی ہیں۔
البرڈی، آرٹورو سے بھی بات کرتی ہیں۔ آرٹورو نے اغوا کے معاملے میں پولیس کی تفتیش کے دوران دو سال حراست میں گزارے تھے لیکن بالآخر انھیں اس جرم میں ملوث ہونے کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔
کہانی کا دوسرا رخ جاننے کے لیے البرڈی اغوا ہونے والے بچے کی والدہ، مائرا ناوارو ویگا کا انٹرویو کرتی ہیں، جو واقعات کے بارے میں مینڈوزا کے بیان کی سختی سے تردید کرتی ہیں۔
عدالت میں دیے گئے اپنے بیانات میں مائرا نے بتایا کہ وہ ہسپتال کے باتھ روم گئی تھیں اور جب واپس آئیں تو دیکھا کہ ان کا بچہ غائب ہے۔
وہ کسی بھی قسم کے ’معاہدے‘ کی تردید کرتی ہیں اور نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ ایک مختلف میٹرنٹی کلینک (زچگی کے مرکز) جاتی تھیں اور مینڈوزا سے کبھی نہیں ملی تھیں سوائے اس وقت کے جب، مائرا کے مطابق، مینڈوزا سوشل ورکر کا روپ دھار کر ان کے وارڈ میں آ گئی تھیں۔
فلم میں مینڈوزا کے بارے میں بات کرتے ہوئے مائرا کہتی ہیں، ’مجھے اس کے لیے کوئی ہمدردی محسوس نہیں ہوتی۔ انھوں نے بھی کوئی ہمدردی محسوس نہیں کی تھی جب اس نے میرا بچہ چرایا تھا۔‘
فلم کے اہم سوالات
البرڈی کہتی ہیں کہ اس کیس کی چھان بین کے دوران وہ ماں بننے سے جڑے وسیع تر سماجی دباؤ کا جائزہ لینا چاہتی تھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ کوئی شخص یہ کیوں محسوس کرے گا کہ اسے حمل کا ڈرامہ کرنے کی ضرورت ہے؟ بلاشبہ الیجینڈرا نے جرم کیا اور انھیں جیل جانا پڑا۔ لیکن ساتھ ہی وہ اپنے خاندان کے دباؤ کا بھی شکار تھیں۔ میرے لیے یہ بات واضح ہے کہ اس صورتحال میں برسوں کا دباؤ بھی کارفرما تھا۔
واقعات کے بارے میں مینڈوزا کے بیان کے مطابق ان کے سسرال والے اور شوہر ان کے حمل ضائع ہونے کا ذمہ دار انھیں ٹھہراتے تھے۔
ان کا ماننا ہے کہ حمل کے دوران ملازمت جاری رکھنا ’اپنی دیکھ بھال نہ کرنے‘ کے مترادف تھا۔ اس میں ان کے شوہر کی نہ صرف اپنی اولاد (حیاتیاتی بچے) بلکہ خاص طور پر بیٹے کی خواہش بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔
مقدمے کی خاتون جج کے مطابق مینڈوزا کی گواہی میں سسرال والوں کی باتیں بھی شامل تھیں، جیسے کہ ’اگر تم بچے پیدا نہیں کر سکتیں تو ایک عورت کے طور پر تمہاری کوئی حیثیت نہیں۔‘
فلم میں مینڈوزا کہتی ہیں کہ ’میں نے ان کے خاندان کو خوش کرنے کے لیے دباؤ محسوس کیا۔ ماں بننے کی خواہش اتنی شدید تھی کہ میں ایسے مسائل میں الجھتی چلی گئی جو بڑھتے ہی گئے اور میں نے ایسے فیصلے اور اقدامات کرنے شروع کر دیے جو مزید پیچیدہ ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ نکلنے کا کوئی راستہ یا واپسی کا کوئی امکان باقی نہ رہا۔‘
حیرت انگیز طور پر فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ہسپتال کا ایک ڈاکٹر بچے کی دھڑکن کا پتہ چلنے کے بعد ان کی زچگی کی چھٹی (میٹرنٹی لیو) کی منظوری دیتا ہے۔ ایک ایسا واقعہ جو حقیقت میں پیش آیا تھا۔ فلم میں یہ منظر شدید کرب میں مبتلا مینڈوزا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے: ’کیا میں دوبارہ حاملہ ہو گئی تھی؟‘
البرڈی کہتی ہیں کہ میرا پختہ خیال ہے کہ الیجینڈرا نے جھوٹ کا سہارا لیا، لیکن اس نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ اس معاملے کو کس حد تک لے جائے گی۔
وہ کہتی ہیں کہ اُنھوں نے سوچا ہو گا کہ ’ٹھیک ہے کسی نہ کسی مرحلے پر میں کہہ دُوں گی کہ میرا حمل ضائع ہو گیا تھا یا وہ ڈاکٹر حقیقت بھانپ لے گا اور سارا سلسلہ رُک جائے گا۔‘
لیکن اس مقدمے میں خود جج نے کہا کہ ’نظام اسے سہارا دینے میں ناکام رہا۔‘ ان کا تین بار حمل ضائع ہوا اور اور انھیں اپنی ذہنی صحت کے حوالے سے کوئی مدد نہیں ملی۔
اُنھوں نے جیل کاٹ کر معاشرے کا قرض تو چکا دیا ہے اور وہ سمجھتی تھیں کہ انھیں وہاں رہنا ہی تھا۔ لیکن میرے لیے سوال یہ تھا کہ کیا معاشرے نے ان کا قرض چکایا؟ کیا نظام نے واقعی اس خاتون کی ذہنی صحت کے لیے کام کیا؟ میرا ماننا ہے کہ عدالتی نظام سے زیادہ، اصل مسئلہ معاشرے کا ہے جو اس طرف توجہ نہیں دے رہا۔

،تصویر کا ذریعہNetflix
اس دستاویزی فلم میں فارنزک ماہرِ نفسیات ڈاکٹر نورما رومیرو سانچیز کا انٹرویو بھی شامل ہے، جنھوں نے مینڈوزا کی گرفتاری کے بعد اس کا نفسیاتی جائزہ لیا تھا۔ ان کے مطابق اولاد پیدا کرنے کے دباؤ نے مینڈوزا کی اس خیالی دنیا (فینٹسی) کو تشکیل دینے میں کردار ادا کیا۔
وہ بی بی سی کو بتاتی ہیں کہ مینڈوزا کا ماننا تھا کہ ایک عورت کے طور پر مکمل ہونے کے لیے انھیں ماں بننے کی ضرورت ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے میکسیکو اور لاطینی امریکہ میں خواتین پر ماں بننے کا شدید دباؤ ہوتا ہے۔ اسے ایک ایسی جسمانی کیفیت کا بھی سامنا تھا جس کے باعث بار بار اسقاطِ حمل ہو جاتا تھا، لیکن اس کی وجہ بتانے کے لیے کوئی ماہرانہ طبی رائے موجود نہیں تھی۔ وہ ایک انتہائی تکلیف دہ حقیقت سے بچنے کے لیے ’دفاعی میکانزم‘ کے طور پر ایک خیالی دنیا میں جی رہی تھی۔
سانچیز مزید کہتی ہیں کہ یہ مینڈوزا کی منفرد نفسیاتی کیفیت ہی تھی جس کی وجہ سے یہ ڈرامہ یا فریب اتنی دور تک چلا گیا۔
وہ کہتی ہیں کہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے پاس بہت کم وسائل تھے جس کی وجہ جزوی طور پر ان کی عمر اور ان کی شخصیت کی خصوصیات تھیں اور اسی لیے وہ اپنے حق میں آواز اٹھانے یا ڈٹ جانے سے قاصر تھیں۔
ان میں حقیقت سے ہی نہیں، بلکہ اپنی ذاتی شناخت سے بھی کٹ جانے یا لاتعلق ہو جانے کا رجحان پایا جاتا تھا۔
آپ دستاویزی فلم میں دیکھتے ہیں کہ جب ڈاکٹر کہتا ہے کہ اسے بچے کے دل کی دھڑکن سنائی دے رہی ہے، تو بعد میں وہ خود اس بات پر شک کا اظہار کرتی ہے کہ آیا وہ واقعی حاملہ ہے یا نہیں۔
رومیرو سانچیز کا ماننا ہے کہ اگر مینڈوزا کو ذہنی صحت کے حوالے سے مزید پیشہ ورانہ مدد ملتی تو حالات مختلف ہو سکتے تھے، لیکن وہ اس بات پر بھی زور دیتی ہیں کہ سماجی و ثقافتی توقعات میں تبدیلی کی بھی ضرورت ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ان فرسودہ تصورات کو توڑنے کے لیے بہت زیادہ مدد درکار ہے جو ’ماں بننے‘ اور ’عورت ہونے‘ کے مفہوم سے جڑے ہوئے ہیں۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ خواتین سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ کے بچے ہیں؟ کتنے بچے ہیں؟ یا آپ ابھی تک بچے کیوں پیدا نہیں کر رہیں؟ صنفی بنیادوں پر قائم ان منفی تصورات کو ختم کرنے کے لیے ہمیں آگاہی اور تعلیم کی ضرورت ہے۔
لیکن جب 2023 میں مینڈوزا جیل سے رہا ہوئیں تو یہ واضح تھا کہ اب وہ اپنی شناخت کو ایک مختلف زاویے سے دیکھ رہی ہیں۔
کیمرے کے سامنے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ جیل میں گزرنے والے برسوں کے دوران اُنھوں نے اس حقیقت کو تسلیم کرنا اور اسے قبول کرنا سیکھ لیا ہے کہ وہ ’ماں نہیں بنیں۔‘
اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’میری وہ خواہش دراصل دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش تھی۔ کیونکہ میں سمجھتی تھی کہ ماں بننے کے علاوہ زندگی میں اور کیا رکھا ہے؟ لیکن بالآخر مجھے احساس ہوا کہ زندگی میں جینے کے لیے اور بھی بہت کچھ ہے۔‘



















