بلوچستان کے بغیر بیج والے ’دنیا کے سب سے میٹھے انگور‘ کو موسمیاتی تبدیلیوں اور سمگلنگ سے شدید خطرہ

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو، کوئٹہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے بڑے صوبے بلوچستان کو اس کے منفرد زرعی اور ماحولیاتی خطے کی وجہ سے پھلوں خصوصا انگور کی کاشت کے حوالے سے اہمیت حاصل ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں انگور کی مجموعی پیداوار کا 98 فیصد بلوچستان سے آتا ہے۔

زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کے سیکریٹری جنرل عبدالرحمان بازئی کا کہنا ہے بلوچستان میں انگور کی پیداوار دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ ان کے مطابق موزوں آب و ہوا اور زمین کی زرخیزی کی وجہ سے یہاں کے انگوروں کا شمار دنیا کے میٹھے اور رسیلے ترین انگوروں میں ہوتا ہے۔

زرعی ماہر اور بلوچستان کے سابق سیکریٹری زراعت عبدالسلام بلوچ کا بھی ماننا ہے کہ نہ صرف بلوچستان پورے ملک میں انگور کی پیداوار کے لحاظ سے نمبر ون ہے بلکہ یہاں کے انگور کی کوالٹی بھی سب سے بہترین ہے۔

تاہم موسمیاتی تبدیلیوں سے اب بلچستان میں انگور کی فصل کو بھی لاحق ہونے ہونے لگے ہیں۔

بی بی سی نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں انگوروں کے ایک باغ کا دورہ کیا جس کے ایک حصے کے بارے میں اس کے مالک کا دعویٰ ہے کہ وہ لگ بھگ 120 سال پرانا ہے۔ اس باغ کے مالک ملک یونس شاہوانی اسے اور اپنے دیگر باغات کو بچانے کی ہر وقت تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔

72 سالہ یونس شاہوانی کا کہنا ہے کہ یہ باغ لگ بھگ 120 سال قبل ان کے دادا نے لگوایا تھا۔

جب انھوں نے اپنے باغ میں لگے انگوروں کی 20 اقسام کے نام بتانے شروع کیے تو ان میں سے ایک کا نام ’عسکری‘ بھی تھا۔

’انگور کی بیل تو سو سال کے بعد جوان ہوتی ہے‘

ملک یونس شاہوانی نے بی بی سی کی ٹیم کو اپنے باغ کا وہ حصہ بھی دکھایا جس میں ان کے بقول انگور کے پودے لگ بھگ 120 سال پہلے لگائے گئے تھے۔

ایک صدی سے زائد عرصے بعد بھی باغ کے برقرار رہنے سے متعلق سوال پر انھوں نے زوردار قہقہ لگاتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے سنا ہے کہ انگور کی بیل تو سو سال کے بعد جوان ہوتی ہے۔‘

انھوں نے قدیم باغ میں انگور کے تنوں اور دیگر حوالوں سے مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جب ہوش سنبھالا تو باغ کا یہ حصہ موجود تھا۔ ان کے مطابق ان کے دادا نے ایک سو دس سال سے زائد کی عمر پائی۔

شاہوانی کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان نے گزرتے وقت، جدید ٹیکلنالوجی اور انگور کی نئی اقسام متعارف ہونے کے ساتھ ساتھ اس باغ کو توسیع دی اور اب اس میں 20 اقسام کے انگور دستیاب ہیں۔

انھوں نے ہماری ٹیم کو اس میں سے نو دس اقسام کے انگور دکھائے اور ان کے نام بھی بتائے جن میں شنڈو خانی (سندر خانی)، حائیطہ، عسکری، سرخ کشمش، سفید کشمش، کالا کشمش، صاحبی، خیر غلاماں، مقامی لال انگور اور امریکن ریڈ گلوب وغیرہ شامل تھے۔

شاہوانی نے جب عسکری انگور کا گچھا اٹھایا تو صرف اس کے نام لینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ یہ بہت مزیدار انگور ہے۔

’شنڈو خانی یا سُندر خانی سب سے ٹاپ پر ہے‘

ملک عبدالرحمان بازئی نہ صرف بلوچستان کے کاشتکاروں کی سب سے بڑی تنظیم زمیندار ایکشن کمیٹی کے سیکریٹری ہیں بلکہ خود بھی کوئٹہ کے نواحی علاقے میں کاشتکاری کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں بہت سارے انگور پیدا ہوتے ہیں لیکن ان میں تین سب سے زیادہ مشہور شنڈو خانی ہے۔ انگور کی اس قسم کو اردو میں لوگ سُندر خانی بھی کہتے ہیں اور ان کے مطابق ’یہ نمبر ون ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس انگور کے اندر بیج نہیں ہوتا جبکہ یہ لمبا ہونے کے باوجود زیادہ موٹا بھی نہیں ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس کی پیداوار کم ہے لیکن یہ زیادہ قیمتی ہے۔

عبدالرحمان بازئی کے مطابق سُندر خانی کے بعد دوسرے نمبر پر کشمش اور تیسرے نمبر پر حائیطہ انگور آتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ حائیطہ کے اندر بیج ہوتا ہے اور اگر اس کی مانگ زیادہ نہ ہو تو لوگ اس کو پانی میں جوش دے کر اس کا کشمش بناتے ہیں اور اس طرح یہ خراب نہیں ہوتا۔

عبدالرحمان بازئی کا کہنا ہے کہ انگور کی اس قسم کو انڈیا میں لوگ زیادہ پسند کرتے ہیں اور یہ زیادہ تر وہاں ایکسپورٹ ہوتا ہے۔

زرعی ماہر عبدالسلام بلوچ بھی ان کی اس بات سے اتفاق کیا کہ انگور کی یہ تینوں اقسام سب سے زیادہ میٹھی ہوتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ چونکہ باقی دنیا کے مقابلے میں یہاں میٹھے پھلوں کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے اس لیے لوگ زیادہ تر شُنڈوخانی، کشمش اور حائیطہ کو پسند کرتے ہیں۔

شنڈو خانی کے معنی اور اس کی تاریخ

شُنڈو خانی انگور کے نام کے حوالے سے بہت سی باتیں کی جاتی ہیں لیکن ڈاکٹر جاوید ترین کے مطابق یہ بنیادی طور پر پشتو زبان کے لفظ شُنڈ سے ماخوز ہے جس کے معنی ہونٹ کے ہوتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ چونکہ یہ انگور بہت میٹھا ہوتا ہے جس کی وجہ سے کھانے پر اس کا رس ہونٹ سے چپک جاتا ہے، اسی لیے اس کا نام شُنڈو خانی پڑ گیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے شُنڈو خانی میں دوسرے انگوروں کی طرح بیج ہوتا تھا لیکن دوسری عالمی جنگ سے قبل پشین آنے والے امریکیوں نے نے اس کو لے جا کر اس پر کام کیا اور اس کو بغیر بیج کے بنا دیا۔

ڈاکٹر جاوید ترین نے انکشاف کیا کہ دوسری عالمی جنگ سے پہلے پشین آنے والے امریکیوں نے اپنے ساتھ وہاں سے انگور کے پودے لاکر یہاں لگائے۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ شُنڈو خانی انگور افغانستان کے صوبہ قندھار میں بھی پایا جاتا ہے۔

’انگور کی سمگلنگ سے بلوچستان کے زمینداروں کو نقصان پہنچ رہا ہے‘

عبدالرحمان بازئی نے بتایا کہ بلوچستان میں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں انگور کی پیداوار سب سے زیادہ ہے اور یہ پاکستان کی ضرورت کے لیے کافی ہے۔

تاہم انھوں نے شکایت کی کہ اگرچہ افغانستان کے ساتھ سرحد ہرقسم کی تجارت کے لیے بند ہے لیکن اس کے باوجود افغانستان کا انگور مختلف راستوں سے سمگل ہو کر پاکستان آتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں پانی کی قلت کی وجہ سے زیادہ تر علاقوں میں پورے سال میں ایک ہی فصل ہوتی ہے اور اگر اس فصل کے وقت کوئی چیز باہر سے سمگل ہو کر آ جائے تو کسانوں کو نقصان ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی حال انگور کا ہے اور انگور کی سمگلنگ کی وجہ سے بلوچستان کے کسانوں کو بہت زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔

’موسمیاتی تبدیلی سے انگور کی پیداوار بھی متائثر ہوئی ہے‘

موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ملک یونس شاہوانی کے 120 سال سے زیادہ پرانے باغ کو بھی خطرات لاحق ہیں اور اس لیے وہ اسے اور اپنے دیگر باغات کو بچانے کی ہر وقت تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔

’قدیم باغ ایک یادگار ہے اس کو بچانے کے لیے ہمیں کبھی کبھار دوسرے ٹیوب ویلوں سے پانی لینا یا خریدنا پڑتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ زیر زمین پانی ہزار فٹ سے نیچے جا چکا ہے جس کی وجہ سے باغوں کو بچانا چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ زراعت اور گلہ بانی بلوچستان کے لوگوں کے معاش اور روزگار کے سب سے بڑے ذرائع ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ انھیں بچانے کے لیے کسانوں کی ہرممکن مدد کرے۔

’کوئٹہ میں ایک بہتر اور صحت افزا ماحول کے لیے سبزے کی بہت زیادہ ضرورت ہے لیکن پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں نے اپنے باغات کاٹ دیے ہیں۔ جنھوں نے اپنے باغات کو بچایا ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کی معاونت کرے اور اس کے لیے کوہ چلتن کے ساتھ ڈیم تعمیر کیے جائیں۔‘

شاہوانی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیشِ نظر انگور کے باغات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ دیگر پھلوں کی نسبت انگور کےے پودے بہت کم پانی مانگتے ہیں۔

بلوچستان میں سندھ سے متصل صرف پانچ اضلاع میں زراعت کا انحصار نہری پانی پر ہے جبکہ باقی علاقے بارانی ہیں جہاں لوگ زراعت کے لیے زیر زمین پانی کو ٹیوب ویلوں کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔

عبدالرحمان بازئی کا کہنا ہے کہ بلوچستان 1997 سے خشک سالی کی لپیٹ میں ہے۔ اگرچہ درمیان میں کسی سال زیادہ بارش ہوتی رہی ہے لیکن زیادہ تر وقت بارشوں میں کمی سے زراعت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بارشوں میں کمی کے نتیجے میں زیر زمین پانی کی سطح بہت زیادہ گرنے سے دیگر پھلوں کی طرح انگور کی پیداوار میں بھی کمی ہوئی ہے۔

قلعہ عبداللہ اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر اور متاثرہ ڈیموں کی مرمت کے لیے مہم چلانے والے انجینیئر کلیم اللہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح گرنے یا ٹیوب ویل خشک ہونے سے قلعہ عبداللہ اور دیگر علاقوں میں باغات خشک ہورہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے بلوچستان میں معاش اور روزگار کا ایک بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق 2022 کے سیلاب میں جو ڈیم متاثر ہوئے ان کی مرمت اور بحالی کی جانب حکومت کو فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

عبدالرحمان بازئی نے بتایا کہ بلوچستان میں اگر بارشیں ہوں تو سالانہ ایک کروڑ 20 لاکھ ایکڑ فٹ سیلابی پانی سمندر میں گرتا ہے اور اگر زیادہ سے زیادہ ڈیم بنائے جائیں تو اس پانی کے بڑے حصے کو زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

’پانی کی کمی کے باعث کسانوں کو کاشتکاری کے جدید طریقے اپنانے پڑیں گے‘

عبدالسلام بلوچ طویل عرصے تک محکمہ زراعت بلوچستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور سیکریٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے بہت سارے علاقے انگور کی کاشت کے لیے موزوں ہیں اور ان علاقوں کا موسم بہتر ہونے کی وجہ سے ان میں انگور کی کوالٹی بھی بہتر ہوتی ہے۔

عبدالسلام بلوچ کا کہنا ہے کہ اس وقت انگور سندھ، پنجاب اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی کاشت ہوتا ہے لیکن بلوچستان انگور کی پیداوار میں سب سے آگے ہے۔

انھوں نے کہا کہ نوشکی جیسے گرم علاقے میں بھی انگور پیدا ہو رہا ہے اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ دوسرے علاقوں میں یہاں کا انگور جلدی مارکیٹ میں آتا ہے جس سے لوگوں کو مالی فائدہ ہوتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انگور کے کاشت کے لیے یہاں خندقوں والا طریقہ اپنایا جاتا ہے جو کہ موجودہ حالات میں درست نہیں ہے کیونکہ بارشوں کی کمی اور زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گرنے کی وجہ سے یہ طریقہ موزوں نہیں۔

’پرانے طرز آبپاشی کی وجہ سے ہم نے اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے حصے کا پانی بھی استعمال کر لیا ہے جو کسی طرح بھی ٹھیک نہیں۔‘

عبدالسلام بلوچ کہتے ہیں کہ دنیا میں انگور کی کاشت کے لیے جو جدید طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں انھیں یہاں بھی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف پانی کی بچت ہو بلکہ انگور کی پیداوار میں بھی اضافہ ہو۔