آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وہ گاؤں کہ جہاں پر شادی کے لیے لڑکیاں نہ ملنے کی وجہ سے لڑکے خودکشی کر رہے ہیں
انڈین پولیس کے مطابق ضلع جلگاؤں میں یکم جنوری سے 30 جون 2026 تک چھ ماہ کے دوران 383 مردوں نے خودکشی کی۔
پولیس کے مطابق خودکشی کی وجوہات میں غیر شادی شدہ ہونا، نشے کی لت، ڈپریشن، خاندانی مسائل اور قرض شامل تھے۔ 29 مردوں کی خودکشی میں میاں بیوی کے درمیان اختلافات بھی ایک وجہ بنے۔
اس کے بعد جلگاؤں میں یہ بات عام سننے کو مل رہی ہے کہ ’آج کل لڑکوں کو لڑکیاں نہیں مل رہیں۔‘ لیکن مقامی نوجوانوں، خاندانوں، خواتین اور ماہرین سے بات کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ صرف لڑکیوں کی کمی کا نہیں۔
شادی کے معاملے میں روزگار، زمین، ذات، خاندانی ذمہ داریاں، دوسرے علاقوں میں نقل مکانی اور خواتین و مردوں کی بدلتی توقعات بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
’شادی مناسب عمر میں ہونی چاہیے‘
جلگاؤں میں ہماری ملاقات وشال پاٹل سے ہوئی، جن کی عمر 30 سال ہے۔ وہ پروفیسر ہیں اور شادی کے بارے میں ان کی بھی سوچ گاؤں کے دیگر جونواجوں سے مختلف نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میرے والدین بھی چاہتے تھے کہ میں شادی کر لوں، لیکن میں نے اسے کچھ عرصے کے لیے مؤخر کیا ہے۔ میں اپنے کیریئر پر توجہ دینا چاہتا ہوں۔ پہلے مالی طور پر خودمختار ہونا چاہتا ہوں اور جب مجھے ایسی لڑکی ملے گی جو مجھے سمجھتی ہو اور میری ہم خیال ہو تو میں شادی کروں گا۔‘
تاہم معاشرے نے شادی کے لیے ایک مخصوص عمر مقرر کر رکھی ہے۔ وشال کے مطابق ’انڈیا کے معاشرے میں 24، 25 یا 26 سال کی عمر تک شادی ہو جانی چاہیے، یا زیادہ سے زیادہ 28 یا 29 سال تک۔ لیکن جب عمر 30 سال سے بڑھ جائے تو لوگ آپ کو مختلف نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔‘
ان کے مطابق یہ دباؤ صرف شادی نہ ہونے تک محدود نہیں رہتا بلکہ آہستہ آہستہ یہ احساس بھی پیدا ہونے لگتا ہے کہ شادی نہ ہونے کا مطلب ہے کہ انسان میں کوئی کمی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ذہنی صحت کے ماہر مکیش کے مطابق جب شادی کو عزت اور کامیابی سے جوڑ دیا جائے تو بعض نوجوانوں کے لیے شادی نہ ہونا ذاتی ناکامی محسوس ہو سکتا ہے۔
جلگاؤں پولیس کے اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے یہ بات اہم ہے کہ 29 خودکشیوں میں غیر شادی شدہ ہونا ایک وجہ تھی، لیکن پولیس اسے ان خودکشیوں کی واحد وجہ قرار نہیں دے رہی۔
نشے کی لت، ڈپریشن، خاندانی دباؤ اور قرض جیسے دیگر مسائل بھی عام ہیں اور خودکشیوں کی دیگر وجوہات میں شامل ہیں۔
تاہم اگر یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ کچھ نوجوان شادی کیوں نہیں کر پا رہے تو ان اعداد و شمار کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے۔
’مہاراشٹرا میں غیر شادی شدہ لڑکیوں کے مقابلے میں مرد زیادہ ہیں‘
مہاراشٹرا کے اعداد و شمار سے اس مسئلے کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے سنہ 2019-21 کے اعداد و شمار کے مطابق مہاراشٹرا میں 20 سے 49 سال کی عمر کی تقریباً 11 فیصد خواتین غیر شادی شدہ تھیں، جبکہ مردوں میں یہ شرح تقریباً 30 فیصد تھی۔
اس کا مطلب ہے کہ مہاراشٹرا میں غیر شادی شدہ مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ لیکن کیا اس کی وجہ صرف لڑکیوں کی کم تعداد ہے؟
جلگاؤں میں کوستبھ پوتدار کا واقعہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ کتنا سنگین ہو سکتا ہے۔
بی فارمیسی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کوستبھ ناسک کی ایک نجی کمپنی میں ملازمت کر رہے تھے۔ والدہ کی وفات کے بعد انھوں نے اپنی شادی کے لیے رشتہ تلاش کرنا شروع کیا۔
ان کے خاندان کے مطابق کئی جگہوں پر انھیں اس لیے مسترد کر دیا گیا کہ ان کے پاس سرکاری ملازمت نہیں تھی، اپنا گھر نہیں تھا اور انھیں اپنے بوڑھے والد کے ساتھ رہنا تھا۔ انھوں نے فروری سنہ 2026 میں خودکشی کر لی۔
کوستبھ کے تجربے کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہر نوجوان کو اسی طرح کے حالات کا سامنا ہے، لیکن ان کا واقعہ یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ شادی کے معاملے میں مالی استحکام اور خاندانی حالات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
جلگاؤں میں ہماری ملاقات ایک بزرگ خاتون سے ہوئی جنھوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا اب 40 سال کا ہو چکا ہے۔ وہ کئی سال سے اس کے لیے لڑکی تلاش کر رہی ہیں، لیکن مختلف جگہوں پر رشتے مسترد ہونے کے بعد اب وہ خود اس کے لیے ایک پکا گھر بنا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم گھر بنا لیں گے تو ہمیں لڑکی مل جائے گی۔‘ یہ بات کہتے ہوئے وہ خوف زدہ نظر آئیں۔
ان کی باتوں میں بیٹے کی شادی نہ ہونے کی فکر تو تھی ہی، لیکن اس سے بڑھ کر یہ مایوسی تھی کہ کئی سال کی کوشش کے باوجود حالات تبدیل نہیں ہو رہے۔
مہاراشٹرا کے دیہی علاقوں میں شادی کے بدلتے رجحانات
محققین مایور کدوپلے اور جوئل کابیلیون کی مہاراشٹرا کے دیہی علاقوں پر تحقیق سے بھی شادی کے بدلتے رجحانات کا پتا چلتا ہے۔ ان کے مطابق زمین، تعلیم، ذات اور عمر دیہی علاقوں میں رشتے کے انتخاب کے اہم عوامل ہیں۔
محقق مایور کدوپلے کہتے ہیں کہ ’پہلے لڑکی کا والد یہ دیکھتا تھا کہ لڑکے کے پاس کتنی زمین ہے، لیکن اب یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ لڑکے کے پاس ملازمت ہے یا نہیں۔‘
ان کے مطابق دیہی حالات اور معاملات تیزی سے بدل رہے ہیں، لیکن ہر شخص کی شادی سے متعلق توقعات اسی رفتار سے نہیں بدلیں۔ پہلے زمین ہونا مالی اور سماجی استحکام کی علامت تھا، اب اس کی جگہ مستقل آمدنی، ملازمت، شہر میں رہنے کا امکان اور اپنا گھر جیسی چیزیں اہم ہو گئی ہیں۔
ذات کا اثر اب بھی موجود ہے
شادی کے معاملے میں ذات اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
مایور کدوپلے کے مطابق ذات اور ذیلی ذات دائرہ محدود کرتی ہیں اور لوگ لڑکا یا لڑکی تلاش کرتے وقت عموماً اپنی ذات اور ذات کے اندر ہی رشتے تلاش کرتے ہیں۔
صنفی مساوات کی ماہر درشنا پوار کے مطابق ’اس صورتحال میں ایک تضاد بھی ہے۔‘ ان کے بقول لڑکا ضرورت پڑنے پر کسی بھی ذات کی لڑکی سے شادی کے لیے تیار ہو سکتا ہے، لیکن شادی کے بعد کیا اس کے گھر والے واقعی اس لڑکی، اس کے والدین اور رشتہ داروں کو قبول کریں گے؟
ان کے مطابق ’بعض مرد اپنے سے کم سمجھی جانے والی ذات کی لڑکی کو قبول کرنے پر تو آمادہ ہو سکتے ہیں، لیکن اپنے سے اونچی ذات، خاص طور پر غریب خاندان کی لڑکی کو قبول کرنے میں یہ آمادگی نظر نہیں آتی۔‘
یعنی شادی کے معاملات میں ذات ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کی شکل بدل گئی ہے۔
خواتین کی توقعات کیا ہیں؟
جلگاؤں میں کئی مردوں سے بات ہوئی تو بار بار یہ شکایت سننے کو ملی کہ ’لڑکیوں کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔‘
ان کے مطابق لڑکیاں ایسا شوہر چاہتی ہیں جس کے پاس ملازمت، شہر میں گھر اور مالی استحکام ہو۔
لیکن خواتین سے بات کرنے پر صورتحال کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ 20 سے 22 سال کی ایک خاتون سے کم عمری کی شادی اور اپنی توقعات کے بارے میں بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کا ہونے والا شوہر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو اور کم از کم اتنا کماتا ہو کہ اپنے اخراجات پورے کر سکے۔
تاہم اگلے روز ان کے خاندان نے درخواست کی کہ یہ انٹرویو شائع نہ کیا جائے، جس کے بعد اسے حذف کرنا پڑا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کی توقعات ضرور بدلی ہیں، لیکن ہر خاتون کو اپنی یہ توقعات کھل کر بیان کرنے کی آزادی حاصل نہیں۔
درشنا پوار کے مطابق ’شوہر سے بات کرنا، اس کے ساتھ باہر جانا اور وقت گزارنا جیسی توقعات غیر معمولی نہیں بلکہ بنیادی اور جائز خواہشات ہیں۔ خواتین اب ان خواہشات کو زیادہ اہمیت دینے لگی ہیں۔‘
جلگاؤں میں شادی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کئی مرد اب بھی اس کا ذمہ دار خواتین کو ٹھہراتے ہیں۔
مایور کدوپلے کی تحقیق میں بھی دیہی مردوں کی جانب سے خواتین کی بدلتی ترجیحات کے بارے میں ایسی شکایات سامنے آئی ہیں۔ تاہم تحقیق کے مطابق اس تبدیلی کو صرف خواتین کی خواہشات میں تبدیلی نہیں کہا جا سکتا۔ اس کے پیچھے زراعت میں کمی، بے روزگاری، تعلیم، ذات اور سماجی حیثیت کے بدلتے تصورات جیسے عوامل بھی شامل ہیں۔
تو پھر اس سارے معاملے میں مرد کہاں کھڑے ہیں؟
جلگاؤں کے دیہات میں گھومتے ہوئے جب شادی کا موضوع زیرِ بحث آیا تو بہت سے نوجوانوں کے لہجے ہی بدل گئے۔ کچھ نوجوان کیمرے کے سامنے بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ایک نوجوان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ’اگر میں کیمرے کے سامنے اپنے بارے میں بات کروں گا تو مجھ سے شادی کون کرے گا؟‘
اب بہت سے خاندانوں نے اپنے بچوں پر شادی کے لیے دباؤ کم کر دیا ہے، کیونکہ برسوں کوشش کرنے کے بعد وہ شادی کی امید ہی چھوڑ چکے ہیں۔
تاہم کچھ خاندان اب بھی گھر بنا رہے ہیں، زمین خرید رہے ہیں یا اپنی مالی حالت بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اپنے بچے کی شادی کی تیاری کر سکیں۔
بہت سے خاندان اب رشتے کرانے والے افراد کی مدد لے رہے ہیں۔ بعض والدین کے مطابق شادی کے نام پر دھوکہ دہی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
کچھ لوگ رشتے کی تلاش میں مہاراشٹر کے مختلف علاقوں کا رخ کرتے ہیں، جبکہ بعض خاندان لڑکی کے رشتے کے لیے رقم دینے پر بھی آمادہ ہیں۔
شادی کے لیے رشتے کی تلاش اب رشتہ داروں کے دائرے سے نکل کر رشتہ کروانے والے افراد، پیسوں کے لین دین اور دور دراز اضلاع تک پہنچ چکی ہے۔
لڑکیوں کے قتل سے شادی کے ادارے میں تبدیلی تک
درشنا پوار کے مطابق ’گزشتہ چند دہائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر پیدائش سے قبل بچیوں کو مار دیے جانے اثرات آج شادی کی عمر کو پہنچنے والے مردوں کی نسل میں واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’آج 30 سے 35 سال کی عمر کے وہ مرد جو شادی کے لیے شریکِ حیات نہیں ڈھونڈ پا رہے، دراصل اسی دور کی پیداوار ہیں جب ان کی پیدائش کے وقت بڑی تعداد میں لڑکیوں کو رحمِ مادر میں ہی مار دیا گیا تھا۔ لیکن لڑکیوں کی تعداد میں کمی کا یہ مطلب نہیں کہ شادی کے فیصلے کا مکمل اختیار اب خواتین کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔‘
مایور کڈوپلے اور جوئیل کابیلون کی ایک تحقیق کے مطابق اگرچہ خواتین کی انتخاب کی صلاحیت میں کسی حد تک اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ اب بھی خاندان، ذات برادری اور سماجی دباؤ کے دائرے میں محدود ہے۔
دوسری جانب مرد بھی روزگار، آمدنی، ذات برادری، خاندانی توقعات اور شادی کے ادارے میں آنے والی تبدیلیوں کے درمیان اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وشال پاٹل کہتے ہیں کہ ’شادی ہی زندگی نہیں ہے۔‘ جَلگاؤں میں ہونے والی ان 29 خودکشیوں کو سمجھتے وقت شاید سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے۔
اس لیے کہ ان 29 خودکشیوں میں شادی نہ ہو پانا ایک اہم عامل تھا۔ لیکن جلگاؤں کی یہ کہانی بتاتی ہے کہ یہ مسئلہ صرف لڑکیوں سے متعلق نہیں، بلکہ بدلتی ہوئی معیشت، ذات پات کے نظام، خواتین کی تبدیل ہوتی توقعات اور مردوں سے وابستہ سماجی توقعات جیسے کئی پیچیدہ عوامل سے جڑا ہوا ہے۔