کراچی کے گل پلازہ میں 17 جنوری 2026 کو لگنے والی آگ محض
ایک حادثہ نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی بد انتظامی، عمارت میں غیر قانونی
تبدیلیاں، حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد کی ناکامی اور سرکاری اداروں کے درمیان ذمہ
داری سے گریز شامل ہے۔
واقعے کے تقریبا آٹھ ماہ بعد سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس آغا
فیصل کی سربراہی میں قائم کمیشن آف انکوائری کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کر
دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 72 افراد ہلاک ہوئے
تھے۔
کمیشن نے اس پورے واقعے میں ریاستی اداروں کے کردار کا
جائزہ لیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب لوگ عمارت کے اندر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے
تھے تو انھیں بچانے کی ذمہ داری آخر کس ادارے کی تھی؟
شہری منصوبہ ساز عارف حسن نے کمیشن کے سامنے صورت حال کو
ایک جملے میں بیان کرتے ہوئے اسے ’انتظامی
افراتفری‘ قرار دیا ہے۔
اس واقعے ایک مقتول کی عمر رسیدہ والدہ نے کمیشن کے سامنے بیان
دیتے ہوئے کہ خاندان اور انتظامیہ دونوں اس حادثے کے تماشائی بنے رہے، فرق صرف
اتنا تھا کہ مرنے والے ہمارے بچے تھے۔
کمیشن کے مطابق آگ ہفتہ 17 جنوری کی رات تقریباً 10 بجے سے 10 بج کر 5 منٹ کے درمیان گراؤنڈ فلور کی دکان نمبر 193 میں لگی۔ یہ ایک مصنوعی پھولوں کی دکان تھی جہاں موجود انتہائی آتش گیر سامان نے آگ کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی۔
رپورٹ کے مطابق بچوں کے ماچس سے کھیلنے کے باعث آگ بھڑکنے کی اطلاع سامنے آئی۔ آگ نے پہلے دکان کے سامان کو لپیٹ میں لیا جس کے مرکزی ایئر کنڈیشننگ ڈکٹ اور بجلی کی تاروں کے ذریعے تیزی سے دوسری جگہوں تک پھیلی۔
تاہم کمیشن کے مطابق اصل تباہی صرف آگ سے نہیں ہوئی۔
بجلی بند ہوئی اور عمارت اندھیرے میں ڈوب گئی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ لگنے کے چند ہی منٹ بعد پلازہ کی مبینہ انتظامیہ کے ایک نمائندے کی ہدایت پر بجلی فراہم کرنے والی کمپنی سے پورے کمپلیکس کی بجلی منقطع کرا دی گئی۔ نتیجتاً عمارت اچانک مکمل اندھیرے میں ڈوب گئی اور اندر موجود خریداروں، دکانداروں اور ملازمین کے لیے باہر نکلنے کے راستے تلاش کرنا انتہائی مشکل ہوگیا۔
کمیشن کے مطابق پلازہ میں 16 داخلی و خارجی دروازے تھے لیکن آگ کے وقت ان میں سے صرف دو سے چار کھلے تھے۔
عمارت کی متعدد کھڑکیوں اور بالکونیوں کو مستقل لوہے کی جالیوں، اینٹوں اور دیگر تعمیراتی رکاوٹوں سے بند کیا گیا تھا، جبکہ کئی جگہ سامان بھی اس طرح رکھا گیا تھا کہ باہر نکلنے کے راستے محدود ہوگئے تھے۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں کہ بھی کہا گیا ہے کہ بالائی منزلوں پر موجود افراد کے لیے صورتحال مزید خطرناک ہو گئی تھی اور کئی لوگ بند دروازوں اور گلی نما راستوں میں پھنس گئے۔
کمیشن کے مطابق میزنائن فلور پر واقع کراکری کی ایک دکان سے 30 لاشیں برآمد ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ افراد مدد کے انتظار میں اندر بند ہو گئے تھے اور بالآخر دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے۔
اداروں نے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی: انکوائری کمیشن
حادثے کے بعد سب سے اہم سوال یہ تھا کہ آگ بجھانے اور لوگوں کو بچانے کی ذمہ داری کس ادارے کی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران کمیشن کے سامنے مختلف اداروں کے مؤقف میں واضح تضاد پایا گیا۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے فائر ڈیپارٹمنٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ فائر فائٹنگ اور ریسکیو کی ذمہ داری ریسکیو 1122 کی تھی۔
ریسکیو 1122 نے خود کو بنیادی طور پر معاون ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی ذمہ داری کے ایم سی فائر ڈیپارٹمنٹ کی تھی، سول ڈیفنس نے بھی ذمہ داری کے حوالے سے دونوں اداروں کی طرف اشارہ کیا۔
دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے عمارت کی حفاظتی نگرانی اور نفاذ سے متعلق ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا۔ کمیشن کے مطابق الیکٹریکل انسپکٹریٹ نے بتایا کہ برقی حفاظتی معائنے کا عمل تقریباً دو دہائی قبل صوبائی حکومت کے حکم پر معطل کردیا گیا تھا۔
یعنی جب کمیشن نے پوچھا کہ ذمہ دار کون تھا؟ تو مختلف اداروں کے جوابات ایک دوسرے سے مختلف تھے۔
اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے کمیشن نے مصطفیٰ زیدی کے مشہور شعر کا حوالہ دیا ہے۔
’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروںتمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے‘
کمیشن نے ریسکیو کے دوران وقت کے ضائع ہونے کی بھی نشاندہی کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے بعد تقریباً 10 بج کر 22 منٹ پر ابتدائی ہنگامی کالز کی گئیں، لیکن امدادی کارروائیوں کو شہر کی ٹریفک اور سڑکوں کی صورتحال نے بھی متاثر کیا۔
کمیشن کے مطابق ایم اے جناح روڈ پر گرین لائن بی آر ٹی کی تعمیر کے باعث سڑک کا قابل استعمال حصہ بعض مقامات پر صرف تقریباً 12 فٹ رہ گیا تھا جس کی وجہ سے بھاری ریسکیو اور فائر فائٹنگ مشینری کے پہنچنے میں مشکلات پیش آئیں۔
ابتدائی طور پر رضاکاروں اور فلاحی اداروں کے ایمبولینس ڈرائیوروں نے محدود وسائل کے ساتھ لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی۔ کھڑکیوں پر لگی لوہے کی جالیاں کاٹنے کے لیے بھاری مشینری دستیاب نہ ہونے کے باعث بعض جگہ ہاتھ سے استعمال ہونے والے ہتھوڑوں اور سیڑھیوں کا استعمال کیا گیا۔
کمیشن نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ابتدائی طور پر پہنچنے والے فائر فائٹرز کے پاس مناسب حفاظتی سامان، آکسیجن ماسک اور بھاری لوہے کی جالیاں کاٹنے کے اوزار کی کمی تھی۔ رپورٹ کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل اور بڑے پیمانے پر پانی کی فراہمی تقریباً دو گھنٹے بعد رات 12 بج کر 12 منٹ کے بعد ممکن ہو پائی۔ اس وقت تک عمارت کے اندر موجود افراد کے زندہ بچنے کے امکانات انتہائی کم ہو چکے تھے۔
رپورٹ کے مطابق آگ کا فوری سبب حادثاتی ہوسکتا ہے، لیکن اتنی بڑی تعداد میں اموات صرف آگ کا نتیجہ نہیں تھیں۔ غیر قانونی تعمیرات، بند راستے، کھڑکیوں پر جالیاں، عمارت کے استعمال میں تبدیلیاں، حفاظتی معائنوں کی عدم موجودگی، ریسکیو اداروں کے درمیان واضح کمانڈ کا نہ ہونا اور امدادی کارروائیوں میں مشکلات نے مل کر صورتحال کو انتہائی خطرناک بنا دیا۔
کمیشن نے صرف آگ لگنے کے واقعات کا جائزہ نہیں لیا بلکہ گل پلازہ کی زمین، لیز اور تعمیراتی تاریخ کو بھی دیکھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ زمین برطانوی دور میں 1873 کی ایک رعایت کے تحت ٹرام وے کے لیے دی گئی تھی۔
کمیشن کے مطابق 1991 میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے اس زمین کی 99 سالہ تجدید کی، تاہم اس کے لیے ضروری صوبائی کابینہ کی منظوری، عوامی نیلامی اور زمین کے حق ملکیت سے متعلق قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ دکانیں بھی منظور شدہ تعداد سے زیادہ تھیں۔ منظور شدہ اور بعد میں ریگولرائز کیے گئے منصوبے میں ایک ہزار 102 دکانیں تھیں، لیکن عملی طور پر فعال دکانوں کی تعداد 1153 تک پہنچ چکی تھی۔
اس کے علاوہ بیسمنٹ میں پارکنگ کے لیے مختص جگہوں کو مبینہ طور پر کمرشل گوداموں اور دکانوں میں تبدیل کردیا گیا تھا۔