انڈیا سٹرابیری کی پیداوار میں عالمی طاقتوں پر سبقت کیوں چاہتا ہے؟

    • مصنف, پریتی گپتا
    • عہدہ, بی بی سی ہندی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انڈیا میں بیشتر سٹرابیری فارمز ملک کے مغربی حصے میں واقع پہاڑی خطہ مہابلیشور میں واقع ہیں۔ انڈیا میں سٹرابیری کی تقریباً 85 فیصد کاشت یہیں ہوتی ہے۔

یہ علاقہ سطحِ سمندر سے ایک ہزار میٹر (3,280 فٹ) سے زیادہ بلند ہے جس کی وجہ سے یہاں نومبر سے مارچ تک ٹھنڈا اور طویل مدت تک کاشت کے قابل موسم رہتا ہے۔

اس کے علاوہ یہاں کی ہلکی اور نکاسی والی مٹی بھی سٹرابیری کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسانوں کے لیے یہ کام آسان ہے۔ سٹرابیری کی کاشت میں جہاں بہت محنت درکار ہوتی ہے وہیں اس میں نقصان کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔

شیتال داناولےاس علاقے میں اپنے شوہر کے ساتھ تین ایکڑ کے فارم کے ڈیڑھ ایکڑ حصے پر سٹرابیری اگاتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر سٹرابیری کی فصل تیار ہو اور اچانک شدید بارش ہو جائے تو پوری فصل تباہ ہو جاتی ہے اور ہمیں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔‘

سٹرابیری کے پودے ہر سیزن میں دوبارہ لگانے پڑتے ہیں اور انھیں بیج سے نہیں اگایا جاتا۔ اس کے بجائے کسان نرسریوں یا سپلائرز سے تیار پودے خریدتے ہیں۔

داناولے کے مطابق ان کے چھوٹے فارم پر ان پودوں کی خریداری پر ہر سال تقریباً 2,500 ڈالر (1,900 پاؤنڈ) خرچ ہوتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر سیزن اچھا گزرے تو سرمایہ کاری سے دوگنی آمدنی ہو سکتی ہے، لیکن موسمی حالات کی وجہ سے یہ ایک بڑا خطرہ بھی ہے۔‘

مہابلیشور کے علاقے میں ہزاروں کسان سٹرابیری کاشت کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ مزے دار پھل مغربی انڈیا کی سب سے منافع بخش باغبانی فصلوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس کامیابی کے باوجود یہ صنعت اب بھی ان اقسام پر انحصار کرتی ہے جو کیلیفورنیا، فلوریڈا، اٹلی اور سپین سے درآمد کی جاتی ہیں کیونکہ انڈیا میں ابھی تک کسی نے سٹرابیری کی مقامی قسم تیار نہیں کی۔

امریکہ اور یورپ میں نئی اور اعلیٰ معیار کی سٹرابیری کی قسم تیار کرنے میں 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں اور ان اقسام کے پیٹنٹ بھی رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔

نیلسن سیکیرا تارا فارمز فریش کمپنی کے بانی اور ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم بیرونِ ملک بریڈر سے تصدیق شدہ مادہ پودا (Mother Plant)درآمد کرتے ہیں۔ درآمد کے بعد ان پودوں کو پہلے قوائد کے مطابق حکومتی قرنطینہ کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے، جس کے بعد انھیں نرسری میں لگایا جاتا ہے۔‘

ان کے مطابق وہاں مادہ پودا نئے پودے پیدا کرتا ہے، جو بعد میں کسانوں کو فروخت کیے جاتے ہیں۔

سیکیرا کہتے ہیں کہ ’درآمد کیا گیا ایک مادہ پودا ایک انجن کی طرح کام کرتا ہے۔ ایک پودا اوسطاً 20 نئے پودے پیدا کرتا ہے جبکہ کچھ جدید کاشتکاروں کے ہاں یہ تعداد 30 یا 40 تک پہنچ جاتی ہے۔‘

یہ ایک جدید اور انتہائی درست طریقوں پر مبنی نظام ہے۔

سیکیرا اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ پودے زمین کو نہیں چھوتے۔ ہم بڑے صنعتی پائپ استعمال کرتے ہیں جنھیں درمیان سے کاٹ کر لمبے، گول نالی نما کنٹینرز کی شکل دی جاتی ہے۔‘

’مٹی کے بجائے ہم ان کنٹینرز میں ناریل کے چھلکے سے تیار کیا گیا کوکو پٹ بھرتے ہیں۔ اس کے بعد آبپاشی کے لیے ڈرپننگ سسٹم اور اوس سے بچانے کا نظام نصب کیا جاتا ہے تاکہ پودوں کے اردگرد کے ماحول کو قابو میں رکھا جا سکے۔‘

سیکیرا اور دیگر نرسری مالکان فی الحال بیرونِ ملک سے آنے والے مادہ پودوں پر انحصار کرتے ہیں۔

لیکن مہاراشٹرا کی زرعی یونیورسٹی مہاتما پھولے کرشی ودیاپیٹھ (MPKV) میں ہونے والی تحقیق سے اس صورتحال میں تبدیلی کا امکان ہے۔

ایم پی کے وی نے بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر کے ساتھ مل کر سٹرابیری کیافزائشِ نسل کا ایک تجرباتی منصوبہ شروع کیا ہے۔

محققین پودوں کے ٹشوز پر کم مقدار میں اور قابو میں رکھی گئی گاما شعاعوں کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ مستقل جینیاتی تبدیلیاں پیدا کی جا سکیں۔

ایم پی کے وی میں باغبانی کے شعبے سے منسلسک اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر درشن ششنک قدم کہتے ہیں کہ ’اس تحقیق کا مقصد انڈیا میں سٹرابیری کی پہلی مقامی قسم تیار کرنے کے عمل کو تیز کرنا ہے جو موسمی تبدیلیوں کا مقابلہ کر سکے، غیر ملکی اقسام کی طرح بڑے پھل اور مضبوط ساخت رکھتی ہو اور ساتھ ہی انڈیا میں گرمی کی شدید لہروں کو بھی بہتر انداز میں برداشت کر سکے۔‘

ان کا ماننا ہے کہ یہ ایک طویل عمل ہو سکتا ہے اور نتائج سامنے آنے میں 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں۔ تاہم مختصر مدت میں وہ کسانوں کی دوسرے طریقوں سے مدد کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم کسانوں کے لیے سائنسی رہنما اصول تیار کر رہے ہیں۔ ہم پہلے ہی مہابلیشور کے حالات کے مطابق پودے لگانے کے اوقات، کھاد کے استعمال اور پودوں کی نشوونما بڑھانے والے ریگولیٹرز کے استعمال کے طریقہ کار کو معیاری بنا چکے ہیں۔‘

محتاط پانی سے زیادہ مٹھاس اور خوشبو

زیادہ وسائل رکھنے والے بڑے فارم اب نئی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

کیتن یشونت سودھا بیری فریش ایگروٹیک کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ہیں۔ انھوں نے اس کام کے آغاز میں روایتی کھلے کھیتوں میں کاشت سے کیا لیکن وہ موسم کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے پریشان تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’گذشتہ 10 برس سے انڈیا میں ہمارے اہم سیزن، یعنی نومبر، دسمبر اور جنوری کے پہلے ہفتے میں مسلسل بارش ہو رہی ہے۔ جب آپ کھلے کھیت میں کاشت کر رہے ہوں اور فصل اپنے عروج پر ہو تو صرف ایک بارش پوری فصل تباہ کر سکتی ہے۔‘

اسی لیے 2022 میں انھوں نے ہائیڈروپونکس پر تجربات شروع کیے۔ یہ کاشت کا ایسا طریقہ ہے جس میں مٹی استعمال نہیں ہوتی اور پانی، غذائی اجزا، روشنی اور درجہ حرارت کو بہت احتیاط سے قابو میں رکھا جاتا ہے۔

اس تجربے کے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا نہیں تھے۔

سودھا کہتے ہیں کہ ’مجھے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا اور کئی بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔‘

ان کے مطابق ’مٹی غلطیوں کی گنجائش دیتی ہے، لیکن ہائیڈروپونکس میں ایسا نہیں ہوتا۔ اگر آپ آج کوئی غلطی کریں تو اگلی صبح آپ کو اس کے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ہائیڈروپونکس میں بحالی کا وقت مٹی میں کاشت کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔‘

لیکن ان غلطیوں سے حاصل ہونے والے تجربات اب فائدہ دے رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم 19 مختلف اقسام کا تجربہ کر چکے ہیں، جن میں جاپان کی کچھ نایاب اقسام بھی شامل ہیں اور اس سیزن میں ہم انڈیا میں نیدرلینڈز کی ایک مخصوص قسم کا تجربہ کرنے والے واحد ادارے ہیں۔‘

سودھا کا کہنا ہے کہ ہر پودے کو روزانہ 750 ملی لیٹر پانی دینے سے ’زیادہ مٹھاس اور خوشبو پیدا ہوتی ہے، جبکہ پھل پانی سے بھر جانے اور پھیکا ذائقہ اختیار کرنے سے بچ جاتا ہے۔‘

ان کی ٹیم فصلوں کے باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹ بھی کرتی ہے، جسے وہ ’بلڈ ورک‘ کہتے ہیں۔ اس عمل میں پتوں اور پتوں کو تنوں سے جوڑنے والی ڈنڈیوں (پیٹیولز) کا تجزیہ کیا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ پودے کتنے غذائی اجزا جذب کر رہے ہیں۔

اس بنیاد پر وہ طے کرتے ہیں کہ پانی کے نظام میں کون سے غذائی اجزا اور کیمیائی مادے شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

چونکہ وہ نیم کھلے پولی ہاؤس استعمال کرتے ہیں اس لیے سٹرابیری پورا سال اگائی جا سکتی ہے۔

سودھا کہتے ہیں کہ ’ہمارے لیے یہ موسمی پھل نہیں ہے۔‘

اب وہ اپنے منصوبے کو مزید وسعت دینے کے لیے تیار ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم آزمائشی مرکز قائم کر چکے ہیں، معیاری طریقۂ کار (SOPs) تیار کر چکے ہیں اور فارم کے لیے مکمل رہنما کتاب بھی بنا چکے ہیں۔ اب ہم سرمایہ کاروں سے بات کر رہے ہیں تاکہ اسے بڑھا کر پانچ ایکڑ تک لے جایا جائے، جہاں دو لاکھ پودے لگائے جا سکیں گے۔‘

پیداوار پانچ گنا تک بڑھانے کا فارمولا

لیکن ایسی سرمایہ کاری چھوٹے کسانوں کے لیے یا تو بہت مہنگی ہے یا پھر بہت بڑا خطرہ بھی بن سکتی ہے۔

2017 میں شیتال داناولے اور ان کے شوہر نے ہائیڈروپونک طریقے سے سٹرابیری اگانے کا تجربہ کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ تجربہ مکمل طور پر کامیاب رہا اور ہم نے جو سٹرابیری اگائی وہ مکمل نامیاتی تھی۔ اس سے محنت کم ہوئی، مزدوروں کو بار بار جھک کر کام نہیں کرنا پڑتا تھا، اور ادویات و کھادوں پر بھی کم خرچ آیا۔‘

لیکن اسی سال مہابلیشور میں شدید طوفان آ گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’طوفان نے ہمارا پورا ہائیڈروپونک نظام تباہ کر دیا۔ اس کے بعد ہم اسے دوبارہ لگانے کی ہمت نہیں کر سکے۔‘

اس کے بعد شیتال نے سٹرابیری اگانے کا روایتی طریقہ یک نئے انداز کے ساتھ دوبارہ اپنا لیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ میں ایسی ویڈیوز بناتی ہوں جن میں سٹرابیری کی کاشت کے بارے میں بتاتی ہوں اور سیاحوں کو اپنے فارم پر آنے، سیکھنے اور خود سٹرابیری توڑنے کی دعوت دیتی ہوں۔ اب لوگ براہِ راست فارم سے خریداری کرتے ہیں۔ اس سے بیچ کے دلال ختم ہو گئے ہیں اور منافع بھی بڑھ گیا ہے۔ اب میں ایک انفلوئنسر اور کاروباری خاتون ہوں۔‘

مصنوعی ذہانت کا استعمال

کرشن بھیلارے کا خاندان مہابلیشور میں کئی نسلوں سے سٹرابیری کی کاشت کر رہا ہے۔

انھیں یاد ہے کہ 1992 میں جب پہلی بار امریکی اقسام یہاں لگائی گئیں تو وہ پھل کے سائز کو دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔

بھیلارے ایک فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشن کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ اس تنظیم نے اپنی زمین کے چار اہم مقامات پر ٹاور نصب کیے ہیں، جو موسم کی صورتحال کی نگرانی کرتے ہیں۔

اس نظام میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جاتا ہے جو موسمی اعداد و شمار کی مدد سے یہ پیش گوئی کرتی ہے کہ بارش کب ہو گی۔ اس کے بعد کسانوں کو مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ وہ فصلوں پر سپرے مؤخر کر دیں تاکہ مہنگی کیمیائی ادویات بارش میں ضائع نہ ہوں۔

ایف پی او عمودی ٹاورز بھی بنا رہی ہے جن میں کوکو پیٹ کے ذریعے پانچ تہوں میں سٹرابیری اگائی جا سکتی ہے۔

بھیلارے کہتے ہیں کہ ’ایک عمودی ٹاور میں پانچ گملے رکھنے سے ہم ایک ایکڑ میں پودوں کی تعداد 25 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ 25 ہزار کر سکتے ہیں۔ اس طرح ہم اسی زمین پر اپنی پیداوار کی گنجائش پانچ گنا بڑھا رہے ہیں۔‘