آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دلی میں طلبہ کے خلاف پیلٹ گن استعمال کیے جانے کی تحقیقات میں بی بی سی کو کیا معلوم ہوا؟
- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز دلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
اسلحے اور فرانزک کے ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انڈین دارالحکومت میں گذشتہ ہفتے ہونے والے احتجاج کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی کے بعض حامی پیلٹ گن کی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔
انتباہ: اس خبر میں شامل تصاویر بعض قارعین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیں۔
20 جولائی کو وسطی دہلی میں شدید تشدد تب دیکھنے میں آیا، جب ہزاروں مظاہرین تعلیمی اصلاحات اور وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو ہجوم پر لاٹھیوں، ڈنڈوں اور آنسو گیس کے ذریعے سخت کارروائی کرتے دیکھا گیا۔ دہلی پولیس کے مطابق 60 مظاہرین اور اُن کے 118 اہلکار زخمی ہوئے تاہم سی جے پی کا کہنا ہے کہ زخمی مظاہرین کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔
کارروائی کے کُچھ دن بعد حکومت نے ان میڈیا رپورٹس کی تصدیق نہیں کی تھی جن میں مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
تاہم بی بی سی کم از کم چار ایسے واقعات کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہا ہے جن میں مظاہرین کو ہسپتالوں میں ایسے زخموں کا علاج کرایا گیا جن کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیلٹ گن سے آنے والے زخم ہیں۔
پرندوں کے شکار کے لیے استعمال ہونے والی شاٹ گن کو بعض اوقات پیلٹ گن بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں ایسے کارتوس استعمال ہوتے ہیں جنھیں ’برڈ شاٹ‘ کہا جاتا ہے، جن میں 200 سے 400 تک چھوٹے دھاتی چھرے موجود ہوتے ہیں۔ جب انھیں ہجوم کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو یہ چھرے ایک وسیع دائرے میں پھیل کر لوگوں کو بلاامتیاز نشانہ بنا سکتے ہیں۔ کئی ممالک میں ان ہتھیاروں پر پابندی عائد ہے۔
بی بی سی نے دو زخمی افراد سے بات کی جن کا کہنا ہے کہ انھیں سکیورٹی فورسز کی جانب سے چلائی گئی پیلٹ گن سے زخم آئے۔ ان افراد کی تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ ایک تیسرے شخص کے شواہد بھی دو اسلحے اور فرانزک ماہرین کو دکھائے گئے۔ ایک ہسپتال کے سینئر اہلکار نے چوتھے شخص کی بھی تصدیق کی جس کا علاج پیلٹ کے زخموں کے لیے کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماہرین کے مطابق جسم پر نظر آنے والے درجنوں چھوٹے گول سوراخ اس بات کی واضح علامت ہیں کہ یہ زخم برڈ شاٹ کی وجہ سے آئے ہیں۔
برطانیہ میں مقیم بیلسٹک فرانزک ماہر فلپ بوائس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ زخم یقینی طور پر پیلٹ گن کے ہیں۔‘ ان کے مطابق استعمال ہونے والا ہتھیار ’12 گیج پمپ ایکشن شاٹ گن‘ ہے۔
فلپ بوائس نے کہا کہ ’پیلٹ کے یہ زخم خاص طور پر قریب سے فائر کیے جانے کی صورت میں انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔‘ ان کے مطابق ’دہلی میں نظر آنے والے زخم قریب سے فائر کیے جانے والے نہیں لگتے بلکہ کم از کم 50 فٹ کے فاصلے سے لگے ہیں، تاہم 100 فٹ کے فاصلے سے بھی یہ زخم شدید اور بعض اوقات جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔‘
برطانیہ میں قائم آرمامنٹ ریسرچ سروسز کے ڈائریکٹر این آر جینزن جونز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’احتجاج کے دوران سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں پولیس کو ہجوم پر قابو پانے کے لیے شاٹ گن استعمال کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ زخمی افراد کی تصاویر میں نظر آنے والے زخم برڈ شاٹ کے استعمال سے ملتے جُلتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اگرچہ شاٹ گن کئی ممالک میں کم مہلک ہتھیاروں کے ذخیرے کا حصہ ہیں لیکن انڈین قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ہجوم کو قابو کرنے کے لیے چھوٹے سیسے کے چھروں والے کارتوس، جنھیں ’برڈ شاٹ‘ کہا جاتا ہے استعمال کرنے کی طویل تاریخ ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ چھرے محفوظ نہیں ہوتے۔ ان سے ایسے زخم لگ سکتے ہیں جو زندگی بھر کے لیے اثرات چھوڑ سکتے ہیں یا بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ جسم میں زہریلی دھات سیسہ بھی داخل کر سکتے ہیں جسے محفوظ طریقے سے نکالنا بعض اوقات انتہائی مشکل ہوتا ہے۔‘
اسی وجہ سے کئی ممالک نے ان ہتھیاروں پر پابندی عائد کی ہے یا ان کے استعمال کو محدود کر رکھا ہے۔ فلپ بوائس کے مطابق برطانیہ میں یہ ہتھیار عام طور پر پرندوں کے شکار کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور آسانی سے دستیاب ہیں، تاہم وہ اس بات سے لاعلم ہیں کہ انھیں وہاں کبھی ہجوم کو قابو کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سنہ 2010 سے پیلٹ گن کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مرتب کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان ہتھیاروں سے کئی ہزار افراد زخمی ہو چکے ہیں، کم از کم 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور درجنوں افراد بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔
اگر اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ دہلی میں سکیورٹی فورسز نے پیلٹ گن کا استعمال کیا تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ انڈیا نے اپنے دارالحکومت دلی میں شہریوں کے خلاف یہ ہتھیار استعمال کیے ہوں۔
بی بی سی سے بات کرنے والے دو نوجوانوں نے بتایا کہ وہ 20 جولائی کو مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے کے بعد پارلیمنٹ کے قریب واقع اہم علاقے کنّوٹ پلیس میں زخمی ہوئے۔
موہت (فرضی نام) نے بتایا کہ جب انھوں نے ایک سکیورٹی اہلکار کو اپنی جانب بندوق کا رخ کرتے دیکھا تو وہ پلٹا اور مخالف سمت میں بھاگنے لگا۔
28 سالہ صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دو سے تین سیکنڈ بعد مجھے اپنے دائیں بازو اور کمر پر جلن کا احساس ہوا۔‘
موہت کے مطابق وہ مسلسل بھاگتے رہے اور ان کے جسم میں شدید درد بڑھتا چلا گیا، یہاں تک کہ وہ ایک کیفے تک پہنچے، پانی کی بوتل خریدی اور اپنے زخم دھونے لگے۔ انھوں نے کہا کہ ’اُسی وقت میں نے اپنے بازو اور کمر کے اوپری حصے پر چھوٹے چھوٹے گول سوراخ دیکھے۔ میں اس سب کے بعد بہت زیادہ ڈر گیا تھا۔‘
موہت کا علاج صفدر جنگ ہسپتال میں ہوا جہاں کی ایکسرے رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ ان کے بازو اور جسم کے اوپری حصے میں چھوٹی چھوٹی اشیا پیوست ہیں۔ موہت کی جانب سے بی بی سی کو فراہم کیے گئے طبی ریکارڈ کے مطابق ان کی دائیں کہنی پر پیلٹ کے 26 زخم اور دائیں جانب کمر کے اوپری حصے پر چار زخم ہیں۔ ریکارڈ میں ایک خاکہ بھی شامل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ اشیا جسم کے کن حصوں میں موجود ہیں۔
موہت نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے انھیں کہا ہے کہ سرجری سے اُن کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے، تاہم انھیں خدشہ ہے کہ یہ چھرے مستقبل میں ان کے جسم کو نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ وہ اب بھی اندر موجود ہیں، اور یہ کہ یہ بدنما داغ کبھی ختم ہوں گے بھی یا نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’لیکن میں ان متاثرین کی تصاویر دیکھنے کے بعد خود کو خوش قسمت محسوس کر رہا ہوں جن کے چہروں پر پیلٹ لگے۔‘
انڈیا کے گڑگاؤں یا گوروگرم نامی شہر میں قائم ایک کمپنی میں کام کرنے والے شیخ ارشاد منصوری اتنے خوش قسمت ثابت نہیں ہوئے۔
وہ کنّوٹ پلیس سے جنتر منتر کی جانب جا رہے تھے جو سی جے پی کے احتجاج کا مرکزی مقام تھا کہ اسی دوران ’پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس ایک نیم فوجی دستہ کے اہلکاروں نے ہجوم کو لاٹھیوں سے مارنا شروع کر دیا اور آنسو گیس کے گولے فائر کیے، جس سے بھگدڑ جیسی صورتحال اور خوف و ہراس پھیل گیا۔‘
ارشاد نے بتایا کہ ’میں مظاہرین کے ایک گروپ کے ساتھ تھا اور ہم نعرے لگا رہے تھے کہ ایک آر اے ایف اہلکار نے ہماری طرف بندوق تان لی۔ ہمیں یقین نہیں تھا کہ وہ فائر کرے گا، لیکن اچانک مجھے قریب سے ایک زور دار آواز سنائی دی اور چھرے میری بائیں آنکھ کے بہت قریب بھنوؤں اور ٹھوڑی پر آ لگے۔‘
کچھ مظاہرین نے کپڑوں کی مدد سے ان کا خون روکنے کی کوشش کی پھر ایک گزرتی ہوئی گاڑی کو روکا اور انھیں لیڈی ہارڈنگ ہسپتال لے گئے۔
ارشاد کے مطابق سکین رپورٹس میں معلوم ہوا کہ ان کے جسم میں 40 سے زیادہ چھرے موجود ہیں، جن میں سے تین جسم میں کافی گہرائی تک اُتر چُکے تھے۔ یہ چھرے ان کی گردن، بائیں آنکھ کے پٹھے اور ناک کے نیچے موجود تھے، جنھیں ڈاکٹروں نے نکالنے کا مشورہ دیا۔
انھوں نے بتایا کہ ’اگلی صبح سرجنز نے سات چھرے نکال دیے لیکن گردن میں موجود چھرہ اس لیے نہیں نکالا جا سکا کیونکہ ایسا کرنا خطرناک تھا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ اب یہ آپ کے جسم کا حصہ بن چکا ہے۔ انھوں نے یقین دلایا ہے کہ مستقبل میں اس سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔‘
دس دن سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی ارشاد کا کہنا ہے کہ انھیں ’اب بھی کچھ درد محسوس ہوتا ہے۔‘
ہسپتال کے ایک سینئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ارشاد کے زخم ’پیلٹ جیسے چھوٹے ذرات‘ سے آئے ہیں، تاہم انھوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ آیا یہ ذرات کسی بندوق سے فائر کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فرانزک ماہرین ہی بتا سکتے ہیں، جب وہ ان چھروں کا معائنہ کریں گے۔‘
گزشتہ ہفتے جب پہلی بار پیلٹ گن کے استعمال کے دعوے سامنے آئے تو دہلی پولیس نے اسے ’مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن‘ قرار دیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ’ان کے پاس پیلٹ گنیں موجود ہی نہیں ہیں۔‘
اس کے بعد انڈین میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ’فائرنگ ریپڈ ایکشن فورس کی جانب سے کی گئی جو نیم فوجی ادارے سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ماتحت ہے۔‘
بی بی سی نے سی آر پی ایف کے سربراہ گیانیندر پرتاپ سنگھ سے رابطہ کیا ہے اور انھیں ای میل کے ذریعے بھی سوالات بھیجے ہیں تاہم ابھی تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
بدھ کے روز حکومتی وزیر جتیندر سنگھ نے پارلیمنٹ میں کہا کہ کوئی ’گولی‘ نہیں چلائی گئی اور صرف آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ تاہم انھوں نے پیلٹ گنوں کے استعمال کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
وہ کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور ایوانِ زیریں میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی کے الزامات کا جواب دے رہے تھے، جنھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کو برطرف کیا جائے کیونکہ دہلی پولیس اور سی آر پی ایف دونوں وزارتِ داخلہ کے ماتحت ہیں۔
گزشتہ ہفتے سنیچر کے روز راہل گاندھی نے ایک پریس کانفرنس کی تھی کہ جس میں ان کے ساتھ 19 سالہ دہلی یونیورسٹی کے طالب علم ساحل بھی موجود تھے۔ ساحل پیلٹ کے زخموں کے باعث اپنی ایک آنکھ کی بینائی کھونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
ساحل کے چہرے کے ایک حصے اور دائیں بازو کے پچھلے حصے پر چھوٹے چھوٹے سوراخ نظر آتے ہیں۔ راہل گاندھی نے ان کی ٹی شرٹ اوپر اٹھا کر ان کے بازو کے نچلے حصے اور جسم پر موجود مزید درجنوں زخم بھی دکھائے۔
راہل گاندھی کے ساتھ گفتگو اور میڈیا انٹرویوز میں ساحل نے بتایا کہ وہ سی جے پی کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں، جو اہم امتحانات کے بار بار پرچے لیک ہونے کے معاملے پر کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق انھوں نے گزشتہ سال پولیس میں بھرتی کے لیے ایک امتحان دیا تھا، جو اسی مسئلے کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا تھا۔
ساحل اپنے تین دوستوں کے ساتھ احتجاج میں گئے تھے، لیکن جب پولیس نے ہجوم پر لاٹھی چارج کیا تو افراتفری کے دوران وہ اپنے دوستوں سے الگ ہو گئے۔ بعد ازاں وہ دیگر مظاہرین کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی جانب بڑھ رہے تھے کہ انھیں گولی لگی۔
ساحل نے کہا کہ ’میں یہ نہیں دیکھ سکا کہ پیلٹ گن کس نے چلائی، لیکن یہ اس سمت سے آئی جہاں فورسز موجود تھیں۔ میری دائیں آنکھ اتنی زیادہ سوج گئی تھی کہ محسوس ہوتا تھا جیسے وہ چہرے سے باہر نکل آئی ہو۔ میں اپنا دایاں بازو نہیں اٹھا پا رہا تھا۔ بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا اور کچھ مظاہرین مجھے ہسپتال لے گئے۔‘
انھوں نے راہل گاندھی کو بتایا کہ اُن کے خاندان نے انھیں احتجاج میں جانے سے روکنے کی کوشش کی تھی، لیکن ’میں خود کو روک نہیں سکا۔‘
ساحل نے کہا کہ ’میں انصاف چاہتا ہوں۔ جس شخص نے میرے ساتھ یہ کیا وہ اقتدار میں رہنے کا حقدار نہیں ہے۔‘