تجزیہ: حماس کو غیر مسلح کرنے کا معاملہ غزہ جنگ بندی میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا, یولاند نیل، یروشلم سے بی بی سی کی نامہ نگار برائے مشرقِ وسطیٰ
گذشتہ چند ماہ سے امریکی ثالثی میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار تھے جس کی ایک بڑی وجہ حماس کو غیر مسلح کیے جانے کا مطالبہ تھا۔
تاہم حماس اور ثالثوں کے درمیان حالیہ دنوں میں ہونے والے مذاکرات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’پائیدار امن اور سلامتی کی جانب ایک تاریخی پیش رفت‘ حاصل ہوئی ہے۔
واشنگٹن کو بھیجی گئی ایک نئی تجویز کے مطابق حماس نے اپنے ہتھیاروں، فوجی پیداوار کے مراکز اور سرنگوں کی تفصیلی فہرست فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ بی بی سی نے یہ تجویز دیکھی ہے۔
تجویز کے مطابق حماس کے ہتھیار نئی فلسطینی انتظامیہ کی تحویل میں دیے جائیں گے، تاہم انھیں اسرائیل کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ دستاویز کے مطابق یہ عمل ’مرحلہ وار اسرائیلی انخلا‘ سے منسلک ہو گا۔
اس منصوبے میں اس بات کو بھی شامل کیا گیا ہے کہ غزہ میں قائم ہونے والی نئی ٹیکنوکریٹک حکومت حماس سے وابستہ سرکاری ملازمین کے معاملے کو کس طرح نمٹائے گی۔
اسرائیل کی جانب سے تاحال اس تجویز پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ اسرائیلی حکام حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے وعدے کے بارے میں بدستور شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔