’سب یاد رکھا جائے گا‘: نصیر الدین شاہ اور انڈیا کے دیگر فنکاروں نے دلی میں طلبہ کے احتجاج پر کیا کہا؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

انڈیا کے معروف اداکار نصیر الدین شاہ کا ایک بیان سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے جس میں وہ دلی میں وزیر تعلیم کے استعفے کے لیے احتجاجی مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی حمایت کر رہے ہیں۔

اس بیان میں نصیر الدین شاہ نے ملک کی رہنمائی کرنے والوں کو ’جاہل، ناقابل اور بے رحم‘ قرار دیا جبکہ طلبہ سے اپنے حق کے لیے لڑنے کی بات بھی کہی۔

دراصل یہ احتجاج میڈیکل کالجوں میں داخلے اور مقابلہ جاتی امتحانات میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف گذشتہ تین ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ 20 جولائی کو پارلیمان کی جانب مظاہرین کے مارچ میں پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کے بعد ملک کے دوسرے حصوں میں بھی احتجاج نظر آ رہا ہے۔

منگل کے روز کانگریس پارٹی نے وزیر اعظم ہاؤس کے پاس مظاہرہ کیا اور وزیر تعلیم کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے استعفوں کا بھی مطالبہ کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پیر کو مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ میں ایک سو سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ 70 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔

لیکن اس تنازعے پر بالی وڈ کی معروف شخصیات منقسم دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک طرف نصیر الدین شاہ، پرکاش راج، شبانہ اعظمی، سوارا بھاسکر، سوہا علی خان، سونو سود، دیا مرزا، رتیش اور جنیلیا دیش مکھ اور سوناکشی سنہا جیسے فنکار طلبہ کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ مگر دوسری طرف اداکارہ کنگنا رناوت، منوج تیواری اور اداکار روی کشن کو حکومت کی حمایت میں بیانات پر سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا سامنا ہے۔

بعض فنکار خاموش تو کئی اپنے بیانات میں محتاط بھی رہے۔ جیسے اداکار انوپم کھیر اور اداکارہ پریتی زنٹا نے طلبہ کی حمایت ضرور کی ہے لیکن خبردار کیا ہے کہ ان کے احتجاج کو کہیں ہائی جیک تو نہیں کیا جا رہا ہے۔

نصیر الدین شاہ، انوپم کھیر اور پریتی زنٹا کے بیانات

نصیر الدین شاہ نے اپنے تقریبا دو منٹ کے ویڈیو بیان میں کہا: ’میں نصیر الدین شاہ آپ سے دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر ایک جاہل ملک کی رہنمائی کرے تو اس کا دل یہی چاہے گا کہ پورا ملک اسی طرح جاہل، ناقابل اور بے رحم بنے۔‘

انھوں نے کہا کہ انھوں نے اداکاری کے بارے سب سے زیادہ ان بچوں، ان طلبہ سے سیکھا جنھیں انھوں نے سکھانے کی کوشش کی۔

انھوں نے مزید کہا: ’میری پوری ہمدردی ان کے ساتھ ہے۔ میں انھیں ہر سانس کے ساتھ ہزار ہزار دعائیں دیتا ہوں اور ہر ٹیچرز ڈے پر انھیں سلام کرتا ہوں۔ اس وقت میرا دل بھی بھرا ہوا ہے اور میں غصے سے کھول بھی رہا ہوں یہ دیکھ کر کہ ہمارے ان بچوں کے ساتھ کس طرح ظلم کا برتاؤ کیا جا رہا ہے۔

’ان غنڈوں کے ہاتھوں جو مجھے امریکہ کے آئس ایجنٹس کی یاد دلاتے ہیں، منھ پر نقاب لگائے ہوئے ہاتھ میں ڈنڈا لیے ہوئے۔‘

انھوں نے حکومت کو ان کے انجام یاد دلائے اور طلبہ سے کہا: ’ہمت نہ ہاریں، بہت سے لوگوں کی ہمدردی آپ کے ساتھ ہے۔ بہت سے لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ لڑتے رہیں۔ ملک کی نوجوان نسل سے مجھے ہمیشہ امید رہی ہے اور وہ امید اور اجاگر ہو گئی ہے۔ آپ لوگ اپنی لڑائی لڑتے رہیں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ اور اس ملک کی حکومت کو میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ سب یاد رکھا جائے گا۔‘

بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پر صارفین نے نصیر الدین شاہ کو ان کے بیان پر داد دی۔

دوسری جانب 71 سالہ اداکار انوپم کھیر، جنھیں مبصرین مودی حکومت کا حامی سمجھتے ہیں، نے نے کہا کہ وہ طلبہ کی مایوسی اور بے چینی کو سمجھتے ہیں کیونکہ وہ خود بھی کبھی ایک طالب علم تھے اور ان کے بھی اپنے خواب اور امنگیں تھیں۔

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’میری نظر میں طلبہ کی تحریکیں معاشرے کی سب سے سچی آواز ہوتی ہیں۔ یہ ذاتی مفادات سے نہیں چلتی ہیں۔ انھیں اپنے مستقبل کی فکر، اپنے حقوق کے تحفظ کی خواہش اور ایک بہتر قوم کی تعمیر کے خواب سے تحریک ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں دل و جان سے آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘

تاہم انوپم کھیر نے خبردار کیا کہ اس تحریک میں بیرونی سیاسی موقع پرست افراد کی شمولیت بڑھنے لگی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جس لمحے آپ کی تحریک میں باہر کے لوگ داخل ہونا شروع ہو جائیں، ایسے سیاسی موقع پرست جو ہر احتجاج میں اپنی موجودگی یقینی بناتے ہیں، اور جن کا مقصد آپ کا موقف نہیں بلکہ اپنا ایجنڈا ہوتا ہے، تو وہی لمحہ ہے جب آپ کو محتاط ہو جانا چاہیے۔‘

پریتی زنٹا نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار اپنے ایکس ہینڈل پر کیا ہے۔

پریتی زنٹا نے لکھا کہ ’اگرچہ اپنے طلبہ کی حمایت کرنا اور ایسی تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنا اہم ہے جو ہماری نوجوان نسل کے مستقبل پر مثبت اثر ڈالیں، لیکن یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ طلبہ کے پُرامن احتجاج کو ملک دشمن عناصر یرغمال نہ بنائیں، جو انتشار پھیلانے اور احتجاج کی اصل نوعیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’آن لائن پر اتنی نفرت اور تقسیم دیکھ کر مجھے یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے کہ کیا ہمارے ملک کے اندر اور باہر موجود منفی عناصر پہلے ہی ہمارے طلبہ کے غصے اور مایوسی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی بھرپور کوششیں شروع کر چکے ہیں۔‘

انڈین فنکاروں نے مظاہرین اور حکومت سے کیا مطالبات کیے؟

اداکارہ اور رکن پارلیمان کنگنا رناوت نے پارلیمان کی جانب مارچ کے بعد خبررساں ادارے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ قوم کے لیے انتہائی تشویش کا معاملہ ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ مظاہرین کس طرح دھمکیاں دے رہے ہیں، اور پھر راہل گاندھی یہ اقدام کرتے ہیں۔ یہ ہم سب کے لیے شدید فکر کی بات ہے۔‘

’جہاں تک نیٹ کا تعلق ہے، حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ وزیرِ اعظم کو استعفیٰ کیوں دینا چاہیے؟ وہ دنیا کے سب سے مقبول رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ صرف اس لیے کہ وہ خود وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں، کیا ہم اس لاڈلے اور مراعات یافتہ نوجوان کو وزیرِ اعظم بنا دیں؟ یہ کیسی مانگ ہے؟‘

اداکار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ، جنھوں نے اس سے قبل خود کو اس احتجاج سے الگ رکھا تھا، نے منگل کے روز طلبہ کے خلاف پولیس کی کارروائی پر تنقید کی۔

گلوکار نے منگل کی صبح انسٹاگرام پر لکھا: ’جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے۔ طلبہ کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔‘

عوام کی آواز کو ’خدا کی آواز‘ قرار دیتے ہوئے، دوسانجھ نے حکام سے اپیل کی کہ وہ ’طلبہ کے مسائل اور شکایات کو سنیں۔‘

انھوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ کسانوں کی تحریک کے دوران جب انھوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا تو انھیں ’ملک دشمن‘ کہا گیا تھا۔ گلوکار نے کہا کہ اس کی وجہ سے انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور اب بھی اگر وہ اس معاملے پر بولیں گے تو ’انھیں دوبارہ ملک دشمن کہا جائے گا۔‘

اسی طرح اداکار رتیش اور جنیلیا دیشمکھ نے ایکس پر لکھا: ’ہم اپنے ملک کے نوجوانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی آواز سنی جانی چاہیے، بلند، واضح اور بے خوف انداز میں۔ وہ ہماری جمہوریت کی دھڑکن ہیں اور ہمارے ملک کے مستقبل کے حقیقی معمار ہیں۔‘

’آئیے ان کی بات سنیں، ان کی حمایت کریں اور انھیں بااختیار بنائیں۔ ہمارے نوجوانوں کی توانائی، ہمت اور خواب اس انڈیا کی تشکیل کریں گے جسے ہم تعمیر کرنے کی آرزو رکھتے ہیں۔‘

اداکار پرکاش راج اور اداکارہ شبانہ اعظمی نے تو جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کرنے والوں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

اداکار اور رکن پارلیمان روی کشن نے ’سخت سے سخت کارروائی‘ کی دھمکی دیتے ہوئے ’نیٹ اخبار‘ کا ذکر کیا۔ ان کے اس بیان کے بعد صارفین نے انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ انھیں یہ بھی پتا نہیں کہ نیٹ میڈیکل میں داخلے کا امتحان ہے، کوئی اخبار نہیں۔

اداکارہ ہما قریشی نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ’احتجاج کی جو تصاویر اور مناظر انھوں نے دیکھے ہیں، وہ ایک طویل عرصے تک ان کے ذہن میں نقش رہیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ پُرامن مظاہرین کے ساتھ ’اتنی سختی، تشدد اور لاٹھی چارج ہوتے دیکھ کر انھیں گہرے دکھ اور افسوس کا احساس ہوا ہے۔‘

ہما قریشی کے مطابق پُرامن احتجاج کرنے والوں کے ساتھ ’اس قسم کا برتاؤ دیکھنا انتہائی تکلیف دہ تھا۔‘