آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مریم نواز کا کشمیری عوام کو ’بسوں کا تحفہ‘ اور صوبے کے وسائل پر بحث: ’آپ وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں، وزیراعظم پاکستان یا کشمیر نہیں‘
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
’مریم نواز پنجاب کے بجٹ سے دوسرے علاقوں پر اخراجات کیسے کر سکتی ہیں؟‘
پاکستان کے سوشل میڈیا پر اِس بحث نے اُس وقت جنم لیا جب تین روز قبل وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 10 الیکٹرک بسوں کی ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ ’گرین بسیں مظفرآباد پہنچ گئی ہیں۔‘
وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے یہ اعلان پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے تحت میرپور ڈویژن میں ہونے والی پولنگ سے محض دو روز قبل کیا گیا تھا۔
مریم نواز اور حکومت پنجاب کے ’ایکس‘ ہینڈلز سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد پہنچنے والی اِن گرین بسوں پر آویزاں بینرز پر مریم نواز کی تصویر کے ساتھ یہ عبارت درج تھی: ’وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی طرف سے آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے لیے تحفہ۔‘
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب مریم نواز اور سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف میرپور ڈویژن میں انتخابی مہم چلانے کی غرض سے وہاں موجود تھے۔
وفاقی حکومت کے مشیر اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما رانا ثنا اللہ نے نجی ٹی وی چینل ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’چونکہ کشمیر میں نگران حکومت کا نظام موجود نہیں، اس لیے وفاقی اور صوبائی وزرا بھی انتخابی مہم کا حصہ بنے ہیں۔‘
ان کے مطابق نئی قانون ساز اسمبلی کو اس قانون میں ترمیم پر غور کرنا چاہیے تاکہ برسرِ اقتدار جماعت انتخابی عمل پر اثرانداز نہ ہو سکے اور حکومتی عہدے دار انتخابی مہم میں شریک نہ ہوں۔
تاہم اس صورتحال نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا انتخابی مہم کے دوران سرکاری وسائل یا عوامی فنڈز سے فراہم کی جانے والی سہولتوں اور منصوبوں کا اعلان یا تقسیم کی جا سکتی ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی سوال نے اس معاملے کو مزید متنازع بنا دیا، خصوصاً اس لیے کہ بسوں کی فراہمی میرپور ڈویژن میں انتخابات سے محض ایک روز قبل جبکہ مظفر آباد ڈویژن میں انتخابات سے آٹھ روز قبل کی گئی ہے۔
اس اقدام پر سیاسی جماعتوں، مبصرین اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ردعمل سامنے آیا، جبکہ ڈپٹی کمشنر آفس مظفرآباد کی جانب سے جاری کیے گئے ایک پریس نوٹ میں کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے مظفرآباد کے لیے فراہم کی جانے والی 10 الیکٹرک بسیں، جو شہر پہنچ چکی ہیں، الیکشن کمیشن کے ضابطۂ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے فی الحال سول سیکریٹریٹ مظفرآباد کی پارکنگ میں کھڑی کر دی گئی ہیں۔
پریس نوٹ کے مطابق ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ ان بسوں کو انتخابات مکمل ہونے کے بعد سڑکوں پر لایا جائے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق یہ بسیں صرف مظفرآباد ہی نہیں بلکہ میرپور کے لیے بھی فراہم کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے میرپور کے لیے بھی بسیں پہنچا دی گئی ہیں، تاہم وہ فی الوقت ضلعی انتظامیہ کے احاطے میں کھڑی ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس اقدام پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی تنقید کی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’آپ کو بسوں، ایئرپورٹ اور سڑکوں کے وعدے سنائے جا رہے ہیں، میں کسی بس، ایئرپورٹ، ہسپتال یا سڑک کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ لیکن عوام کے پیسے سے بننے والی ہر چیز کسی سیاستدان کا تحفہ نہیں ہوتا بلکہ عوام کا حق ہوتی ہے۔‘
بی بی سی نے اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) کے متعدد وزرا سے موقف جاننے کی کوشش کی، تاہم کسی نے تفصیلی جواب نہیں دیا۔
البتہ لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری سے پوچھا گیا کہ آیا کشمیر کو بسیں فراہم کرنے سے قبل پنجاب کابینہ اور اسمبلی سے منظوری حاصل کی گئی تھی؟
اس سوال کے جواب میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ’تمام قواعد و ضوابط پورے کرنے کے بعد ہی معاملات آگے بڑھتے ہیں۔ جن لوگوں نے خود کچھ نہیں کیا، وہ بلاوجہ الزامات لگا رہے ہیں۔‘
دوسری جانب پنجاب کے وزیر تعلیم نے ایک بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ چیف ایگزیکٹیو کو اس نوعیت کے تحائف دینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے اور ایسے فیصلوں کی منظوری پنجاب اسمبلی کے بجائے پنجاب کابینہ دیتی ہے۔
’یہ اپنے آپ کو بادشاہ سلامت سمجھتے ہیں‘
اس معاملے پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمد معین الدین ریاض نے کہا کہ اصولی طور پر ہر منتخب حکومت اپنی اسمبلی کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے، تاہم اُن کے بقول ’یہ فارم 47 کی حکومت ہے، اس لیے خود کو بادشاہ سلامت سمجھتی ہے اور عوامی فنڈز کے استعمال پر جواب دہی ضروری نہیں سمجھتی۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب حکومت نے عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لیے بغیر مالی نوعیت کے فیصلے کیے ہوں۔
’اس سے قبل حکومت نے ایک جہاز خریدا تھا۔ ہم مسلسل پوچھتے رہے کہ یہ جہاز بجٹ کی کس مد سے خریدا گیا اور اس کی ضرورت کیا تھی، مگر اسمبلی کے فلور پر اٹھائے گئے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ بعد میں صرف یہ کہا گیا کہ ہاں، جہاز خریدا ہے۔۔۔‘
معین الدین ریاض کا کہنا تھا کہ پنجاب کے وسائل پر سب سے پہلا حق پنجاب کے عوام کا ہے، اس لیے صوبے کے فنڈز بنیادی طور پر اسی صوبے کی ضروریات پر خرچ ہونے چاہییں۔
اُن کے بقول ’ان بسوں کی فراہمی کے معاملے میں اسمبلی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ حکومت کے طرزِ عمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فیصلے شفاف انداز میں نہیں کیے جا رہے۔ جہاں تک کابینہ کی منظوری کا تعلق ہے تو کابینہ میں موجود اکثر افراد وزیر اعلیٰ کے فیصلوں کی تائید کرتے ہیں، جس کے باعث عوامی وسائل کے استعمال پر مؤثر احتساب نہیں ہو پاتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایک طرف وسائل این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے تقسیم ہوتے ہیں اور دوسری طرف پنجاب کے وسائل دیگر علاقوں میں خرچ کیے جا رہے ہیں۔ کشمیر کو بسیں اس انداز میں دی گئی ہیں جیسے یہ کسی فرد کی ذاتی ملکیت ہو۔ یہ نہ صرف ایک متنازع فیصلہ ہے بلکہ انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کا تاثر بھی پیدا کرتا ہے۔‘
معین الدین ریاض کے مطابق انتخابی مہم کے دوران ووٹرز سے ایسے وعدے یا اس نوعیت کے اعلانات نہیں کیے جا سکتے جو انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
انھوں نے کہا کہ اگر ’بعد میں اگر ان اخراجات کو سپلیمنٹری بجٹ کا حصہ بھی بنا دیا جائے تو بھی قانونی اور اخلاقی سوالات اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔ ہم یہ معاملہ پنجاب اسمبلی میں اٹھائیں گے۔‘
کیا ایک صوبے کے وسائل دوسرے علاقے پر خرچ کیے جا سکتے ہیں؟
یہ سوال سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث رہا ہے۔
کاشف اعوان نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’اصولی طور پر پنجاب اسمبلی میں اِس کے خلاف کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ صوبے کے فنڈز اپنی جماعت کی انتخابی مہم کے لیے خرچ کرنے کی اس سے بدترین مثال شاید پیپلز پارٹی یا پی ٹی آئی میں نہ ملے۔‘
ایکس صارف اویس سلیم نے تبصرہ کیا کہ ’اگر یہ کسی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں تھی تو بسوں کو روکنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اگر خلاف ورزی تھی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟‘
اس معاملے کے قانونی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے احمد بلال محبوب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اصولی طور پر جب بھی کسی صوبے کے فنڈز کسی دوسرے صوبے یا علاقے میں کسی منصوبے پر خرچ کیے جائیں تو اس کے لیے کابینہ اور بعد ازاں اسمبلی کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ تاہم پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں سپلیمنٹری بجٹ کا طریقۂ کار بعض اوقات حکومتوں کو بعد میں قانونی جواز فراہم کر دیتا ہے۔‘
انھوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس اقدام پر کہا کہ ’آپ وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں، وزیر اعظم پاکستان یا وزیر اعظم کشمیر نہیں۔‘
ان کے مطابق ’چونکہ موجودہ مالی سال کا بجٹ پہلے ہی منظور ہو چکا ہے، اس لیے اگر کابینہ کی منظوری حاصل کی گئی ہو تو یہ اخراجات بعد میں سپلیمنٹری بجٹ کا حصہ بن سکتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتخابی ضابطۂ اخلاق کے تحت ’انتخابی مہم کے دوران کسی ووٹر یا علاقے کو کوئی تحفہ دینا یا اس کا وعدہ کرنا ممنوع ہے۔‘
احمد بلال محبوب کے مطابق اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا الیکشن کمیشن اس معاملے میں مزید کارروائی کرتا ہے یا نہیں۔
’اس کا فیصلہ نہ صرف اس معاملے کی قانونی حیثیت واضح کرے گا بلکہ انتخابی ضابطۂ اخلاق کے نفاذ کی سنجیدگی کا بھی ایک اہم امتحان ہو گا۔‘