لائیو, امریکی حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائی: پاسداران انقلاب کا بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں سمیت 85 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکی فوج کی مرکزی کمان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کے نئے سلسلے میں 80 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ابتدائی جواب‘ کے طور پر انھوں نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے 85 اہداف کو نشانہ بنایا۔

خلاصہ

  • آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر حملوں کے بعد امریکہ کے ایران پر حملے
  • ایران میں 80 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی فوج
  • بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں سمیت 85 اہداف پر حملے کیے: پاسداران انقلاب
  • برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز میں تین بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا
  • سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی عراق میں آخری رسومات

لائیو کوریج

  1. ایرانی فوج کا بحرین میں امریکی اڈے پر حملے کا دعویٰ

    بحرین میں امریکی بیس

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی فوج نے بحرین میں واقع امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ بیس پر موجود امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    بیان کے مطابق یہ کارروائی جنوبی ایران کے فوجی اور غیر فوجی علاقوں پر امریکی حملوں اور 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی۔

    ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ حملہ ڈرونز کے ذریعے کیا گیا۔

    ایرانی فوج کے بیان میں ’جنگ بندی کی خلاف ورزی کے نتائج‘ سے بھی خبردار کیا گیا اور کہا گیا کہ ’خطے میں موجود تمام امریکی اڈے ایرانی فوج کے ڈرونز کے لیے جائز ہدف ہوں گے۔‘

    یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بحرین میں دوبارہ دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے بحرین میں موجود نامہ نگار کے مطابق ملک کے شمالی حصوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    ایرانی فوج کا یہ بیان پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کے کچھ دیر بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی تنصیبات پر 85 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

  2. نیٹو کے سربراہ نے ایران پر امریکی حملوں کو ’انتہائی ضروری‘ قرار دے دیا

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹ

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رٹہ نے ایران پر امریکی حملوں کی حمایت کرتے ہوئے انھیں ’انتہائی ضروری‘ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے یہ بیان بدھ کو انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر دیا۔

    صحافیوں سے گفتگو میں مارک رٹہ نے کہا: ’میرے خیال میں یہ اقدام انتہائی ضروری تھا، کیونکہ جب جنگ بندی نافذ ہو اور ایران اس کی خلاف ورزی کرے، جیسا کہ ہم نے گذشتہ روز تجارتی جہازوں پر حملوں کی صورت میں دیکھا، تو یہ بہت اہم ہو جاتا ہے کہ امریکہ فیصلہ کن ردعمل دے۔‘

  3. سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی عراق میں آخری رسومات

    نجف میں علی خامنہ ای کی آخری رسومات

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    تقریباً چار ماہ قبل امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا تابوت ایران سے عراق منتقل کیا گیا، جہاں ان کی آخری رسومات جاری ہیں۔

    ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق سات جولائی کی رات علی خامنہ ای کا تابوت عراق کے شہر نجف پہنچایا گیا۔ اس موقع پر عراقی سکیورٹی فورسز نے سلامی پیش کی۔

    اس وقت نجف میں ان کی آخری رسومات جاری ہیں، علی خامنہ ای کا تابوت ایک گاڑی کے ذریعے جنازے کے مقام تک لے جایا جا رہا ہے اور سوگواروں کی بڑی تعداد اس کے ہمراہ پیدل چل رہی ہے۔

    آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات سات روز پر محیط ہیں، جس کا آغاز تین جولائی کو تہران کے مذہبی اور ثقافتی مرکز امام خمینی مصلیٰ سے ہوا تھا۔ پانچ جولائی کو ان کی نماز جنازہ تہران میں ادا کی گئی، اور اگلے روز تک ان کا تابوت عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا۔

    سات جولائی کو میت قم منتقل کی گئی جہاں جمکران میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی، اور پھر میت نجف پہنچائی گئی۔ نجف میں روضۂ امام علی میں جلوس اور تعزیتی تقریبات کے بعد میت کو کربلا منتقل کیا جائے گا، جہاں آخری رسومات کا اگلا مرحلہ ادا کیا جائے گا۔

    نو جولائی کو مشہد میں روضۂ امام رضا پر آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی جائے گی۔

  4. امریکہ نے مفاہمتی یادداشت کی چار شقوں کی خلاف ورزی کی: باقر قالیباف

    باقر قالیباف

    ،تصویر کا ذریعہMajid Saeedi/Getty Images

    امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ حملوں کے چند گھنٹے بعد ایران کے مرکزی مذاکرات کار اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی چار شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

    قالیباف کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایران کے طے کردہ انتظامات کی خلاف ورزی، مزید حملوں کی مسلسل دھمکیاں، تیل کی فروخت پر پابندیوں کی بحالی اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کا جاری رہنا ان اقدامات میں شامل ہیں جنھیں وہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’دھونس اور استحصال کا دور ختم ہو چکا، اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ہم جھکتے نہیں ہیں۔‘

  5. امریکی فوجی اہداف پر 85 حملے کیے: پاسداران انقلاب

    پاسداران انقلاب

    ،تصویر کا ذریعہWANA/Reuters

    ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے 85 اہداف کو نشانہ بنایا۔

    اس سے پہلے امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) کی جانب سے ایران میں 80 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

    بدھ کو جاری پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق امریکی فوجی تنصیبات پر کیے گئے حملے اس کا ’ابتدائی جواب‘ ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی تدفین میں عوام کی غیر معمولی شرکت کے بعد امریکہ نے ایک بار پھر جنگ بندی اور اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کی اور آج علی الصبح ہرمزگان اور ماہشہر کے ساحلی علاقوں میں بعض فوجی اڈوں اور غیر فوجی مراکز پر فضائی حملے کیے۔

    بیان میں مزید کہا گیا: ’اس جارحیت کے ابتدائی جواب میں، پاسداران انقلاب کی بحری اور فضائی افواج نے مشترکہ میزائل اور ڈرون کارروائیوں کے ذریعے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے مرکز، پورٹ سلمان اور کویت میں علی السالم فضائی اڈے سمیت 85 اہم امریکی فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا۔‘

    پاسداران انقلاب نے ایک امریکی ایم کیو نائن ڈرون مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا۔

    اس سے قبل کویتی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ بحرین میں بھی خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

  6. فضائی دفاعی نظام میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے: کویتی فوج

    کویتی فوج کا بیان

    ،تصویر کا ذریعہx.com/KuwaitArmyGHQ

    کویتی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی دفاع کا نظام اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے ۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کویتی فوج کے بیان میں کہا گیا: ’اگر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تو یہ فضائی دفاعی نظام کے دشمن کے حملوں کو روکنے کے باعث ہوں گی۔‘

    کویتی فوج نے شہریوں اور ملک میں مقیم افراد سے کہا ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ایران میں 80 سے زیادہ اہداف پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) کے مطابق یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

    جبکہ ایران نے امریکی حملوں کا ’فیصلہ کن‘ جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

  7. امریکی حملوں کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا: خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) کی جانب سے ایران میں 80 سے زیادہ اہداف پر نئے حملوں کے تقریباً ایک گھنٹے بعد، ایران میں جنگ کی کمان سنبھالنے والے خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر نے کہا ہے کہ ’ایران کی مسلح افواج امریکہ کی جارحیت اور دہشت گردانہ کارروائی کا فیصلہ کن جواب دیں گی۔‘

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کسی صورت آبنائے ہرمز کے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔

    خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے بیان میں مزید کہا گیا: ’ایک بار پھر واضح کیا جاتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کے لیے صرف وہی راستہ محفوظ ہے جس کا تعین ایران نے کیا ہے۔‘

  8. ایران میں 80 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی فوج

    ایران پر امریکی حملے کا منظر

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کے نئے سلسلے میں 80 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں سینٹ کام نے کہا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ایران کے حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی۔

    سینٹ کام کے مطابق امریکی فورسز نے ایران کے فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس، ساحلی ریڈار تنصیبات، بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائل نظام اور آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں موجود پاسدارانِ انقلاب کی 60 سے زیادہ چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔

    بیان میں سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد بین الاقوامی تجارتی گزر گاہ سے ہونے والی تجارت پر حملے جاری رکھنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔

    سینٹ کام کے مطابق ایران نے حال ہی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر حملے کیے، جن میں مارشل آئی لینڈز کا پرچم بردار ایم/ٹی الرقایات، سعودی عرب کا پرچم بردار ایم/ٹی ودیان اور لائبیریا کا پرچم بردار ایم/ٹی سائپرس پراسپیرٹی شامل ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ ایرانی فورسز کی یہ بلا اشتعال جارحیت جنگ بندی کی واضح اور خطرناک خلاف ورزی ہے اور یہ بحری نقل و حرکت کی آزادی کو نقصان پہنچاتی ہے۔

    سینٹ کام نے کہا کہ اگر معاہدے کی پاسداری نہ کی گئی یا اس پر عمل در آمد میں ناکامی ہوئی تو امریکی فورسز ایران کو جواب دہ ٹھہرانے کے لیے تعینات اور تیار ہیں۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی حملوں کو دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ تہران ’فیصلہ کن اقدامات‘ کرے گا۔

  9. آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر حملوں کے بعد امریکہ کے ایران پر حملے

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے ایران پر نئے حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جسے امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) کی جانب سے تین تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کا جواب کہا جا رہا ہے۔

    منگل کے روز سینٹ کام نے کہا کہ اس نے یہ کارروائی اس لیے شروع کی ہے ’تاکہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں بے گناہ افراد کے عملے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے اور ان پر حملے کرنے کی بھاری قیمت عائد کی جا سکے۔‘

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی حملوں کو دونوں ممالک کے درمیان گذشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا اور خبردار کیا کہ تہران ’فیصلہ کن اقدامات‘ کرے گا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے جزیرہ قشم، بندر عباس اور سیریک پر ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ زخمی ہوئے تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔

    گذشتہ روز برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن (یو کے ایم ٹی او) نے 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز کے قریب تین بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاع دی تھی۔

    تنظیم کے مطابق منگل کو ایک ٹینکر نے اطلاع دی کہ آبنائے ہرمز سے نکلتے وقت اسے نشانہ بنایا گیا، لیکن وہ اپنی اگلی بندرگاہ تک جانے میں کامیاب رہا، جبکہ ایک اور ٹینکر نے اطلاع دی کہ نشانہ بنائے جانے کے بعد اسے معمولی نقصان پہنچا۔

    اسی طرح ایک تیسرا تیل بردار جہاز عمان کے جزیرہ نما مسندم سے تقریباً 6 بحری میل کے فاصلے پر ایک نا معلوم شے کے حملے کی زد میں آیا۔

    نشانہ بنائے گئے دو جہازوں کا تعلق قطر اور سعودی عرب سے تھا اور انھوں نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا۔

    قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق آئل ٹینکر الرقایات پر حملے کی تمام تر ذمہ داری ایران پر ہے۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ قطر نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’فوری طور پر تمام ایسے اقدامات بند کرے جو علاقائی سلامتی کو کمزور کرتے ہیں‘ اور ’محدود مفادات کے حصول کے لیے عالمی توانائی کی رسد اور خطے کے ممالک کے وسائل کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرے۔‘

    سوشل میڈیا پر ایک علیحدہ پوسٹ میں سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران نے سعودی ٹینکر ودیان کو آبنائے ہرمز عبور کرتے وقت نشانہ بنایا۔

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے قطر کے الزامات کو ’حسنِ ہمسائیگی کے اصول کے منافی‘ قرار دیا۔

    ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں انھوں نے مزید کہا کہ جو تجارتی بحری جہاز ایران کے ساتھ طے شدہ راستوں کے بجائے دوسرے راستے استعمال کرتے ہیں یا اپنی نقل و حرکت کی نگرانی کے نظام میں رد و بدل کرتے ہیں، انھیں تصادم کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور اس سے آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کی ایران کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔

    امریکہ نے ٹینکروں پر حملوں کو ’مکمل طور پر نا قابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے نتائج ہوں گے۔

    منگل کی شب جاری بیان میں سینٹ کام نے کہا کہ امریکی حملے ’ایرانی حملوں کے جواب میں‘ کیے گئے۔

    اس نے کہا: ’ایران کی جارحیت بلا جواز، خطرناک اور جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی تھی۔‘

    حملوں سے پہلے، امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کے روز اس استثنیٰ کو منسوخ کر دیا تھا جس کے تحت ایران پر عائد تیل فروخت کرنے کی پابندیوں میں عارضی نرمی کی گئی تھی۔

    گذشتہ ماہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

    ایران کی وزارت خارجہ نے اس اقدام کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس سے امریکی حکومت کی ’بد نیتی، عدم تسلسل اور نا قابل اعتبار ہونے‘ کا ثبوت ملتا ہے۔

    اس نے مزید کہا کہ تہران ’ہر وہ اقدام کرے گا جسے وہ اپنے قومی مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھے۔‘

  10. لا پتہ کارگو طیارے کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری، کراچی آنے والی پرواز پر پانچ افراد سوار تھے

    شارجہ سے کراچی آنے والی کے ٹو ایئرویز کی کارگو پرواز لا پتہ

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    شارجہ سے کراچی آنے والی کے ٹو ایئرویز کی بوئنگ 737 کارگو پرواز لاپتہ ہو گئی ہے، جس میں عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔

    پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق پرواز نے مقامی وقت کے مطابق رات نو بج کر 18 منٹ پر نیوی گیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی، جس کے بعد کراچی ایریا کنٹرول سینٹر (اے سی سی) نے فوری طور پر طیارے کی رہنمائی کی۔

    بیان کے مطابق رات نو بج کر 21 منٹ پر ریڈار پر طیارہ تیزی سے نیچے آتا ہوا نظر آیا اور اس کا رخ اچانک تبدیل ہوتا دیکھا گیا، جس کے بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا۔

    پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق واقعے کے بعد ریسکیو کوآرڈی نیشن سینٹر کو فعال کر دیا گیا، جبکہ لا پتہ طیارے کی تلاش کے لیے پاکستانی بحریہ، فضائیہ اور دیگر اداروں کے تعاون سے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

  11. گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز میں تین بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا

    برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز کے قریب تین بحری جہازوں نے حملے کا نشانہ بننے کی اطلاع دی ہے۔

    اس برطانوی بحری ادارے کے مطابق، ان میں سے ایک قطر کا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والا جہاز تھا، جس پر ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔

    قطر نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا ہے، تاہم تہران کی جانب سے ابھی تک اس بارے میں کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

    اسی دوران، ایک بہت بڑا خام تیل بردار جہاز (VLCC) بھی بحیرۂ عمان میں متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ خور فکّان سے 16 بحری میل مشرق میں حملے کا نشانہ بنا۔

    تیسرا تیل بردار جہاز عمان کے جزیرہ نما مسندم سے تقریباً 6 بحری میل کے فاصلے پر ایک نامعلوم شے کے حملے کی زد میں آیا۔

    ایران نے امریکہ کے ساتھ ایک ماہ سے بھی کم عرصہ قبل طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھلا رکھے گا۔

  12. مجھے یقین ہے ترکی بھی نہیں چاہتا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں: ٹرمپ

    ٹرمپ اور طیب اردوغان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی جانے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی میں ملک کے کردار کے بارے میں بات کی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ انقرہ ’ایران اور اس سے متعلق مسائل کو بخوبی جانتا ہے‘ انھوں نے مزید کہا کہ ترکی نے ایران کے معاملے میں ’بہت موثر‘ مدد فراہم کی ہے۔

    امریکی صدر نے ترکی کو ’بہت طاقتور فوجی ملک‘ قرار دیا اور اس ملک اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’وہ جنگ میں جا سکتے تھے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ شاید یہ میری وجہ سے تھا۔‘

    ٹرمپ نے ترکی اور امریکہ کے تعلقات کو ’زبردست‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترکی نے ایران کے ساتھ جنگ ​​ختم کرنے کے لیے کام کیا ہے۔

    انھوں نے ایران کے ساتھ امریکی محاذ آرائی کے بارے میں کہا: ’یہ جنگ نہیں ہے، یہ ایک فوجی آپریشن ہے، یہ جوہری تخفیف ہے۔‘

    امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انقرہ اور واشنگٹن ایران کی جوہری صلاحیت کے بارے میں یکساں نظریہ رکھتے ہیں: ’میں نہیں سمجھتا کہ ترکی بھی یہ چاہتا ہے کہ وہ (ایران) جوہری ہتھیار رکھے۔ مجھے اس پر پورا یقین ہے۔‘

  13. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’امریکہ ترکی پر عائد پابندیاں ختم کرنے جا رہا ہے‘
    • اٹلی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اسرائیل اور لبنان کی حکومت کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کی میزبانی کرے گا
    • مشرقی چین کی ایک عدالت نے ایک سابق سرکاری عہدیدار کو تقریباً 30 برس کے دوران دو اعشاریہ دو ارب یوان یعنی تقریباً 325 ملین امریکی ڈالر سے زائد رشوت لینے کے جرم میں سزائے موت سنا دی ہے
    • سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کے خلاف درخواستوں پر سماعت، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، آئی جی جیل خانہ جات اور نیب کو نوٹس جاری کر دیے
    • بلوچستان کے ضلع زیارت میں مسلح افراد کا حملہ، نو پولیس اہلکار ہلاک
  14. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔