مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایران یا کسی اور ملک کے خلاف نہیں: ترک وزیرِ خارجہ

،تصویر کا ذریعہSaudi Press Agency
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا ہے کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پایا جانے والا باہمی دفاعی معاہدہ تکنیکی طور پر نیٹو معاہدے کی شق 5 سے مشابہت رکھتا ہے جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق سنیچر کے روز ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ایران یا کسی اور ملک کے خلاف نہیں بلکہ اس کا مقصد تینوں رکن ممالک کی سلامتی کے لیے ایک عمومی عزم پیدا کرنا ہے۔
ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہوتا ہے تو تینوں ممالک باہمی مشاورت کے ذریعے یہ طے کریں گے کہ کتنی، کس نوعیت کی اور کس شکل میں مدد درکار ہے، اور جب تک کسی رکن ملک کو حملے کا نشانہ نہ بنایا جائے کسی ملک کو خطرہ تصور نہیں کیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ترک صدر رجب طیب اردوغان اس معاہدے کو خطے کے دیگر ممالک تک وسعت دینا چاہتے ہیں اور بعض تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد مصر بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے۔
ہاکان فیدان کے مطابق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات ڈھائی سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہیں۔ نیٹو کی طرز پر ایک وزارتی کمیٹی قائم کی جائے گی، جبکہ اتحاد کا جنرل سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم ہو گا۔
یاد رہے کہ جنعمہ کے روز پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘














