مرید عباس کے قتل کے مرکزی ملزم کو سزائے موت: گولیوں کے خول، فون ریکارڈ اور سی سی ٹی وی نے قتل کیسے ثابت کیا؟

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

صوبہ سندھ کے شہر کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی نے صحافی مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات دونوں کے قتل میں مرکزی ملزم عاطف زمان کو الگ الگ سزائے موت سنائی ہے۔

عدالت نے عاطف زمان کو دونوں مقتولین کے لواحقین کو پانچ، پانچ لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے جبکہ عدم ادائیگی کی صورت میں انھیں مزید چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

عدالت نے غیر قانونی اسلحہ استعمال کرنے کے مقدمے میں بھی ملزم کو سات سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

دوسری جانب مفرور شریک ملزم عادل زمان کے دائمی وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔ عادل زمان سپریم کورٹ سے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد فرار ہو گئے تھے جبکہ ٹرائل کورٹ انھیں پہلے ہی اشتہاری قرار دے چکی تھی۔

یہ مقدمہ نو جولائی 2019 کو تھانہ درخشاں میں درج کیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق کاروباری لین دین کے تنازع پر عاطف زمان اور ان کے بھائی عادل زمان نے نجی چینل میں اینکر پرسن مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات کو فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔

گولیوں کے خول، فون ریکارڈ، سی سی ٹی وی جیسے شواہد

اس مقدمے کی پیروی انسانی حقوق کے وکیل جبران ناصر نے کی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں قتل کے الگ الگ چشم دید گواہان موجود تھے۔

ان کے مطابق خضر حیات کے قتل کے دو گواہ ان کے منیجر امتیاز اور بھائی الیاس تھے، جبکہ مرید عباس کے قتل کے دو گواہ عمر ریحان اور اسامہ تھے۔

عمر ریحان مرید عباس کے قریبی دوست تھے اور عاطف زمان کو بھی جانتے تھے، جبکہ اسامہ اس دفتر میں ٹی بوائے تھے ’جہاں مرید عباس کو گولی ماری گئی۔‘

جبران ناصر کے مطابق تفتیش کے دوران عاطف زمان سے برآمد ہونے والے پستول کا فرانزک معائنہ کیا گیا تو ’اس سے چلائی گئی گولیاں اور خالی خول جائے وقوعہ سے ملنے والے خولوں سے میچ کر گئے۔‘

انھوں نے بتایا کہ یہ پستول عاطف زمان کے بھائی اور شریک ملزم عادل زمان کے نام پر رجسٹرڈ تھا، جبکہ اسلحہ فروخت کرنے والے دکاندار کی گواہی نے بھی اس کی خریداری کی تصدیق کی۔

جبران ناصر کے مطابق مقدمے میں موبائل فون کے کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) بھی اہم ثبوت کے طور پر پیش کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ قتل سے تقریباً ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل اور وقوعے کے وقت تک عاطف زمان مسلسل مرید عباس، خضر حیات اور گواہ عمر ریحان سے فون پر رابطے میں تھے۔

ان کے بقول ’اسی ڈیٹا سے یہ بھی ثابت ہوا کہ قتل کے وقت ملزم کی لوکیشن بخاری کمرشل، ڈی ایچ اے فیز 6 میں تھی، جہاں دونوں افراد کو قتل کیا گیا۔‘

عدالت میں پیش کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی استغاثہ کے اہم شواہد میں شامل تھی۔

جبران ناصر کے مطابق ’فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مرید عباس پر فائرنگ کے بعد جب عمر ریحان اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے بھاگے تو عاطف زمان ہاتھ میں پستول لیے ان کا تعاقب کر رہے تھے۔ جبکہ عادل زمان بھی اس کے ساتھ موجود تھے۔‘

ان کے مطابق چشم دید گواہوں کے بیانات، فرانزک اور بیلسٹک رپورٹ، موبائل فون کے کال ڈیٹا ریکارڈ اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت تمام شواہد نے مل کر استغاثہ کا مقدمہ مضبوط کیا۔ ان کے مطابق اسی بنیاد پر عدالت نے عاطف زمان کو دونوں قتل کے مقدمات میں سزائے موت سنائی۔

مرید عباس کون تھے اور ان کا قتل کیسے ہوا؟

مرید عباس تقریباً ایک دہائی تک صحافت سے وابستہ رہے اور نیوز اینکر و اینکر پرسن کے طور پر کام کرتے رہے۔ جولائی 2019 میں انھیں اور ان کے دوست خضر حیات کو قتل کر دیا گیا تھا، جس کے الزام میں عاطف زمان اور اس کے بھائی عادل زمان کو گرفتار کیا گیا۔

مرید عباس کی بیوہ زارا عباس کے مطابق عاطف زمان سے مرید عباس کی دوستی چند سال قبل ہوئی تھی، جو وقت کے ساتھ گہری ہو گئی۔ عاطف زمان سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے کا دعویٰ کرتا تھا اور مرید عباس کے ذریعے متعدد افراد نے اس کے کاروبار میں رقم لگائی۔

عمر رحمان، جو مرید عباس کے دوست اور واقعے کے چشم دید گواہ تھے، نے بتایا کہ انھوں نے بھی مرید عباس کے ذریعے عاطف زمان کے ٹائر کے کاروبار میں سرمایہ کاری کی تھی۔ ان کے مطابق عاطف زمان سرمایہ کاروں کو باقاعدگی سے منافع بھی دیتا رہا۔

واقعے کے روز عاطف زمان نے عمر رحمان اور مرید عباس کو دفتر بلا کر یقین دہانی کروائی کہ وہ تمام واجبات ادا کرے گا۔ عمر رحمان کے مطابق وہ مرید عباس کے ساتھ دفتر پہنچے جہاں آفس بوائے اسامہ احمد بھی موجود تھا۔

اسامہ احمد نے بیان دیا کہ کچھ دیر بعد عاطف زمان اپنے بھائی عادل زمان کے ساتھ دفتر آیا اور اس کے ہاتھ میں پستول تھی۔ عمر رحمان کے مطابق جب مرید عباس واش روم سے واپس آئے تو عاطف زمان نے ان سے کہا کہ ’آپ کو پیسے چاہییں؟' اور فوراً فائرنگ شروع کر دی۔ گولیاں لگنے سے مرید عباس گر گئے۔‘

اسامہ احمد نے بھی فائرنگ کا منظر دیکھنے کی تصدیق کی اور بتایا کہ ’خوفزدہ ہو کر وہ مدد لینے کے لیے وہاں سے بھاگ گئے۔‘

دونوں چشم دید گواہوں کے مطابق فائرنگ عاطف زمان نے کی تھی۔