آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کراچی میں بیوہ خاتون کے ساتھ نامناسب زبان استعمال کرنے پر اسٹیٹ افسر معطل، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے پر سرکاری نظام پر تنقید
'میرا یہ مسئلہ ہے کہ میں بیوہ ہوں، میرا کوئی گھر نہیں‘۔۔۔ ’تو شادی کر لو کس نے منع کیا ہے۔۔۔ گھر بنا لو اپنا۔‘
یہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک خاتون کی جانب سے دی جانے والی دہائی کے جواب میں ایک اسٹیٹ افسر کا جواب تھا جو ان سے گھر خالی کروانے کے لیے وہاں موجود تھے۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا جس کے بعد سیکریٹری ہاؤسنگ افتخار علی نے مذکورہ افسر محمد ایوب کو معطل کر دیا۔
وزارتِ ہاؤسنگ کی جانب سے کی گئی ٹویٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب انھیں واپس وزارت میں رپورٹ کرنے کا کہا گیا ہے جہاں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ واقعہ کیسے پیش آیا؟
یہ واقعہ کراچی کی فیڈرل ریزیڈینشل کالونی میں جمعے کے روز اس وقت پیش آیا تھا جب گھروں سے بے دخلی کا آپریشن چل رہا تھا۔
تاہم اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سنیچر کو وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی جانب سے کی گئی ٹویٹس میں بتایا گیا ہے کہ افسر محمد ایوب کو معطل کیا گیا ہے۔
وزارت کی جانب سے کی گئی ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’کسی کے بارے میں بیہودہ زبان میں بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، خاص کر خواتین کے ساتھ۔‘
اس واقعے پر گذشتہ روز سے سوشل میڈیا پر خاصی بحث جاری ہے اور لوگ یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے افسر کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں اور پاکستان میں سرکاری نظام کے حوالے سے سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک صارف عابد جان نے لکھا کہ ’اس سے اچھے تو غیر مسلمان ملک ہیں جہاں بیوہ تو دور کی بات ہے عورت کو کبھی بے گھر نہیں کرتے۔ اور اگر بیوہ ہو اور چھوٹے بچے ہوں تو نوکری کرنے کا بھی نہیں کہتے اور عورت کو گھر اور عزت سے اچھی زندگی گزارنے کے پیسے دیتے ہیں۔‘
ایک اور صارف نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے ملک کا مسئلہ نہ عورتوں کے حقوق سے متعلق قانون سازی ہے نہ ہی کچھ اور، ہمارے ملک کا اصل مسئلہ یہی طاقتور اور کمزور کہ لیے دوہرا معیار قانون ہے۔
’جب تک یہ رویہ ختم نہیں ہوتا ہے تب تک اس ملک میں لاکھ انسانیت سے متعلق قوانین بن جائیں کوئی فرق نہیں آنا معاشرہ پر۔‘
متین ملک نامی صارف نے لکھا کہ ’اس آدمی کے اس بے حس رویے پر اسے شرم آنی چاہیے۔ کیا ہم خود کو ایک مسلمان ملک کہہ سکتے ہیں جہاں ایک لاچار عورت کی کوئی عزت نہیں ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
تاہم کچھ صارفین کا یہ بھی خیال تھا کہ اگر انھوں نے شادی کا مشورہ دیا ہے تو اس میں غلط کیا ہے۔
ایک صارف عاطف صدیقی نے کہا کہ ’ناراض ہونے والی بات کیا ہے شادی کا کہا کچھہ بھی تو اس میں غلط نہیں۔‘ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’مشورہ تو ٹھیک دیا ہے مگر غلط موقع پر دیا ہے۔‘
ایک صارف نے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’شرم و حیا اور بنیادی تربیت سے عاری یہ لوگ غریب عوام پر مسلط ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔‘
صارف شاہد حسین نے لکھا کہ ’یہ ہے اس نظام میں پنپنے والے مکروہ چہرے والے افسروں کی سوچ، ایسے مائنڈ سیٹ جب تک مسلط ہیں غریب عوام کو کوئی پرسان حال نہیں۔‘