ایران کے ساتھ مذاکرات اور جنگ بندی پر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کیا ظاہر کرتے ہیں؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انقرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو ’ختم‘ قرار دیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کار بات چیت جاری رکھ سکتے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے اس معاملے پر دوٹوک یا سخت بیان دیا ہو۔
ماضی میں بھی وہ مختلف مواقع پر جنگ بندی اور ایران سے متعلق متضاد اور سخت مؤقف اپناتے رہے ہیں۔
- 8 اپریل: امریکہ اور ایران نے عارضی طور پر دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
- 21 اپریل: ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتے اور توقع رکھتے ہیں کہ جلد دوبارہ بمباری شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم اسی روز انھوں نے کہا کہ پاکستان کی درخواست پر حملے روک دیے گئے ہیں۔
- 8 مئی: ٹرمپ نے کہا کہ دنیا کو اس وقت معلوم ہو جائے گا کہ جنگ بندی ختم ہو گئی ہے جب ’ایران سے ایک بڑی چمک اٹھتی نظر آئے گی‘۔
- 11 مئی: چند روز بعد انھوں نے کہا کہ جنگ بندی ’انتہائی نازک حالت‘ میں ہے۔
- 11 جون: ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے اور ایران پر سخت حملوں کی دھمکی دی، تاہم اسی شام حملے روک دیے گئے۔
- 17 جون: جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’اگر انھوں نے مناسب رویہ نہ اپنایا تو ہم دوبارہ ان کے سروں کے عین اوپر بم برسانا شروع کر دیں گے۔‘
- 8 جولائی: ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ جنگ بندی ’ختم‘ ہو چکی ہے، تاہم یہ بھی کہا کہ دونوں فریقوں کے مذاکرات کار بات چیت جاری رکھ سکتے ہیں۔
یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ ٹرمپ مختلف مواقع پر ایران کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے رہے، جبکہ بعض اوقات مذاکرات کے لیے گنجائش بھی باقی رکھتے رہے۔