زیارت میں یرغمالی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت: بلوچستان میں چار دن میں شدت پسندی کے تین بڑے واقعات پر آئی ایس پی آر کی بریفنگ

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 11 منٹ

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ گذشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں پیش آئے شدت پسندی کے تین بڑے واقعات میں 27 پولیس اور 11 فوجی اہلکاروں سمیت 42 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسی دوران کی گئی جوابی کارروائیوں میں 54 شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بدھ کی دوپہر ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اِن واقعات میں 27 پولیس اہلکاروں، 11 فوجی اہلکاروں اور چار سویلین کو ہلاک کیا گیا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے شدت پسندی کے جن تین بڑے واقعات کا ذکر کیا ان میں زیارت میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملہ بھی شامل ہے جس میں ان کے بقول مجموعی طور پر 27 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

ان کی جانب سے ان حملوں کا ذمہ دار انڈیا اور اس کے حمایت یافتہ شدت پسند گروہوں کو قرار دیا گیا۔ انڈیا نے تاحال اس الزام پر ردعمل نہیں دیا تاہم ماضی میں اس کی جانب سے ایسے دعوؤں کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔

شدت پسندی کے تین بڑے واقعات اور جوابی کارروائی

پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق چار اور پانچ جولائی کی درمیانی رات کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک میں شدت پسندوں نے عام شہریوں پر حملہ کیا، جس پر مقامی آبادی نے اپنی مدد آپ کے تحت ردعمل دیا، جس کے بعد یہ شدت پسند وہاں سے بھاگ جانے پر مجبور ہوئے تاہم اس کارروائی کے دوران چار شہری ہلاک ہوئے جبکہ چھ زخمی ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دوسرا واقعہ چھ جولائی (پیر) کو پیش آیا جب کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے زیارت میں واقع ایک پمپنگ سٹیشن کے قریب بلوچستان پولیس کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔

اُن کے مطابق اس چیک پوسٹ پر موجود فورس پانی کی پائپ لائن اور پمپنگ سٹیشن کی حفاظت پر مامور ہوتی ہے تاکہ کوئٹہ کے عوام اس ڈیم سے بلارکاوٹ پانی مل سکے۔

اُن کے مطابق شدت پسندوں نے مختلف اطراف سے اِس پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کا جواب دیا گیا اور اس کارروائی میں 15 عسکریت پسند ہلاک ہوئے جبکہ بلوچستان پولیس کے نو اہلکار اپنی جانوں سے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس کارروائی کی اطلاع ملتے ہی آرمی اور ایف سی کی ٹیموں کو زیارت روانہ کیا گیا مگر اُن کے پہنچنے سے قبل ہی عسکریت پسند چیک پوسٹ پر تعینات دیگر 18 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر لے گئے۔ انھوں نے کہا کہ اس چیک پوسٹ پر تعینات تمام پولیس اہلکار مقامی افراد تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی اور ایف سی کی ٹیموں نے عسکریت پسندوں کا تعاقب کیا اور اُن کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ یرغمالی پولیس اہلکاروں کی موجودگی کی وجہ سے شدت پسندوں کے خلاف فضائی ذرائع استعمال نہیں کیے گئے۔

احمد شریف چوہدری کے مطابق ’جب انھیں (عسکریت پسندوں) پتا چلا کہ گھیرا تنگ ہو چکا تو انھوں نے 18 یرغمالی پولیس اہلکاروں کو بدھ (آٹھ جولائی) کے روز ہلاک کر دیا۔‘

انھوں نے کہا کہ زیارت پولیس چیک پوسٹ واقعے میں مجموعی طور پر 27 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیوں میں 26 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق تیسرا واقعہ بدھ (آٹھ جولائی) کو پیش آیا جب بیلا میں آرمی کانوائے پر حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 11 سکیورٹی اہلکار، بشمول ایک جے سی او، ہلاک ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ خاران اور دالبندین میں دو کارروائیوں کے دوران بالترتیب چھ اور آٹھ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مجموعی طور پر ان تین بڑے واقعات میں 42 افراد بشمول چار سویلین، 27 پولیس اہلکار اور 11 فوجی اہلکار مارے گئے جبکہ 54 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت مختلف مقامات پر عسکریت پسندوں کے ساتھ انگیجمنٹس جاری ہیں اور فوج، ایف سی اور پولیس ان شدت پسندوں کا تعاقب کر رہی ہے۔

اپنی پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہ سب انڈیا اور وہ تمام دشمن قوتیں کروا رہی ہیں جن کو پاکستان کا استحکام اور خوشحالی پسند نہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ آپریشنز کے دوران مارے جانے والے شدت پسندوں میں سے زیادہ تر افغانستان کے شہری ہیں اور یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جا رہا ہے۔

پولیس اہلکاروں پر حملے کا واقعہ کہاں پیش آیا؟

مانگی میں حکومت بلوچستان ایک بڑا ڈیم تعمیر کر رہی ہے جس کا مقصد کوئٹہ شہر میں پانی کے مسئلے پر قابو پانا ہے۔ زیارت کے جس مقام پر پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا گیا، اس میں اس ڈیم کے فیز تھری کا کام جاری ہے۔

ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے پولیس اہلکار مانگی ڈیم کے فیز تھری کی کنسٹرکشن سائٹ پر ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔

مانگی بلوچستان کے دو اضلاع ہرنائی اور زیارت کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ ایک دشوارگزار پہاڑی علاقہ ہے جو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 65 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ہے۔

مانگی اور اس کے نواح میں ہرنائی اور زیارت کے علاقوں میں پہلے بھی سنگین بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جن میں سے زیادہ تر کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے کی جانب سے ہی قبول کی جاتی رہی تاہم مانگی ڈیم کے فیز تھری کی کنسٹرکشن سائٹ پر ہونے والے حملے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

’ہمارے ساتھیوں نے بھرپور مقابلہ کیا لیکن ان کے پاس اسلحہ کم تھا‘

بلوچستان کے ضلع زیارت میں منگل کے روز پیش آنے والے واقعے کے بارے میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مانگی میں اسلحے کی کمی کے باوجود ہمارے ساتھیوں نے کئی گھنٹے تک مقابلہ کیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ ’ان کے پاس اسلحے کی کمی تھی، اگر ان کے پاس مناسب مقدار میں اسلحہ ہوتا تو شاید ان کی زندگی بچ جاتی اور باقی لوگ اغوا نہ ہوتے۔‘

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سیکریٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال کا کہنا ہے کہ ’پولیس اہلکاروں نے اپنے گھر والوں کو فون کیا کہ ان کے پاس گولیاں ختم ہو چکی ہیں اور سورج غروب ہونے سے قبل اگر ہمیں امداد فراہم نہ کی گئی تو رات کے اندھیرے میں ہماری زندگیوں کو خطرہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ دن 12بجے سے رات آٹھ بجے تک، اعلیٰ حکام تک اطلاع پہنچ جانے کے باوجود حکومت نے تمام وسائل کے ہوتے ہوئے بھی اپنے لوگوں کی جان بچانے کی کوشش تک نہیں کی، کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے والے اپنے پولیس اہلکاروں کی زندگیاں بچائی جا سکتیں۔‘

تاہم محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے کہا کہ ’ہمارے پولیس کے جوانوں نے بہادری سے مقابلہ کیا لیکن یہ تاثر درست نہیں کہ ’ان کی مدد‘ کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس کی نفری ڈی ایس پی غلام سرور کی قیادت میں گئی تھی اور انھوں نے وہاں شدت پسندوں کے ساتھ مقابلہ کیا اور جس پولیس اہلکار کو بازیاب کروایا گیا وہ اسی پولیس پارٹی کی کوشش سے ہوا۔‘

بابر یوسفزئی نے بتایا کہ ’جب بھی کالعدم تنظیموں کے لوگ کوئی حملہ کرتے ہیں تو وہ راستوں پر آئی ای ڈیز بھی نصب کرتے ہیں اس لیے کسی جگہ تک پہنچنے سے پہلے راستوں کو بھی کلیئر کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ کوئی اور حادثہ پیش نہ آئے۔‘

اس واقعے میں ہلاک ہو جانے والے پولیس ایس ایچ او محمد حسن کے چچا عبداللہ جان سے فون پر رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ابھی اپنے پیاروں کی تدفین کرکے آئے ہیں اس لیے وہ اس وقت شدید صدمے کی حالت میں ہیں اور بات کرنے کے قابل نہیں۔‘

تاہم ایک ویڈیو میں زیارت ہسپتال میں وہ انتہائی جذباتی دکھائی دے رہے تھے اور انھیں یہ کہتے ہوئے سُنا گیا کہ ’بہت سنگین اور بڑی غفلت کی وجہ سے یہ سب کُچھ ہوا۔‘

اس واقعے کے خلاف احتجاجاً نہ صرف منگل کو زیارت شہر میں کاروباری مراکز بند رہے بلکہ ضلع پشین میں زیارت کراس پر لوگوں نے قومی شاہراہ کو 15 گھنٹے سے زائد تک بند رکھا۔

تحقیقات کے لیے کمیٹی کا قیام

حکومتِ بلوچستان نے زیارت پولیس کے ایس پی کو معطل کرتے ہوئے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔

ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق کمیٹی میں سیکریٹری ایس اینڈ جی اے ڈی، سینئر ڈی آئی جی پولیس اور انٹیلیجنس بیورو کے نمائندے شامل ہوں گے۔

انکوائری کمیٹی حملے سے قبل، دوران اور بعد کے تمام واقعات اور سکیورٹی اہلکاروں کے ردعمل کا جائزہ لے گی۔کمیٹی سکیورٹی اداروں کی تیاری، کمانڈ اینڈ کنٹرول، رابطہ کاری اور ایس او پیز پر عملدرآمد کا بھی تفصیلی جائزہ لے گی۔

وزیر اعلیٰ کے معاون برائے میڈیا شاہد رند کا کہنا ہے کہ ’غفلت، کوتاہی، آپریشنل خامیوں یا ذمہ داری کے تعین کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔‘

انکوائری کمیٹی مانگی ڈیم اور دیگر اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے فوری، درمیانی اور طویل المدتی سکیورٹی اقدامات بھی تجویز کرے گی۔‘

اس واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو اور پولیس کے سینیئر حکام کے ہمراہ سڑک کے ذریعے زیارت پہنچے۔

ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کو آئی جی پولیس طاہر خان نے زیارت میں مانگی ڈیم واقعہ اور مجموعی امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’بلوچستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا۔ حکومت اپنی آئینی اور قومی ذمہ داریوں سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور کسی بھی صورت عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ زیارت صرف ایک سرکاری دورے پر نہیں بلکہ مارے جانے والے اہلکاروں کےاہلخانہ کے غم میں شریک ہونے، زخمیوں کی دلجوئی کرنے اور اپنی پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر سکیورٹی فورسز کو یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ حکومت ہر محاذ پر ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔‘

انھوں نے مارے جانے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے آخری سانس تک بے مثال جرات، استقامت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا۔‘

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’حالات یقیناً چیلنجنگ اور مُشکل ہیں لیکن حکومت کا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔‘

سکیورٹی امور کے ماہرین کیا کہتے ہیں؟

بلوچستان میں طویل عرصے سے بدامنی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور گذشتہ تین چار روز میں ان واقعات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ان حملوں میں اضافے کی وجوہات کے بارے میں سکیورٹی امور کے ماہر اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا کا کہنا تھا کہ اس کے کئی عوامل ہیں جن میں سے ایک یہ کہ عسکریت پسندوں کی کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس میں ظاہر ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو سزا والا معاملہ بھی ہے۔

’اس کے علاوہ پہلے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیاں چند مخصوص علاقوں تک محدود تھیں لیکن اب ان کی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھ گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ چند دنوں میں جن علاقوں میں یہ واقعات رونما ہوئے ان علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں کم رہی ہیں لیکن ان کا زیادہ اثر پشتون علاقوں میں ژوب، شیرانی، قلعہ سیف اللہ اور لورالائی میں رہا کیونکہ یہ علاقے خیبرپختونخوا میں وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ جرائم پیشہ عنصر بھی شامل ہو گیا اور یہ ایک بڑی وجہ ہے۔

عامر رانا کا کہنا ہے کہ ’ابھی کچھ مشکوک افراد اس علاقے میں آئے ہیں وہ کون ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں، حکومت ان کے بارے میں کیا کہہ رہی ہے ابھی تک اس حوالے سے متضاد بیانات ہی سامنے آ رہے ہیں کہ ان کے مقاصد کیا ہیں لیکن ظاہر ہے کہ عام آدمی ان کی کا کارروائیوں سے متاثر ہو رہا ہے۔‘

عامر رانا کا کہنا تھا کہ اب سرکاری حکام نے یہ کہا ہے کہ بلوچستان میں ہائی ویز کو محفوظ بنانے کے لیے ایک خاص فورس بنا رہے ہیں اور پھر اضلاع میں پولیس کو مزید مظبوط اور مئوثر بنانے کا منصوبہ چل رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے بہت ساری چیزیں چل رہی ہیں لیکن ’اصل چیز یہ ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کو دیکھیں کہ کہیں ان میں تو کوئی مسئلہ نہیں؟‘