انڈونیشیا: ابوبکر بشیر کو پندرہ سال قید

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انڈونیشیا میں قدامت پرست مذہبی رہنما ابو بکر بشیر کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کے تحت قائم مقدمے عدالت نے انہیں پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
دارالحکومت جکارتہ کی ایک عدالت میں ابو بکر کے خلاف عسکریت پسندوں کی تربیت کرنے والے ایک کیمپ کو ہزاروں ڈالر فراہم کرنے الزام ثابت ہوگیا۔
انڈونیشیا کے صوبہ آچے میں یہ گروہ ملکی قیادت پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
استغاثہ نے ابو بکر بشیر کو عمر قید دینے کا مطالبہ کیا تھا تاہم یہ اب تک انہیں سنائی جانے والی سب سے زیادہ سزا ہے۔
جمعرات کو عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے موقع پر جکارتہ میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے۔ پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ جکارتہ میں قائم عدالت کے گرد تین ہزار سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔علاقے میں کافی کشیدگی پائی جاتی ہے۔
ہتر سالہ بشیر پر الزام ہے کہ انہوں نے صوبہ آچے میں قائم ایک جہادی کیمپ کی مالی امداد کی۔
بشیر ان الزامات سے انکار کرتے ہیں لیکن وہ مسلسل اس موقف کا بھی دفاع کر رہے ہیں کہ ایسا کرنا اسلام میں جائز ہے۔
بشیر ایک مذہبی رہنما ہے اور انڈونیشیا کے ایک قدامت پرست گروہ کے ساتھ گزشتہ چار دہائیوں سے وابستہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان چالیس برسوں کے دوران وہ کئی مرتبہ گرفتار ہوئے، انہیں قید سنائی گئی اور پھر یہ رہا ہوئے۔
جکارتہ میں بی بی سی کی نامہ نگار کرشمہ واسوان کا کہنا ہے کہ ’یہ بات اب بھی قابلِ بحث ہے کہ ابو بکر کی سزا سے کیا انڈونیشیا مںی دشہت گردی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ بشیر دورانِ قید بھی اپنی تعلیمات کا تبلیغ جاری رکھ سکتے ہیں۔‘
اس سے پہلے ابو بکر بشیر کے ترجمان ہاشم عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’انہیں لگتا ہے آج عدالت کا فیصلے انتہائی سخت ہوگا۔‘
ہاشم عبداللہ نے کہا کہ ’وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سزا جان بوجھ کر ان کی تبلیغ کو روکنے کے لیے دی جا رہی ہے۔‘
ابوبکر بشیر کو انسدادِ دہشت گردی کی پولیس نے گزشتہ برس اگست میں صوبہ آچے کے جہادی کیمپ پر چھاپے کے بعد گرفتار کیا تھا۔
انڈونیشیا میں اس کیمپ کے سامنے آنے کے بعد گزشتہ مہینوں میں ایک سو بیس کے قریب مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آچے میں یہ گروہ ایک ملیشیا بنا کر حکومتی اہداف کو نشانہ بنا کر ملک میں اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے۔
اس سے پہلے ابو بکر بشیر کے خلاف قائم مقدمے میں استغاثہ محمد طفیل نے عدالت کو بتایا کے ملزم کی جانب دی جانے والی رقم ممکنہ طور پر دہشت گردی کے مقاصد کے لئے استعمال ہو سکتی تھی۔
ابو بکر بشیر کا کہنا ہے کہ یہ الزامات ان کے خلاف امریکہ نے گھڑے ہیں۔
ابو بکر بشیر کو دو ہزار دو میں ہونے والے بالی بم دھماکوں کی سازش کے الزام میں بھی سزا دی جا چکی ہے جس میں دو سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
لیکن وہ دو ہزار چھ میں سزا میں کمی کے بعد رہا ہو گئے تھے۔ ایک اپیل کے بعد ان کی سزا ختم کر دی گئی تھی۔
زیادہ تر ماہرین کا کہنا ہے کہ ابو بکر بشیر کئی برسوں تک عسکری جہادی تنظیم جماع اسلامیہ کے روحانی پیشوا رہے ہیں۔
لیکن دو ہزار تین میں ایک مقدمے کے بعد وہ اس تنظیم کے ساتھ رابطوں کے الزام سے بھی بری ہو گئے تھے۔



















