چین:خشک سالی سے پینتالیس لاکھ متاثر

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی چین میں جاری خشک سالی کی وجہ سے پینتالیس لاکھ افراد کو پینے کے پانی کی کمی کا سامنا ہے۔
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے زنہوا کےمطابق خشک سالی پھیلنے کی وجہ سے فصلوں اور مال مویشیوں کو بھی اس سے خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
چین کے صوبہ جِلن سے ہمسایہ ملک منگولیا کے وسط تک پھیلنے والی خشک سالی سے نمٹنے کے لیے حکام نے وسیع پیمانے پر اقدامات کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ چین کو ہر سال سیلاب اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن کچھ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران موسمی حالات میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
سرکاری میڈیا نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعہ کے روز چھیالیس لاکھ سے زائد لوگوں پینے کا پانی حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا رہا جبکہ گزشتہ ہفتے یہ تعداد انتالیس لاکھ تھی۔
خشک سالی کی وجہ سے چالیس لاکھ مال مویشیوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے جبکہ اکیس ملین ایکٹر رقبے پر کھڑی فصلیں بوری طرح متاثر ہوئی ہیں۔حکومت کی جانب سے خشک سالی سے نمٹنے کے لیے اب تک حکام کو تقریباً چھبیس ملین ڈالر کی رقم فراہم کی جا چکی ہے۔
وسطی چین کے صوبے ہؤنان اور ہؤبئی میں بھی کم بارشوں اور زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے پانی کی کمی ہے۔
خیال رہے کہ چین میں نہری نظام کمزور ہونے کی وجہ سے کھیتی باڑی کا زیادہ تر انحصار بارشوں پر ہوتا ہے۔















