آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیلیفورنیا میں چار انڈینز کی لاشیں برآمد، ہلاک ہونے والوں میں ایک آٹھ ماہ کی بچی بھی شامل ہے
امریکی ریاست کیلیفورنیا کی مرسڈ کاؤنٹی پولیس نے بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ انھیں ایک پنجابی خاندان کے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں چند روز قبل اغوا کیا گیا تھا۔
پولیس پچھلے کچھ دنوں سے اس خاندان کی تلاش کر رہی تھی۔ ان میں 27 سالہ جسلین کور، 36 سالہ جسدیپ سنگھ، 39 سالہ امن دیپ سنگھ اور ایک آٹھ ماہ کی بچی شامل تھی۔
پولیس نے کہا ہے کہ اس معاملے میں ان کے پاس مشتبہ ملزمان سے متعلق معلومات ہیں، لیکن اس بارے میں وہ مزید تفصیل نہیں بتا سکتے۔
پولیس نےبتایا ’شام ساڑھے پانچ بجے ہمیں ایک کسان نے اس بارے میں فون کر کے اطلاع دی تھی، جس کے بعد ان چاروں کی لاشوں کو برآمد کیا گیا۔‘
پولیس نے اس معاملے میں ایک مشتبہ شخص کو بھی گرفتار کیا تھا، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں۔ منگل کو پولیس نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ ملزم کو پکڑنے میں پولیس کی مدد کریں۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق اس خاندان کا تعلق انڈیا کے شہر ہوشیار پور سے تھا۔
پولیس نے کہا ہے کہ اس خاندان کو گذشتہ پیر کو مرسڈ کے ایک کاروباری ادارے سے بندوق کی نوک پر اغوا کیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے اپیل کی
اس بارے میں انڈین ریاست پنجاب کے وزیر اعلیٰ سمیت بعض رہنماؤں کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے امریکہ میں انڈین شہریوں کی حفاظت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر اعلی بھگونت مان نے ٹوئٹ کیا، ’کیلیفورنیا میں چار انڈینز کے اغوا اور قتل کی خبر آئی ہے، قتل ہونے والوں میں ایک آٹھ سالہ بچی بھی شامل ہے۔ مجھے اس خبر سے بہت دکھ ہوا ہے اور میں سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانے کی اپیل کرتا ہوں۔‘
اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل نے بھی اس بارے میں ٹوئٹ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا، ’آٹھ سالہ آروہی، اس کے والدین اور چچا امن دیپ سنگھ کا وحشیانہ اغوا اور قتل دنیا بھر کے پنجابیوں کے لیے ایک صدمہ اور تشویش کا باعث ہے۔ میں ڈاکٹر جے شنکر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ انڈینز کی سلامتی کا معاملہ اٹھائیں ۔ میری ہمدردیاں متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں۔
قتل ہونے والے خاندان کا تعلق ہوشیار پور سے ہے
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق امریکہ میں رہنے والے اس خاندان کا تعلق پنجاب کے ضلع ہوشیار پور سے تھا۔
ہوشیار پور میں اس خاندان کے رشتہ داروں اور اہل خانہ نے بتایا کہ ’ان کی گاڑی ان کے دفتر سے 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر جلی ہوئی پائی گئی۔ ان کے موبائل بھی ملے ہیں۔ تاوان کے لیے کوئی فون نہیں آیا۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق امن دیپ سنگھ اور جسدیپ سنگھ کے والد رندھیر سنگھ محکمہ صحت سے اور والدہ کرپال محکمہ تعلیم سے ریٹائرڈ ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے
دونوں 29 ستمبر کو امریکہ سے واپس آئے تھے اور واپس آنے کے بعد رندھیر سنگھ یاترا کے لیے اتراکھنڈ گئے۔
جب وہ رشیکیش پہنچے تو انکے بڑے بیٹے کی بیوی جسپریت کور کا فون آیا اور انھوں نے انھیں اغوا کے بارے میں بتایا۔
اس کے بعد رندھیر سنگھ فوراً گاؤں واپس آئے اور امریکہ جانے کی تیاری شروع کر دی۔
ان کے ایک پڑوسی نے بتایا کہ بچوں کے اغوا کی خبر سن کر والدین شدید صدمے میں تھے اور بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔
متوفی خاندان کے ایک رشتہ دار نے بدھ کو کہا: ’میں اپنے پورے خاندان کی جانب سے بات کر رہا ہوں۔ جو بھی مجھے دیکھ رہا ہے، وہ اپنی دکان، گیس سٹیشن پر یا جس کے پاس کیمرہ ہے، براہ کرم اپنا کیمرہ چیک کریں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ کے پاس کوئی ایسی معلومات یا ویڈیو ہے جس سے مدد مل سکتی ہے، تو براہ کرم پولیس کو اس کے بارے میں بتائیں۔ وہ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہمیں لوگوں کی مدد کی ضرورت ہے۔‘
پولیس کو اغوا کی اطلاع کیسے ملی؟
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس کو اغوا کی اطلاع اس وقت موصول ہوئی جب انھیں پیر کو امن دیپ سنگھ کا جلتا ہوا ٹرک ملا۔
پولیس نے جب ٹرک کو چیک کیا تو انھیں مقتولین کے بارے میں کچھ نہیں ملا۔ اس سے پولیس کو اندازہ ہوا کہ اُنھیں اغوا کیا گیا ہے۔
مرسڈ کاؤنٹی شیرف کے دفتر کے افسر ورن ویرنیکے نے کہا کہ ہمیں ابھی تک اغوا کی وجہ کے بارے میں کچھ نہیں معلوم، ہم صرف اتنا جانتے تھے کہ وہ لاپتہ ہیں'۔