آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یورو ڈالر کے مقابلے میں 20 سال میں اپنی کم ترین سطح پر، کرنسیوں کی تاریخی برابری کے کیا نتائج ہیں؟
- مصنف, سیسیلیا برّیا
- عہدہ, بی بی سی نیوز منڈو
- وقت اشاعت
یورپی کرنسی یورو 20 برس کی کم ترین سطح پر تک گرنے کے بعد ڈالر کے ساتھ تاریخی برابری پر پہنچ گئی۔
دونوں کرنسیاں اس منگل کو ایک ہی قدر تک پہنچ گئیں، جس میں علامتی 1:1 کا نشان لگایا گیا، جو پچھلے سال یورو کی قدر میں 15 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کا مطب ہے کہ اب ڈالر اور یورو کی قدر برابر ہو چکی ہے، جبکہ پہلے یورو کی قدر ڈالر سے ہمیشہ زیادہ ہوتی تھی۔
دونوں کرنسیوں میں برابری اس وقت سامنے آئی ہے جب یورپ میں اقتصادی کساد بازاری کے خدشات بڑھ رہے ہیں، بہت زیادہ افراط زر اور روسی گیس کی سپلائی کے تسلسل کے بارے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
وہ وقت گزر گیا جب یورو اتنا مضبوط تھا (2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے دوران ڈالر کا 1.6 گنا، یعنی 1 یورو 1.6 ڈالر کے برابر ہوتا تھا) کہ بہت سے یورپی شہری سستے ہوٹلوں اور کھانے پینے کے لیے امریکہ میں چھٹیاں گزارتے تھے، اور شاپنگ کر کے سوٹ کیس کے سوٹ کیس بھر کر گھر لے جاتے تھے۔
لیکن اب صورت حال بالکل مختلف ہے، یوکرین کی جنگ اور یورپی مرکزی بینک کے سود کی شرح برقرار رکھنے کے فیصلے کے معاشی نتائج یورپ کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یورو کیوں ڈوب رہا ہے؟
یورو کی قدر میں کمی یوکرین پر روسی حملے کی وجہ سے یورپ میں توانائی کے بحران کے پس منظر میں آئی ہے۔
اس امکان کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے کہ یہ بحران غیر متوقع نتائج کے ساتھ کساد بازاری کا سبب بنے گا، ایک خدشہ جو پیر کو روسی گیس کی سپلائی میں کمی کی وجہ سے شدت اختیار کر گیا اور اس کی وجہ سے کہ افراط زر میں اضافہ جاری رہے گا۔
روسی توانائی کے بڑے ادارے 'گیزپروم' (Gazprom) نے اپنی نورڈ سٹریم 1 (Nord Stream 1) پائپ لائن پر 10 دن کی نگرانی شروع کر دی ہے، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک بے چینی سے دیکھ رہے ہیں کہ آیا اس آپریشن کے بعد گیس واپس آئے گی۔
روس والوز (Valves) کو بند کرنے کا موقع استعمال کرسکتا ہے۔
سپین میں آئی ای یونیورسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر یوآن کارلوس مارٹینِز کہتے ہیں کہ 'جنگ کے ساتھ توانائی کے میدان میں کیا کچھ ہو سکتا ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ خوف ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہمیں روس سے گیس ملنا جاری رہتا ہے۔'
اس تنازع میں کرنسی کو جو دھچکا لگا ہے اس میں امریکہ کی زیادہ شرح سود بھی ایک وجہ ہے کیونکہ امریکہ میں شرح سود بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہ سرمائے کو دنیا کی سب سے بڑی معیشت کی طرف راغب کرتا ہے۔
بی بی سی منڈو کے ساتھ گفتگو میں مارٹنیز کا کہنا ہے کہ 'یورو کے زوال کی سب سے اہم وجہ ریاست ہائے متحدہ کے فیڈرل ریزرو اور یورپی مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسیوں میں مختلف رفتار کا ہونا ہے۔'
سرمایہ کاروں کے لیے، امریکی ٹریژری بانڈ کا منافع یورپی قرضوں سے زیادہ ہے، جس کی وجہ سے وہ یورو پر ڈالر کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس نقطہ نظر سے یورپی مرکزی بینک ایک مشکل پوزیشن میں ہے، افراط زر پر لگام ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے اور ساتھ ہی سست ہوتی ہوئی معیشت کو بڑھا رہا ہے۔
مارٹنیز نے مزید کہا کہ 'یورو زون نے ابھی تک شرح سود میں اضافہ شروع نہیں کیا ہے۔ یہ جولائی کے آخر میں ہونے والی اپنی میٹنگ میں متوقع طور پر ایسا کرے گا، لیکن یہ اس سے (یعنی امریکہ کی نسبت) کم رفتار کے ساتھ شرح سود میں اضافہ کرے گا۔'
اس کے نتائج کیا ہیں؟
جب سے ریکارڈ شروع ہوا ہے یورو زون میں افراط زر اپنی بلند ترین سطح (8.6 فیصد)پر ہے ، یورو کی قدر میں کمی درآمدات کو مزید مہنگی بنا کر زندگی گزارنے کی قیمت کو بڑھاتی ہے۔
تاریخ میں دوسرے اوقات میں، کمزور کرنسی ضروری طور پر بری خبر نہیں رہی ہے کیونکہ حکومتیں اسے اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں کیونکہ برآمدات زیادہ مسابقتی ہو جاتی ہیں۔
تاہم یہ معاملہ ایسا نہیں ہے.
ماہرین اقتصادیات بتاتے ہیں کہ 'جب ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے، اس سے ہمیں ایک بیرل تیل خریدنے کے لیے یورو میں زیادہ لاگت آتی ہے۔ یہی وہ بڑا مسئلہ ہے جو ہم اب دیکھ رہے ہیں۔'
یہی وجہ ہے کہ ایک کمزور یورو نے اس حقیقت میں حصہ ڈالا ہے کہ ایندھن کی قیمتیں صارفین کی جیبوں کو خالی کرتے ہوئے اب تک کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔
یہ صورتحال خطے کے ممالک کے لیے تشویشناک ہے کیونکہ یورو زون میں تقریباً 50 فیصد درآمدات ڈالر میں ہوتی ہیں۔
اگر یوکرین میں جنگ جلد ختم ہو جاتی ہے، جس کا ماہرین کے خیال میں امکان نہیں ہے، تو یورو کی قدر میں کمی رک سکتی ہے۔
قدر میں کمی کو روکنے کا دوسرا متبادل یورو زون میں شرح سود میں اضافہ ہے۔
مارٹنیز کا کہنا ہے کہ 'یورپی سینٹرل بینک کی طرف سے زیادہ جارحانہ پالیسی ضروری ہو گی، جو اس وقت نظر نہیں آتی۔'
لاطینی امریکہ
لاطینی امریکہ گلوبل اکنامکس اینڈ ریسرچ ڈویژن کے سینئر ماہر اقتصادیات ایلیا اولیویروس-روزن بی بی سی منڈو کو بتاتے ہیں کہ لاطینی امریکہ کے معاملے میں یورو اور ڈالر کے درمیان برابری کا 'خطے پر براہ راست اثر نہیں پڑے گا۔'
ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ صورت حال جس چیز کی عکاسی کرتی ہے وہ یہ ہے کہ عام سطح پر ڈالر کی قدر بڑھ رہی ہے۔
'ڈالر کی طاقت نہ صرف یورو کے مقابلے میں ہے، بلکہ لاطینی امریکہ سمیت ابھرتے ہوئے ممالک کی بیشتر کرنسیوں کے خلاف بھی ہے۔
درحقیقت ارجنٹائن، چلی اور کولمبیا وہ تین ممالک ہیں جو اس سال ڈالر کے مقابلے میں اپنی کرنسیوں کی اب تک کی بدترین قدر میں کمی کا شکار ہوئے ہیں۔