جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے کو دیسی ساختہ بندوق سے ہلاک کرنے والا سابق نیوی اہلکار کون ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے کو جمعہ کی صبح ایک سیاسی مہم کے دوران حملہ آور نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ گولی لگنے کے بعد انھیں ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے وفات پا گئے۔ یہ قتل ٹوکیو سے تقریباً 500 کلومیٹر دور نارا شہر میں ہوا جہاں سابق وزاعظم عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں موجود تھے۔
ایک نیوز کانفرنس میں ڈاکٹرز نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے سابق وزیراعظم کا علاج کرنے میں ساڑھے چار گھنٹے صرف کیے مگر زیادہ خوب بہہ جانے کی وجہ سے ان کی ہلاکت ہوئی ہے۔
فائرنگ کے فوراً بعد سکیورٹی اہلکاروں نے ملزم کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
جاپان کے سابق وزیراعظم شنزو آبے کے قتل کی تحقیقات کرنے والی پولیس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مشتبہ شخص کی ایک ’مخصوص تنظیم‘ سے رنجش تھی۔ انھوں نے گروپ کا نام لیے بغیر کہا کہ مبینہ بندوق بردار کا نام ٹیٹسوا یاماگامی ہے اور وہ نیوی کا سابق اہلکار ہے۔
پولیس کے مطابق حملہ آور کا خیال تھا کہ آبے اس ’مخصوص تنظیم‘ کا حصہ تھے اور اسی وجہ سے انھیں گولی مار دی گئی۔
مقامی وقت کے مطابق صبح 11:30 بجے کے قریب، جائے وقوعہ سے ملنے والی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ حملہ آور یاماگامی سرمئی رنگ کی ٹی شرٹ اور بھوری پینٹ پہنے عقبی رستے سے شنزو آبے کے قریب آیا۔
خیال رہے کہ جاپان دنیا کے ایسے ممالک میں سے ایک ہے جہاں ہتھیاروں تک رسائی انتہائی مشکل ہے اور آتشیں اسلحے سے ہونے والی اموات کی شرح بہت کم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ حیران ہیں کہ ملزم کون ہے اور اس کے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
آلہ قتل کے بارے میں پولیس نے کیا کہا؟
پولیس کے مطابق ملزم نے لکڑی اور دھات سے بنی گھریلو بندوق استعمال کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جاپان کے مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ یاماگامی جاپان میری ٹائم ڈیفنس فورسز کا حصہ رہ چکے ہیں اور سنہ 2005 میں ریٹائر ہو چکے ہیں۔
جاپان کے عوامی نشریاتی ادارے این ایچ کے نے رپورٹ کیا ہے کہ مشتبہ شخص نے اپنی گرفتاری کے بعد پولیس کو بتایا کہ وہ 'سابق وزیر اعظم سے مایوس تھے اور وہ انھیں قتل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔‘
مشتبہ شخص ٹرین کے ذریعے نارا میں اس مقام پر پہنچا جہاں سابق وزیراعظم تقریر کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
بی بی سی ٹوکیو کے نامہ نگار روپرٹ ونگ فیلڈ ہیز نے رپورٹ کیا ہے کہ مشتبہ شخص نے بظاہر اپنی بندوق خود بنائی تھی یعنی یہ گھریلو ساختہ تھی۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد لی گئی تصاویر میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آلہ قتل گھر میں بنایا ہوا ڈبل بیرل آتشیں اسلحہ ہے۔ یاماگامی کے گھر کی تلاشی کے دوران پولیس نے کئی ممکنہ طور پر دھماکہ خیز مواد برآمد کیا ہے۔
پولیس کے مطابق گھر سے ملنے والی اشیا کو ضبط کر لیا گیا ہے۔ جاپان میں بندوق کا تشدد بہت کم ہوتا ہے اور بندوق خریدنا مشکل ہے۔ سیاست دانوں کے خلاف تشدد بھی انتہائی کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
ہتھیاروں تک محدودرسائی
جاپان کی آبادی تقریباً 125 ملین ہے۔ جاپان کا تعلق G7 سے ہے، جو کہ جرمنی، کینیڈا، امریکہ، فرانس، اٹلی اور برطانیہ کے ساتھ دنیا کی امیر ترین معیشت رکھنے والے ممالک کا گروپ ہے۔
جاپان میں قانونی طور پر بندوق رکھنے کا عمل انتہائی مشکل ہے۔ اگر کوئی شکار کی غرض سے گن حاصل کرنے کے لیے درخواست دیتا ہے تو پولیس ایسے شخص کے ریکارڈ کی خوب چھین بین کرتی ہے۔ لائسنس جاری کرنے سے قبل یہ دیکھا جاتا ہے کہ درخواست گزار کسی جرم میں ملوث تو نہیں رہا، وہ ذہنی بیماری کا شکار یا منشیات کا عادی تو نہیں ہے۔
اس کے علاوہ، جو لوگ ہتھیار رکھنا چاہتے ہیں انھیں پورے دن کی تربیت لینی ہوتی ہے، تحریری امتحان دینا ہوتا ہے اور نشانہ بازی کا امتحان پاس کرنا ہوتا ہے۔ سمال آرمز سروے کے مطابق سنہ 2020 میں جاپان میں آتشیں اسلحے سے صرف 32 اموات ہوئیں۔ لائسنس کی مدت تین سال تک کی ہوتی ہے، جس کے بعد پھر تربیت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اسلحے کو الگ تالے میں رکھنا لازمی ہے اور پولیس ہتھیار کا باقاعدہ معائنہ بھی کرتی ہے۔

























