پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر نے جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمۂ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں عوامی ایکشن کمیٹی پر دہشتگردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے اقدام سے ریاست میں امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔
محکمۂ داخلہ کا الزام ہے کہ جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے عوام کو ریاست کے خلاف اُکسایا، نفرت انگیزی کو فروغ دیا اور معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا۔
اس اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر نے انسداد دہشتگردی ایکٹ 2014 کی شق 12 کے تحت جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیموں کی فہرست ’فرسٹ شیڈول‘ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
تاحال عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے اس اعلامیے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ یہ تنظیم ماضی میں مظفر آباد سمیت دیگر علاقوں میں احتجاج کر چکی ہے اور اس کی جانب سے اسمبلی میں 12 مخصوص نشستوں، حکمران اشرافیہ کی مراعات اور کوٹہ سسٹم کے خاتمے سمیت دیگر مطالبات کیے جاتے رہے ہیں۔
آئندہ منگل کو احتجاج کی کال کے پیش نظر جموں و کشمیر یونیورسٹی نے آٹھ جون سے ہونے والے تمام امتحانات تاحکمِ ثانی مؤخر کر دیے ہیں جبکہ مظفر آباد سمیت کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس سست روی اور تعطل کا شکار ہے۔
یاد رہے کہ عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں نو جون کو مکمل ہڑتال کی کال دے رکھی ہے جبکہ آئی جی کشمیر ڈاکٹر لیاقت علی کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت سے اضافی سکیورٹی طلب کی گئی ہے اور دیگر ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
اس حوالے سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے کہا تھا کہ احتجاج کے نام پر ’کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا۔‘
دریں اثنا کشمیر کے مختلف شہروں سے لوگوں نے انٹرنیٹ سروس کی سست روی اور تعطل کی شکایات کی ہیں۔ کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی سکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔




















