لائیو, پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمۂ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں عوامی ایکشن کمیٹی پر دہشتگردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ خطے کے صدر نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ اور ایران جوہری فریم ورک پر اتفاق کے قریب پہنچ گئے: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی
  • مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ 50 فیصد منجمد اثاثے فوری جاری کیے جائیں: ایران کا مطالبہ
  • روس کی ایران اور عرب ممالک کے درمیان 'عدم جارحیت' کے معاہدے کی تجویز
  • عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم اگر اس پر کوئی جارحیت مسلط کی گئی تو وہ اپنے دفاع میں بھرپور جواب دے گا
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کے درمیان اہم ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
  • ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا ہزاروں قیدیوں کو معافی دینے کا اعلان
  • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاج کے پیش نظر جامعہ کشمیر میں امتحانات ملتوی، انٹرنیٹ میں سست روی کی شکایات

لائیو کوریج

  1. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد

    عوامی ایکشن کمیٹی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنستمبر 2025 کے دوران مظفر آباد میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کا منظر

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر نے جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمۂ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں عوامی ایکشن کمیٹی پر دہشتگردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے اپنے اقدام سے ریاست میں امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔

    محکمۂ داخلہ کا الزام ہے کہ جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے عوام کو ریاست کے خلاف اُکسایا، نفرت انگیزی کو فروغ دیا اور معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا۔

    اس اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے صدر نے انسداد دہشتگردی ایکٹ 2014 کی شق 12 کے تحت جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیموں کی فہرست ’فرسٹ شیڈول‘ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    تاحال عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے اس اعلامیے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ یہ تنظیم ماضی میں مظفر آباد سمیت دیگر علاقوں میں احتجاج کر چکی ہے اور اس کی جانب سے اسمبلی میں 12 مخصوص نشستوں، حکمران اشرافیہ کی مراعات اور کوٹہ سسٹم کے خاتمے سمیت دیگر مطالبات کیے جاتے رہے ہیں۔

    آئندہ منگل کو احتجاج کی کال کے پیش نظر جموں و کشمیر یونیورسٹی نے آٹھ جون سے ہونے والے تمام امتحانات تاحکمِ ثانی مؤخر کر دیے ہیں جبکہ مظفر آباد سمیت کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس سست روی اور تعطل کا شکار ہے۔

    یاد رہے کہ عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں نو جون کو مکمل ہڑتال کی کال دے رکھی ہے جبکہ آئی جی کشمیر ڈاکٹر لیاقت علی کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت سے اضافی سکیورٹی طلب کی گئی ہے اور دیگر ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

    اس حوالے سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے کہا تھا کہ احتجاج کے نام پر ’کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا۔‘

    دریں اثنا کشمیر کے مختلف شہروں سے لوگوں نے انٹرنیٹ سروس کی سست روی اور تعطل کی شکایات کی ہیں۔ کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی سکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔

  2. ربوہ میں ’نامعلوم افراد‘ کی ایک گاڑی پر فائرنگ، احمدی برادری کے تین افراد زخمی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پنجاب کے شہر چنیوٹ کے علاقے چناب نگر میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ربوہ میں ایک گاڑی پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں تین افراز زخمی ہو گئے ہیں اور ان میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔

    تھانہ چناب نگر میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ربوہ، جو کہ احمدی برادری کا ایک مقدس مقام ہے، کی حفاظت کے لیے کچھ مقامی افراد گاڑی پر علاقے کا گشت کر رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اس دوران ایک موٹر سائیکل، جس پر دو افراد سوار تھے، نے پیٹرولنگ کرنے والی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔

    پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں موجود تین افراد زخمی ہو گئے۔

    پولیس اہلکار کے مطابق نامعلوم افراد نے ’اندھا دھند اس گاڑی پر فائرنگ کی‘ جس میں پولیس کے بقول پانچ افراد سوار تھے اور ان سب کا تعلق احمدی برادری سے ہے۔

    اس واقعے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کہ تمام علاقے کو ’گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔‘ پولیس کے مطابق شہر کی ناکہ بندی بھی شروع کر دی گئی ہے تاہم ابھی تک کوئی شخص گرفتار نہیں ہوا۔

    مقامی پولیس کے مطابق زخمیوں کو مقامی ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے جہاں پر ایک زخمی شخص کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ربوہ میں ایک حملے کی کوشش ناکام بنائی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق حملہ آور احمدیوں کی عبادت گاہ کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  3. ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا ہزاروں قیدیوں کو معافی دینے کا اعلان

    IRAN

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے دو ہزار سے زائد قیدیوں کی سزائیں معاف یا کم کر دی ہیں، یہ بات سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے رپورٹ کی ہے۔

    پریس ٹی وی کے مطابق ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژئی کی جانب سے رحم کی اپیل منظور کیے جانے کے بعد بیشتر قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے گا۔

    تاہم دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق سکیورٹی سے متعلق جرائم، بشمول جاسوسی کے الزامات میں قید افراد کو اس معافی میں شامل نہیں کیا گیا۔

    یاد رہے کہ ایران میں دسمبر میں ملک گیر احتجاج کے بعد ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، یہ احتجاج پہلے سے جاری معاشی بحران کے تناظر میں ہوا تھا جسے کئی دہائیوں سے امریکہ کی جانب سے عائد پابندیوں نے مزید شدت دی ہے۔

  4. ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ، 129 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا: امریکی دعویٰ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کے بحری محاصرے کے آغاز کے بعد سے اب تک 129 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے، جبکہ چھ دیگر جہازوں کو غیر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ وہ متعلقہ قواعد پر عمل پیرا ہو سکیں۔

    سینٹکام کے مطابق یہ اقدامات اپریل میں شروع کیے گئے بحری محاصرے کے تحت کیے گئے ہیں۔

    @CENTCOM

    ،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM

  5. امریکہ اور ایران جوہری فریم ورک پر اتفاق کے قریب پہنچ گئے: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی

    IAEA

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنآئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رفال گروسی

    اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ رفال گروسی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ جوہری فریم ورک پر اتفاق کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس سے فریقین کو باقی مسائل حل کرنے کے لیے وقت مل سکے گا۔

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رفال گروسی نے کہا کہ ادارہ دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم وہ براہِ راست مذاکرات میں شامل نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہماری رائے میں دونوں فریق اس بات کے قریب ہیں کہ ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق ہو جائے جو انھیں مختلف مسائل کا جائزہ لینے کے لیے وقت فراہم کرے۔‘

    رفال گروسی نے یہ بیان ویانا میں آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے ہنگامی اجلاس کے بعد دیا۔

    یہ اجلاس مصر، اردن، مراکش اور سعودی عرب کی درخواست پر بلایا گیا تھا، جس کی وجہ گذشتہ ماہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملہ تھا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جسے رفال گروسی نے ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا۔

  6. جرمنی کی شہریوں کو بحرین اور کویت کا سفر نہ کرنے کی ہدایت

    Germony

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جرمنی نے اپنے شہریوں کو بحرین اور کویت کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جرمن وزارتِ خارجہ نے خاص طور پر بحرین کے سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق خطے میں سکیورٹی کی صورتحال بدستور ’انتہائی غیر مستحکم‘ ہے۔

    جرمنی نے خبردار کیا ہے کہ سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں ہوائی پروازوں پر نمایاں پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔

    یاد رہے کہ رواں ہفتے کے وسط میں ایران نے بحرین اور کویت میں اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔

    ایران کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی قشم جزیرے پر ٹیلی کمیونیکیشن مرکز پر امریکی حملے کے جواب میں کی گئی۔

  7. ایرانی دعویٰ بے بنیاد، ہمارے جہازوں پر کوئی وارننگ فائر نہیں کیا گیا: امریکی فوج

    امریکی فوج نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر وارننگ شاٹس فائر کیے تھے، اور کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا:’ایرانی افواج نے امریکی بحری جہازوں پر نہ کوئی حملہ کیا ہے اور نہ ہی ان پر فائرنگ کی گئی ہے۔ ایسا کرنا جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی ہوتا۔‘

    اس سے قبل ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اعلان کیا تھا کہ ملک کی بحریہ نے بحیرۂ عمان میں امریکی ڈسٹرائرز پر وارننگ شاٹس فائر کیے۔

    ایرانی ٹیلی ویژن نے ایسی ویڈیوز بھی نشر کیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ وارننگ فائر کے مناظر ہیں، جن میں ایک موبائل لانچر سے میزائل فائر کرتے ہوئے اور ایک ڈرون کے اڑان بھرنے کے لمحات دکھائے گئے۔

    ایرانی فوجی بیان کے مطابق یہ کارروائی امریکی بحریہ کی جانب سے ’سمندری خلاف ورزیوں، ہراسانی اور تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کے اغوا” کے خلاف جاری اقدامات کا حصہ تھی۔

    تاہم امریکہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے دعوؤں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

  8. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاج کے پیش نظر جامعہ کشمیر میں امتحانات ملتوی، انٹرنیٹ میں سست روی کی شکایات, نصیر چوہدری، صحافی

    Yahya

    ،تصویر کا ذریعہYahya

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاج کے پیش نظر جموں و کشمیر یونیورسٹی نے آٹھ جون سے ہونے والے تمام امتحانات تاحکمِ ثانی مؤخر کر دیے ہیں، جبکہ مظفر آباد سمیت کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس سست روی اور تعطل کا شکار ہے۔

    یاد رہے کہ عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں نو جون (منگل) کو مکمل ہڑتال کی کال دے رکھی ہے، جبکہ آئی جی کشمیر ڈاکٹر لیاقت علی کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت سے اضافی سکیورٹی طلب کی گئی ہے اور دیگر ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے کہا ہے کہ احتجاج کے نام پر کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا۔

    جامعہ کشمیر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق بی ایس، اے ڈی، ڈی پی ٹی اور ایل ایل بی پروگرامز کے وہ ٹرمینل امتحانات جو آٹھ جون سے شروع ہونا تھے، انھیں ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے ترجمان ڈاکٹر مبشر نقوی کے مطابق امتحانات کے نئے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    کشمیر کے مختلف شہروں سے شہریوں نے انٹرنیٹ سروس کی سست روی اور تعطل کی شکایات کی ہیں۔ عمران میر نامی ایک شہری کے مطابق جمعہ کی دوپہر سے انٹرنیٹ کی رفتار کم ہے اور پیغامات بھیجنے اور موصول کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر لیاقت علی نے بی بی سی کو بتایا کہ احتجاج کی کال کے پیش نظر وفاقی حکومت سے اضافی سکیورٹی نفری طلب کی گئی ہے۔

    آئی جی پولیس کے مطابق امن و امان برقرار رکھنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی مقام پر جانی یا مالی نقصان سے بچنے کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاق سے طلب کی گئی اضافی نفری کا ایک حصہ پہلے ہی پہنچ چکا ہے، جبکہ حالات کے مطابق ضرورت پڑنے پر مزید اہلکار بھی طلب کیے جا سکتے ہیں۔

    کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی سکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔

  9. روسی قبضے والے علاقوں میں کارگو جہازوں پر یوکرین کے ڈرون حملے، ’پانچ افراد ہلاک ہوئے‘: آذربائیجان

    Observator Antena1

    ،تصویر کا ذریعہObservator Antena1

    یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرۂ آزوف اور روس کے زیرِ قبضہ ساحلی علاقوں میں ’غیر قانونی کارگو لے جانے والے‘ پانچ جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایک نیول ڈرون کے رومانیہ کے ساحل کے قریب دھماکے کی بھی تصدیق کی ہے۔

    یوکرین کی ڈرون فورسز کے کمانڈر نے کہا کہ نشانہ بنائے گئے جہاز مبینہ طور پر یوکرینی اناج کی ’چوری‘، اور فوجی سامان و ایندھن کی ترسیل میں ملوث تھے۔ ان کے مطابق ان جہازوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے نام مٹا دیے تھے اور ریڈار بند کر رکھے تھے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روسی صدر ولادیمیر پوتن سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک اہم معاشی فورم سے خطاب کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ ایک روز قبل یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنگ کے خاتمے کے لیے پوتن کو براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔

    دوسری جانب یوکرین نے تصدیق کی ہے کہ جمعہ کو اس کا ایک نیول ڈرون رومانیہ کے ساحل کے قریب پھٹ گیا۔ رومانیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق ڈرون نے خود کو ایک آئل ٹرمینل کے قریب دھماکے سے اڑا لیا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ایک جہاز اور گوداموں کو نقصان پہنچا۔

    ادھر آذربائیجان نے کہا ہے کہ بحیرۂ آزوف میں دو کارگو جہازوں پر ڈرون حملوں میں پانچ شہری ہلاک ہوئے، تاہم اس نے حملہ آور کی نشاندہی نہیں کی۔ روس نے ان حملوں کا الزام یوکرین پر عائد کیا ہے، جبکہ کئیو نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    ،تصویر کا کیپشنیوکرین

    زمینی صورتحال میں بھی شدت برقرار ہے۔ یوکرین کے مختلف علاقوں میں روسی حملوں کے نتیجے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 13 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوئے۔ کئیو کے نواح میں ایک ڈیری فیکٹری پر ڈرون حملے میں چار افراد مارے گئے، جبکہ خیرسون، خارکیف، سومی اور دیگر علاقوں سے بھی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

    صدر زیلنسکی نے کہا کہ روسی حملوں میں خوراک کے گودام، ایک ڈاکخانہ اور ایک سکول بھی متاثر ہوئے ہیں۔ انھوں نے ایک کھلے خط میں پوتن سے براہِ راست ملاقات کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ’براہِ راست رابطہ ناگزیر‘ ہے، تاہم روسی صدر نے فوری جنگ بندی کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

    کریملن کا کہنا ہے کہ اسے زیلنسکی کا خط موصول ہو گیا ہے اور ممکن ہے کہ پوتن اس پر ردعمل دیں۔ تاہم پوتن نے یوکرینی قیادت کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا ہے، جبکہ روس کا مؤقف ہے کہ یوکرین کو چار مقبوضہ علاقوں سے دستبردار ہونا اور نیٹو میں شمولیت کی خواہش ترک کرنا ہو گی، جسے کئیو مسترد کر چکا ہے۔

    یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں جنگ بندی کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور جنیوا، استنبول اور دیگر شہروں میں ہونے والے مذاکرات کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

  10. ’دہشت گردی کے خلاف علاقائی تعاون ناگزیر ہے‘، محسن نقوی کا ایس سی او اجلاس سے خطاب

    Interior Minister

    ،تصویر کا ذریعہ@MOIofficialGoP

    ،تصویر کا کیپشنمحسن نقوی

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خطے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے درمیان مؤثر اور مربوط تعاون ناگزیر ہے۔

    کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایس سی او کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ اور پبلک سکیورٹی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دہشت گردی، منظم جرائم، منشیات کی سمگلنگ، سائبر کرائم اور دہشت گردوں کی مالی معاونت جیسے مسائل مشترکہ نوعیت کے ہیں اور ان کا مقابلہ بھی اجتماعی حکمت عملی کے بغیر ممکن نہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ ’ہمارے چیلنجز مشترکہ ہیں، اس لیے ہماری کاوشیں بھی اجتماعی اور ہم آہنگ ہونی چاہئیں۔ پرامن اور محفوظ ایس سی او خطہ ہماری مشترکہ منزل ہے۔‘

    انھوں نے خبردار کیا کہ جرائم پیشہ نیٹ ورکس جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث خطرات کی نوعیت مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدلتے ہوئے سکیورٹی تقاضوں سے نمٹنے کے لیے اداروں کے درمیان جدید بنیادوں پر تعاون اور ہم آہنگی ضروری ہے۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پاکستان ’شنگھائی سپرٹ‘ کے اصولوں، جن میں باہمی اعتماد، مساوی شراکت اور خودمختاری کا احترام شامل ہے، پر کامل یقین رکھتا ہے۔ انھوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ’بے مثال قربانیاں‘ دی ہیں اور اس سلسلے میں قومی ایکشن پلان کے تحت انٹیلیجنس کوآرڈینیشن، بارڈر مینجمنٹ اور اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات کو مضبوط بنایا گیا ہے۔

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہ@MOIofficialGoP

    محسن نقوی نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ انٹیلیجنس شیئرنگ، مشترکہ خطرات کے تجزیے اور آن لائن انتہاپسندی کے سدباب کے لیے تعاون کو مزید مؤثر بنائیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اس مقصد کے لیے مشترکہ ورکشاپس اور ماہرین کے تبادلے کی حمایت کرتا ہے۔

    انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سائبر انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل فارنزکس جیسے شعبوں میں علاقائی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق منشیات کی سمگلنگ دہشت گردی کی مالی معاونت کا ایک بڑا ذریعہ ہے، جس کے تدارک کے لیے منشیات، آن لائن نیٹ ورکس اور کرپٹو کرنسی لین دین کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس ایس سی او پلیٹ فارم پر انسدادِ منشیات کی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سرحدی سلامتی خطے کے امن و استحکام کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ جعلی دستاویزات، واچ لسٹ ہم آہنگی اور انسانی سمگلنگ کے خلاف تعاون بڑھانا بھی ناگزیر ہے۔

    محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کا خاتمہ پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے، اور ملک میں اینٹی منی لانڈرنگ نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کی گئی ہیں۔

    اپنے خطاب کے اختتام پر انھوں نے اعلان کیا کہ پاکستان 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کا منتظر ہے اور رکن ممالک کے وفود کا خیرمقدم کرنے کے لیے تیار ہے۔

  11. بحیرہ عمان میں امریکی ڈسٹرائرز پر خبردار کرنے کے لیے فائر کیے ہیں: ایرانی فوج

    IRIB

    ،تصویر کا ذریعہIRIB

    ،تصویر کا کیپشنامریکہ نے اب تک اس رپورٹ پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے

    ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اعلان کیا ہے کہ بحریہ نے بحیرۂ عمان میں امریکی ڈسٹرائرز پر وارننگ شاٹس فائر کیے۔

    ایرانی ٹیلی ویژن نے مبینہ طور پر ان وارننگ شاٹس کے مناظر بھی نشر کیے ہیں۔ ان تصاویر میں ایک موبائل لانچر سے میزائل فائر کرتے ہوئے اور ایک ڈرون کے اڑان بھرنے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔

    فوج کا بیان، جو کہ ایرانی سرکاری میڈیا میں شائع ہوا، میں کہا گیا ہے کہ ’قدیر میزائل اور نئے حملہ آور ڈرونز کے ذریعے وارننگ شاٹس کے بعد۔۔۔ درانداز تباہ کن جہاز بحیرۂ عمان کو چھوڑ کر بحرِ ہند کی طرف روانہ ہو گئے۔‘

    بیان کے مطابق یہ وارننگ شاٹس ’امریکی بحریہ کی جانب سے سمندری خلاف ورزیوں، ہراسانی، اور تجارتی جہازوں و آئل ٹینکروں کے اغوا کے خلاف کارروائیوں کے تسلسل میں‘ فائر کیے گئے۔

    امریکہ نے اب تک اس رپورٹ پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

  12. مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے لاکھوں افراد بھوک کے خطرے سے دوچار ہیں: اقوامِ متحدہ

    بھوک، افلاس

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    اقوامِ متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث لاکھوں مزید افراد بھوک کے خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔

    ادارے کے مطابق ایک طرف ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے خوراک کو مہنگا کر دیا ہے، جبکہ دوسری طرف مالی وسائل کی کمی نے امدادی تنظیموں کو اپنی امداد کم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

    فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد خلیج فارس میں ایک علاقائی جنگ چھڑ گئی، جو لبنان تک پھیل گئی اور اہم بحری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز، کو متاثر کیا۔

    اس صورتحال کے باعث جہازوں کو اپنے راستے تبدیل کرنے پڑے اور عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور سپلائی چین شدید متاثر ہوئی۔

    افغانستان، صومالیہ اور سری لنکا کے گھریلو صارفین سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروپس میں شامل ہیں، انھیں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، آمدنی میں کمی اور تجارتی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

    عالمی خوراک پروگرام کے مطابق صومالیہ میں تقریباً 6.5 ملین افراد، جو ملک کی تقریباً ایک تہائی آبادی بنتے ہیں، سنہ 2026 تک شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    افغانستان میں بھی تقریباً 17.4 ملین افراد خوراک کی قلت سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

    ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ رکاوٹیں برقرار رہیں تو صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی، اور صومالیہ میں مزید 2.5 ملین جبکہ افغانستان میں مزید 2.3 ملین افراد شدید غذائی قلت اور بھوک کے خطرے سے دوچار ہو جائیں گے۔

    دونوں ممالک بڑی حد تک توانائی اور خوراک کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔

  13. سرد جنگ کے بعد سے ہم کبھی اتنے خطرے اور خدشات سے دوچار نہیں ہوئے: برطانوی آرمی چیف

    برطانوی فوج

    ،تصویر کا ذریعہMax Mumby/Indigo/Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنجنرل رچرڈ نائٹن نے بی بی سی ریڈیو 4 کے مارننگ شو میں کہا کہ ’یہ وہ سب سے خطرناک دور ہے جسے میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے‘

    برطانوی فوج کے چیف آف سٹاف نے کہا ہے کہ ملک کو اب سرد جنگ کے بعد سب سے زیادہ خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔

    جنرل رچرڈ نائٹن نے بی بی سی ریڈیو 4 کے مارننگ شو میں کہا کہ ’یہ وہ سب سے خطرناک دور ہے جسے میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ اس سال کے پہلے پانچ مہینوں کے دوران روسی سٹریٹیجک طیاروں کی طرف سے برطانوی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کی تعداد اتنی ہی رہی جتنی پورے پچھلے سال میں تھی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ روس ’سرخ لکیر‘ عبور کر سکتا ہے۔

    برطانیہ کے اس اعلیٰ فوجی عہدیدار نے یہ بیانات ایسے وقت میں دیے ہیں جب دفاعی سرمایہ کاری کی ایک اہم دستاویز اگلے ہفتے شائع ہونے والی ہے، جس میں پہلے ہی کئی بار تاخیر ہو چکی ہے۔

    یہ دستاویز آئندہ 10 برسوں میں نئے فوجی سازوسامان اور دفاعی ڈھانچے کے اخراجات کی مالی منصوبہ بندی کو واضح کرے گی۔ اسے ابتدا میں گذشتہ خزاں میں جاری کیا جانا تھا۔

    حالیہ برسوں میں فوجی بجٹ میں کمی کے باوجود، برطانیہ اب بھی فرانس کے ساتھ مل کر یورپ کی بڑی عسکری طاقتوں میں شمار ہوتا ہے، جو نیٹو کے مشرقی محاذ کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ہند-بحرالکاہل خطے میں بھی بحری موجودگی رکھتا ہے۔

  14. حکومت کا چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس سکیم کا اعلان

    Finance Minister

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab

    ،تصویر کا کیپشنوزیر خزانہ نے کہا کہ ’ٹیکس کے نظام کو منصفانہ کرنا ترجیح ہے، اصلاحات ہوئی ہیں اور اس حوالے سے اے آئی ٹیکنالوجی لیڈ ڈسکشن ہو رہی ہیں‘

    وفاقی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس سکیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ٹیکس نظام کو مزید آسان بنانا اور زیادہ سے زیادہ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ یہ سکیم تاجروں کی نمائندہ تنظیموں اور انجمنِ تاجران سے مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے۔

    ان کے مطابق یہ سکیم اُن دکانداروں پر لاگو ہوگی جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے۔ اس کے تحت ایک فیصد کی شرح سے فکسڈ ٹیکس عائد کیا جائے گا، جبکہ پہلے سے ادا کیے گئے ودہولڈنگ ٹیکس کو اسی میں ایڈجسٹ کر لیا جائے گا۔

    بلال اظہر کیانی نے مزید بتایا کہ ہر دکاندار کے لیے کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس جمع کروانا لازمی ہوگا، جبکہ زیادہ ٹرن اوور رکھنے والوں سے ان کی فروخت کے مطابق ایک فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ سکیم کے تحت ایک سادہ، ایک صفحے پر مشتمل فارم متعارف کروایا جا رہا ہے، جس میں دکاندار اپنی سالانہ فروخت کی تفصیلات درج کریں گے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ’ٹیکس کے نظام کو منصفانہ کرنا ترجیح ہے، اصلاحات ہوئی ہیں اور اس حوالے سے اے آئی ٹیکنالوجی لیڈ ڈسکشن ہو رہی ہیں۔‘

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ’ٹیکس کی جو شرح کو بڑھانے کے بجائے کم کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’معاشرے کا اہم طبقہ جو کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں ان پر ٹیکس کے اطلاق کو منصفانہ کرنے اور میں اس میں وسعت لانے کے لیے تنخواہ دار اور 30 سے 40 لاکھ چھوٹے دکاندار اس زمرے میں آتے ہیں۔

    انھوں نے کہا امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث ’امپورٹ بل اپنے وسائل سے پورے کر رے ہیں، کسی سے جا کر کوئی مدد نہیں مانگنی پڑی ہے۔‘

  15. زیلنسکی کا پوتن کو کھلا خط، بالمشافہ مذاکرات کی پیشکش

    Danylo Antoniuk / Anadolu via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہDanylo Antoniuk / Anadolu via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنولادیمیر زیلنسکی

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو ایک کھلے خط میں بالمشافہ ملاقات کی پیشکش کی ہے، جسے وہ جنگ کے خاتمے کی جانب ایک نئی کوشش قرار دیتے ہیں۔

    اپنے خط میں زیلنسکی نے کہا کہ یورپ میں جاری جنگ کے حوالے سے یہ انتظار کرنا ’غلط‘ ہوگا کہ وہ دوبارہ امریکہ کی توجہ کا مرکز بنے۔ ان کے مطابق امن صرف روس اور یوکرین کے درمیان براہِ راست بات چیت سے ہی ممکن ہے۔

    انھوں نے مجوزہ مذاکرات کے دوران مکمل جنگ بندی کی تجویز بھی پیش کی، جسے پوتن اس سے قبل مسترد کر چکے ہیں۔

    کریملن نے تصدیق کی ہے کہ اسے زیلنسکی کا خط موصول ہو چکا ہے، جبکہ روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرینی صدر ماسکو آ کر کسی بھی وقت روسی قیادت سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

    زیلنسکی نے خط میں لکھا: ’یوکرین اس جنگ کو ہمارے اور آپ کے درمیان براہِ راست مکالمے کے ذریعے ختم کرنے کی تجویز دیتا ہے۔ میں ملاقات کی پیشکش کرتا ہوں۔‘

    یوکرینی صدر نے یہ بھی عندیہ دیا کہ یہ ملاقات سوئٹزرلینڈ یا ترکی جیسے کسی تیسرے ملک میں بھی ہو سکتی ہے۔

    پوتن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    خط میں سخت جملے بھی تحریر کیے گئے ہیں ہیں جن میں زیلنسکی نے حالیہ یوکرینی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے روسی قیادت پر تنقید کی اور کہا کہ جنگ دونوں ممالک پر بوجھ بن چکی ہے۔

    ادھر روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کے ساتھ معاہدے کے لیے ’تیار اور آمادہ‘ ہیں، تاہم اس کے لیے دونوں فریقوں کو سمجھوتے کرنا ہوں گے۔

    روس کا مؤقف ہے کہ یوکرین کو ڈونیٹسک، لوہانسک، خیرسون اور زاپوریزیا جیسے علاقوں سے دستبردار ہونا اور نیٹو میں شمولیت کی کوششیں ترک کرنا ہوں گی، جسے یوکرین مسترد کرتا رہا ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ممکنہ ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہت اچھا ہوگا اگر دونوں رہنما ملیں‘ اور انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    یوکرین اور روس کے درمیان حالیہ مہینوں میں جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جبکہ جنیوا، استنبول اور ابوظہبی میں ہونے والے مذاکرات بھی کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہو چکے ہیں۔

  16. مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ 50 فیصد منجمد اثاثے فوری جاری کیے جائیں: ایران کا مطالبہ

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے نائب وزیر خارجہ اور جوہری مذاکراتی ٹیم کے رکن کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوری بعد اس کے منجمد اثاثوں کا 50 فیصد جاری کیا جائے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے مہر سے گفتگو کرتے ہوئے غریب آبادی کا کہنا تھا کہ باقی ماندہ اثاثے بھی ایک ’معقول مدت‘ کے اندر ایران کے حوالے کیے جانے چاہییں، جو ان کے بقول ایک یا دو ماہ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں ’اہم اور کلیدی‘ موضوعات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق کس مرحلے پر کتنی رقم جاری کی جائے، یہ معاملہ مذاکرات کے ذریعے طے ہو سکتا ہے۔

    ادھر امریکہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے کے ابتدائی مرحلے میں ایران کو کوئی رقم فراہم نہیں کی جائے گی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس حوالے سے کہا تھا کہ اگر وہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کریں گے تو وہ ’بہتر معاہدہ‘ ہو گا اور اس میں ایران کو ویسے بڑی مقدار میں نقد رقم نہیں دی جائے گی جیسا کہ ان کے بقول سابق صدر باراک اوباما کے دور میں جوہری معاہدے کے تحت ہوا تھا۔

  17. ایران، چین اور روس کے سفیروں کی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات

    @PMIRAN_Vienna

    ،تصویر کا ذریعہ@PMIRAN_Vienna

    ،تصویر کا کیپشنویانا میں تعینات ایران، چین اور روس کے مستقل نمائندوں نے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رفال گراسی کے ساتھ ایک مشترکہ ملاقات کی

    ویانا میں تعینات ایران، چین اور روس کے مستقل نمائندوں نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رفال گراسی کے ساتھ ایک مشترکہ ملاقات کی۔

    یہ ملاقات آئندہ ہفتے ویانا میں ہونے والے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس سے قبل منعقد ہوئی۔

    ویانا میں اقوام متحدہ کے لیے ایران کے مستقل مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس ملاقات کی ایک ویڈیو شائع کرتے ہوئے لکھا کہ فریقین نے بورڈ آف گورنرز کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    اس ملاقات سے چند گھنٹے قبل، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال سے متعلق اپنی نئی رپورٹ بورڈ آف گورنرز کے ارکان کو پیش کی۔

    اس خفیہ رپورٹ، جس کا متن بعض خبر رساں اداروں نے حاصل کیا ہے، میں ایجنسی نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ ایران کی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی تصدیق کے لیے اس کی تنصیبات تک رسائی نہ ہونا ’پھیلاؤ کے خدشات‘ کا باعث ہے۔

    رپورٹ میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایجنسی کے ساتھ ’تعمیری انداز میں تعاون اور روابط قائم کرے‘۔

    آئندہ ہفتے ہونے والا بورڈ آف گورنرز کا اجلاس 29 مارچ کو ایران پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملے اور چالیس روزہ جنگ کے بعد منعقد ہونے والا پہلا اجلاس ہوگا۔

  18. روس کی ایران اور عرب ممالک کے درمیان ’عدم جارحیت‘ کے معاہدے کی تجویز

    سرگئی لاروف

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنروسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف

    روسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’عدم جارحیت کا معاہدہ‘ ایران اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی طرف ایک اہم پہلا قدم ہو سکتا ہے۔

    آر ٹی عربی کے ساتھ ایک انٹرویو میں، سرگئی لاوروف نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے علاوہ، ’دیگر تکمیلی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔‘

    اپنے مجوزہ اضافی اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے، سرگئی لاوروف نے کہا کہ ان میں ’فوجی سرگرمیوں میں شفافیت اور فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کے معاہدے‘ اور دیگر امور شامل ہو سکتے ہیں جو اجتماعی طور پر ایران اور خطے کے عرب ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو مضبوط کرنے میں مدد کریں گے۔

  19. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاجی کال، حکومت کی سفری ہدایات جاری

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 9 جون کو عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال کے پیش نظر کشمیر حکومت نے سیاحوں اور دیگر افراد کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔

    کشمری کے ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز کی جانب سے 4 جون 2026 کو جاری بیان کے مطابق حکومت نے کہا ہے کہ ممکنہ صورتحال کے پیش نظر عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    حکام کے مطابق 5 جون سے 20 جون 2026 تک سیاحت یا دیگر مقاصد کے لیے کشمیر آنے والے افراد کو یہ مشورہ ہے کہ وہ اس عرصے میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ پریشانی یا ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ ہدایات عوامی سہولت اور تحفظ کے پیش نظر جاری کی گئی ہیں۔ تاہم جن افراد کا پہلے سے سفر کا پروگرام طے ہے اور وہ 5 جون تک کشمیر میں داخل ہو سکتے ہیں، ان سے کہا گیا ہے کہ وہ بروقت پہنچ جائیں تاکہ کسی دشواری سے بچا جا سکے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ احتجاجی کال کے باعث خطے میں سکیورٹی اور انتظامی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں، جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

    یاد رہے کہ عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاجی کال کے بعد کشمیر میں ممکنہ طور پر سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ اور سکیورٹی ادارے اپنی تیاریاں مکمل کر رہے ہیں۔

  20. اسلام آباد سے کشمیر تک سکیورٹی الرٹ: احتجاجی کال کے پیش نظر بڑی نفری تعینات, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنتین برس قبل کشمیر میں ہونے والا احتجاج عوام اور سکیورٹی فورسز میں پرتشدد جھڑپوں پر ختم ہوا تھا

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال کے تناظر میں سکیورٹی انتظامات کو سخت کر دیا گیا ہے، جبکہ اسلام آباد پولیس کی 1500 سے زائد اہلکاروں پر مشتمل ایک بڑی نفری کو وہاں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق کشمیر میں امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے یہ بین الصوبائی پولیس تعاون کا بڑا اقدام ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ برس عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران جب اسلام آباد پولیس کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں تعینات کیا گیا تھا تو اس اقدام پر کمیٹی کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا تھا۔

    جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے پیش کیے جانے والے 38 نکات پر مشتمل ’چارٹر آف ڈیمانڈ‘ میں جو مطالبات شامل ہیں ان میں حکومتی اخراجات میں کمی سے لے کر اسمبلی نشستوں پر اعتراضات ، مفت تعلیم و علاج کی سہولت اور فضائی اڈے کے قیام سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کرنا شامل ہیں۔

    پولیس ذرائع کے مطابق آئی جی اسلام آباد کی منظوری کے بعد 1505 اہلکاروں اور افسران پر مشتمل ایک خصوصی فورس کو کشمیر بھیجا جا رہا ہے، جس میں اعلیٰ پولیس قیادت بھی شامل ہے۔ اس نفری میں ایک ڈی آئی جی، دو ایس ایس پیز اور چار ایس پیز کے علاوہ دیگر سینیئر و جونیئر افسران بھی شامل ہوں گے۔

    JAC Kashmir
    ،تصویر کا کیپشنشوکت نواز میر

    حکام کا کہنا ہے کہ تعینات کی جانے والی فورس میں آٹھ اے ایس پی/ڈی ایس پی، 16 انسپکٹرز، اسسٹنٹ سب انسپکٹرز اور بڑی تعداد میں کانسٹیبلز شامل ہیں، جن کی مجموعی تعداد 1382 بتائی گئی ہے۔

    یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کشمیر میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کو مکمل اینٹی رائٹ گیئر کے ساتھ روانہ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

    سکیورٹی پلان کے تحت اسلام آباد پولیس کی مختلف یونٹس، جن میں سی ٹی ڈی، سیف سٹی، آپریشنز اور سکیورٹی ڈویژن شامل ہیں، کو بھی اس تعیناتی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد امن و امان کو ہر صورت برقرار رکھنا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق نفری کی نقل و حرکت اور لاجسٹک سپورٹ کے لیے بھی خصوصی احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    اہلکاروں کو طبی امداد، لاؤڈ سپیکرز، ٹارچز اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔

    مظفر آباد میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں واضح کیا ہے کہ ’ہم نہ پاکستان اور نہ اس کے اداروں کے خلاف ہیں۔‘

    انھوں نے آرمی چیف عاصم منیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’فیلڈ مارشل صاحب آپ قابل احترام ہیں۔

    شوکت نواز میر نے کہا کہ ’ہم نام نہاد سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی نالائقیوں کے باعث عام آدمی کی محرومیوں کے ازالے اور بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘ اان کے مطابق ’کشمیری اور پاکستانی عوام کا بھائی چارے کا رشتہ دہائیوں سے قائم ہے اور تاقیامت قائم رہے گا۔‘