شنزو آبے: سابق جاپانی وزیرِ اعظم کا قتل جو جاپان جیسے محفوظ ملک کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعے کی صبح شنزو آبے پر قاتلانہ حملے کی خبر سامنے آتے ہی دوستوں اور جاننے والوں کے پیغامات آ رہے ہیں اور ہر کوئی ایک ہی سوال پوچھ رہا ہے: یہ جاپان میں کیسے ہو سکتا ہے؟
میرے اپنے تاثرات بھی کچھ ایسے ہی تھے۔ یہاں ایک عرصے سے رہائش پذیر ہونے کے بعد آپ پرتشدد جرائم کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔
حملہ آور کی شناخت اس خبر کو مزید چونکا دینے والا بنا دیتا ہے۔ شنزو آبے بیشک اس وقت جاپان کے وزیرِ اعظم نہیں تھے لیکن وہ اب بھی جاپان میں ایک بااثر شخصیت کے طور پر دیکھے جاتے تھے اور شاید گذشتہ تین دہائیوں کے سب سے زیادہ مقبول سیاست دان بھی۔
کون آبے کو مارنا چاہے گا اور وہ ایسا کیوں کرے گا؟
میں اس نوعیت کے کسی اور واقعے مثال کے بارے میں سوچ رہا ہوں جو مقامی آبادی کے لیے اتنا ہی چونکا دینے والا ہو جتنا آبے کا قتل ہے۔ ایک ایسا ہی سیاسی پر تشدد واقعہ جو ذہن میں آتا ہے وہ سنہ 1986 میں سویڈش وزیرِ اعظم اولوف پالمے کا قتل تھا۔
جب میں یہ کہتا ہوں کہ جاپان میں لوگ پرتشدد جرائم کے بارے میں نہیں سوچتے تو میں مبالغہ آرائی سے ہرگز کام نہیں لے رہا۔
ہاں یہاں یاکوزا ضرور ہیں جنھیں جاپان کے منظم پرتشدید گینگز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم اکثر افراد کا عام زندگی میں ان سے پالا کم ہی پڑتا ہے۔
اور یاکوزا خود بھی اسلحے کے استعمال سے گھبراتے ہیں کیونکہ انھیں اسے غیرقانونی ملکیت کے بدلے بھاری جرمانے ہو سکتے ہیں۔
جاپان میں اسلحہ رکھنا بہت ہی مشکل ہے۔ ایسا کرنے کے لیے آپ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہونا چاہیے، آپ نے اسلحہ چلانے کی لازمی ٹریننگ کی ہو، آپ کا نفسیاتی جائزہ لیا گیا ہو اور آپ کے خاندانی پسِ منظر کے حوالے انتہائی تفصیلی چھان بین کی جاتی ہے اور پولیس آپ کے ہمسائیوں سے آپ کے بارے میں معلومات لینے آتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہی وجہ ہے کہ یہاں 'گن کرائم' کی مثالیں انتہائی کم ملتی ہیں۔ جاپان میں ہر سال ہتھیاروں کے باعث اموات کی تعداد اوسطاً 10 ہے۔ سنہ 2017 میں ایسی صرف تین اموات ہوئی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت تمام توجہ حملہ آور اور اس کی جانب سے استعمال کیے گئے ہتھیار پر ہے۔
حملہ آور کون ہے؟ اس کے پاس یہ ہتھیار کہاں سے آیا؟ جاپانی میڈیا کے مطابق 41 سالہ مشتبہ حملہ آور ملک کی سیلف ڈیفنس فورسز کے سابق رکن تھے جسے فوج کے برابر تصور کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم اگر ان کے کریئر کا قریبی جائزہ لیا جائے تو انھوں نے نیوی میں صرف تین برس گزارے۔ ان کی جانب سے ممکنہ طور پر جو ہتھیار استمعال کیا گیا وہ بھی خاصا پراسرار ہے۔
حملے کے بعد زمین پر پڑے ہوئے اس ہتھیار کی تصویر کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گھر پر تیار کیا گیا ہتھیار تھا۔
بظاہر دو سٹیل پائپس کو ٹیپ سے جوڑ کر ایک ہاتھ سے بنایا گیا بندوق کا گھوڑا اس میں نصب کیا گیا ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ہتھیار انٹرنیٹ سے ترکیب دیکھ کر بنایا گیا ہے۔
تو کیا یہ ایک سیاسی حملہ تھا یا کسی ایسے شخص کا عمل جو کسی مشہور شخصیت کو قتل کر کے مقبول ہونا چاہتا تھا۔ تاحال اس بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔
یہ بھی پڑھیے
جاپان میں ماضی میں بھی متعدد سیاسی قتل ہو چکے ہیں۔ سب سے مشہور قتل سنہ 1960 میں جاپانی سوشلسٹ جماعت کے رہنما انیجور اسانوما کا ہوا تھا۔ انھیں ایک دائیں بازو کے شدت پسند شخص نے پیٹ میں تلوار مار کر ہلاک کیا تھا۔
جاپان میں اب بھی دائیں بازو کے شدت پسند موجود ہیں لیکن آبے خود ایک دائیں بازو کے قوم پرست رہنما تھے اس لیے انھیں کسی ایسے گروہ کی جانب سے نشانہ بنانے کا امکان کم ہے۔
گذشتہ کئی برسوں سے ہم نے جاپان میں ایک مختلف نوعیت کے جرم کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا ہے۔ یہ ایک خاموش اور اکیلے مردوں کی جانب سے کیے گئے جرائم ہیں جنھوں نے کسی کے خلاف کوئی بات دل میں رکھ لی ہوتی ہے۔
سنہ 2019 میں ایک شخص نے کویوٹو کی ایک عمارت جس میں ایک مقبول اینی میشن سٹوڈیو بھی تھا کو آگ لگا دی تھی جس کے باعث 36 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اس شخص نے پولیس کو بتایا تھا کہ اسے سٹوڈیو پر غصہ تھا کیونکہ انھوں نے 'اس کا کام چرایا تھا۔'
اسی طرح سنہ 2008 میں ہونے والے ایک اور واقعے میں ایک نوجوان نے ٹوکیو کے اکیہابارا ضلع میں متعدد دکانداروں پر ٹرک چڑھا دیا اور پھر باہر نکل کر وہاں موجود افراد پر چھرے سے وار کیے۔ اس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہوئے۔
انھوں نے اس حملے سے قبل آن لائن ایک پیغام پوسٹ کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ 'میں اکیہابارا کے لوگوں کو ہلاک کروں گا' اور 'میرا کوئی دوست نہیں ہے، ہر کوئی مجھے نظر انداز کرتا ہے کیونکہ میں بدصورت ہوں۔ میری حیثیت کچرے سے بھی کم ہے۔'
تاحال یہ معلوم نہیں ہے کہ آبے پر کیا گیا حملہ پہلی کیٹگری میں آتا ہے یا دوسری لیکن یہ ضرور یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کا قتل جاپان کو تبدیل کر دے گا۔
جاپان اتنا محفوظ ملک ہے کہ یہاں سکیورٹی بہت نرم ہوتی ہے۔ الیکشن مہم کے دوران جیسے اس وقت چلائی جا رہی ہیں سیاست دان گلیوں کے کناروں پر کھڑے ہو کر تقاریر کرتے ہیں اور دکانداروں اور آس پاس سے گزرنے والوں سے ہاتھ ملاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آبے کے حملہ آور اتنے قریب سے ان پر گولی چلانے کے قابل ہوئے۔ یقیناً یہ آج کے بعد تبدیل ہو جائے گا۔



























