مرتضیٰ قریشی: سعودی عرب نے سب سے کم عمر قیدی کو آٹھ سال بعد رہا کر دیا

Murtaja Qureiris before his imprisonment (left) and after

،تصویر کا ذریعہESOHR

،تصویر کا کیپشنمرتضی کی پہلے اور بعد کی تصاویر ان کی کہانی بیان کرتی ہیں۔۔۔ جب وہ گرفتار کیے گئے تو ایک بچے تھے، مگر اب آٹھ سال بعد وہ داڑھی والے نوجوان بن چکے ہیں۔
    • مصنف, سباستیئن عشر
    • عہدہ, بی بی سی کے عرب امور کے ایڈیٹر
  • وقت اشاعت

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ایک ایسے قیدی کو رہا کر دیا ہے جسے 13 سال کی عمر میں حکومت مخالف مظاہروں میں ملوث ہونے کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا اور انھیں کئی سال تک بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا گیا۔

استغاثہ کی جانب سے مرتضیٰ قریشی کو سزائے موت دیے جانے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، مگر بلاآخر انھیں 12 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

انھیں سنہ 2011 میں (10 سال کی عمر میں) عرب سپرنگ کے دوران ہونے والے مظاہروں میں مبینہ شرکت کے الزام میں سنہ 2014 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

قریشی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سب سے کم عمر قیدی ہیں جنھیں مبینہ طور اس الزام میں حراست میں لیا گیا تھا کہ وہ اس سیاسی مظاہرے میں شریک ہوئے۔

ایک ویڈیو میں انھیں سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں دوسرے بچوں کے ساتھ سائیکلوں پر ایک احتجاجی ریلی میں دکھایا گیا، اس علاقے میں شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے اور مرتضیٰ کا تعلق بھی شیعہ مسلک سے ہے۔

سنی مسلمانوں کے اکثریتی اس ملک میں بسنے والے شیعہ ایک طویل عرصے سے امتیازی سلوک اور دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیے جانے کی شکایات کرتے آ رہے ہیں۔

باقی عرب ممالک میں ہونے والی بغاوتوں سے سعودی عرب کی شیعہ اقلیت کو بھی حوصلہ ملا اور وہ سعودی حکام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔

مگر سکیورٹی فورسز نے سخت کارروائیاں کرتے ہوئے اس شورش پر قابو پا لیا اور انھوں نے اس وقت اور اس کے بعد ہونے والے مظاہروں میں ملوث بے شمار افراد کو گرفتار کیا جنھیں بعد میں درجنوں کو پھانسی دے دی گئی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مرتضیٰ قریشی کو کئی سال تک بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا گیا۔

مرتضی کی پہلے اور بعد کی تصاویر ان کی کہانی بیان کرتی ہیں جب وہ گرفتار کیے گئے تو ایک بچے تھے، مگر اب آٹھ سال بعد وہ داڑھی والے نوجوان بن چکے ہیں۔

Social Media

،تصویر کا ذریعہSocial Media

،تصویر کا کیپشنایک ویڈیو میں مرتضیٰ کو سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں دوسرے بچوں کے ساتھ سائیکلوں پر ایک احتجاجی ریلی میں دکھایا گیا۔

آخر کار جب مرتضیٰ کے خلاف مقدمہ چلایا گیا تو ان پر ایک انتہا پسند دہشت گرد گروپ سے تعلق رکھنے کا الزام لگایا گیا۔ ان پر اپنے بڑے بھائی کا ساتھ دینے کا الزام لگایا گیا جس نے مبینہ طور پر ایک پولیس سٹیشن پر پٹرول بم پھینکا تھا۔ استغاثہ نے اس کم عمر ترین قیدی کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کو ڈر تھا کہ مرتضی کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔

اس موقع پر ایک اعترافی بیان ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا جس کے بارے میں مرتضی نے عدالت کو بتایا کہ ان سے تشدد کے ذریعے اس اعترافی بیان پر دستخط کروائے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب میں اتنے کم عمر قیدی کے خلاف بنائے گئے مقدمے نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ مبذول کروائی، شاید اسی توجہ کے باعث انھیں سزائے موت کے بجائے عمر قید کی سزا دی گئی۔

مرتضی کو پہلے 12 سال کے لیے قید کی سزا دی گئی تھی جسے بعد میں کم کر کے آٹھ سال کر دیا گیا۔ وقت گزرتا گیا اور 13 سال کی عمر میں جیل جانے والے اس بچے کی قید پوری ہو گئی اور امید کی جا رہی تھی کہ انھیں جلد رہائی مل سکتی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان کی رہائی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے لیکن اتنے برس دورانِ حراست خاص طور پر سزائے موت کے خوف میں قید رہنے والے بچے کی جسمانی اور ذہنی حالت کے بارے میں خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔

سعودی عرب کے خلاف مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنرواں برس مارچ میں سعودی عرب میں ایک ہی دن میں 81 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں سزا پانے والے کئی افراد کو منصفانہ مقدمے کا حق نہیں ملتا

2020 میں سعودی عرب میں ایک شاہی فرمان جاری کیا گیا جس کے مطابق جرم کے وقت ملزم کے نابالغ ہونے کی صورت میں اس کی سزائے موت ختم کر دی گئی تھی۔

لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کو تشویش ہے کہ شاید عملی طور پر ایسا ممکن نہ ہو سکے۔

رواں برس مارچ میں سعودیہ میں ایک ہی دن میں 81 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں سزا پانے والے کئی افراد کو منصفانہ مقدمے کا حق نہیں ملتا۔ سعودی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

واضح رہے کہ سزائے موت دینے کے معاملے میں سعودی عرب کی شرح دنیا بھر میں پانچویں نمبر ہر ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے ممالک کی فہرست میں سعودی عرب کے ساتھ چین، ایران، مصر اور عراق شامل ہیں۔