افغانستان: چار روز تک کنویں میں پھنسا رہنے والا افغان بچہ نہیں بچ پایا

Crowds of people surround the site of a well in Shokak, in the south of Afghanistan, where a crane is positioned to save a boy trapped inside

،تصویر کا ذریعہMahfouZubaide

وقت اشاعت

افغانستان میں چار روز تک ایک کنویں میں پھنسے رہنے والے چھ سالہ بچے کی موت ہوگئی ہے۔

جنوبی صوبے ذابل میں ریسکیو حکام اس چھ سالہ بچے کو کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد جمعے کے روز کنویں سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

تاہم ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب بچے کو نکالا گیا تب تک اس کا سانس رک چکا تھا اور وہ کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کر رہا تھا۔ ریسکیو ورکرز کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز سے ہی کنویں کے اندر سے کوئی آواز نہیں آ رہی تھی۔

ریسکیو اہلکاروں نے بچے تک پہنچنے کے لیے ایک خندق کھودی اور بچے کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے کابل میں ہسپتال لے جایا جانا تھا۔

ذابل پولیس کے ترجمان ذبیح اللہ جوہر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘جب بچے کو نکالا گیا تو ابتدائی چند منٹ تک وہ سانس لے رہا تھا اور طبی ٹیم نے اسے آکسیجن بھی دی مگر جب میڈیکل ٹیم اسے ہیلی کاپٹر کی طرف لے جا رہی تھی اس وقت بچے کی موت ہوگئی۔‘

ذابل کے شعبہِ اطلاعات و ثقافت نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ حیدر نامی یہ بچہ شوکک نامی گاؤں میں منگل کے روز سڑک کنارے چلتے ہوئے ایک کنویں میں گر کر پھنس گیا تھا۔

یہ بچہ 25 میٹر گہرے اس کنویں میں جب گرا تو اس وقت وہ ہل جل سکتا تھا تاہم اس وقت وہاں موجود لوگوں کی اسے نکالنے کی کوشش کی وجہ سے معاملات بگڑ گئے۔

دس میٹر اوپر کھینچے جانے کے بعد بچہ ایک مقام پر پھنس گیا کیونکہ وہاں پر راستہ انتہائی تنگ تھا۔ یہ بچہ اسی حالت میں تقریباً 30 گھنٹے تک پھنسا رہا۔ ریسکیو اہلکار اس صورت میں وہاں تک کھانے پینے کی اشیا بھی پہنچا نہیں سکے تھے۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں بچے کے باپ کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ‘میرے بیٹے تم ٹھیک ہو؟ میرے سے بات کرو، رو مت، ہم تمھیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

اس بچے نے جواب میں کہا ‘ٹھیک ہے میں بات کرتا ہوں۔‘

مگر نکالے جانے سے تقریباً 24 گھنٹے قبل بچے کی آواز آنا بند ہوگئی تھی۔

طالبان کی وزارتِ داخلہ کے سینیئر مشیر انس حقانی نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ‘انتہائی غم کے ساتھ، ننھا حیدر ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا ہے۔