کرسمس: ٹوٹے رشتوں کو جوڑنے اور بہتر خاندانی زندگی گزارنے کے چند گُر

،تصویر کا ذریعہ Javier Hirschfeld/Getty Images
- مصنف, ڈیوڈ رابن سن
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
کسی بھی خوشی کا تہوار جیسا کہ کرسمس ایک موقع ہوتا ہے، محبت، گرمجوشی اور بعض اوقات خاندانی اختلافات پر بات کرنے کا۔ ذیل میں ایسے گُر بیان کیے جا رہے ہیں جن سے آپ تکلیف دہ جھگڑوں سے بچ سکتے ہیں اور ایک پُرسکون زندگی کا مزہ لے سکتے ہیں۔
ایک کہاوت ہے کہ ایک خوش و خرم خاندان ’جنت سے پہلے جنت‘ ہے اور ایک ناخوش گھرانہ کسی جہنم سے کم نہیں ہوتا۔
اب جب سالانہ چھٹیاں شروع ہو رہی ہیں اور ہم میں سے بہت سے افراد خاندانی ناچاقی اور بدمزگیوں کو سہنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رہے ہوں گے۔ چاہے یہ کھانا مزاج کے مطابق نہ ہونے پر ناپسندیدگی کا اظہار ہو، کسی کے ساتھ ضرورت سے زیادہ مہربانی ہو یا سیاسی اور سماجی معاملات پر تیز و تند بحث مباحثہ رشتہ داروں کے جمع ہونے پر اکثر ہمارا اصل روپ سامنے آ جاتا ہے۔ کیا ہم اپنے رشتہ داروں سے ملنا چاہتے ہیں، ہم سے بہت سوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی چھٹیاں الگ گزاریں۔
خاندانی جھگڑے ڈراموں میں تو باعث تفریحی ہو سکتے ہیں لیکن اصل زندگی میں یہ کوئی مذاق نہیں ہوتے۔
یونیورسٹی آف انگلینڈ میں نفسیات کی پروفیسر اور خاندان رشتوں پر ایک کتاب کی مصنفہ لوسی بلیک کا کہنا ہے کہ ’الگ ہونے کا سب سے عام نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ تنہا ہو جاتے ہیں، آپ کو احساس ندامت ہوتا ہے اور یہ احساس پیدا ہونے لگتا ہے کہ آپ کے بارے میں باتیں کی جا رہی ہوں گی۔‘
ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑنے کا کوئی آسان حل نہیں ہے۔ لیکن اپنے خاندان کو سمجھنے سے آپ ناخوشگوار مواقع کے لیے تیار رہتے ہیں اور اس سے ہونے والے ذہنی دباؤ کو بھی بہتر انداز سے برداشت کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ Javier Hirschfeld/Getty Images
لوگ اکثر اپنے خاندان کی ناخوشگوار ملاقاتوں اور جھگڑوں کے بارے میں بات کرنے سے کتراتے ہیں اور ہم میں سے کئی جو ایسے تجربات سے گزرتے ہیں وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں سے مختلف ہیں۔ ہم یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ ہم میں ہی کچھ خرابی ہے، اسی وجہ سے ہماری رشتہ داریاں ٹھیک نہیں ہیں۔
بلیک کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا ہمارےاحساس تنہائی میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔ ’ہم اپنے خاندانی رویوں کو دیکھتے ہیں جس سے ہم میں احساس تنہائی بڑھتا چلا جاتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اور تجزیاتی دستاویز میں جو رواں برس کے شروع میں شائع کی گئی تھی اس میں جرمنی سے حاصل کیے گئے وسیع ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جس میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کہ خاندانی رنجشیں کس قدر عام ہیں۔
تجزیہ نگاروں نے والدین اور بچوں کے درمیان اگر کوئی روابط نہیں ہیں یا اگر ان کے ایک ماہ سے کم عرصے میں ملاقات نہیں ہوتی یا وہ جذباتی طور پر قریب نہیں ہیں تو ایسے تمام معاملات کو انھوں نے خفگیوں یا خاندانی رنجشوں کے زمرے میں شمار کیا۔ اس پیمانے پر 30 فیصد افراد ایسے تھے جن کی والد سے رنجش یا ناراضگی تھی جب کہ نو فیصد ایسے تھے جو اپنی والدہ سے ناراض تھے۔
تمام خاندانی جھگڑے یا ناراضگیوں میں اتنے شدید اختلافات نہیں ہوتے لیکن ہلکے پھلکے جھگڑے بھی پریشان کُن ہو سکتے ہیں اور ان میں اکثر اوقات ایک ہی نوعیت کی وجوہات ہوتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ Javier Hirschfeld/Getty Images
مشترکہ تاریخ
کسی بھی رشتہ میں اختلاف پیدا ہو سکتے ہیں، خاندان کے افراد میں بحث اکثر اوقات ماضی کے کسی واقعہ پر متضاد بیان سے بھی شروع ہو سکتی ہے اور اکثر اوقات کوئی ایک غیر محتاط جملہ وجہ تنازع بن سکتا ہے۔ اپنے کنبے قبیلے سے باہر کی دوستیوں کے برعکس قریبی رشتوں کی جذباتی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
برطانوی نفسیاتی ماہر اور خاندانی رشتوں کے بارے میں کئی کتابوں کے مصنف ٹیری آپٹر کے مطابق خاندانوں میں ایک مستقل احساس پایا جاتا ہے کہ ان کی محبتوں پر سوال کیا جا رہا ہے یا اُن کے پیار پر شک کیا جا رہا ہے۔
ان مایوسیوں کی وجوہات اور ان کے اظہار کا دارو مدار اسی بات پر ہوتا ہے کہ خاندان میں آپ کا کیا مقام ہے۔
والدین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بالغ بچوں کے معاملات میں مثلاً ان کا کیا حلیہ ہونا چاہیے، ان کو کس پیشے میں جانا چاہیے یا ان کو کس سے دوستی کرنی چاہیے یا کس سے شادی کرنی چاہیے، رہنمائی کرتے رہیں۔
والدین کی نصیحتیں اور مشورے جو بلاشبہ اچھے دل سے دیے جاتے ہیں بچوں کو بعض اوقات ناگوار گزرتے ہیں اور انھیں یہ مداخلت لگنے لگتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہJavier Hirschfeld/Getty Images
بھائی بہنوں میں والدین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بعض اوقات مسابقت ہوتی ہے۔ کھبی بڑے بھائی کی کوئی بات آپ کو ایسے لگے گی کہ جیسے وہ آپ پر رعب جما رہا ہو اور سب کچھ جانتا ہو اور کبھی کسی چھوٹی بہن کی بدمزاجی سے لگے گا کہ وہ توجہ حاصل کرنے کے لیے ڈرامہ کر رہی ہو۔
اگر ایسا ایک آدھ بار ہو تو آپ شاید اس پر زیادہ توجہ نہ دیں اور اس کو مختلف انداز میں دیکھیں۔ لیکن آپ کے بھائی کی کوئی نصیحت آپ کے لیے ناگوار بھی ہو سکتی ہیں لیکن ہو سکتا ہے آپ کو اس میں کوئی بدنیتی نظر نہ آئے۔
چھوٹی بہن کے غصے کو بھی کبھی کبھار نظر انداز کر دیں۔ لیکن اگر خاندان کی پرانی باتوں کی ہلکی سی بھی اگر آپ کو یاد آ گئی تو آپ کو لگے گا کہ آپ کو ہمیشہ ہی ایسی چیزیں برداشت کرنی پڑی ہیں۔
خاندانی رسم و رواج میں تضاد
اپٹر کے مطابق سسرالی رشتہ داریوں کی اپنی پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔ ایک خاندان کے طور طریقہ یا رسم و رواج دوسرے خاندان سے مختلف یا متصادم ہو سکتے ہیں۔ مختلف رشتہ داروں کو کسی طرح مخاطب کیا جائے گا یا گھر کے کون سے سے کام کس کے لیے مخصوص ہیں۔ اس طرح کچھ گھروں میں مذاق میں کی گئی کوئی بات کسی دوسرے خاندان میں تضحیک آمیز تصور کی جا سکتی ہے۔
کسی دوسرے خاندان سے تعلق قائم کرنا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے آپ کسی دوسرے ملک میں قدم رکھ رہے ہوں۔ ان کے رویوں اور عادتوں کو سمجھنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ بعض اوقات چھوٹی چھوٹی باتوں کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے اور اس طرح پیدا ہونے والی غلط فہمیاں جھگڑوں کا باعث بن سکتی ہیں۔
ان غلط فہمیوں سے اگر آپ کے سسرال والے منھ بنانے لگیں اور آپ کا شریک حیات آپ کا ساتھ نہ دے تو یہ صورتحال اور زیادہ تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔
ہو سکتا ہے کہ ایک خاص طریقے سے زندگی گزارنے کی وجہ سے آپ کے شریک حیات کو آپ کی بات ہی سمجھ میں نہ آئے یا اپنے گھر میں اپنی حیثیت کی وجہ وہ کسی بات میں مداخلت نہ کر سکیں لیکن ان عوامل کی وجہ سے معاملات کی سنگینی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ اپٹر کے مطابق اس صورتحال میں شاید آپ کو احساس تنہائی ہونے لگے یا آپ کو لگے کہ کہ آپ سے بے وفائی کی جا رہی ہے۔
اپٹر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بہت سے اختلافات پر بات نہیں کی جاتی۔ ’آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ کو خاموش کر دیا گیا ہو اور یہ صورت حال انتہائی تکلیف دہ اور بے چینی کا باعث بن سکتی ہے اور آپ کو ہمیشہ ہی محتاط رہنا پڑتا ہے۔‘























