آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آک لینڈ: سخت لاک ڈاؤن کے دوران شہر میں ’کے ایف سی‘ کا کھانا سمگل کرنے والے دو افراد گرفتار
نیوزی لینڈ پولیس نے آک لینڈ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایسے دو افراد کو گرفتار کیا ہے جن کی گاڑی سے ’کے ایف سی‘ کا چکن اور ہزاروں ڈالر برآمد ہوئے ہیں۔
دونوں افراد کا مبینہ طور پر کسی گینگ سے تعلق ہے اور انھیں ملک میں نافذ کوڈ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
آکلینڈ میں چوتھے درجے کے لاک ڈاؤن اور پابندیوں کے تحت تمام ریستوران یہاں تک کے ٹیک اوے سروسز بھی بند ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 23 اور 30 سال کی عمر کے دونوں ملزمان آکلینڈ سے 75 میل دور ہیملٹن سے آ رہے تھے۔
پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس افسران نے شہر کے مضافات میں ایک مشتبہ کار کو دیکھا اور تلاشی کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
ترجمان کے مطابق پولیس کی کار کو دیکھ کر مشتبہ کار نے یو ٹرن لیا اور گاڑی کی رفتار اچانک تیز کر دی تھی۔ پولیس نے گاڑی کا تلاشی لی تو کار سے نقد اور بڑی مقدار میں کے ایف سی کا کھانا برآمد ہوا۔
پولیس نے جو تصاویر شئیر کی ہیں ان کے مطابق گاڑی سے بڑی مقدار میں کے ایف سی کا چکن اور فرائیز برآمد ہوئے ہیں۔
پولیس نے نیوزی لینڈ کی کرنسی میں ایک لاکھ ڈالر بھی برآمد کیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ملزمان نے یہ کھانا ایک لاکھ ڈالر سے پولیس کی توجہ ہٹانے کے لیے ساتھ رکھا تھا۔
پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کو صحت عامہ کے ضوابط کی خلاف ورزی کے کیس میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مزید کیس بھی درج کیے جا سکتے ہیں۔
پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کا کھانے کے ساتھ دیر رات باہر نکلنے کا مطلب ہے کہ انہیں اندازہ ہوگا کہ پابندیوں یا ضابطے کی خلاف ورزی کے لیے ان پر چار ہزار ڈالر تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور چھ ماہ کی جیل تک ہو سکتی ہے۔
نیوزی لینڈ میں کھانے کے چٹخارے کے لیے ایسی مصیبت مول لینے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک بیس سالہ شخص پر اس وقت کیس درج کیا گیا جب ٹک ٹاک پر اس نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ آک لینڈ سے باہر نکل کر میکڈونلڈ سے بڑی مقدار میں کھانا خرید رہا ہے۔
آکلینڈ منگل کی رات سے تیسرے درجے کے لاک ڈاؤن پر آ جائے گا تاہم لوگ اب بھی گھروں میں بند رہیں گے اور صرف سکول یا کام پر جانے کے لیے باہر نکلنے کی اجازت ہوگی۔
باقی کے ملک میں دوسرے درجے کا لاک ڈاؤن ہے جس میں دکانیں، ریستوران، بار اور نائٹ کلب کھلے ہیں۔