کورونا وائرس: لاک ڈاؤن میں وقت اتنی تیزی سے گزرتا ہوا کیوں محسوس ہوتا ہے

    • مصنف, کلاڈیا ہیمنڈ
    • عہدہ, مصنفہ
  • وقت اشاعت

اب جبکہ دنیا کے کچھ حصوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے، کچھ لوگ اِن بیتے ہوئے دنوں کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ ان کے روز و شب اس لاک ڈاؤن کے دوران حیران کن حد تک کتنی تیزی سے گزر رہے تھے۔

جب ہمیں شروع شروع میں لاک ڈاؤن کی ہفتوں بھر گھروں میں محدود، سست اور بور کرنے والی زندگی کے بارے میں بتایا گیا تھا تو ہم اس طرح کے تیزی سے گزرنے والے دنوں کی توقع نہیں کر رہے تھے۔

فی الحال یہ قبل از وقت ہے کہ اس موضوع پر کوئی منظم تحقیق ہو، لیکن عمومی طور پر کافی سارے لوگوں کے لیے یہ ایک معمہ ہے کہ ان کے روز و شب حیران کن حد تک کتنی تیزی سے گزر گئے۔ اس بات پر یقین کرنا بہت مشکل لگ رہا ہے کہ ہم اب مئی کے آخری ہفتے تک پہنچ گئے ہیں، یعنی لاک ڈاؤن کے آغاز کو دو ماہ ہو گئے ہیں۔

برطانیہ میں کووِڈ-19 کی وبا کے آغاز سے ڈاکٹروں، نرسوں، پیرا میڈیکل سٹاف، بوڑھوں اور بیماروں کا خیال کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے عوام ہر جمعرات کی شام کو اپنے اپنے گھروں کے باہر کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے رہے ہیں۔ مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ رسم بڑی تیزی سے آ جاتی ہے، جو کہ ایک لحاظ سے بہت اچھی بات ہے کیونکہ اس سے ہمیں اپنے ہمسائیوں سے سلام دعا کرنے کا ایک موقعہ مل جاتا ہے۔

مزید پڑھیے

لیکن یہ ایک لحاظ سے پریشان کن بھی ہے کیونکہ ہفتوں کے ہفتے پلک جھپکتے ہی گزر جاتے ہیں۔ امریکہ سے لے کر پولینڈ تک کے صحافی بھی یہ جاننے کے لیے مجھ سے رابطہ کر رہے ہیں کہ وقت اتنی تیزی سے گزرتا ہوا کیوں محسوس ہو رہا ہے، اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ اس موضوع پر سوچنے والی میں ہی تنہا شخص نہیں ہوں۔

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم اپنے ذہن میں وقت کے گزرنے کے بارے میں ایک احساس پیدا کر لیتے ہیں جس کا ہماری دیوار پر لگے گھڑیال میں نظر آنے والے وقت سے ہمیشہ مطابقت رکھنا ضروری نہیں ہوتا ہے۔ ایک دوست کے ساتھ دوپہر کے کھانے میں 20 منٹ کا وقت ایک لمحے میں گزر جاتا ہے لیکن لیٹ ہو جانے والی ایک ٹرین کا 20 منٹ کا انتظار بہت طویل لگتا ہے، حالانکہ دونوں صورتوں میں وقت اتنا ہی طویل ہے۔

ہم وقت کے گزرنے کا اندازہ دو طریقوں سے کرتے ہیں: ممکنہ طور پر آئندہ کے لحاظ سے (یعنی اس وقت کتنی تیزی سے وقت گزر رہا ہے) اور گُزرے ہوئے وقت کے لحاظ سے (یعنی کتنی تیزی سے گذشتہ ہفتہ یا گذشتہ دہائی گزری؟)

لاک ڈاؤن کے دوران وہ لوگ جو اپنے دوستوں، احباب، رشتہ داروں اور اپنی ملازمت سے کٹے ہوئے تھے انھیں اپنا وقت گزارنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا۔ لوگوں نے وقت گزارنے کے لیے ہر قسم کی کوئی نہ کوئی مصروفیت ڈھونڈ لی تھی، جیسا کہ روٹیاں پکانا، پودے لگانا، دلچسپ قسم کی ویڈیوز بنانا۔

لیکن جب آپ اپنا ہر دن اور اپنی ہر شام گھر پر بسر کرتے ہیں تو ہر دن ایک جیسا لگنے لگتا ہے۔ کچھ لوگ تو ہفتے کے عام دنوں اور چھٹی والے دنوں میں فرق بھی نہیں کرسکتے ہیں۔

تمام روز و شب کے ایک جیسا نظر آنے سے ہم ایک یادداشتیں محفوظ کرنے کے ماحول کی طرف بڑھتے ہیں، جو کہ ہمارے وقت کے ادراک کے احساس کے لیے ہمارے لیے نہایت اہم پیش رفت ہوتی ہیں۔ یہ وہ یادداشتیں ہوتی ہیں جن کے ذریعے ہم اندازہ لگاتے ہیں کہ کتنا وقت گزر گیا ہے۔

جب آپ اپنی چھٹیوں میں کسی نئے مقام پر جاتے ہیں تو وقت بہت تیزی سے گزرتا ہے کیونکہ وہاں آپ کے لیے ہر شہ نئی ہوتی ہے، لیکن جب آپ واپس گھر آتے ہیں تو آپ واپس مڑ کر دیکھتے ہیں تو آپ کی نظروں میں کئی ساری یادیں آجاتی ہیں اور آپ محسوس کرتے ہیں کہ وقت کتنی تیزی سے گزر گیا حالانکہ آپ نے وہاں ایک ہفتے سے بھی زیادہ وقت گزارا تھا۔

تاہم لاک ڈاؤن کے دوران اس کے برعکس ہو سکتا ہے۔ چاہے روز و شب آہستہ آہستہ گزر رہے ہوں، جب آپ ہفتے کے آخری دن پر پہنچتے ہیں اور ہفتے بھر کی مصروفیت کو مڑ کر دیکھتے ہیں تو گُزرے ہوئے وقت کے لحاظ سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ وقت کتنی تیزی سے گزر گیا کیونکہ اس دوران آپ نے معمول کے وقت کی نسبت بہت ہی کم نئی یادیں بنائی ہوتی ہیں اور گزار ہوا وقت آپ کے ذہن پر کوئی نقوش نہیں چھوڑتا ہے۔

یہ اس وقت کے لحاظ سے شدید کم محسوس ہوتا ہے جو جیل میں رہنے کے دوران یا بیماری کے دنوں میں گزرتا ہے۔ ایسے میں وقت بہت ہی آہستہ آہستہ اور تکلیف سے گزرتا ہے اور لوگ دعا کرتے ہیں کے یہ جلدی سے گزر جائے، لیکن جب یہ گزر جاتا ہے اور جب وہ لوگ اسے مڑ کر دیکھتے ہیں تو وقت سکڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی لوگوں نے لاک ڈاؤن کے دوران بھی اپنے آپ کو مصروف پایا ہوگا، گھروں سے کام کرنے کے لیے یا اپنے بچوں کو گھر سے تعلیم دینے کے لیے ٹیکنالوجی کے مسائل حل کرنے میں اپنے آپ کو مصروف رکھا ہوگا۔ نئے کام کے انداز کے باوجود ان لوگوں کی زندگی کا ایک بڑا حصہ کسی ایک جگہ پر کام کرتے گزرا ہوگا جس سے ان کے ذہن میں اس سے وابستہ کم یادیں ہی رہی ہوں گی جن کا دھندلا سے نقش اس دوران قائم رہ جاتا ہے۔

ایک ہی جگہ پر بیٹھے ہوئے سافٹ وئیر 'زوم' کے ذریعے درجنوں افراد سے بات کرنے کے دوران ان سے وابستہ یادیں آپس میں گھل مل کر ایک ہی یاد کی صورت اختیار کرنے لگتی ہی، اور یہ ان یادوں سے مختلف ہوتی ہے جو ہم اپنے اردگرد کی حقیقی زندگی سے بننے والی یادوں میں محسوس کرتے ہیں جہاں ہم لوگوں سے مختلف جگہوں پر بلمشافہ ملتے ہیں۔

میں یہ بھی سوچتی ہوں کہ آیا لاک ڈاؤن کے دوران ہمارا وقت کے بارے میں ادراک یا تصور حال میں رہنے کی ضروت کی وجہ سے قدرے تبدیل بھی ہو گیا ہو۔ اگر معمول کے اوقات میں دماغ کو کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے تو ہم اکثر مستقبل کے بارے میں سوچنا شروع کردیتے ہیں لیکن اس طرح سوچنے کے لیے ہمارے ذہن میں کوئی منصوبہ نہیں ہوتا ہے۔

اور ہمارے وقت کا افق قدرے مختصر سا ہو جاتا ہے۔ اس وقت ہم شاید آئندہ کہ چند دنوں کے بارے میں سوچتے ہوں یا اس کی جگہ مستقبل بعید کے بارے میں سوچتے ہیں جب ہمارے خیال میں یہ وبا ختم ہو چکی ہوگی۔

جب ہم سوچتے ہوئے اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں تو ہم مڑ کر کورونا وائرس کے دوران کا وقت دیکھتے ہیں تو میرا خیال ہے کہ ہم لاک ڈاؤن کے دوران گزرے وقت میں مہینوں کے حصوں کو شاید ہی جدا کر کے محسوس کر پائیں۔ ہم شاید ہی یاد کر پائیں کہ ہم کہاں تھے، کب ہم نے یہ سنا تھا کہ وائرس پورے ملک میں پھیل گیا ہے یا یہ لاک ڈاؤن کا اعلان ہو گیا تھا۔

ماہرینِ نفسیات انھیں یادوں کے گوشے یا روشنیاں کہتے ہیں اور یہ کسی بہت بڑے واقعے کے بعد بہت ہی عام ہوتی ہیں۔ تاہم وقت کے اس دھارے میں دیگر نشانات کی غیر موجودگی میں جب لاک ڈاؤن شروع ہو گیا تھا تو اس کے بعد کے مہینوں کو ایک دوسرے سے جدا کر کے یاد کرنا کافی مشکل ہو گا۔

عام طور پر ہم ماضی کے بیتے ہوئے واقعات کو یاد کرنے کے لیے اس دوران ہونے والے دیگر واقعات کی یاد کا سہارا لیتے ہیں، ہم نے نئی ملازمت کب شروع کی تھی یا کب ہم کسی کی سالگرہ منانے گئے تھے۔ لیکن جب شاید ہی کبھی ہم گھر سے باہر گئے ہوں تو اس دوران گزرے وقت کے یہ لمحات اپنا کوئی نشان اپنے پیچھے نہیں چھوڑتے ہیں کیونکہ ان دنوں میں گزر جانے والے لمحات ایک ہی لمحے میں سمٹ جاتے ہیں۔

مختلف افراد میں وقت کے ادراک کا تصور منفرد ہوتا ہے۔ اندازے کے طور پر کہہ سکتے ہیں ہم میں سے نصف ایسے ہیں جو مستقبل کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسا کہ وہ ہماری جانب بڑھ رہا ہو اور ہم رک کر اس کا انتظار کر رہے ہیں، جبک باقی نصف مستقبل کو اس طرح دیکھتے ہیں کہ جیسے ہم اس کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

آپ اس عام سے سوال کے ذریعے جان سکتے ہیں کہ کس کا تعلق کس گروپ سے ہے: ’اگلے بدھ کو ہونے والی میٹنگ کو دو دن پہلے کر دیا گیا ہے۔ اب بدھ والی میٹنگ کس دن ہو گی؟' اس سوال کے دو ممکنہ جوابات بنتے ہیں۔ جو اپنے آپ کو وقت کے سامنے ٹھہرا ہوا سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مستقبل ان کی جانب بڑھ رہا ہے وہ اپنے جواب میں یہ کہنے کی جانب راغب ہوں گے کہ اب بدھ والی میٹنگ پیر کو ہو گی، لیکن جو اپنے آپ کو مستقبل کی جانب بڑھتا ہوا سمجھتے ہیں غالب امکان یہ ہے کہ ان کا جواب ہو گا کہ بدھ والی میٹنگ جمعے کے دن ہوگی۔

اگرچہ لوگ ان جوابات میں سے کسی ایک کا انتخاب جبلی طور پر کرتے ہیں، لیکن مخصوص حالات میں، مثلاً سفر کے دوران، یہ جواب بدل سکتا ہے۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی کی ماہرِ نفسیات لیرا بوروڈِٹسکی کو اپنی تحقیق کے ذریعے معلوم ہوا کہ جب لوگ ائیرپورٹ کے روانگی کے لاؤنج میں ہوتے ہیں اور انتظار پر مجبور ہوتے ہیں تو زیادہ تر لوگوں نے جواب میں پیر کہا۔ لیکن ائیر پورٹ کے آمد والے لاؤنج میں لوگوں نے محسوس کیا کے وہ مستقبل کی جانب بڑھ رہے ہیں اور زیادہ تر لوگوں نے جواب میں جمعہ کہا۔

بے شک میں اس بات کو ثابت تو نہیں کر سکتی لیکن میں اس بارے میں غور کرتی ہوں کے آیا اس لاک ڈاؤن نے کہیں لوگوں کو عارضی طور پر سوموار کا انتخاب کرنے والے گروہ کا حصہ تو نہیں بنا دیا ہے یعنی وہ مستقبل کا اس طرح انتظار کرہے ہوں جیسا کہ وہ ان کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اس مقالے کی مصنفہ کلاڈیا ہیمنڈ ہیں جنھوں نے وقت کے بارے میںTime Warped: Understanding the Mysteries of Time Perception نامی کتاب لکھی ہے۔