جنوبی افریقی نوجوان کے لاٹے کافی آرٹ سے عمان میں بدترین نوکری کے جھانسے میں پھنسنے تک

Athenkosi at a coffee machine

،تصویر کا ذریعہAthenkosi Dyonta

    • مصنف, کِم چاکانیستا
    • عہدہ, کِم پوڈ کاسٹ، بی بی سی ورلڈ سروس
  • وقت اشاعت

جنوبی افریقہ کا ایک باریستا، یعنی کافی بنانے کی مہارت رکھنے والے نوجوان نے سوچا کہ اسے عمان میں اُس کی زندگی کی سب سے بہترین ملازمت مل گئی ہے، لیکن دراصل وہ ملازمت اسے غلام مزدور بنانے کے لیے ایک جھانسے کے طور پر دی گئی تھی۔

وہ سمجھ رہا تھا کہ بالآخر اس کی کافی بنانے کی مہارت کی کہیں قدر کی جا رہی ہے، لیکن حقیقت میں یہ اُس سے بغیر تنخواہ کے کام لینے کا ایک گھناؤنا جال تھا۔ اُس کے خاندان اور دوستوں کو مجبور کیا جانے والا تھا کہ وہ اسے آزاد کرانے کے لیے ایک خطیر رقم جمع کریں۔

اس نوجوان کو ملازمت کی یہ پیشکش فیس بک کے ذریعے اس وقت ملی تھی جب 30 برس کا نوجوان، ایتھنکوسی دیونٹا اپنے آبائی قصبے جارج کے ایک کیفے میں کام کرتا تھا۔ یہ جگہ جنوبی افریقہ میں چھٹیوں کے لیے ایک مشہور تفریحی مقام ہے۔

’جہاں میں کام کرتا تھا وہاں میرے کام میں کچھ بھی غلط نہیں تھا، لیکن میں صرف بہتر مواقع اور بہتر تنخواہ کی تلاش میں تھا۔‘

ایتھنکوسی اپنے کافی لاٹے بنانے کے فن (یعنی کافی پر تیرتے ہوئے مختلف پیٹرن اور ڈیزائن بنانا) کی تصاویر ایک آن لائن گروپ میں دنیا بھر کے دوسرے پرجوش باریستاز کے ساتھ شیئر کرتا تھا۔

اسی ویب سائٹ پر ایک خاتون نے اُسے عمان میں نوکری کی پیشکش کی۔ ملازمت کی یہ پیش کش پُرکشش تھی، معقول تنخواہ کے ساتھ، اسے مفت رہائش، کھانا اور ٹرانسپورٹ کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔

اس سے کہا گیا کہ اس کے ویزے کا انتظام کیا جائے گا، اسے بس اتنا کرنا ہو گا کہ وہ ہوائی جہاز کے ٹکٹ، میڈیکل چیک اپ اور کووڈ ٹیسٹ کے لیے ادائیگی کر دے۔

Athenkosi makes latte art

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایتھنکوسی ڈیونٹا ایک ایسے آن لائین گروپ کا ممبر تھا جہاں وہ لاٹے کافی کے ڈیزائین آپس میں شیئر کرتے تھے۔

کافی بنانے کے فنکار ایتھنکوسی کی گرل فرینڈ فیلیسوا فینی کہتی ہے کہ جب یہ ملازمت کے لیے باہر جا رہا تھا تو 'میں نے سوچا کہ جب وہ ایک سال یا اس کے بعد واپس آئے گا، ہم اپنے لیے ایک گھر خریدیں گے۔' فیلیسوا کے ساتھ اس کے دو بچے بھی ہیں۔

’ہم جھونپڑیوں میں رہ رہے تھے لہٰذا میں نے سوچا کہ شاید ایک گھر، پھر شاید ایک کار، شاید ہمارے بچوں کو بہتر تعلیم کا سبب بن جائے۔‘

چنانچہ جوڑے نے ایتھنکوسی کے ہوائی سفر کی ٹکٹ کے لیے رقم ادھار حاصل کی اور وہ فروری میں عمان کے لیے روانہ ہو گیا۔

اِس ملک کے بارے میں ان کے پہلے تاثرات مثبت تھے۔ انھوں نے ’دی کومب پوڈ کاسٹ‘ کو بتایا کہ ’یہ بہت خوبصورت شہر تھا۔‘

اسے دارالحکومت مسقط سے ابرا نامی قصبے میں لے جایا گیا جہاں اسے سات دن تک ایک ہوٹل میں قرنطینہ میں رکھا گیا۔

'میں نے سوچا کہ میرے تمام خوابوں کی تعبیر پوری ہونے والی ہے۔'

وہاں پہنچنے پر اسے قرنطینہ کی مدت کے لیے ٹریکنگ بریسلٹ لگایا گیا تھا۔

ایک بار جب اس کا وقت پورا ہو گیا تو ایک ڈاکٹر نے ٹریکر بریسلیٹ ہٹا دیا اور اسے اپنے نئے گھر میں منتقل کر دیا گیا جو خاصی خطرناک جگہ تھی۔

'یہ ایک بہت ہی گندی جگہ تھی، ایک چھوٹا کمرہ جس میں توشک بچھی ہوئی تھی اور کچھ ڈبے پڑے ہوئے تھے۔ ایتھنکوسی نے کہا کہ اُسے اس جگہ پر نیپال کے ایک آدمی کے ساتھ رکھا گیا تھا۔

دھمکیاں ملیں، لیکن تنخواہ نہیں ملی

ان حالات میں اس نے اپنی زندگی کے ایک انتہائی تکلیف دہ دور کا آغاز کیا۔ ایتھنکوسی جلد ہی سمجھ گیا کہ جس کیفے میں اُسے ملازمت کی پیش کش کی گئی تھی اُس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔

کافی تیار کرنے کے بجائے اس نے روزانہ 12 سے 14 گھنٹے کیفے کلینر کے طور پر کام کیا۔

جب وہ کام نہیں کر رہا ہوتا تھا تو اُسے اپنے کمرے میں نیپالی ساتھی کے ساتھ بند کر دیا جاتا تھا - کھانا انتہائی گھٹیا معیار کا تھا۔ اُسے اس کے کام کی کوئی اُجرت نہیں دی جاتی تھی۔

Athenkosi washing up

،تصویر کا ذریعہAthenkosi Dyonta

،تصویر کا کیپشنکافی تیار کرنے کے بجائے ایتھنکوسی دن میں چودہ چو دہ گھنٹے برتن دھوتا رہتا۔

'وہاں رہتے ہوئے میں کمزور ہو گیا اور پتلا نظر آنے لگا۔ مجھے روٹی اور دودھ ملتا تھا۔ کبھی کبھی دن میں ایک یا دو مرتبہ انڈے کے ساتھ ایک رول بھی مل جاتا تھا۔

'مجھے کوئی تنخواہ نہیں مل رہی تھی، میں صرف کام کر رہا تھا۔'

جب ایتھنکوسی نے اپنے آجر سے تنخواہ کے بارے میں پوچھا تو اسے دھمکی دی گئی۔ ایک موقع پر اسے ایک جنگل میں لے جایا گیا جہاں مردوں کا ایک گروہ اس پر چیخا چلایا کہ وہ ان لوگوں کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہ کرے۔

فیلیسوا اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ فون پر رابطے میں رہتی تھیں۔ 'میں بہت خوفزدہ تھی کیونکہ میں نے سوچا کہ کہیں وہ اُسے ہلاک نہ کر دیں۔'

یہ بھی پڑھیے

ایتھنکوسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے آجر نے اسے پولیس کے حوالے کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔

اس کے آجر نے کہا کہ ’پولیس مجھے گرفتار کرے گی کیونکہ میں نے ایک معاہدہ کیا ہوا تھا۔‘

دراصل اس نے مشرق وسطیٰ کے کچھ حصوں میں استعمال ہونے والے ایک سپانسر شپ معاہدے پر دستخط کیے ہوئے تھے جسے 'کفالہ' کہا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ نظام مزدوروں کو زیادتی اور استحصال کا شکار بناتا ہے کیونکہ وہ ملازمت بدلنے یا اپنے مالک کی رضامندی کے بغیر ملک بھی چھوڑ نہیں سکتے ہیں۔

ایتھنوکسی

،تصویر کا ذریعہAthenkosi Dyonta

،تصویر کا کیپشنایتھنوکسی کی واپسی پر ان کے پیارے بہت خوش ہیں

ایک دن ایتھنکوسی نے دیکھا کہ اس کے کمرے کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا گیا تھا اور اس نے فرار ہونے کی کوشش کی، کار پارکنگ کی طرف گیا جہاں اس نے ایک اجنبی سے کہا کہ اسے تھانے لے جائے۔

لیکن جب وہ تھانے پہنچا تو وہاں کوئی بھی افسر انگریزی زبان نہیں جانتا تھا اور اسے بتایا گیا کہ اسے مترجم کے آنے کے لیے تین گھنٹے انتظار کرنا پڑے گا۔

یہ جواب سن کر اس خوف سے کہ وہ کسی مشکل میں نہ پڑ جائے، اس نے اسی میں اپنی عافیت محسوس کی کہ وہ اپنے قید خانے میں واپس چلا جائے۔

وہ اپنے کام پر واپس چلا گیا۔ طویل گھنٹوں تک کام کرتا رہتا اور اُسے ہفتے میں صرف جمعے کی ایک چھٹی ملتی تھی۔ ان حالات کی وجہ سے وہ مایوسی کا شکار ہو گیا۔ 'میں بہت برا محسوس کر رہا تھا میں نے اس طرح زندہ رہنے کے بجائے مرنے کا فیصلہ کیا۔'

اس نے اپنی جان لینے کی کوشش کی۔ اپنی کوشش میں ناکام ہوا اور اسے ہسپتال میں داخل کر دیا گیا جہاں وہ صحت یاب ہوا اس دوران ہسپتال میں اس نے ایک ڈاکٹر سے بات کی جس نے وضاحت کی کہ فرار ہونے کا واحد راستہ یہ ہو گا کہ وہ اپنے آجر کو ایک رقم ادا کرے۔

ایتھنکوسی کو واپس لاؤ

چنانچہ اس نے اپنی رہائی کے لیے اپنے آجر سے رابطہ کیا۔ وہ اس بات پر راضی ہو گیا کہ اگر وہ ’معاہدے کی خلاف ورزی‘ کی فیس ادا کر دیتا ہے تو وہ اُسے چھوڑ دے گا۔‘

فیلیسوا، جو پہلے ہی ہوائی جہاز کی ٹکٹ کے قرض میں ڈوبی ہوئی تھی، اُس نے اس کی رہائی کے لیے رقم جمع کرنے کے کام کا آغاز کیا، ’میں نے ہر ایک کو اپنی کہانی بتائی، میں نے اپنی کہانی ہر واٹس ایپ گروپ میں پوسٹ کی۔‘

Pheliswa Feni and Athenkosi Dyonta

،تصویر کا ذریعہSnazo Gulwa

،تصویر کا کیپشنفیلیسوا (بائیں جانب) نے اپنے ایتھنکوسی (دائیں جانب) کو واپس لانے کے لیے اپنے حلقے احباب، خاندان اور دوستوں سے رابطے کیے۔

جیسے ہی اُس کے آبائی قصبے جارج کے لوگوں میں ایتھنکوسی کی صورتحال کے بارے میں بات پھیلی تو 'برنگ بیک ایتھنکوسی' (ایتھنکوسی کو واپس لاؤ) کے نام سے فیس بک پیج بنایا گیا اور اسی پیغام کے ساتھ ٹی شرٹس چھاپی گئیں۔

'جارج کمیونٹی فورم' نامی ایک مقامی گروپ نے رقم جمع کرنے میں مدد کے لیے قدم بڑھایا۔ عطیات جمع ہوئے اور ایتھنکوسی کے خاندان نے اپنی 10 گائے میں سے ایک کو تقریباً آٹھ سو ڈالر میں فروخت کیا۔

عمانی آجر نے پھر یہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ رقم اس کے اس دوران اس کی رہائیش اور کھانے پینے کے اخراجات بھی پورے کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔

ایتھنکوسی کی رہائی کے لیے مجموعی طور پر ڈیڑھ ہزار ڈالر ادا کیے گئے۔

اپریل میں جب وہ جارج پہنچا تو ان درجنوں لوگوں نے اس کا استقبال کیا جنھوں نے اس کی رہائی کے لیے کوششیں کی تھی۔

وہ کہتا ہے کہ ’میں اپنے خاندان اور دوستوں کو دیکھ کر بہت پرجوش تھا۔‘

ایتھنکوسی کو گھر آئے تقریباً چار ماہ ہو چکے ہیں اور اب وہ جنوبی افریقہ میں اپنی پرانی باریستا نوکری پر واپس بحال ہو چکا ہے۔

لیکن وہ ابھی تک اپنی زندگی کے اس تلخ واقعے کے اثرات سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

'میں جذباتی طور پر ابھی تک اِس صدمے کا شکار ہوں۔ میں اس واقعے کو بھول نہیں سکتا۔‘