ویلیم ایموس: کینیڈین سیاستدان کی ویڈیو میٹنگ کے دوران پیشاب کرنے پر معافی

Local Member of Parliament William Amos wear a Canadian flag mask as Prime Minister Justin Trudeau speaks during a news conference in Chelsea, Quebec

،تصویر کا ذریعہCanadian Press/Shutterstock

،تصویر کا کیپشنسیاستدان کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے پر بہت شرمندہ ہیں۔
وقت اشاعت

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹں ٹروڈو کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان نے پارلیمانی امور کی ایک ویڈیو میٹنگ کے دوران پیشاب کرنے پر معافی مانگی ہے۔

ویلیم ایموس ریاست کیوبک کے علاقے پونٹیئک کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ پہلے بھی اس طرح کی حرکت کرچکے ہیں۔ گزشتہ ماہ وہ ایک ویڈیو کلا میں برہنہ نظر آئے تھے۔

'مجھے اپنے کیے پر سخت شرمندگی ہے اور میں ان سب لوگوں سے معافی چاہتا ہوں جنھوں نے یہ دیکھا اور انھیں اس کی وجہ سے تکلیف اٹھانی پڑی ہے۔‘

انھوں نے جمعرات کو ایک بیان میں اپنی حرکت پر معافی مانگی ہے۔ انھوں نے اپنی حرکت کو ’ناقابل قبول‘ لیکن ایک ’حادثہ‘ قرار دیا ہے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی لیبرل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاست دان نے کہا ہے کہ وہ کچھ عرصے کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ جائیں گے لیکن اپنے حلقے کی نمائندگی کرتے رہیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ اس حوالے سے مدد لینا چاہتے ہیں لیکن انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ مدد کس سے لیں گے اور یہ کس نوعیت کی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا کہ 'میں اپنے خاندان اور اپنے سٹاف کا تہہ دل سے مشکور ہوں‘۔

'ایک غلطی‘

ایموس جو کہ پہلے ایک ماحولیاتی وکیل رہ چکے ہیں 2015 سے پارلیمانی ممبر ہیں۔

اپریل میں وہ ایسی ہی ایک ویڈیو میٹنگ میں برہنہ دیکھے گئے تھے جس پر ان کا کہنا تھا کہ جاگنگ سے واپس آکر وہ کام کے لیے کپڑے بدل رہے تھے جب اچانک غلطی سے انھوں نے کیمرا آن کر دیا۔

اس واقعے کے بعد انھوں نے کہا تھا کہ وہ شرمندہ ہیں لیکن یہ ایک 'غلطی، تھی اور ایسا دوبارہ نہیں ہوگا‘۔

اس ویڈیو میں انھیں صرف سیاست دانوں اور عملے نے دیکھا لیکن بعد میں 46 برس کے ایموس کی اس ویڈیو کال سے لی گئی ایک برہنہ تصویر کینیڈین اخبارات اور سوشل میڈیا پر شائع ہوئی تھی۔

ان کی لیک ہونے والی اس تصویر میں انھیں ریاست کیوبک اور کینیڈا کے جھنڈے کے بیچ میں ایک میز کے پاس برہنہ کھڑاے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ایک اور پارلیمانی ممبر سبیسچیئن لیمئر نے کچھ دن بعد یہ تسلیم کیا تھا کہ یہ تصویر انھوں نے لی تھی لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کہ یہ سوشل میڈیا پر کیسے پہنچی۔

ہاؤس سپیکر اینتھونی روٹا نے اس واقعے کو شرم ناک قرار دیا تھا اور پارلیمانی ممبران کو قوائد وضوابط یاد کروائے جن کے تحت پارلیمانی امور کے اجلاسوں کی کسی بھی قسم کی تصاویر لینا منع ہے۔