کورونا وائرس اور زوم ویڈیو کالز: دفتری یا نجی زوم کالز آپ کو تھکن کا احساس کیوں دیتی ہیں؟

ویڈیو چیٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, مانیو ژیانگ
    • عہدہ, بی بی سی ورک لائف
  • وقت اشاعت

کورونا وائرس کے اس دور میں ویڈیو چیٹ ہماری نوکریاں بچانے کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہنے میں بھی مدد کر رہی ہے۔ لیکن اس میں ایسا کیا ہے جو آپ کو تھکا کے رکھ دیتا ہے؟ اور ہم اس ’زوم تھکان‘ کو کم کیسے کر سکتے ہیں؟

آپ کی سکرین اچانک فریز (منجمد) ہو جاتی ہے۔ آواز بھی عجیب سی ہو رہی ہے۔ درجن بھر چہرے آپ کو گھور رہے ہیں۔ کام کے لیے ٹیم میٹنگز، ایک ایک ساتھی کے ساتھ علیحدہ علیحدہ میٹنگز، اور پھر کام ہو جانے کے بعد دوستوں اور خاندان والوں کے ساتھ ہینگ آؤٹس یا خوش گپیاں۔

کورونا وائرس کی وبا کے بعد سے ہم نے جتنا وقت ویڈیو کالز پر گزارا ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہیں گزارا تھا۔ اور بہت سے لوگ اس سے ہونے والی تھکن سے پریشان ہیں۔

مگر سوچا جائے، تو وہ کون سی چیز ہے جس سے ہمیں اس قدر تھکن ہو رہی ہے؟

بی بی سی ورک لائف نے اس سلسلے میں انسیڈ نامی ادارے سے منسلک ایسوسی ایٹ پروفیسر گیانپیرو پیتریگلئیری سے بات کی جو کام کی جگہ پر نئے فن سیکھنے کے ماہر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے مریسا شفلر سے بھی بات کی جو کلیمسن یونیورسٹی میں کام کی جگہ پر خوشحالی اور مل جل کر کام کرنے کے طریقوں پر کام کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

zoom

،تصویر کا ذریعہReuters

کیا ویڈیو چیٹ کسی سے اصل میں مل کر آمنے سامنے بات کرنے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے؟

پیتریگلئیری کہتے ہیں کہ کسی سے آمنے سامنے ملنے کے مقابلے میں ویڈیو چیٹ کے لیے آپ کو زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ویڈیو چیٹ کا مطلب ہے کہ آپ کو ’نان وربل کیوز‘ یعنی وہ اشارے جو الفاظ میں بیان نہیں ہوتے اور جن میں چہرے کے تاثرات استعمال ہوتے ہیں، بات کرنے کا لہجہ، اور باڈی لینگویج شامل ہیں، کو سمجھنے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔

ان تمام چیزوں پر زیادہ توجہ دینے کا مطلب ہے کہ ہم معمول سے زیادہ توانائی کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے ذہن ساتھ ہوتے ہیں لیکن جسم نہیں۔ یہ بات لوگوں میں متضاد احساسات پیدا کرتی ہے جو ہمیں تھکا دیتی ہے۔ آپ قدرتی طور پر بات کرتے ہوئے پرسکون رہنا ناممکن ہو جاتا ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’خاموشی بھی ایک چیلینج بن جاتی ہے۔ ویسے تو خاموشی اصل زندگی میں ہونے والی بات چیت میں ایک قدرتی توازن پیدا کرتی ہے۔ لیکن جب ایسا ویڈیو کال کے دوران ہوتا ہے تو آپ کو ٹیکنالوجی کے باری میں فکر ہونے لگتی ہے۔‘

خاموشی لوگوں کو پریشان بھی کر دیتی ہے

سنہ 2014 میں جرمنی میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا تھا کہ فون یا ویڈیو کانفرنسن کے ذریعے لوگوں کے بارے میں منفی تاثرات بنانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ صرف ایک اعشاریہ دو سکینڈ کی تاخیر سے بھی لوگ سامنے والے کی توجہ اور خوش مزاجی پر سوال اٹھاتے ہیں۔

شفلر کہتی ہیں کہ اس سب میں ایک اور پہلو اس بات سے بھی جڑ جاتا ہے کہ جب ہم کیمرے پر ہوتے ہیں تو ہمیں اس بات کا بہت شدت سے احساس ہوتا ہے کہ کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ’جب آپ ویڈیو کانفرنس پر ہوتے ہیں آپ کو پتا ہوتا ہے کہ سب آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، جیسے آپ سٹیج پر ہوں، اس کے ساتھ ہی آپ دباؤ محسوس کرتے ہیں، بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا دباؤ۔ اس سے آپ پر کافی ذہنی دباؤ پڑتا ہے۔‘

اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ خود اپنی شکل سکرین پر دیکھ سکتے ہوں تو اپنے چہرے سے نظریں ہٹانا کافی مشکل ہو جاتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے خود کو سکرین پر دیکھ کر معمول کے مطابق برتاؤ کرنا ہے۔

ویڈیو چیٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

موجودہ صورتحال کا کتنا عمل دخل ہے؟

چلیں مانا کہ یہ تمام مسائل ویڈیو چیٹ کا حصہ ہیں، پھر بھی ہماری ’زوم تھکن‘ کی ذمہ داری پوری طرح سے ان مسائل پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اس میں ہماری موجودہ صورتحال، چاہے وہ لاک ڈاؤن ہو، خود ساختہ تنہائی ہو یا پھر گھر سے کام کرنا ہو، کا بھی ہاتھ ہے۔

پیتریگلئیری کا خیال ہے کہ یہ احساس، یعنی ہمارے پاس ان کالز سے بچنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے‘ بھی ذہنی دباؤ کی وجہ بن سکتا ہے۔

’ویڈیو کال سے ہمیں ان سب باتوں کا احساس ہو جاتا جو ہم کچھ دیر کے لیے کھو چکے ہیں۔ جب آپ اپنے کام کے کسی ساتھی کو ویڈیو کال پر دیکھتے ہیں تو اس سے آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ کو ایک ساتھ کام پر ہونا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہے، جس سے آپ کا ذہن پریشان ہو جاتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں ہم سب موجودہ صورتحال سے تھک چکے ہیں، اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کوئی کم گو یا اپنی ذات تک محدود رہنے والا شخص ہے یا باتونی اور اوروں کے ساتھ گھل مل جانے والا، ہم سب اس وبا کے دوران ایک جیسے بگڑتے حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

پیتریگلئیری کا مزید کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ ہماری زندگیوں کے وہ پہلو جیسا کہ گھر، دوست اور دفتر جو پہلے علیحدہ علیحدہ تھے اب سب ایک ساتھ ایک وقت میں ایک ہی جگہ پر ہیں۔

انسانی ذات کے نظریے کے مطابق انسان خود ساختہ طور پر پیچیدہ ہے اور ہر انسان کی شخصیت کے متعدد پہلو ہوتے ہیں، انسان تجربے اور حالات کے سیاق و سباق پر منحصر اپنے معاشرتی کردار، تعلقات، سرگرمیوں اور اہداف کا تعین کرتا ہے۔ جب سے پہلو زندگی میں کم ہو جاتے ہیں تو ہم میں منفی خیالات اور احساسات کے جنم لینے کے امکانات زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ہماری زندگی کے زیادہ تر سماجی کردار مختلف مقامات پر مختلف ہوتے ہیں مگر موجودہ صورتحال میں اس کا پس منظر یا سیاق و سباق ختم ہو چکا ہے۔‘

پیتریگلئیری کہتے ہیں کہ ’ذرا تصور کیجیے کہ آپ کسی بار میں جاتے ہیں اور اسے شراب خانے میں آپ اپنے پروفیسر سے بھی بات کرتے ہیں، اپنے والدین سے بھی ملتے ہیں، اور کسی ساتھی کے ساتھ ڈیٹ بھی کرتے ہیں، کیا یہ سب عجیب نہیں ہے؟یہ ہی سب کچھ ہم اس وقت کر رہے ہیں۔۔۔ ہم سب اپنے آپ تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، اور اس صورتحال میں پریشانی ایک بحران بن کر سامنے آتی ہے، اور لوگوں سے رابطہ کرنے کا واحد ذریعہ اب ہماری کمپیوٹر سکرین ہی ہے۔‘

شیفلر کہتی ہے کہ کام اور گھریلو ذمہ داریاں مکمل کرنے کے بعد فراغت کے اوقات میں کمی بھی ہماری تھکان کی ایک ممکنہ وجہ ہے۔ حالانکہ ہم میں سے کچھ معاشی پریشانیوں، کام کی جگہ سے طویل رخصت اور ملازمت ختم ہونے کے باعث خود پر زیادہ بوجھ ڈال رہے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اس وقت یہ احساس بھی ہے کہ مجھے اس صوتحال میں اپنی پوری صلاحیت سے بہترین کام کرنا ہے۔۔۔ ہم سے چند افراد اپنے نوکریاں بچانے کے لیے زیادہ کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

شاری

،تصویر کا ذریعہother

دوستوں سے زوم پر بات تھکان کم کرتی ہے؟

ہم میں سے بہت سے لوگ پہلی مرتبہ بڑے چیٹ گروپس میں بات کر رہے ہیں۔ چاہے وہ ایک ورچوئل ایسٹر ڈنر کے دوران کھانے یا پکانے کی باتیں ہی کیوں نہ ہوں، یونیورسٹی دوستوں کے ساتھ گپ شپ ہو یا کسی دوست کی جنم دن کی پارٹی ہو، لیکن اگر ایک ویڈیو کال کا مقصد تفریح ہے تو یہ تھکا دینے والی کیوں محسوس ہوتی ہے؟

شیفلر کہتی ہیں کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آپ اس کال میں شامل اس لیے ہو رہے ہیں کہ آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں یا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ضروری ہے، جیسا کہ دفتری ساتھیوں کے ساتھ ایک ورچوئل مے کشی کا دور وغیرہ۔

وہ کہتی ہے کہ اگر آپ اس کال میں شمولیت کو ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بریک یا تفریح کے بجائے اس پر مجبوراً موجود ہیں۔

اس کے برعکس اگر آپ اپنے دوستوں سے بات کر رہے ہیں تو آپ اس میں زیادہ آسانی اور آرام محسوس کریں گے جہاں آپ کو بناوٹ نہیں کرنی اور وہاں آپ کو کم ’زوم تھکان‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پیتریگلئیری خبردار کرتے ہیں کہ بڑی گروپ کالز آپ کو ایسا احساس دیتی ہے کہ آپ کو زیادہ متحرک رہنا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ لوگ ٹی وی دیکھنا پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ذہن کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں لیکن بڑی ویڈیو کالز ایسے ہیں کہ جیسے آپ ٹی وی دیکھ رہے ہو اور ٹی وی آپ کو دیکھ رہا ہوں۔

بڑی ویڈیو کالز آپ کی شخصیت کو بھی متاثر کرتی ہیں، کیونکہ یہ آپ کی شخصیت کی انفرادیت کو ختم کر دیتا ہے۔ اور آپ چاہے اس کو کوئی بھی نام دے دیں لیکن ہمیں اس میں تفریح نہیں محسوس ہو گی کیونکہ ہم بنیادی طور پر ان چیزوں اور آلات کا استعمال اپنے دفتری کام کے دوران کرنے کے عادی ہیں۔

زوم تھکان کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟

دونوں ماہرین کا خیال ہے کہ ویڈیو کالز کو صرف کام اور ضروری ویڈیو کالز تک محدود رکھ کر اس تھکان میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ویڈیو کال یا میٹنگ کے دوران اپنے کیمرے کو آن کرنے کی سہولت اختیاری ہونی چاہیے اور عمومی طور پراس بات کی سمجھ بھی پیدا ہونی چاہیے کے کسی بھی میٹنگ کے دوران کیمرے کا ہر وقت آن رہنا ضروری نہیں ہے۔

پیتریگلئیری کہتے ہیں آپ کا سکرین سے ہٹ کر بات کرنا، خاص طور پر گروپ میٹنگز کے دوران آپ کی توجہ کو بہتر کر سکتا ہے۔ یہ آپ کو ایسا احساس دے گا کہ آپ ساتھ والے کمرے میں ہیں جو شاید آپ کے لیے کم تھکا دینے والا ہو۔

بعض معاملات میں اس کا تعین کرنا بھی ضروری ہے کہ کیا ویڈیو چیٹ ہی کام کا سب سے بہتر طریقہ کار ہے۔

شیفلر کا کہنا ہے کہ اگر کام کی بات کی جائے تو اگر فائلوں کو واضح ہدایات کے ساتھ شئیر کیا جائے تو یہ بھی ایک بہتر حل ہو سکتا ہے اور اس سے غیر ضروری معلومات میں بھی کمی آئے گی۔

وہ کہتی ہے کہ کام کے ساتھ ساتھ ’بہتر ہے کہ اگر آپ کچھ وقت لوگوں کی خیریت دریافت کرنے میں صرف کریں۔ یہ ہمیں دنیا سے دوبارہ جڑنے، بھروسہ قائم کرنے اور اپنے تحفظات اور تھکان دور کرنے میں مدد دے گا۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ویڈیو کالز کے ذریعے ہونے والی میٹنگز کے دوران وقفہ لیں، ہلکی پھلکی ورزش کریں، چائے کافی پییں، یہ ہمیں تازہ دم کر دے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر کام میں حدود اور منتقلی اہم ہیں۔ ہمیں بفرز بنانے کی ضرورت ہے جو ہمیں ایک شناخت کو ایک طرف رکھنے کی اجازت دیتے ہیں کیونکہ ہم کام اور نجی زندگیوں کے مابین زندگی گزارتے ہیں۔

پیتریگلئیری کہتے ہیں کہ ’شاید آپ پرانے طریقے اپنا لیں، کسی کو اگر کوئی بات کہنی ہے تو زوم میٹنگ کی جگہ اسے ایک خط لکھیں، انھیں بتائیں کہ آپ واقعی ان کا خیال کرتے ہیں۔‘