آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایلون مسک کے ’سپیس ایکس‘ منصوبے سے انڈونیشیا کا ایک چھوٹا سا جزیرہ پریشان
- مصنف, ایومی امیندونی اور یویت تان
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
انڈونیشیا نے مغربی پاپوا میں اپنے جزیروں میں سے ایک کو ایلون مسک کے سپیس ایکس پروجیکٹ کے ممکنہ لانچ سائٹ کے طور پر پیش کیا ہے۔ سپیس ایکس پروجیکٹ کا مقصد انسانوں کو چاند پر پہنچانا ہے۔
اگرچہ ابھی ایلون مسک نے اس پیشکش کو منظور نہیں کیا ہے تاہم انڈونیشیا نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس کے بایک نامی اس جزیرے کے حوالے سے خلائی مشن کے سلسلے میں اہم عزائم ہیں۔
لیکن انڈونیشین حکام کی یہ پیشکس وہاں کی مقامی آبادی کو پریشان کر رہی ہے۔
مارکس ابرو نے اپنی ساری زندگی بایک جزیرے پر گزاری ہے۔ 54 سالہ مارکس آٹھ بچوں کے دادا ہیں اور وہ اس جزیرے کے مقامی قبیلے ابرو سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کئی نسلوں سے اس جزیرے پر بسے ہوئے ہیں۔
مگر اب انھیں فکر ہے کہ اگر ان کا جزیرہ لانچ سائٹ بن گیا تو ان کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ 'اگر یہاں وہ بن جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے بچے اور ان کے بچے اپنی زندگی گزارنے کے لیے اس زمین پر انحصار نہیں کر سکتے۔ وہ سمندر اور جنگل تباہ کر دے گا۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قدرتی وسائل سے بھری زمین
بایک کا رقبہ صرف 1746 مربع کلومیٹر ہے، یعنی لندن شہر سے بس تھوڑا سا بڑا ہے۔ یہ نیو گنی میں انڈونیشیا کے حصے کے علاقے جسے ویسٹ پاپاؤ کہتے ہیں، میں موجود ہے۔ یہاں کی آبادی تقریباً ایک لاکھ ہے۔
اس جزیرے میں تقریباً 12 مختلف نسلوں کے لوگ رہتے ہیں اور اگرچے اس جزیرے پر اب کہیں کہیں شہری علاقہ بن گیا ہے مگر یہاں کا زیادہ تر علاقہ دیہاتوں پر مشتمل ہے۔
یونیورسٹی آف سڈنی کی محقق سوفی چاؤ کہتی ہیں کہ 'پاپوا کے زیادہ تر رہائشی ابھی بھی اپنے ارد گرد کے کی زمین پر انحصار کر کے اپنا گزر بسر کرتے ہیں، مچھلی پکڑنا، شکار کرنا وغیرہ وغیرہ،۔'
مگر بایک میں ایک دو اور خصوصیات بھی ہیں جو کہ اسے کسی بھی ایسے شخص کے لیے پرکشش بناتی ہیں جس کے خلائی سفر کے عزائم ہوں۔
یہاں نکل اور تانبا بہت پایا جاتا ہے اور ان دونوں کا راکٹ سازی میں استعمال ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ خط استوا سے ایک ڈگری نیچے واقع ہے جو کہ اسے خلائی جہاز لانچ کرنے کے لیے بہترین مقام بناتا ہے اور یہاں سے مدار تک پہنچنے میں کم ایندھن درکار ہوگا۔
اور حقیقت یہ ہے کہ ایلون مسک کے منصوبے سے پہلے بھی انڈونشیا کے بیاک کے حوالے سے خلائی عزائم تھے۔
انڈونیشیا کی خلائی ایجنسی لاپان کی اس جزیرے پر کئی دہائیوں سے نظر ہے اور 1980 میں انھوں نے 100 ہیکٹر زمین خرید بھی لی تھی مگر مختلف مسائل کی وجہ سے اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
اس مقام کے قریب ہی ایک اہم جنگل ہے جہاں شکار کیا جاتا ہے اور پاس میں ہی ایک مچھلیاں پکڑنے کی جگہ ہے۔
اس کے علاوہ یہ لانچ سائٹ قریب ترین رہائشی علاقے ساؤکوبے گاؤں سے صرف دو کلومیٹر دور ہے اور وہاں کے رہائشیوں کو خدشہ ہے کہ انھیں نقل مکانی پر مجبور کیا جائے گا۔
‘قتل و غارت ہوگی‘
یہاں کے مقامی رہائیشوں میں سے زیادہ تر کو زمین نسل در نسل وراثت میں ملتی ہے۔
مارکس کہتے ہیں کہ 'ہمیں اسی زمین پر رہنا پڑتا ہے جو ہمیں دی جاتی ہے۔ ہم کہیں اور نہیں جا سکتے۔ اگر ہم کہیں اور چلے جائیں تو نسلی قتل ہوتے ہیں۔ قبیلوں کے درمیان لڑائی ہوگی، اور جس قبیلے کی زمین ہے وہ اس قبیلے سے لڑے گا جو وہاں آنے کی کوشش کر رہا ہے۔'
بایک کی رسمی کونسل کے سربراہ اپولوس سرویر کا کہنا ہے کہ سپیس ایکس کو پیشکش کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انڈونیشیا قبائلی لوگوں کے حقوق کو کس قدر غیر سنجیدگی سے دیکھتا ہے۔
وہ کہتے ہیں 'پاپاؤ میں زیادہ تر پروجیکٹ ہمارے درمیان تناؤ پیدا کرتے ہیں۔ '
انڈونیشیا اور ویسٹ پاپاؤ کے درمیان رشتہ مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ یہ جزیرے ماضی میں ہالینڈ کی کالونی تھی اور 1963 میں انڈونیشیا میں شامل ہوئے تاہم بہت سے لوگ ابھی بھی آزادی کی بات کرتے ہیں اور ان کے انڈونیشیا کی جانب خیالات کچھ مثبت نہیں ہیں۔
ایک بین الاقوامی سپیس ڈیسٹینیشن
ادھر لاپان کے سربراہ جمال الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ اس پروجیکٹ سے جزیرے میں درکار جدت آ جائے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ لانچ پیڈ سے سیاحت اور سیٹلائٹ کی صنعتیں بایک میں آ جائیں گی اور یہ ایک دہائی میں جدید جزیرہ بن جائے گا۔
وہ کہتے ہیں کہ 'ہم بایک کے لوگوں کی روایتی عقائد برقرار رکھیں گے مگر وہاں کے لوگوں کو شکار پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا یا فصلوں کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ یہاں زیادہ جدید صنعتوں کے آنے سے زمین کے استعمال کی نوعیت بدل جائے گی۔'
ان کا مزید دعویٰ ہے کہ بایک کے 60 روایتی رہنمائوں کی جانب سے انھیں حمایت کے خط موصول ہوئے ہیں تاہم اس بات کی مارکس تردید کرتے ہیں۔
جمال الدین کا کہنا ہے کہ لاپان اس وقت دو ممکنہ صورتحالوں کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ ایک تو یہ کہ یہاں پر چھوٹا سی لانچ سائٹ ہو جو 100 کلوگرام سے کم وزن کی سیٹلائٹیں خلا میں بھیج سکے۔
ایسی سائٹ سپیس ایکس کے لیے بھی کافی ہوگی اور لاپان کے پاس موجود 100 ہیکٹر میں بن سکتی ہے۔
دوسری صورتحال یہ ہے کہ ایک بڑا انٹرنیشل سپیس پورٹ بنایا جائے جس کے لیے بہت ساری زمین درکار ہوگی۔
سپیس ایکس نے ابھی تک اس پیشکش پر اپنی دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے تاہم جمال الدین کا کہنا ہے کہ انڈونیشیائی صدر نے ایلون مسک کے سامنے ذکر کیا تو وہ دلچسپی دیکھا رہے تھے۔
جمال الدین کا کہنا ہے کہ اس کے بعد گذشتہ جنوری میں جب سپیس ایکس کے ساتھ بات چیت کی گئی تو کوئی مسائل سامنے نہیں آئے۔
بی بی سی نے سپیس ایکس کا ردعمل جاننے کے لیے کمپنی سے رابطہ کیا ہے تاہم فی الحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
مگر لاپان کے اس جزیرے کے حوالے سے منصوبے میں صرف سپیس ایکس نہیں ہے۔ انھوں نے چاپان، کوریا، چین اور انڈیا سب سے اسی سلسلے میں رابطے کیے ہیں۔
انڈونیشیا کے لیے اس میں کیا فائدہ ہے؟
میلبرن یونیورسٹی کے پروفیسر ولفرم ڈریسلر کہتے ہیں کہ اس سے انڈونیشیا خطے میں ایک اہم کھلاڑی بن جائے گا اور اس کا سیاسی بنیادوں پر ملک کو بہت فائدہ ہوگا۔
مگر ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے رہائشی جس طرح کا جزیرہ چاہتے ہیں اور جیسا حکومت چاہتی ہے، یہ دونوں ایک ساتھ نہیں ہو سکتا۔
'خلائی سفر، تلاش اور دریافت ایک بڑا خواب ہے لیکن خطرہ یہ ہے کہ اس کی قیمت یہاں کے لوگوں کو چکانی ہوگی جن کے اپنے چھوٹے چھوٹے خواب ہیں۔ بایک بہت سے خوابوں کی جگہ ہے مگر سارے خواب سچ نہیں ہو سکتے۔'