آسٹریلوی خاتون رکن پارلیمان کے دفتر میں بنائی گئی سیکس ویڈیو، سینیئر اہلکار معطل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلوی سیاست میں جاری بحران میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے جہاں ایسی ویڈیوز منظرِ عام پر آگئی ہیں جن میں پارلیمان کے سٹاف کو عمارت کے اندر جنسی عمل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ان ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد ایک سینیئر اہلکار کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ ایک ویڈیو میں اس اہلکار کو ایک خاتون قانون ساز کی میز پر جنسی عمل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم سکاٹ موریسن نے ان ویڈیوز کو شرمناک قرار دیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا ہے جب ایک خاتون اہلکار نے کہا کہ مبینہ جنسی ہراسانی کے واقعے کا دعویٰ کرنے کے بعد انھیں اپنی ملازمت کھو جانے کا ڈر ہے۔
بریٹنی ہگز نامی اس اہلکار کا دعویٰ ہے کہ انھیں ایک سینیئر سٹاف ممبر نے مارچ 2019 میں ریپ کیا تھا تاہم ان پر دباؤ تھا کہ وہ اس واقعے کو پولیس کے پاس نہ لے کر جائیں۔
اس کے بعد ایسے ہی الزامات کی لہر سامنے آئی جس نے آسٹریلوی سیاست میں ایک بحران پیدا کر دیا ہے۔ گذشتہ ہفتے ہزاروں لوگوں نے آسٹریلیا میں خواتین پر جنسی تشدد اور ہراسانی کے خلاف مظاہرہ بھی کیا تھا۔
ان ویڈیوز میں کیا ہے؟
یہ ویڈیوز آسٹریلوی میڈیا کو ایک سابق سٹاف ممبر نے لیک کی ہیں۔ اس اہلکار کا کہنا تھا کہ انھیں اس طرح کی اتنی ویڈیوز موصول ہو چکی ہیں کہ اب وہ حیران یا پریشان بھی نہیں ہوتے۔
یہ ویڈیوز دو سال پرانی ہیں۔ ان ویڈیوز کے علاوہ اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگوں نے اس عمارت میں عبادت گاہ کے اندر بھی سیکس کیا اور پارلیمنٹ میں سیکس ورکرز بھی لے کر آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں ایک ماحول تھا جہاں مردوں کو لگتا تھا کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں اور ان کے کچھ ساتھیوں میں اقدار ختم ہو چکی تھیں‘۔
اس سب پر ردعمل کیا آیا ہے؟
وزیراعظم موریسن کا کہنا تھا کہ وہ ان ویڈیوز کو دیکھ کر انتہائی حیران و پریشان ہوئے ہیں اور ‘ہمیں اپنے گھر کو سیدھا کرنا ہے۔ ہمیں سیاست کو ایک طرف رکھ کر پہلے اس مسئلے کا اعتراف کرنا ہے اور پھر اسے درست کرنا ہے۔‘
ماضی میں وزیراعظم کے ردعمل کے حوالے سے تنقید کی جا چکی ہے جس میں ان کا مظاہرین سے نہ ملنا بھی شامل ہے۔ انھوں نے مظاہرین کے رہنماؤں کو ملاقات کی دعوت دی تھی جسے مظاہرین کی جانب سے یہ کہہ کر ٹھکرایا گیا کہ وہ بند دروازوں کے پیچھے نہیں ملنا چاہتے۔
حکومت کی جانب سے اس معاملے سے ٹھیک طرح سے نمٹنے کے بارے میں اس وقت بھی سوال اٹھا جب حکومتی رکنِ پارلیمان میشل لانڈری نے کہا کہ انھیں اہلکار کے برطرف کیے جانے پر افسوس ہے۔
مگر کابینہ میں وزیر کیرن اینڈروز نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب آسٹریلوی سیاست میں جنسی تعصب پر خاموش نہیں رہ سکتیں اور خواتین کے لیے مخصوص نشتوں پر غور کیا جانا چاہیے۔ وزیراعظم کی جانب سے اشارہ دیا جا چکا ہے کہ وہ اس خیال کے مکمل طور پر مخالف نہیں ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ‘ہم نے دوسری طرح کر کے دیکھ لیا ہے اور اس سے ہمیں نتائج نہیں مل رہے تو ہمیں اس معاملے میں کچھ بہتر کرنا ہوگا۔‘
حزب اختلاف کی جماعت کی پہلے ہی اپنی مخصوص نشتیں ہیں۔
دیگر الزامات کیا ہیں؟
آسٹریلوی سیاست میں جنس کی بنیاد پر امتیاز کی شکایات تو بہت پہلے سے ہیں۔ تاہم بریٹنی ہگنز کے الزامات نے جنسی ہراسانی اور جنسی تشدد پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کے عوامی سطح پر یہ الزامات لگانے کے چند روز بعد بہت سے اور الزامات سامنے آئے، یہاں تک کہ اٹارنی جنرل کرسچن پورٹر کو یہ انکشاف کرنا پڑا کہ 1988 میں انھیں ریپ کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور اس وقت پولیس نے تفتیش یہ کہہ کر بند کر دی تھی کہ کیس میں شواہد ناکافی تھے۔
بریٹنی ہگنز کی سابقہ افسر وزیر دفاع لنڈا رینلڈز کو بھی معافی مانگنا پڑی تھی اور انھیں ایک اور اہلکار کو ‘جھوٹی بھینس‘ پکارنے پر جرمانہ بھی ادا کرنا پڑا تھا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت پارلیمانی کلچر میں جنسی امتیاز اور پدر شاہی کے الزامات کے حوالے سے کارروائی کرنے میں سست اور غیر موثر رہی ہے اور یہ مسئلہ صرف ایک جماعت میں نہیں ہے۔
حزبِ اختلاف لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کلچر کا ازسرنو جائزہ لیں گے کیونکہ ان کی پارٹی میں بھی مردوں کے خلاف متعدد الزامات سامنے آئے ہیں۔
وزیراعظم موریسن پر نئی تنقید کیوں کی جا رہی ہے؟
ایک پریس بریفنگ میں وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ ان کی گذشتہ دو ماہ کے بیانات کے حوالے سے ان کے خلاف بہت تنقید کی جا رہی ہے۔
ان میں ان کا یہ بیان بھی شامل ہے جہاں انھوں نے جنسی ہراسانی کے ایک مبینہ واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے خود کے ایک شوہر اور ایک باپ ہونے کا ذکر کیا تھا۔
ایک اور بیان میں ان پر یہ تنقید کی گئی تھی کہ انھوں نے جمہوریت کا ’انتہائی کم معیار‘ اپنایا ہوا ہے۔ ان پر یہ تنقید اس وقت کی گئی تھی جب انھوں نے مظاہروں کے حوالے سے کہا تھا کہ ’ وہ جگہ یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے جہاں اب بھی ایسے مظاہروں پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں، لیکن اس ملک میں ایسا نہیں ہے۔‘
منگل کو انھوں نے تسلیم کیا کہ ان کے بیانات سے بہت سے لوگ ناراض ہوئے ہیں مگر وہ وسیع تر ماحول میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔
اس بیان کے چند ہی لمحوں بعد وہ مزید تنقید کا نشانہ اس وقت بنے جب انھوں نے ماضی میں ایک میڈیا آرگنائزیشن میں ہونے والے ایک ایسے جنسی ہراسانی کے واقعے کا عوامی سطح پر ذکر کر دیا جسے پہلے رپورٹ نہیں کیا گیا تھا۔
ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک رپورٹر کی جانب سے ایک سوال پر اس واقعے کو ایک ’ہتھیار کےطور پر استعمال‘ کیا۔
لیبر پارٹی کی سینیٹر کیٹی گیلگر کا کہنا ہے کہ ‘اب اس خاتون کا کیا ہوگا جن کی یہ شکایت تھی۔‘















