بائیڈن کی تقریبِ حلف برداری: اپنی شاعری میں امریکہ سے متحد رہنے کے اپیل کرنے والی امینڈا گورمین کون ہیں؟
امینڈا گورمین تاریخ کی سب سے کم عمر شاعرہ ہیں جنھوں نے امریکہ کی صدارتی تقریبِ حلف برداری میں خطاب کیا۔ ان کی نظم میں اتحاد اور یکجہتی کی اپیل کی گئی۔
22 سالہ شاعرہ نے اپنی نظم ‘دی ہل وی کلائم‘ (وہ پہاڑ جو ہم چڑھتے ہیں) واشنگٹن ڈی سی میں موجود شرکا اور دنیا بھر میں براہِ راست دیکھتے ناظرین کے سامنے پیش کی۔
ان کی پانچ منٹ کی نظم کا آغاز کچھ یوں تھا ‘جب وہ دن آیے گا اور ہم خود سے پوچھیں گے کہ اس نہ تھمنے والے سائے میں ہم روشنی کہاں تلاش کریں؟‘
انھوں نے اپنی نظم میں اس ماہ کے شروع میں امریکی ایوانِ نمائندگان کی عمارت کیپیٹل پر دھاوا بولے جانے کا ذکر بھی کیا۔
‘ہم نے ایک ایسی طاقت بھی دیکھی ہے جو ہماری قوم کو مل جل کر رہنے کے بجائے توڑ دے گی۔ جمہوریت کو معطل کر کے تباہ کر دے گی۔
‘اور یہ کوشش تقریباً کامیاب ہو گئی۔ مگر جمہوریت کو وقتی طور پر التوا کا شکار کیا جا سکتا ہے مگر اسے کبھی بھی مکمل شکست نہیں دی جا سکتی۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اپنی نظم میں انھوں نے خود کو کچھ یوں بیان کیا 'دبلی سی سیاہ فام لڑکی، جس کے آباؤ اجداد غلام تھے، اور اسے ایک اکیلی ماں نے پالا تھا، ایک ایسی لڑکی جو صدر بننے کا خواب دیکھ سکتی ہے، آج ایک اور صدر ک لیے نظم پڑرھ رہی ہے۔'
ول گومپرٹز کا تجزیہ، آرٹس ایڈیٹر
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ کی پہلی نیشنل نوجوان پوئٹ لاریئٹ نے اپنا کام خوب نبھایا، جو تھا ’صحیح وقت پر صحیح الفاظ کا چناؤ‘۔
یہ ایک خوبصورت نظم تھی جس کا بہاو اور اسلوب شاندار تھا۔ جو لکھی اس خاص موقعے کے لیے گئی تھی مگر وقت اور جگہ کی قید سے ماورا ہو کر زندہ رہے گی۔
امینڈا گورمین نے پروقار انداز میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور ان کے الفاظ دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں میں گونجے، آج، کل اور آنے والے وقت میں بھی دیر تک گونجتے رہیں گے۔

سنہ 2017 میں امینڈا گورمین ملک کی پہلی نوجوان پوئٹ لاریئٹ بنی تھیں۔ اس سے پہلے پوئٹ لاریئٹ بننے والوں میں رابرٹ فروسٹ اور مایا اینجلو جیسے نام شامل ہیں۔
تقریب سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’میں چاہتی ہوں کہ میں اپنے الفاظ سے اتحاد اور اشتراک کو فروغ دوں۔‘
‘میرے خیال میں یہ امریکی تاریخ کا ایک خوبصورت باب ہے، اس کے مستقبل کی کہانی ہے، اور میں یہ الفاظ کی خوبصورتی سے بیان کرنا چاہتی ہوں۔‘
تقریب کے بعد امینڈا گورمین کی بہت تعریف کی گئی ہے۔ امریکی اداکارہ اور براڈکاسٹر اوپرا ونفری نے ٹوئٹر پر لکھا کہ انھیں آج تک کسی نوجوان لڑکی کے ابھرنے پر اس سے زیادہ فخر محسوس نہیں ہوا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1

ٹوئٹر پر ہی جوئین لین، جو کہ عالمی فلاحی تنظیم ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈرز کی سابق سربراہ ہیں، کہتی ہیں ‘یہ نظم کافی عرصے کے بعد سب سے متاثر کن 5 منٹ اور 43 سیکنڈ تھے۔‘
سابق خاتونِ اول مشل اوباما کا کہنا تھا ’یہ الفاظ طاقتور اور دل خراش تھے` اور انھوں نے کہا ‘جگمگاتی رہو امینڈا!‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2

امریکی سیاستدان اور انسانی حقوق کی کارکن سٹیسی ابراہمز نے کہا کہ یہ نظم ہم سب کے لیے ایک متاثر کن اپیل ہے۔
سابق صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے ٹوئٹ کیا کہ امینڈا نے 2036 میں صدارت کے لیے الیکشن لڑنے کا وعدہ کیا ہے اور وہ اس کی منتظر ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3

ریاست النائے کی پوئٹ لاریئٹ اینجلا جیکسن نے کہا کہ یہ نظم توانائی اور سچائی سے بھرپور تھی۔
انھوں نے کہا کہ ‘میں حیران ہوں کہ وہ اتنی نوجوان اور اتنی سمجھدار ہے۔‘
امینڈا نے کہا کہ جب انھیں پتا چلا کہ انھیں صدارتی حلف برداری کی تقریب میں نظم پڑھنے کے لیے چنا گیا ہے تو وہ خوشی سے ناچنے لگی تھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ‘میں خوش تھی، مجھ میں عزت، اور وقار، اور عاجزی کے احساسات دوڑنے لگے تھے۔‘ اور ساتھ ہی ساتھ ‘خوف بھی طاری‘ ہو گیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ان کی نظم اس دن مکمل ہوئی تھی جس دن صدر ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل پر دھاوا بولا تھا اور انھیں امید تھی کہ ان کی نظم وقت کے ساتھ انصاف کرے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 1998 میں لاس ایجنلس میں پیدا ہونے والی امینڈا بچپن میں ٹھیک سے بول نہیں سکتی تھیں، یہ کمزوری ان میں اور نو منتخب صدر بائیڈن میں مشترک ہے۔
اپنی اس مشکل کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ اس نے مجھے وہ فنکار بنایا ہے جو میں آج ہوں۔
امینڈا 16 سال کی عمر میں لاس اینجلس کی پوئٹ لائریٹ بنیں۔ تین سال بعد جب وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں معاشیات کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں تو وہ قومی پوئٹ لائریٹ بن گئیں۔
























