یمن ایئر پورٹ حملہ: کابینہ کی واپسی کو نشانہ بنا کر حوثی باغی سعودی عرب کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟

،ویڈیو کیپشنعدن ایئر پورٹ پر حملہ اور اس کے بعد کے مناظر
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 4 منٹ

کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا تھا کہ یمن کی نئی 'متحد کابینہ' کا کام آسان ہوگا۔

ان کے دور کی شروعات اتنے ڈرامائی انداز میں ہوگی اور اسے لاکھوں لوگ ٹیلی وژن پر براہ راست دیکھیں گے، اس کی توقع کسی کو نہیں تھی۔

گذشتہ روز یمن کے ساحلی شہر عدن کے ایئرپورٹ پر ہونے والے دھماکے میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے۔

حکام کے مطابق کم از کم ایک دھماکہ اس وقت پیش آیا جب ملک کی نومنتخب کابینہ کے اراکین سعودی عرب میں ایک معاہدے پر مذاکرات کے بعد واپس آ رہے تھے۔

یمن کے وزیرِ اعظم معین عبدالملک سعید نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ اور ان کی کابینہ کے اراکین 'ٹھیک' ہیں اور وزیرِ اطلاعات نے اس 'بزدلانہ دہشت گرد حملے' کا الزام حوثی باغیوں پر عائد کیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

بی بی سی کی چیف بین الاقوامی نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کے مطابق کابینہ کی واپسی پر سرخ قالین بچھانا اور اسے لائیو سٹریم کرنا اس جنگ زدہ ملک کے باشندوں کے لیے یہ اشارہ تھا کہ نئی حکومت ان کی مشکلات دور کرنے آ گئی ہے۔

مقامی لوگوں کو کئی شکایات ہیں، چاہے وہ ملک کے جنوب میں 'المجلس الانتقالی الجنوبی' یا‎ ایس ٹی سی کے اراکین کے درمیان اختلافات ہوں یا ملک کے شمال میں حوثی باغیوں سے جاری جھڑپیں۔

Smoke rises from Aden's airport after an explosion on 30 December 2020

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکابینہ کے اراکین جس طیارے میں آئے تھے اس کے قریب سے شعلے بھڑکتے دکھائی دیے

بدھ کے روز ہونے والے دھماکے کی ویڈیو فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے ہی مسافروں نے اس جہاز سے اترنا شروع کیا جو کابینہ کے اراکین کو عدن لایا تھا تو ایک زور دار دھماکہ ہوا۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکے کے بعد ایئرپورٹ ٹرمینل سے دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں اور وزرا کے استقبال کے لیے جمع ہونے والے افراد اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔

خبررساں ایجنسی اے ایف پی اور ایک حکومتی وزیر کے مطابق حملے کے دوران کم از کم دو دھماکوں کی آواز سنی گئی۔

ان دھماکوں کی نوعیت تاحال واضح نہیں ہو سکی تاہم خبررساں ادارے روئٹرز نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمینل پر تین مارٹر شیل پھینکے گئے تھے۔

ریڈ کراس کے مطابق ان کے عملے کا ایک رکن بھی بدھ کے حملے میں ہلاک ہوا۔ اس کے علاوہ دو افراد تاحال لاپتہ ہیں اور تین زخمی ہیں۔

یاد رہے کہ اگست 2019 میں حوثی باغیوں کی جانب سے عدن میں فوجی پریڈ پر حملے میں 36 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

People take photos of passengers getting off a plane at Aden airport on 30 December 2020

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکابینہ کا استقبال کرنے کے لیے ایئیر پورٹ پر ایک مجمع جمع تھا

اپنے پیغام میں وزیر اعظم معین عبدالملک نے کہا کہ باغی انھیں اور ان کی حکومت کو اس طرح کے حملوں سے خوفزدہ نہیں کر سکتے۔

جہاں ایک طرف ملک متیں جنگ کا عالم ہے، وہیں ملک کے صدر اور ان کے کئی وزرا سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔

لیکن یہ حملہ ان کی واپسی سے جڑے خطرات کا اشارہ دیتا ہے۔ ہم اسے ملک سے اتنا دور رہنے کا نتیجہ بھی کہہ سکتے ہیں۔

سنہ 2015 میں جب سعودی عرب کی سربراہی میں عرب ممالک کے اتحاد نے یمن میں حوثی باغیوں کو شکست دینے کے لیے ایک فوجی آپریشن کا آغاز کیا تو یہ تنازع یمن کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔ اس آپریشن کا مقصد ملک میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی بحالی تھی۔

گذشتہ پانچ برس سے چلنے والی اس لڑائی میں ایک لاکھ 10 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اسے دنیا کا 'بدترین انسانی سانحہ' قرار دیا جا رہا ہے جس کے باعث لاکھوں افراد کا غذائی قلت سے متاثر ہونے کا اندیشہ موجود ہے۔

کووڈ 19 کی عالمی وبا کے بعد سے ملک مزید کمزور ہو چکا ہے۔

File photo showing entrance to Aden's international airport (18 November 2019)

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنعدن اس وقت ملک کا عارضی دارالحکومت ہے اور ملک کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت یہاں بیٹھتی ہے

یہ حملہ حکومت کے سعودی اور اماراتی اتحادیوں کے لیے بھی ایک صاف پیغام ہے۔ اگرچہ یہ ممالک اپنے آپ کو یمن کی جنگ سے نکالنا چاہتے ہیں تاہم اس حملے کے ذریعے حوثی باغی انھیں یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ایسا کرنا آسان نہیں ہوگا۔

یہ نئی کابینہ دراصل ان ہی دو ممالک کے اتحادی گروہوں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعے کو حل کرنے کے لیے بنائی گئی تھی جس میں ایک جانب سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج اور دوسری طرف اماراتی حمایت یافتہ ایس ٹی سی کی حامی ملیشیا شامل تھیں۔

کہنے کو تو دونوں فریق حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی میں اتحادی ہیں لیکن دونوں کے درمیان جاری طاقت کی کشمکش اب سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

ملک کے دارالحکومت اور شمالی علاقوں پر حوثیوں کا قبضہ ہے۔ ایس ٹی سی نے اگست 2019 میں ساحلی شہر عدن کا کنٹرول حاصل کر لیا اور نومبر تک وہ ملک کی کابینہ کو اپنے عارضی ٹھکانے واپس آنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔ پھر سعودی مداخلت پر دونوں کے درمیان اپریل میں ایک معاہدہ طے پایا لیکن اس کا اطلاق نہ ہو سکا۔

تازہ جھڑپوں کے بعد جنوبی یمن نے خودمختاری کا اعلان کر دیا تاہم یہ اعلان تین ماہ بعد واپس کر لیا گیا اور دونوں فریق مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر آمادہ ہو گئے اور وہاں اتفاق ہوا کہ کابینہ کی 24 نشستیں ملک کے شمال اور جنوب کے نمائندوں میں آدھی آدھی کر کے بانٹ دی جائیں گی۔